(کلیاتِ میر(دیوان دوم)(کلبِ علی خان فائق

Print Friendly, PDF & Email

7-tk
نام کتاب
:
کلیاتِ میر(دیوان دوم)
جلد دوم طبع سوم
مرتبہ
:
کلبِ علی خان فائق
صفحات
:
384 قیمت 400 روپے
نام کتاب
:
کلیاتِ میر(دیوان سوم وچہارم)
جلد سوم طبع سوم
صفحات
:
363 قیمت 400 روپے
مرتبہ

کلبِ علی خان فائق
نام کتاب

کلیاتِ میر(دیوان پنجم و ششم)
جلد چہارم۔ طبع سوم
مرتبہ
:
کلبِ علی خان فائق
صفحات
:
318 قیمت 350 روپے
ناشر
:
ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلسِ ترقی ادب 2کلب روڈ۔ لاہور
فون
:
042-99200856/042-99200857
ای میل
:
majlista2014@gmail.com
ویب گاہ
:
www.mtalahore.com
میر محمد تقی میرؔ (پیدائش اواخر1135ھ/اگست ستمبر 1722۔ وفات20 شعبان 1225ھ) اکبر آباد میں پیدا ہوئے۔ بچپن وہیں گزرا۔ بعد میں دہلی چلے آئے۔ سراج الدین علی خاں آرزو سے تلمذ حاصل تھا جو میر کے سوتیلے بھائی کے ماموں تھے۔ دہلی کی تباہی کے بعد لکھنؤ چلے گئے۔ اپنی نازک مزاجی کی وجہ سے عمر بھر پریشان رہے۔ اٹھارہویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ بقول نیاز فتح پوری ’’میرکا سا غزل گو نہ اُس وقت ہوا نہ آگے اس کی توقع ہے‘‘۔ ان کی حسبِ ذیل تصانیف ہیں:
(1 ) چھ دیوان اردو غزلوں کے،(2) ایک دیوانِ فارسی، (3) متعدد مثنویاں،(4) نکات الشعراء (اردو شاعروں کا تذکرہ)،(5) ذکر میر، (6) فیضِ میر (ایک مختصر فارسی تصنیف (محمدشمس الحق، غزل اس نے چھیڑی 328)
میر تقی میرؔ اردو غزل کے پانچ چھے بڑے شاعروں میں سے ایک ہیں اور اردو شاعری میں مسلمہ استاد مانے گئے ہیں۔ وہ خود فرماتے ہیں:
برسوں لگی رہی ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب! صاحبِ نظر بنے ہے
اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ میر کے سچے عاشق تھے، اونچا سنتے تھے۔ ایک دن لیکچر کے شروع میں یہ مصرع پڑھا، غالباً ناسخ کا ہے:
آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں
کلاس روم کے آخر میں ایک طالب علم بیٹھا تھا، اُس کے منہ سے نکل گیا:
اور جو معتقدِ میر ہے وہ بہرہ ہے
کلاس ہنس پڑی۔
ڈاکٹر صاحب نے سن لیا، فرمایا جس نے یہ کہا ہے وہ کھڑا ہوجائے۔ ڈاکٹر صاحب کے اصرار پر وہ بے چارہ کھڑا ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے اپنے پاس بلایا اور اس کے کاندھے پر تھپکی دی اور کہا کہ آپ میں ادبیت کے جراثیم پائے جاتے ہیں، میں آپ کے تبصرے سے ناراض نہیں ہوا بلکہ خوش ہوا۔
طبقات الشعراء میں میر صاحب کے متعلق لکھا ہے:
’’مجموعہ قابلیت و ہنر، صاحبِ طبع خوش فکر، سرآمدِ مشہورانِ عصر، محاورہ دان و متین، متلاشئ مضامینِ نو و رنگین، متجسس الفاظ چرب و شیریں، درمیدان غزل پروازی گوے فصاحت از معاصران می برد، ہر چند سادہ گو است، اما در سادہ گوئی پُرکاریہادارد‘‘۔
حکیم سید عبدالحئی صاحب ’گل رعنا‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’میر صاحب کی تصنیفات کی تفصیل یہ ہے کہ چھے دیوان ریختہ غزلوں کے ہیں، چند صفحے ہیں جن میں فارسی کے عمدہ متفرق اشعار پر اردو مصرعے لگا کر مثلث اور مربع کیا ہے۔ رباعیاں مستزاد چند صفحے، پانچ قصیدے، چند مخمس اور ترجیع بند، چند مخمس شکایتِ زمانہ میں، دو واسوخت، ایک ہفت بند۔ بہت سی مثنویاں، ایک دیوان فارسی کا ہے جس میں دو ہزار شعر ہیں۔ ’تذکرہ نکات الشعراء‘ شعرائے ریختہ کے حال میں ہے، فارسی میں لکھا۔ میر صاحب غزل کے بادشاہ ہیں۔‘‘
ڈاکٹر تحسین فراقی شکریے کے مستحق ہیں جن کی نظرِ کرم سے یہ خزانہ خاص و عام کی دسترس میں آگیا ہے۔
اردو کے چھے دیوان کلبِ علی خان فائق رامپوری کی تحقیق سے چار جلدوں میں مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئے تھے۔ اب یہ ان کا تیسرا ایڈیشن ہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کے ناظم مجلسِ ترقی ادب بننے کے بعد سے مجلس کی جو مطبوعات نایاب ہوگئی تھیں یا دستیاب نہیں تھیں ان کے ایڈیشن دھڑا دھڑ چھپ رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی نئی کتب بھی طبع ہورہی ہیں۔
چند اشعارِ میرؔ پیش خدمت ہیں:
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
۔۔۔۔۔۔
کچھ نہ دیکھا پھر بجزیک شعلہ پُر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
۔۔۔۔۔۔
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
۔۔۔۔۔۔
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
۔۔۔۔۔۔
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
۔۔۔۔۔۔
میرؔ ! بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
۔۔۔۔۔۔
پاس ناموسِ عشق تھا، ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
۔۔۔۔۔۔
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ
کیا دِوانے نے موت پائی ہے
کتابیں سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہیں اور مجلّد ہیں۔
۔۔۔۔۔۔**۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
تاریخ آسام
مصنف
:
شہاب الدین احمد طالش
مترجم
:
میر بہادر علی حسینی
مرتب
:
ساجد صدیق نظامی
صفحات
:
216 قیمت 300 روپے
ناشر
:
مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور
25-C لوئر مال لاہور

فون نمبر0301-8408474
0333-4182396
یہ کتاب 1805ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں لکھی گئی۔ اصل کتاب کا نام ’’تاریخ آشام‘‘ ہے۔ کیونکہ اُس عہد میں ’’آسام‘‘ کا تلفظ ’’آشام‘‘ بھی کیا جاتا تھا۔ تاریخ آسام بنیادی طور پر شہاب الدین طالش کی فارسی کتاب فتحیہ عبریہ/تاریخ ملک آسام کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی کتاب کا موضوع اس جنگی مہم کے احوال ہیں جو 1663ء میں میر جملہ میر محمد سعید اردستانی کی سربراہی میں اورنگ زیب عالم گیر نے آسام کی طرف روانہ کی تھی۔ اردو تاریخ آسام ہنوز غیر مطبوعہ رہی ہے۔ البتہ 1840ء میں اس کا ایک فرانسیسی ترجمہ پیرس سے شائع ہوچکا ہے۔
تاریخ آسام کے مترجم میربہادر علی حسینی ہیں۔ حسینی فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے میر منشی/ہیڈ منشی کے طور پر منسلک رہے۔ میرامّن کو گلکرسٹ سے ملوانے والے یہی تھے۔ ان سے یادگار دیگر تالیفات میں اخلاقِ ہندی، نثر بے نظیر، نقلیات، رسالہ قواعد اردو اور ترجمہ قرآن مجید شامل ہیں۔
ساجد صدیق نظامی گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور کینٹ میں اردو کے لیکچرر ہیں۔ انہوں نے اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے ایم فل (اردو) کی تکمیل کے لیے ’’تاریخ آشام‘‘ کو مرتب کیا۔ اب یہ کتاب مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور کی جانب سے پہلی مرتبہ اردو دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔
اس نادر کتاب کے مرتب جناب ساجد صدیق نظامی تحریر فرماتے ہیں:
’’مغل بادشاہوں کے درباروں میں تاریخ نویسی کا ذوق بابر کے دور سے شروع ہوگیا تھا۔ بابر سے اورنگ زیب تک ہر مغل بادشاہ نے دیگر امورِ سلطنت سرانجام دینے کے ساتھ علم پروری کی روایت بھی جاری رکھی۔ اسی علم پروری کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہم مغلیہ عہد میں تحریر کی گئی کئی کتبِ تواریخ موجود پاتے ہیں۔ ان تواریخ کی موجودگی میں ایک مؤرخ کے لیے مغلیہ عہد کا کوئی اہم واقعہ مخفی نہیں رہ سکتا۔ ان کی مدد سے آج بھی مؤرخین اس عہد کی مکمل اور مفصل تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ ان تواریخ میں محض واقعات ہی درج نہیں بلکہ متعلقہ دور کی ثقافتی سرگرمیوں، ادبی گہما گہمیوں، سیاسی چالوں اور نظام سلطنت کی پیچیدگیوں کا بھی اتنا ہی ذکر ہے۔
اگر محض مغلیہ عہد کی اہم تواریخ کی ایک فہرست تیار کی جائے تو کئی ایک نام سامنے آتے ہیں: عبدالرحیم خانِ خاناں کا بابر نامہ، میرزا حیدر کاشغری کی تاریخ رشیدی، عبدالقادر بدایونی، نظام الدین ہروی اور ابوالفضل کی منتخب التواریخ، طبقاتِ اکبری اور اکبرنامہ۔ اسی طرح عہدِ جہانگیری میں معتمد خان ایرانی کا اقبال نامۂ جہانگیری اور سکندر گجراتی کی مرآۃ سکندری، اور عہدِ شاہ جہانی میں محمد امین قزوینی کا بادشاہ نامہ اور طاہر خراسانی کا شاہ جہاں نامہ نظر آتا ہے۔ عہدِ اورنگ زیب میں بھی یہ روایت جاری نظر آتی ہے۔ ہم مغلیہ عہد کی معروف تواریخ کے اہم نام اس عہد میں دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً عملِ صالح موسوم بہ شاہ جہاں نامہ، از محمد صالح لاہوری اور مرآۃ العالم: تاریخ اورنگ زیب از خواجہ محمد بختاور خان۔ اسی طرح سجان رائے بٹالوی کی خلاصۃ التواریخ اور عاقل خان رازی کی طبقاتِ عالمگیری بھی عہدِ اورنگ زیب کی یادگاریں ہیں۔ عہدِ اورنگ زیب ہی میں ہم ایک اور تاریخ کا نام دیکھتے ہیں اور یہ ہے تاریخ ملک آشام یا فتحیہ عبریہ/عبرتیہ (اس زمانے میں آسام کے علاقے کو فارسی تلفظ میں آشام ہی کہا جاتا تھا۔ لہٰذا اس دور کی سبھی تواریخ میں آشام ہی درج ہے) از شہاب الدین احمد طالش۔ اگرچہ یہ تاریخ دیگر تواریخ کی طرح مفصل نہیں، اور نہ ہی زمانی اعتبار سے پورے عہدِ اورنگ زیب پر محیط ہے، مگر اس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ اورنگ زیب عالمگیر کی تخت نشینی کے چوتھے برس 1073ھ/ 1663ء صوبہ آسام پر شاہی افواج کی چڑھائی کی آنکھوں دیکھی روداد ہے۔ اس برس شاہی لشکر میر جملہ خانِ خاناں معظم خان میر محمد سعید اردستانی کی سربراہی میں آسام کی فتح کو روانہ ہوا تھا۔ تاریخ ملکِ آشام کا مصنف شہاب الدین احمد طالش وقائع نگار کی حیثیت سے اس لشکر کے ہمراہ تھا۔ یہ مہم قریب ایک سال کے عرصے پر محیط رہی، لہٰذا اس مہم میں پیش آمدہ واقعات کا تذکرہ ’’تاریخ ملک آشام‘‘ میں موجود ہے۔ بعد کے ادوار میں کئی مؤرخین نے عہدِ اورنگ زیب کی تواریخ لکھتے ہوئے متعلقہ مقامات پر اس تاریخ سے خاصا استفادہ کیا ہے۔
1800ء میں جب کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم ہوا تو اس کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یہاں ایسی کتب تصنیف و ترجمہ کروائی جائیں جو نووارد انگریز اہلکاروں کو برصغیر کی مقامی معاشرت اور ماحول کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں۔ تاریخ ملک آشام کو بھی اسی مقصد کے تحت ترجمہ کروانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس کے ترجمے کا کام میر بہادر علی حسینی نے 1805ء میں ’’تاریخ آشام‘‘ کے نام سے سرانجام دیا جو اُس وقت فورٹ ولیم کالج سے متعلق تھے۔ 1805ء میں یہ ترجمہ تو ہوگیا مگر کسی باعث اس کی اشاعت ممکن نہ ہوئی، لہٰذا یہ ترجمہ مخطوطے کی صورت میں موجود رہا۔ میر بہادر علی حسینی کی جتنی تصانیف کا سراغ ملتا ہے ان میں اب تک تاریخِ آسام پردۂ اخفا میں رہی ہے۔ اس کا ایک نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی بنگال، کلکتہ کے کتب خانے میں اور دوسرا نسخہ ببلیوتھک ناسیونال، پیرس، فرانس میں محفوظ ہے۔
اس تدوین میں پیرس والے نسخے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ کلکتہ والا نسخہ باوجود بہت سی کوششوں کے دستیاب نہ ہوسکا، جبکہ پیرس والا نسخہ بغیر کسی کوشش کے مل گیا۔ برصغیر کے بیشتر کتب خانے ایسے معاملات میں جو رویہ روا رکھتے ہیں وہ سب پہ روشن ہے۔
متن سے پہلے ایک مقدمہ بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے جس میں حسینی کے احوال اور ان کی تصانیف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ آشام کی نثر کا مفصل تجزیہ بھی اس میں شامل ہے۔ متن کے بعد فرہنگ بھی شامل کی گئی ہے۔
یہ کام بنیادی طور پر میرے ایم فل (اردو) کا تحقیقی مقالہ ہے جس پر 2010ء میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور نے ایم فل کی سند جاری کی۔ اب اسے کتابی صورت میں شائع کیا جارہاہے۔ ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، پروفیسرشعبۂ اردو اس تحقیقی کام کے نگران تھے۔ ان کی نوازش کے اعتراف کے علاوہ چند کرم فرماؤں کا تذکرہ اور ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ خواجہ محمد زکریا صاحب کی مسلسل توجہ اور رہنمائی خاکسار کا سرمایۂ افتخار ہے۔ تاریخ آسام کے متن کی تیاری میں بھی خواجہ صاحب نے بہت زیادہ مفید نکات کی نشاندہی کی۔ محمد سلیم الرحمن صاحب نے خاص کر فرہنگ متن کے بارے میں نہایت مفید مشورے عنایت کیے۔ ان بزرگوں کی توجہ اورکرم فرمائی کا شکریہ ادا تو نہیں ہوسکتا مگر اس کا اعتراف ضرور کیا جاسکتا ہے۔ سید معراج جامی صاحب نے ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کے کتب خانے سے کلکتے والے نسخے کا عکس حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش کی، اگرچہ وہ کام نہ ہوسکا۔ ناواقفیت اور عدم تعارف کے باوجود انہوں نے شفقت فرمائی۔ اسی ضمن میں تنویر غلام حسین کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر رفاقت علی شاہد صاحب کے توسط سے بیشتر کتب کی فراہمی کا مسئلہ حل ہوا۔ برادر بزرگ الیاس محمود نظامی نے میری فرمائش پر نیشنل لائبریری، پیرس سے تاریخ آشام کے نسخے کا عکس حاصل کیا۔ عبدالستار صاحب نے کمپوزنگ کے مراحل آسان کردیے۔ نظامی صاحب نے کتاب پر مبسوط مقدمہ لکھا ہے۔ صفحہ 43 سے متن کتاب شروع ہوتا ہے اور صفحہ 183 پر ختم ہوتا ہے۔ چونکہ کتاب کی زبان اردو قدیم ہے اس لیے بڑی محنت سے فرہنگ بھی مرتب کی ہے۔ اماکن کی تفصیل بھی دی ہے۔ اسما کا اشاریہ بھی ہے۔ مخطوطے کے چند صفحات آخر میں لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ آشام کے فرانسیسی ترجمے کے سرورق کا عکس بھی دیا گیا ہے۔
یہ نادر کتاب 300کی ’’کثیر‘‘ تعداد میں طبع کی گئی ہ،ے جس کو شوق ہو وہ فوراً خرید لے۔‘‘
کتاب مجلّد اور نیوز پرنٹ پر شائع کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
کتاب
:
قِصَصُ الاَنبیاء
قرآن کے بیان کردہ کرداروں کے تذکرے
مصنف
:

صفحات
:
1200 (دوجلدیں) قیمت 1600 روپے
دستیابی
:
ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی، رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔
فون
:
042-37232788،042-3736140
ای میل
:
sulemani@gmail.com
قرآنِ مجید میں گذشتہ اقوام کے بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اور ان کے بیان کامقصد درس وعبرت ہے۔ بیانِ واقعات کا انداز تفصیلی نہیں ہے، جہاں جس قدر کسی پہلو کو نمایاں کرنا مقصود تھا اُسے کر دیا گیا۔ اور یوں ایک ہی واقعہ کئی مقامات پر ذکر ہوا۔
مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اور دیگر علماء نے اس موضوع پر مستقل کتب لکھ کر دیگر مصادر و مآخذ سے استفادہ کرکے تفصیل فراہم کی ہے۔ عربی زبان میں اس موضوع پر بہت سی علمی و تحقیقی کتب موجود ہیں۔ کہانی کے رنگ میں بہت سے لوگوں نے لکھا ہے۔ اُردو میں بھی ترجمہ شدہ اور مستقل دونوں طرح کی کتب اس موضوع پر موجود ہیں۔ معروف مصنفہ محترمہ توراکینہ قاضی نے اس روایتی اسلوبِ نگارش سے ہٹ کر قصص الانبیاؑ ء کو مرتب کیا ہے۔ تاریخ کوجس طرح نسیم حجازی صاحب نے ناول کا پیرہن دیا اسی طرح محترمہ توراکینہ قاضی نے انبیاؑ ء کے قصوں کوحکایت کے انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس موضوع کی بنیاد قرآن ہی ہے مگراس کے بعض متعلقات کتب احادیث میں بھی موجود ہیں۔ علما نے دیگر مذاہب کے مصادر سے ان قصص کی تفصیل میں استفادہ کیا ہے۔ اس لیے جہاں تک قرآن کے بیان کا تعلق ہے حتمیت اُسی کو حاصل ہے مگر صحیح جانچ پرکھ اور روایت و درایت کے اصولوں کی روشنی میں محققین نے اپنے اپنے زاویہ ہائے نظر کو راجح قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ محترمہ توراکینہ قاضی نے بھی یہی طرزِ تحقیق اختیار کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ’’یہ [بات] یقینی ہے کہ اکثر انبیاؑ ء اور اقوام کے حالات کے بارے میں قارئین کی طرف سے اعتراضات کیے جائیں گے، لیکن میں نے جو کچھ لکھا ہے خوب چھان پھٹک کر، گہری تحقیق و جستجو کے بعد ہی لکھا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں گھڑی۔‘‘
بعض واقعات کے ضمن میں مصنفہ نے جس زاویۂ نظر کو اختیار کیا ہے اُس سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ تاریخی تحقیق کے زاویے ہیں ان میں ترجیح ایمان اور کفر کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ اصل بات واقعے کا بیان ہوتا ہے کہ اُسے کس اسلوب اور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ کتاب غالباً اُردو زبان میں اس موضوع کی پہلی کتاب ہے۔
پہلی جلد کا آغاز تذکرۂ حضرت آدمu بعنوان ’’لغزش‘‘ سے ہوتا ہے۔ پھر ’’پہلا خون‘‘ کے عنوان سے ہابیل و قابیل کا تذکرہ ہے۔ بعد ازاں حضرت نوحؑ ، حضرت ہودؑ ، حضرت صالحؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت اسماعیلؑ ، حضرت لوطؑ ، حضرت یوسفؑ ، حضرت ایوبؑ ، حضرت شعیبؑ ، حضرت موسیٰؑ کے تذکرے اور ان کی اقوام کے واقعات درج ہیں۔ انبیاء oکے علاوہ حضرت خضرؑ ، حضرت عزیرؑ اور قارون و شداد اور بلعام بن باعورا کے تذکرے موجود ہیں۔
اسی طرح جلد دوم میں حضرت داؤدؑ ، حضرت سلیمانؑ ، حضرت الیاسؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت اشعیاؑ ، حضرت زکریاؑ ، حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا ذکر خیر ہے۔ ان انبیاءu کے ساتھ دیگر کرداروں میں طالوت و جالوت، ذوالکفل، اصحابِ سبت، ذوالقرنین، یاجوج ماجوج، اصحابِ الرس، اصحاب القریہ، دو عبرت انگیز قصے، عذاب زدہ بستی، اصحابِ کہف، قومِ تبع، اصحاب الاخدود، اصحاب الفیل، ابولہب لعین، اور ہاروت و ماروت کے واقعات کو بیان کیا گیاہے۔
مصنفہ نے ان تذکروں کے عنوانات عمومی طور پر قرآنِ کریم کے اُن الفاظ کو بنایا ہے جن الفاظ میں ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ مثلاً صاحب الحوت (تذکرہ حضرت یونسu) فتنہ داؤدؑ (تذکرہ حضرت داؤدؑ )، اسفل سافلین (تذکرۂ قومِ لوطؑ )۔
دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں قرآنِ مجید کے بیان کردہ واقعاتِ انبیاؑ ء کے علاوہ دیگر بہت سے کرداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یوں قرآنِ مجید کے بیان کردہ تقریباً تمام ہی کرداروں کا تذکرہ یکجا ہو گیا ہے۔ اسلوب نگارش چونکہ حکایت اور کہانی کا تھا اس لیے زبان و بیان کی مشکلات اور تحقیق و تفتیش کی اصطلاحات سے کتاب کا دامن بوجھل نہیں ہوا۔
مصنفہ نے جس توجہ، محنت اور احتیاط سے ان واقعات کو کہانی کا رنگ دیا ہے وہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔ قرآنی قصص کو نوخیز ذہنوں کے لیے دلچسپ بنانے کی غرض سے جس طرزِ تحریر کو اختیار کیا گیا ہے اُس کا اثر پڑھنے والا خود محسوس کرتا ہے۔ بہت سلیس اور سادہ زبان میں لکھا گیا یہ سلسلہ واقعات بچوں اور نوجوانوں کے علاوہ عام پڑھنے والوں کو بھی بہت حد تک درست معلومات فراہم کرتا ہے۔
ناشر نے اس کتاب کو رنگین تصاویر سے بھی آراستہ کیا ہے اور بہت عمدہ کاغذ، اچھی طباعت اور مضبوط جلدبندی سے کتاب کی قدروقیمت بڑھ گئی ہے۔

آدم کی سرگزشت
یہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے رعب و دبدبہ اور عظمت و شوکت سے عالمِِ انسانی تھراتا ہے۔ ایک روز حسبِ معمول حضرت عمرؓ مدینہ کی گلیوں میں گشت فرما رہے ہیں۔ نماز تہجد میں کوئی شخص خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کررہا ہے۔ آپؓ آواز پر کان لگائے ہیں۔ پڑھنے والا پڑھ رہا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع (تیرے رب کا عذاب واقع ہوکر ہی رہے گا)۔
یہ سن کر آپ فرطِ خوف میں بُھول جاتے ہیں کہ مجھے تو جنتی ہونے کی خوش خبری خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سنا چکے ہیں اور یہ دھمکی تو اہلِ کفر کو سنائی جارہی ہے۔ خوفِ عذاب سے ان کا دماغ چکرانے، دل پھٹنے اور قوت جواب دینے لگتی ہے، وہ بے قابو ہوکر زمین پر گرنے لگتے ہیں۔ دیوار کا سہارا لے کر اٹھتے اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے دل و دماغ سے صرف ایک آواز اٹھ رہی ہے، ان کانوں میں صرف ایک آواز گونج رہی ہے
ان عذاب ربک لواقع مالہ من واقع (سورۃ طور، آیت 8-7)
(تیرے رب کا عذاب واقع ہوکر ہی رہے گا، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں)
بہت دیر اسی طرح فرشِ خاک پر بیٹھے رہتے ہیں۔ لڑکھڑاتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں۔ خوفِ آخرت اور عذاب کی شدت کے تصور سے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ لوگ ان کی مزاج پرسی کے لیے آرہے ہیں اور خوفِ آخرت سے بیمار پڑ جانے والے انسان کو دیکھ دیکھ کر نہ جانے کتنے انسان اپنی بیماریوں سے شفا حاصل کررہے ہیں۔
اگر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اس کو یہ خیال آئے گا کہ شاید میری تولید اس طرح ہوئی جیسا کہ اللہ کی دوسری مخلوق کی ہوتی ہے۔
پھر انسان نے اپنے وجود کو تنہا پایا اور اسے اپنے ایک ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آخر ایک دن اس نے اپنے پہلو میں اپنی ہی جیسی چیز کو بیٹھے ہوئے پایا۔ وہ حضرت حوا تھیں۔ حضرت آدم نے اپنی ہی شکل کی چیز کو پایا تو وہ حضرت حوا کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ پھر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ تخلیقِ کائنات کا فلسفہ یہی ہے کہ اللہ نے جب دنیا کو پیدا کرنا چاہا تو اس نے کہا ’کن‘ یعنی ہو، اور وہ پیدا ہوگئی۔ (کن فیکون)
انسان ایک بال سے زیادہ باریک اور رائی کے دانے سے چھوٹے بُھنگے سے پیدا ہوا۔ جس طرح بیج میں درخت کے تمام پھل، پھول، پتّے، ٹہنی چھپے ہوتے ہیں، اسی طرح اس رائی کے دانے سے حسین و جمیل چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی کہ فرہاد سر پھوڑے، زلیخا حضرت یوسفؑ پر ہاتھ کاٹے اور مجنوں جنگل میں سرگرداں پھرے۔
انسان دو قوتوں سے مل کر بنا ہے یعنی خیر و شر۔ ملکوتی اور شیطانی طاقتیں۔ ان میں شیطانی قوت اس کا تعاقب کررہی ہے اور اس کو بہکاتی ہے۔لیکن انسان کے کمال کا سبب بھی یہی شیطانی طاقت ہے۔ اور یہی اس کی پستی کا سبب ہے۔ جب حضرت آدمؑ جنت میں تھے تو ان کو شیطانی طاقت نے ورغلایا۔ اس کے بعد حضرت آدمؑ کو اپنے عیب و ہنر کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے اللہ سے اپنی لغزش کی معافی چاہی اور پھر اللہ نے اپنا نائب بناکر زمین پر بھیج دیا۔
اللہ نے انسان کو مٹی سے بنایا۔ فرشتوں سے سجدہ کرنے کو کہا۔ فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے نہیں کیا۔ اللہ نے اس سے پوچھا تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تو شیطان نے کہا کہ تُو نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور مجھے آگ سے۔ اس لیے میں آدم سے افضل ہوں۔ تب اللہ نے شیطان کو مردود قرار دے کر ہمیشہ کے لیے جنت سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو بتادیا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس سے ہوشیار رہنا، اور گیہوں کے درخت کے پاس نہ جانا۔ اور اس کے کھانے سے منع کردیا۔ مگر حضرت آدمؑ شیطان کے بہکائے میں آگئے اور انہوں نے گیہوں کا دانہ کھا لیا۔ اس کو کھاتے ہی نادانی کا پردہ اٹھ گیا۔ اور اللہ نے کہا کہ ہم نے جس چیز کے کھانے کو منع کیا تھا تم نے وہی کھالی۔ پھر اللہ نے انسان کو اپنا نائب بناکر زمین پر بھیجا تو فرشتوں نے اس پر اعتراض کیا کہ ہم عبادت زیادہ کرتے ہیں، انسان زمین میں خونریزی زیادہ کرے گا۔ اللہ نے کہا کہ اس مصلحت کو میں جانتا ہوں۔ پھر اللہ نے آدمؑ کو تمام اسماء اور علوم سکھائے تو فرشتوں نے اللہ کے علم کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔انسان ایک مرکب چیز ہے۔ وہ مختلف قوتوں سے مل کر بنا ہے۔ مرکب ہونے کے باوجود اس کی ہر قوت الگ الگ کام کرتی ہے۔ مرکب چیز مختلف چیزوں سے مل کر ایک خاص مزاج پیدا کرلیتی ہے۔ ہر چیز اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہتی، جیسے گرم سرد پانی مل کر معتدل پانی بن جاتا ہے۔ لیکن انسان کی مثال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے تمام قویٰ اور خیر و شر کی طاقتیں ایک رہ کر بھی الگ الگ کام کرتی ہیں۔ انسان کے ملکوتی قویٰ کے سجدہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے تابع ہیں۔ یعنی جب انسان سے نیکی کا کام سرزد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کے قویٰ انسان کی فرماں برداری کررہے ہیں۔ جب کہ اس کے شر کی طاقت سرکش ہے۔ کیونکہ جس کام کو برا سمجھتے ہیں اس کو برا جانتے ہوئے بھی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شر کی طاقت سرکش ہے، وہ مطیع نہیں ہوتی ۔ اس لیے انسان اُس وقت تک انسان نہیں بن سکتا جب تک وہ اس سرکش طاقت پر قابو نہ پا لے۔
[پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی]
امیرالمومنین عثمانؓ نے سعد بن عاص کو کوفے کا امیر مقرر کیا تھا۔ اُس کے ہاں قاعدہ تھا کہ صبح و شام بڑے تکلفات کے ساتھ دسترخوان بچھتا۔ بیسیوں اشخاص ضیافت میں حصہ لیتے اور کسی کے لیے کوئی روک ٹوک نہ ہوتی۔اُن دنوں کوفے میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ تھا تو امیر زادہ، مگر اب امارت کی جگہ افلاس نے لے لی تھی۔ گھر کی جمع جتھا برابر ہوچکی تھی، اسباب واثاثہ فروخت ہوچکا تھا اور غریبی کے ہاتھوں یہ حالت ہوگئی تھی کہ اہل و عیال فاقوں مر رہے تھے۔ایک دن اس کی بیوی نے کہا ’’یوں کیسے گزر ہوگی۔ امیر سے عرض کرو، شاید ہمارے حال پر مہربانی کرے۔‘‘ایک رات وہ نوجوان، امیر کے دستر خوان پر حاضر ہوا۔ کھانے سے فارغ ہوکر، اور تو سب لوگ رخصت ہوگئے مگر نوجوان وہیں ٹھیرا رہا۔ امیر سمجھ گیا کہ کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔ پوچھا ’’کچھ کہنا ہے؟ کہو!‘‘نوجوان نے اپنا حال بیان کرنا چاہا مگر مارے شرم کے کچھ کہہ نہ سکا۔
حکایت۔ امیرِ کوفہ اور ایک مفلس نوجوان
یہ دیکھ کر امیر نے غلاموں کو حکم دیا کہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ مگر اب بھی نوجوان کی زبان نے یاری نہ کی۔ امیر سعید نے حکم دیا کہ شمع ہٹالی جائے۔ تاریکی ہونے پر غریب نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنے افلاس پر ہلکی سی روشنی ڈالی۔اس پر امیر نے کہا’’میں سمجھ گیا۔ کل تم مختار (وکیلِ اخراجات) سے مل لینا۔‘‘دوسرے دن نوجوان، سعید کے مختار سے ملا تو اس نے کہا ’’رات امیر نے تمہارے متعلق مجھ سے کہہ دیا تھا۔۔۔ دو حمال لے آؤ اور اپنا مال اٹھوا کر لے جاؤ۔‘‘حمالوں کے تذکرے سے مفلس نوجوان کو خیال ہوا کہ امیر نے تھوڑا سا اناج دینے کو کہا ہے۔ مایوسی کے عالم میں گھر آیا اور بیوی سے بولا ’’میں تو خدا کے سوا کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتا مگر تیرے کہنے میں آکر امیر کے پاس چلا گیا اور مفت کی ذلت اٹھائی۔ مجھے دیکھتے ہی مختار کہنے لگا’’دو حمال ساتھ لاؤ‘‘ غلہ دینے کو کہا ہوگا۔ صرف غلے سے کیا کام چلے گا۔ احسان بھی لو اور اتنے سے غلے کے لیے! مجھے تو شرم آتی ہے۔‘‘
میاں بیوی نے جیسے تیسے کچھ دن اور گزر کی۔ مگر کب تک؟ جب فاقے پر فاقہ ہونے لگا تو چار وناچار اناج ہی لینے پر آمادہ ہوگئے۔
نوجوان امیر کے مکان پر گیا۔ مختار موجود تھا۔ اسے دیکھتے ہی بولا ’’کہاں چلے گئے تھے تم؟ کتنے ہی دن سے تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر اسے خزانے میں لے گیا اور تین بوریاں روپیوں کی، تین غلاموں کے سر پر رکھوادیں اور بہت سی معذرتوں کے بعد اسے رخصت کیا۔
نوجوان نے گھر پہنچ کر چاہا کہ غلاموں کو انعام دے کر رخصت کرے۔ غلاموں نے جواب دیا ’’امیر نے ہمیں آپ کی خدمت میں رہنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
یہ سن کر نوجوان نے خدا کا شکر ادا کیا اور ہمیشہ امیر کی تعریف میں رطب اللسان رہا۔

Share this: