(امروہوی مدیر ششماہی ’عمارت کار(حیات رضوی

Print Friendly, PDF & Email

پچاس کی دہائی میں کراچی کے لوگوں کو ہجرت کے عذاب سے کسی حد تک نجات ملی تو نئے اداروں کی تشکیل بھی ہوئی۔ حکومت نے اعلان کیا کہ وہ لوگ جو اپنی جائدادیں ہندوستان میں چھوڑ کر آئے ہیں، ’کلیم سیٹلمنٹ‘ (CLAIM SETTLMT) کے دفاتر میں درخواست دے سکتے ہیں، اُن کے لیے کسی ایسی جائداد کا الاٹمنٹ کیا جاسکتا ہے جو مالکین کے پاکستان سے چلے جانے کے باعث خالی پڑی ہوں، کلیم سیٹلمنٹکے دفاتر ہر شہر میں قائم کردیے گئے ہیں۔ مہاجرین آبادی کا دباؤ کراچی اور لاہور پر زیادہ تھا، لہٰذا انہی شہروں میں یہ کاروبار ترقی پرتھا۔ یقیناًایک بڑا طبقہ وہ تھا جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر اور اپنے عزیزوں کی جانیں گنوا کر، قربانیاں دے کر پاکستان تک پہنچا تھا، اُن کا جائز حق تھا کہ حکومتِ پاکستان اُن کے لیے جو آسانیاں بھی فراہم کرسکتی تھی وہ اُنہیں دی جاتیں، قائدِاعظمؒ اور لیاقت علی خانؒ اسی غم میں گھلے جارہے تھے کہ اتنی بڑی انسانی آبادی ہجرت کرکے اس ملک میں آبسی ہے، اب ان کے مسائل کا کیا سدِباب ہوسکتا ہے۔ کراچی ان مشکلات کا مسائلستان تھا، حدّ نظر تک جھونپڑیاں ہی جھونپڑیاں نظر آتی تھیں۔ جہاں جہاں یہ انسانی المیے پائے جاتے تھے وہاں وہاں قائدِاعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان کی بیگم رعنا لیاقت علی خان ان آبادیوں میں جاتی تھیں اور لوگوں کی ڈھارس بندھاتی تھیں، اپنی طرف سے پانی کے ٹینکر پہنچواتی تھیں۔ انہوں نے دوسری بہت سی خواتین کو اس نیک کام میں شامل کرکے APWA یعنی آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک ادارہ بنا لیا تھا، جسے بعض وجوہات کی بناء پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، لیکن اس ادارے کے توسط سے بہت سے غریبوں کو کسی حد تک سُکھ چین بھی نصیب ہوا۔ پینے کا پانی، بچیوں کے اسکول، ڈسپنسریاں اور مالی امداد کے بہت سے ذیلی انتظامات ہوئے۔ گولیمار (بعد میں گلبہار) اور لالوکھیت (بعد میں لیاقت آباد) مہاجرین کی ابتدائی بستیاں تھیں۔ خود لیاقت علی خان کے صاحبزادگان لیاقت آباد سے بڑا قریبی تعلق رکھتے تھے اور اکثر اُن کا اس علاقے میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔
پیر الٰہی بخش صاحب جو سندھ کے گورنر بھی رہے، گولیمار کے کوارٹروں کی زمین اُنہی کی تھی جو مہاجرین کو دے دی گئی تھی۔ اس زمین کے بدلے میں اُنہیں تین ہٹّی کے قریب دوسری زمین حاصل ہوئی تو اُنہوں نے پیرالٰہی بخش کالونی (پی،آئی، بی کالونی) کے نام سے ایک نئی بستی بسادی اور لوگوں کو سستی قیمت میں مالکانہ حقوق کے ساتھ مکان مل گئے۔ شاہد احمد دہلوی اور عمارت کار ضمیر مرزا رزقی جیسے بہت سے لوگ اسی علاقے کے رہائشی تھے، اور بہت سے سرکاری محکموں کے آفیسر یہیں کے مکین تھے۔ گولیمار کی زمین کے شمال میں مسلم لیگ کوارٹرز تعمیر کیے گئے اور یہاں بھی یہ مکانات مہاجرین کو دیے گئے، اور اسی سے ملحق زمین پر کراچی کی پہلی رہائشی آبادی کے لیے اُس وقت کے وزیرِاعظم جناب خواجہ ناظم الدین نے اسکیم کا افتتاح کیا۔ یہ زمین ناظم آباد کے نام سے منسوب ہوئی اور ڈھائی روپئے گز کے حساب سے فروخت ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب حکومت لوگوں کو آسانیاں بہم پہنچاتی تھی اور اُن کے مسائل حل کرنا دنیا کی دوسری عمدہ حکومتوں کی طرح اپنا فرض خیال کرتی تھی۔ پاسپورٹ کی قیمت اُس زمانے میں پانچ روپئے تھی اور اُس کی پُشت پر،STATIONERY CHARGES لکھاہوتا تھا۔ گویا اگر اسٹیشنری کا خرچہ نہ ہوتا تو یہ کام مفت کیا جاتا۔ ابھی ہندوستان سے آیا ہوا وہ عملہ سرکاری محکموں میں موجود تھا جس نے انگریزکے دورِ اقتدار میں اُن سے نظم و ضبط کے شعبے میں بہت کچھ سیکھا تھا، بعد میں ایسے منظم لوگوں میں سے کچھ کو ایوب خان نے نکال دیا اور جو باقی بچے وہ یحییٰ خان کے زمانے میں زبردستی ریٹائر کردیے گئے۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ حکومت کے کس عمل سے عوام میں کیا ردعمل پیدا ہوتا ہے؟ حکومت کے نرم رویّے سے عام لوگوں میں بھی لوگوں کے ساتھ محبت اور نرمی کا سلوک اختیار کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور عام لوگ لُوٹ مار کی سرگرمیوں سے محفوظ رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عزیز آباد کے 120گز کے بنے بنائے مکانات ایک نجی ٹھیکیدار نے صرف پانچ ہزار پانچ سو روپئے فی مکان کے حساب سے مالکانہ حقوق کے ساتھ فروخت کیے، اور فیڈرل بی ایریا میں گلبرگ ہاؤسنگ کے دوسو گز کے مکانات صرف آٹھ ہزار روپئے فی مکان کے دام فروخت ہوئے۔ جب حکومت ہی زمین کو کاروبار بنالے اور نیلام عام کرنے لگے تو عوام الناس کو کیا پیغام جائے گا؟
اوپر ہم نے فیڈرل بی ایریا اسکیم کا نام لیا ہے۔ یہ ’بی ایریا‘ کیا ہے، بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں۔ یہ کے ڈی اے اسکیم نمبر 16 کا ایک علاقہ ہے۔ جب KDAکا محکمہ اُنہی دنوں (پچاس کی دہائی) وجود میں آیا تو اس نے بہت سی رہائشی اسکیمیں پلان کیں اور اسی منصوبہ بندی کے مطابق ٹیپو سلطان روڈ اور کارساز کے قریب کے ڈی اے اسکیم نمبر ون وجود میں آئی، اسی طرح کلفٹن کی اسکیم نمبر پانچ کہکشاں کہلاتی ہے۔ ابھی اسلام آباد اور ایوب خان کا دور دور پتا نہیں تھا، کراچی دارالحکومت تھا لہٰذا سرکاری ملازمین کے لیے بھی اسکیمیں پلان کی گئیں۔ اسکیم۔ 16 میں سرکاری ملازمین کے لیے دو حصے وجود میں آئے، پہلا حصہ فیڈرل بیوروکریٹک ایریا (F.B. AREA) اور دوسرا حصہ فیڈرل کیپٹل ایریا (F.C.AREA) کہلایا۔ ایف، سی، ایریا میں حکومت نے ملازمین کو فلیٹ بنا کر دیے جو حکومت کی ملکیت کے تھے، جبکہ کیپٹل ایریا کچھ دنوں تک غیر آباد رہا، یہاں تک کہ 1958ء آگیا اور ایوب خان کی حکومت نے دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد لے جانے کے احکامات صادر کردیے۔ شمالی (نارتھ) ناظم آباد اورفیڈرل بی ایریا کی اسکیمیں جناب احمد علی صاحب چیف ٹاؤن پلانر کے ڈی اے کی پلان کی ہوئی ہیں۔
کراچی میں مہاجرین کے ساتھ ساتھ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے بنگالیوں کی بھی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی جنہوں نے ہر اسکیم میں مکانات بنا لیے تھے اور مستقل رہائش اختیار کرلی تھی۔ مشرقی پاکستان کے مقابلے میں مغربی پاکستان اور خصوصاً کراچی ایک بہت ترقی یافتہ شہر بنتا جارہا تھا، لہٰذا بنگالی حضرات کراچی سے اپنا مستقبل وابستہ کیے ہوئے تھے۔ سیاسی طور پر اُنہیں حکومت کی زیادہ سرمایہ کاری مغربی پاکستان میں ہونے سے بڑی شکایتیں تھیں۔کراچی کے اسکولوں اور کالجوں، نیز یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی تھی، میرے بھی کئی ہم جماعت گورنمنٹ اسکول آف آرکی ٹیکچر کراچی میں رہے۔ میں 1959ء سے 1063ء تک وہاں کا طالبِ علم رہا، مگر ہمارے یہ ساتھی ہمیشہ سے بجھے بجھے اور ناراض ناراض سے رہتے تھے۔ ایک دفعہ میرے کلاس فیلو مصطفی نے مجھ سے کہا کہ ’’حیات صاحب اگر آپ کو ڈھاکا دیکھنا ہے تو ابھی دیکھ لیں، بعد میں اگر تم آیا تو فاسفورٹ (پاسپورٹ) لے کر آنا پڑے گا‘‘۔ یہ 1963ء کی بات ہے اور ابھی 1971ء کی جنگ ہونے میں آٹھ سال باقی تھے۔
ایوب خان حکومت کو پورا یقین تھا کہ مہاجرین اور بنگالی حضرات کی طرف سے اس بات کی سخت مخالفت کی جائے گی کہ دارالحکومت کراچی سے منتقل کرکے اسلام آباد لے جایا جائے۔ مہاجرین نے جب ہندوستان سے کراچی کی جانب ہجرت کی تھی تو دارالامن کے علاوہ اُن کی نظر میں کراچی کی خاصیت دارالحکومت ہونا بھی تھی۔ کاروباری لحاظ سے اور بندرگاہ ہونے کے ناتے بلکہ مشہور اور اہم ائرپورٹ ہونے کی حیثیت سے بھی کراچی کراچی تھا،کیونکہ دیگر شہروں میں یہ خصوصیات نہیں تھیں۔ بنگالیوں کا معاملہ یہ تھا کہ چٹاگانگ سے کراچی کی بندرگاہ تک وہ 70 روپئے میں پہنچ جاتے تھے، اب اگر اسلام آباد حکومت کا پایۂ تخت ہوجاتا ہے تو اُنہیں اپنے تمام سرکاری معاملات کے لیے چٹاگانگ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر کرنا ہوگا۔
حکومت نے کراچی والوں کو رام کرنے کے لیے لانڈھی،کورنگی اور نیوکراچی میں مہاجرین کے لیے ہاؤسنگ اسکیموں کا اعلان کیا اور سُرعت کے ساتھ کام انجام دینے کے لیے ایک ایسی شخصیت کو ذمہ دار بنایا جو واقعی انتہائی مخلص انسان تھا، میری مراد جناب گورنر اعظم خان صاحب سے ہے، جنہوں نے ان تمام ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے رات دن ایک کر ڈالا۔ نیوکراچی کی تعمیرات میں راقم الحروف نے بھی کے ڈی اے کے ایک خادم کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالا۔ اُس وقت کے ڈی اے کے چیف ٹاؤن پلانر جناب ظِلّ احمد نظامی صاحب تھے جن کے دور میں کراچی کی بہت سی ہاؤسنگ اسکیمیں بنیں اور اُن پر عمل ہوا۔ باغِ کوہسار یعنی ’ہِل پارک‘ کراچی کے شہریوں کے لیے اُنہی کی نشانی اور تحفہ ہے۔
پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یعنی PECHSکا قیام بھی اُنہی دنوں عمل میں آیا۔ یہ بھی سرکاری ملازم لوگ تھے، انکی حیثیت ذرا متمول قسم کی تھی، پلاٹ بھی بڑے تھے اور حکومت سے قرضے ملنے میں بھی آسانی ہوجاتی تھی، لہٰذا بہت جلدی پچاس کی دہائی کے شروع والے پانچ سال میں اس آبادی نے ترقی کے بہت سے زینے ایک ساتھ پھلانگ لیے۔ یہاں کے لوگوں کو بنگلے بنانے کا بڑا شوق تھا، یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوارٹر کا ایک کونہ گول کردیا جائے تو بنگلہ بن جاتا ہے۔ پس ہر مکان کا ایک نہ ایک کونہ گول ہونا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بنگلوں کی ایک کھیپ تیار ہوگئی۔ اُس زمانے میں آرکی ٹیکٹ نام کی شئے بڑی نایاب تھی، لاہور کے ایک چشتی صاحب تھے، اُنہوں نے مکانوں کے ڈیزائنوں کی ایک کتاب شائع کی تھی۔ وہ کتاب پی، ای، سی، ایچ، ایس والوں کو اس قدر پسند آئی کہ ہر مالک مکان کے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھی گئی، پسند کا نقشہ منتخب کیا اور راج مزدوروں کو ہدایت دے دی کہ ڈیزائن نمبر فلاں کو زمین پہ اُتار دو۔ چند ماہ میں وہ نقشہ زمین کی زینت ہوجاتا اور ایک گول کونے والا بنگلہ تیار ہوجاتا۔ اب پچھلے بیس تیس سالوں سے یہ بنگلے توڑ توڑ کر عمارت کاروں سے ڈیزائن کرائے جارہے ہیں، پُرانے بنگلوں کو خرید کر مسمار کرکے زمین حاصل کی جاتی ہے اور عمارتِ نَو ساخت کی جاتی ہے۔
(جاری ہے)

Share this: