(سہیل سانگی(ترجمہ: اُسامہ تنولی

Print Friendly, PDF & Email

’’سندھ میں سماجی ترقی سے تعلق رکھنے والے دو اہم شعبوں تعلیم اور صحت میں گزشتہ چند مہینوں سے ایمرجنسی نافذ ہوچکی ہے۔ یہ دونوں فیصلے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مختلف اجلاسوں کے انعقاد کے بعد کیے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کی ہدایات پر جسٹس کلہوڑو کی قیادت میں لوگوں کو پینے کے پانی اور گندے پانی کے اخراج کی صورتحال کو جانچنے کے لیے قائم کردہ کمیشن نے سندھ کے مختلف اضلاع اور شہروں کے دورے کے بعد اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کردی ہے۔ یہ رپورٹ صوبے میں موجود بدترین صورت حال کی عکاسی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس حوالے سے ہر سال اربوں روپے خرچ کرنے اور بڑی تعداد میں عملہ کی موجودگی کے باوجود لوگ نہ صرف ان سہولیات سے محروم ہیں بلکہ سرکاری خرچ پر عام افراد کی زندگی کو مزید مشکل اور تکلیف دہ بنایا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ کی طرف سے تعلیم اور صحت میں نافذ کردہ ایمرجنسی اور جسٹس کلہوڑو کے کمیشن کی دی گئی رپورٹ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ عام افراد کو نہ تو پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی صفائی ستھرائی اور گندے پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام ہے۔ یہ دونوں چیزیں بنیادی سہولیات کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا حق بھی ہیں۔ کمیشن کی اس رپورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود تاحال حکومت نے اس بارے میں کسی طرح کے مؤثر فیصلے اور اقدامات نہیں کیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ بھی قبل ازیں تشکیل دیے گئے عدالتی کمیشن کی رپورٹوں کی مانند محض ایک رپورٹ ہی ہے جس میں حقائق تفصیلاً بیان کردہ ہیں، لیکن ان پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا جارہا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ایسی بھیانک رپورٹ سامنے آنے کے بعد کمیشن کو غیر اعلانیہ مدت کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس رپورٹ پر عمل ہوگا یا یہ بھی (ماضی کی دیگر رپورٹوں کی مانند) تاریخ کا حصہ بن جائے گی؟ سندھ حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح سے عدالت نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایکٹوازم ہوا ہے اس سے یکسر اغماض برتنا رائے عامہ کو ایک طرح سے پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ یہ عام رائے صرف عام افراد ہی کی نہیں جو بے بس اور مجبور ہیں، جن سے حکومت اور کسی بھی دوسرے ادارے کو کوئی خوف نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ایکٹوازم بھی ہے، سرگرم وکلاء کا جتھہ بھی موجود ہے۔ قابلِ تعجب امر یہ ہے کہ ایسی بھیانک صورت حال کا وفاقی حکومت نے بھی ہنوز کوئی نوٹس نہیں لیا ہے کہ اس ملک کے کروڑوں شہری ایسے بدترین حالات میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بدترین صورت حال کا عدالت نے نوٹس نہیں لیا ہے بلکہ خود وزیراعلیٰ موصوف نے نوٹس لیا ہے اور ان دونوں محکموں میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے، لیکن اس وقت تک ان دونوں شعبوں میں اصلاحِ احوال کے حوالے سے ایسا کوئی بھی خاطرخواہ کام نہیں ہوا ہے جو لوگوں کو نظر آسکتا۔ اربابِ اختیار نے یہ فیصلہ البتہ ضرور کیا ہے کہ صوبے کے چند مزید اضلاع میں کچھ اور سرکاری اسپتال نجی شعبے کے حوالے کردیے جائیں۔ اہلِ سندھ غربت، بے روزگاری، وسائل کی کمی اور آگہی سے محروم ہیں۔ ایک بڑی تعداد پانی سے تعلق رکھنے والی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ نیز لوگ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے جنم لینے والی غذائیت کی قلت کا بھی شکار ہیں، جو انہیں کسی بھی وقت کسی بھی بیماری کی طرف بآسانی دھکیل سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو صحت اور سماجی حوالے سے سندھ ایک سماجی دلدل اور بحران میں گرفتار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی بھی علاقے میں خسرہ یا دستوں کی بیماری پھیلتی ہے تو وہ وبائی شکل اختیار کرکے ایک بڑا بحران پیدا کردیتی ہے، جس کی مثال تھر میں بچوں کی اموات اور سندھ کے مختلف علاقوں میں خسرہ وغیرہ کا پھیلنا ہے، جس کا خمیازہ ہم دو تین سال پہلے بھگت بھی چکے ہیں۔ دراصل ہمارا انتظامی ڈھانچہ کسی بھی دباؤ یا ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنے کے قابل ہی نہیں رہا ہے، بلکہ اس کی کارکردگی ایسی رہی ہے کہ وہ خود ہنگامی حالات پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ حالات سے باخبر ایک دوست کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اگر محکمۂ صحت میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان نہ کرتے تو کوئی نہ کوئی شخص عدالت میں چلا جاتا۔ کسی ایسی عدالتی مداخلت سے قبل صحت کے شعبے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا۔ ہنگامی حالت کا اعلان محض اعلان کی حد تک ہی محدود لگ رہا ہے۔ تھر میں گزشتہ تین برس سے قحط کی صورت حال اور بچوں کی اموات سے متعلق میڈیا میں خاصا شور شرابہ ہونے کے بعد جب وہاں بچوں اور چند دیگر شعبوں کے ماہرین اور بعض عام ڈاکٹر مقرر کیے گئے تو ان ڈاکٹروں کو آج تک پکا کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں اُس وقت کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے اعلان کے مطابق خاص الاؤنس دینے پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ یہ پہلی بار تھا کہ حکومت نے اس پسماندہ ضلع میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو مقرر کیا تھا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اعلان سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا تھا اس لیے موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ مذکورہ اعلان پر عملدرآمد کرانے کے لیے خود کو ذمہ دار نہیں گردانتے۔ اس طرح سے نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ فیصلہ کسی سیاسی، یا کسی لابی، یا کسی گروپ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ لوگ ابھی تک اس انتظار میں ہیں کہ صوبے میں نافذ کردہ صحت ایمرجنسی کا فائدہ انہیں کب حاصل ہوسکے گا؟
تعلیم صوبے میں ایک ایسی الجھی ہوئی گتھی بن چکی ہے جسے سلجھانے کے لیے جتنی دانش، طریقہ کار اور محنت کی ضرورت ہے وہ حکومت کے ہاں موجود دکھائی نہیں دیتی، یا وہ ازخود ہی اپنے اندر اس کی سکت محسوس نہیں کرتی۔ اسے کسی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعے کرنے کے بجائے پراجیکٹس کے ذریعے مختلف تجربات کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے اور زیادہ ابہام جنم لے رہے ہیں، اور وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا بھی ستیاناس ہوتا جارہا ہے۔ حکومت گزشتہ کئی برس سے کسی نوع کی جامع منصوبہ بندی کرنے کے بجائے ٹکڑوں میں اور اِکا دُکا اسکیمیں بناکر ان پر عمل کرتی رہی ہے۔ نتیجتاً ان کا ہمارے سماج پر کوئی ٹھوس اثر مرتب نہیں ہو پارہا ہے۔ 1985ء سے منصوبہ بندی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ اور اسکیمیں دی جارہی ہیں۔ یہ اسکیمیں سیاسی رشوت ہونے کے ساتھ ساتھ جہاں کرپشن کا باعث بنیں، وہیں اس حکمت عملی نے معاشی عدم مساوات اور مقامی تنازعات کو بھی جنم دیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک گوٹھ میں دو دو تین تین درجن اسکول اور سو کے لگ بھگ اساتذہ موجود ہیں۔ یہاں جتنے اساتذہ ہیں بچے اتنے نہیں ہیں۔ دوسری جانب کئی ایسی دیہی آبادیاں (گوٹھ) ہیں جہاں اسکول کی ضرورت ہے، یا زیادہ اساتذہ،عمارتوں یا دیگر سہولیات کی ضرورت ہے، لیکن وہاں یہ سب چیزیں مہیا نہیں کی گئیں۔ یہ صورت حال معمولی فرق کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔ یعنی جتنی ضرورت تھی وہاں اتنی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ سماجیات اور معاشیات کا سادہ سا فارمولا ہے کہ بغیر کسی ضرورت کے جہاں بھی سہولت دی جائے گی اس کا سماجی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، بلکہ اس کا استعمال ہی غلط طریقے سے کیا جائے گا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اسکول بند، اساتذہ غائب، شاگرد بے چارے دربدر، عمارتیں اوطاقیں یا اصطبل بنی رہیں۔ بعینہٖ صورت حال راستوں اور دیگر سہولیات کی بھی ہے۔ دیکھا جائے تو منصوبہ بندی کے بغیر ایسی اسکیموں پر گزشتہ 30 برس سے اربوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن یہ سب بے فائدہ اور بے کار ثابت ہوئیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان ساری اسکیموں کی تکمیل ایک پلاننگ کے تحت کی جاتی اور ان کے بارے میں پوری طرح سے چھان بین کرکے ضرورت، اہمیت اور اہلیت کی بنیاد پر ان پر پیسے خرچ کیے جاتے۔
ہمارے منصوبہ بندی اور ترقی کے محکمے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں بیوروکریٹس یا ایڈمنسٹریٹر تو آتے رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ایسا ماہر معاشیات نہیں رہا ہے، ایسے اکنامسٹ جو ماضی کی مختلف اسکیموں اور پروگرامات کا جائزہ لے کر مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرتے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ گزشتہ تقریباً چالیس برس کے عرصے میں ساری دنیا میں معاشی اور سماجی ترقی کے بارے میں نہ صرف نظریات، اصول اور طریقے بدلے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی عناصر اور اوزار بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے باخبر ہوئے بغیر ہی ہم سب گزشتہ ایک صدی پر محیط پرانے نظام کی بنیاد پر اپنے ترقیاتی پروگرامات چلاتے رہے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم آنے کے بعد صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کے حامل کھاتے (محکمے) صوبوں کے اختیارات کے تحت آچکے ہیں۔ اب سندھ میں منصوبہ بندی اور محکمہ ترقیاتی امور کے بجائے خودمختار، آزاد اور پاور فل منصوبہ بندی کمیشن تشکیل دیا جائے، جس میں اکنامسٹ، ٹیکنوکریٹس اور ماہرین رکھے جائیں، جو ساری صورت حال کا جائزہ لیں اور اس کے بعد ہر شعبے کی بھرپور طریقے سے منصوبہ بندی کریں۔ ٹکڑوں میں بننے والی اسکیمیں دراصل ٹکڑوں میں بننے والی سڑکوں کی مانند ہیں جو وقت کے ساتھ منہدم اور خراب و خستہ ہوجائیں گی اور ان کی وجہ سے عوام کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ پائے گا۔ اب سندھ میں ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کو ایک نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
nn

Share this: