(چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ماہراقتصادیات ڈاکٹر ہارون رشید سے گفتگو (ڈاکٹر خالد مشتاق

Print Friendly, PDF & Email

ڈاکٹر ہارون رشید نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ بی ایس سی ہمدرد یونیورسٹی کراچی سے کیا۔ مارکیٹنگ ریسرچ میں چین کی WUHANیونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ وہ چین کی یونیورسٹی میں استاد کے طور پر پی ایچ ڈی کی تعلیم دیتے رہے۔ کئی بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کیے۔ انہوں نے بین الاقومای جراید میں تحقیقی مقالے لکھے۔ بزنس اور لیڈر شپ کے مضمون چین کی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ چین کی کئی کمپنیوں کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ رہے۔ لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی میں چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف مارکیٹنگ، ڈائریکٹر سی پیک فوڈ آف بزنس اینڈ اکنامکس ہیں۔ چین میں بہت عرصہ رہے ہیں اور سی پیک پر ان کی گہری نظر ہے۔ ڈاکٹر ہارون رشید صاحب ادارہ معارف اسلامی میں لیکچر کے لیے تشریف لائے۔ ہم نے اس موقع پر اُن سے گفتگو کی تاکہ فرائیڈے اسپیشل کے قارئین بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔
سوال : چین اور چینی قوم کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
ڈاکٹر ہارون رشید : چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان کا پڑوسی ہے۔ چینیوں کے بارے میں یہ بنیادی بات سمجھ لیں کہ وہ پرامن اور محنتی قوم ہے، اور محنت کے ساتھ کاروبار کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ چین نے ہزاروں سال کی تاریخ میں کبھی کسی قوم و ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی۔ ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے دیوارِ چین تعمیر کی تاکہ دوسرے ان پر حملہ نہ کرسکیں، لیکن خود دوسروں پر حملہ نہیں کیا۔ چین میں ہمیشہ سے بادشاہت تھی، پھر ماؤزے تنگ کے انقلاب کے بعد کمیونسٹ پارٹی کی حکومت آگئی، حکومت تو اسی پارٹی کی ہے لیکن آہستہ آہستہ چین نے اپنے عوام کو تجارت اور کاروبار کے وسیع مواقع فراہم کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کے جو طالب علم امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھے، انہوں نے علم حاصل کرنے کے بعد بہتر زندگی کے مواقع، مال و دولت چھوڑ کر اپنے ملک میں آکر خدمت کرنے کو ترجیح دی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس اپنے ملک آکر ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ چین کی ترقی کا اہم راز ہے۔
سوال: یہ بتایئے کہ سی پیک منصوبہ کیا ہے؟
ڈاکٹر ہارون رشید: چین پاکستان اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ ہے کہ چین سے تجارت کا مال گوادر کی بندرگاہ سے دنیا تک پہنچ سکے۔ اس منصوبے سے چین کا اقتصادی طور پر فائدہ ہوگا۔ چین ہمارا ہمسایہ ہے، اس نے یہ منصوبہ پاکستان کے ساتھ اس طرح بنایا ہے کہ چین کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کو بھی فائدہ پہنچے۔ بلکہ اب تو اس منصوبے میں روس سے آزاد ہونے والی ریاستیں بھی شامل ہورہی ہیں۔ اس منصوبے کی وجہ سے چین پاکستان کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک سے قریب ہورہا ہے اور اس سے سب کا فائدہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔
سوال: سی پیک سے پاکستانی عوام کو کیا فائدے ملیں گے؟
ڈاکٹر ہارون رشید: سی پیک کے فائدے یہ ہیں:
* پاکستان کی اقتصادی صورت حال اور توانائی اور آمد و رفت کی صورت حال بہتر ہوگی۔
* بجلی کی پیداوار میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگا کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ کچھ عرصے بعد کم اور پھر ختم ہوجائے گا۔
* ہر فرد شہر، دیہات، کاروبار کو بجلی ملے گی۔
* گھروں میں، اسکولوں میں بجلی کی صورت حال بہتر ہونے سے تعلیمی طور پر بچوں کو فائدہ ہوگا۔
* لوگ رات کی نیند پوری کرسکیں گے۔ نیند رات کو پوری ہونے سے بے خوابی اور ڈپریشن کی بیماری میں کمی آئے گی۔
* دفتروں میں کام کی صورت حال بہتر ہوجائے گی۔
* کارخانوں میں بجلی ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی بہتر ہوجائے گی۔
*چھوٹے، بڑے کارخانے مثلاً پرنٹنگ پریس، کپڑے کے کارخانے وقت پر اپنا مال دے سکیں گے۔
* بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی ان کی چیزیں بروقت اور اچھے معیار کی جاسکیں گی۔
* کارخانوں کے لیے صنعتی زون بنیں گے۔
*آزاد فضا میں کام کرنے سے ترقی ہوگی۔ صنعتیں بڑھیں گی۔
*روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
* نوجوانوں کے لیے تعلیمی اور فنی ادارے قائم ہوں گے جہاں چین کے ماہرین نوجوانوں کو اعلیٰ فنی تعلیم دیں گے۔
*اسپتالوں میں مریضوں کو فائدہ ہوگا۔
* اچھی، ہموار سڑکوں کی وجہ سے مریضوں کو اسپتال جانے میں مشکلات کم ہوں گی۔
* بجلی مہیا ہونے کی صورت میں چھوٹے شہروں میں بھی اسپتالوں میں ایکسرے اور لیبارٹری کی سروس مہیا ہوگی۔ (ایکسرے مشینیں، ٹی بی کی بیماری کی تشخیص، ملیریا کی تشخیص، چھوٹے شہروں میں بجلی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت ممکن نہیں ہے۔)
* کمرکے درد اور بہت سی بیماریاں جو تکلیف دہ ٹوٹی سڑکوں پر سفر کرنے سے ہوتی ہیں، کم ہوجائیں گی۔
*معاشرے کی ذہنی و جسمانی صحت پر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اہم بات یہ کہ آپ کراچی کے حالات دیکھ لیں۔ سی پیک شروع ہوتے ہی کراچی میں امن آگیا۔ بھتہ خوری اور خوف و ہراس ختم ہورہا ہے۔
*کراچی سے حیدرآباد، اندرون سندھ ہر طرف دیکھیں، نئی سڑکیں تعمیر ہورہی ہیں۔ یہی حال بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختون خوا کا ہے۔ ملک میں سڑکوں کا معیار اچھا ہورہا ہے۔ کراچی میٹرو اور کراچی پشاور ڈبل ٹریک کے منصوبے پر سی پیک کی وجہ سے تیزی آگئی ہے۔
* دیہات میں رہنے والے جب اچھی سڑکوں کی وجہ سے اپنی فصل شہر تک جلد پہنچاسکیں گے تو دیہات کے لوگوں کو بھی مالی فائدہ پہنچے گا اور شہر کے افراد بھی تازہ سبزیوں، پھلوں اور غذائی اجناس کے فوائد حاصل کریں گے۔
سوال: یہ بتائیے کہ چین میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟
ڈاکٹر ہارون رشید: چین میں مسلمانوں کو آزادی ہے۔ مسلمان اپنی پسند کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ کاروبار کرسکتے ہیں۔ بلکہ چین کے جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں گورنر اور دیگر حکومتی عہدوں پر اکثر مسلمان ہی آفیسر ہوتے ہیں اور حکومتی پارٹی کے نمائندے بھی مسلمان ہوتے ہیں۔
سوال: آپ کا مطلب ہے کہ وہاں مسلمانوں کی حکومت ہے؟
ڈاکٹر ہارون رشید: چین میں جس جگہ جس مذہب وزبان کے لوگ رہتے ہیں وہاں ان ہی لوگوں کی نمائندہ حکومت ہوتی ہے۔ یہ Autonomous Regionکہلاتے ہیں۔ مثلاً نیکستا کا آتوناس ریجن، نین زیا Ningixia‘ مسلمانوں کا خودمختار ریجن، Yuguc مسلمانوں کا خودمختار ریجن، اویغور مسلمانوں کے ریجن اور HUI مسلمانوں کے علاقے میں انہیں مقامی فیصلے کرنے کی آزادی ہے۔ حکومت میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ اقتصادی وسائل کی تقسیم بھی مسلمان حکومت کے نمائندے ہی کرتے ہیں۔
سوال: مسلمانوں کو نوکری کے ساتھ کیا کاروبار کی بھی آزادی ہے؟
ڈاکٹر ہارون رشید: مسلمانوں کو بھی کاروبار کی آزادی ہے۔ اکثر چین میں HUI Muslim ریسٹورنٹ کی چین موجود ہے۔ جگہ جگہ مسلم ریسٹورنٹ مل جائیں گے۔ چین میں مسلمانوں کے ہوٹل بہت مقبول ہیں، غیرملکی افراد کے علاوہ چینی بھی ان میں کھانا پسند کرتے ہیں۔ مسلمان ریسٹورنٹ میں حلال غذا تو ہوتی ہی ہے، صفائی بھی بے مثال ہے۔ اسی لیے غیرمسلم، مسلم ریسٹورنٹ میں کھانا پسند کرتے ہیں۔ مسلم ریسٹورنٹس میں قرآن کی آیات لگی ہوں گی۔ ویٹر ٹوپی پہنے ہوں گے۔ خواتین بھی حجاب میں ہوں گی۔
سوال: کیا رمضان میں مساجد میں کسی قسم کی پابندی ہوتی ہے ؟
ڈاکٹر ہارون رشید: چین میں 35 ہزار مساجد ہیں، جن میں ائمہ کی تنخواہ حکومت دیتی ہے اور بہت اچھی تنخواہیں ہیں۔ مساجد کے علاوہ خواتین کے مدارس بھی ہیں جہاں قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔
مساجد کے ساتھ ہی اکثر دکانیں ہوتی ہیں جن میں حلال گوشت ہوتا ہے۔ مساجد کے قریب جانور ذبح کرنے کی جگہ بھی ہوتی ہے۔ مسلمان قصاب ہی ذبح کرتے ہیں۔ یہ کام کرنے والے اکثر مسلمان تعلیم یافتہہوتے ہیں۔ چینی مسلمانوں میں Status کا کوئی مسئلہ نہیں۔
سوال: لیکن میڈیا میں آتا ہے کہ روزہ پر پابندی ہے، دفتر میں نماز نہیں پڑھ سکتے؟
ڈاکٹر ہارون رشید:HUI مسلمانوں کے علاقوں میں تو جمعہ کی نماز سڑکوں پر بھی پڑھی جاتی ہے جس طرح کراچی، لاہور میں ہوتا ہے۔ یہ خبریں اویغور مسلمانوں کے علاقے کے حوالے سے مغربی میڈیا میں آتی ہیں۔ صرف اُن علاقوں میں جہاں لا اینڈ آرڈر کے مسائل ہوں، شرپسندوں پر سختی ہوتی ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو تو ہمارے یہاں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن اویغور مسلمانوں کے علاقوں کے بارے میں جب میں نے پروپیگنڈا سنا تو میں خود ایک مرتبہ ان کے علاقے میں رمضان میں گیا اور تین دن تک اعتکاف میں بھی بیٹھا۔ لوگ آزادانہ تراویح بھی ادا کررہے تھے، کوئی پابندی نہیں دیکھی۔ مساجد میں اسی طرح ہجوم تھا۔ چین میں دفتری اوقات خاص طور پر سرکاری دفاتر میں صبح 7سے شام 5بجے تک ہوتے ہیں۔ اس میں 12 سے 2 بجے تک لنچ بریک ہوتا ہے۔ چھٹی کے ان دو گھنٹوں میں آپ کو آزادی ہے کھانا کھائیں، سوئیں، نماز ادا کریں۔5 بجے چھٹی ہوجاتی ہے۔ افطار گھر جاکر کرسکتے ہیں۔ افطاری کے اوقات میں سرکاری دفاتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
سوال: آپ جو فرمارہے ہیں تو پھر یہ خبریں کیسے آتی ہیں؟
ڈاکٹرہارون رشید: یہ خبریں اکثر مغربی میڈیا سے آتی ہیں۔ وہ مغربی میڈیا جسے شام و فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہتا نظر نہیں آتا۔ بچوں اور خواتین پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے۔ انہیں رمضان کے شروع ہی میں چین کے مسلمانوں سے محبت ہوجاتی ہے۔ ایسے کئی دانشور ہیں جو امریکہ میں بیٹھ کر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مقامی مسلمان آبادی سے جو چین میں رہتی ہے، کوئی تعلق نہیں ہے۔
چین میں کاروبار کرنے، ریسٹورنٹ چلانے والے مسلمانوں کی اکثریتHui مسلمان ہیں۔ Hui مسلمان اپنے کاروبار کے وقت بھی اکثر ٹوپی پہنتے ہیں، خواتین حجاب لیتی ہیں۔ خواتین کو تو اتنی آزادی ہے کہ مساجد میں بھی ان کے لیے لازمی حصہ یا خواتین کی مسجد ہوتی ہے۔ خواتین کے دینی تعلیم کے ادارے خواتین چلاتی ہیں۔ چین کی حکومت کی طرف سے پوری آزادی ہے۔ رمضان کے جمعہ اور عید کی نماز تو Hui مسلمان اکثر سڑکوں پر بھی پڑھتے ہیں، جس طرح ہمارے یہاں ہوتا ہے۔ کیونکہ مسجد میں جگہ کم پڑجاتی ہے۔ بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ عید کی مبارکباد دینے کے لیے چین کے موجودہ صدر ژی زنگ پنگ نے Hui خودمختار مسلمانوں کے صوبہ Nigxiaکا دورہ کیا۔ اس موقع پر وہ ایک بڑی مسجد میں گئے، نمازیوں سے ملاقات کی۔ وہ جوتے اتار کر مسجد کے ہال میں گئے اور نیچے بیٹھ کر مسلمانوں سے گفتگو کی۔ چین کے صدر نے کہا کہ وہ سال میں دو مرتبہ مختلف تاریخوں میں اس مسلمان صوبے کا دورہ کریں گے ۔ ان کے بعد چین کے نائب صدر سال میں چھ مرتبہ مسلمانوں کے اس صوبے کا دورہ کریں گے۔ اس طرح پارٹی کا سیکرٹری اور گورنر سال میں کم از کم تین مرتبہ ہر شہر کا دورہ کریں گے۔ اس طرح بھرپور نگرانی کرکے ہم مسلمانوں کے اس صوبے کو تیزی سے ترقی دیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ چین کے عام افراد پاکستانیوں سے بڑی محبت کرتے ہیں، انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ چینی مسلمان مل جائیں تو وہ بہت عقیدت سے ملتے ہیں۔
nn

Share this: