(شجاع آباد میں تحصیل بار اورگنویں میں عوامی جلسہ سے خطاب (کنور محمد صدیق

Print Friendly, PDF & Email

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق رابطہ عوام مہم پر امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم اور کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ارسلان خاکوانی کے ہمراہ تحصیل شجاع آباد پہنچے تو سینکڑوں افراد نے ظریف شہید میں ریلوے اسٹیشن کے سامنے اپنے محبوب قائد سراج الحق اور دیگر قائدین کا نعروں سے بھرپور استقبال کیا، جہاں انھیں تحصیل بار میں وکلا سے خطاب کرنا تھا۔ تحصیل بار پہنچے تو تحصیل بار شجاع آباد کے صدر رانا طفیل احمد نون، سیکرٹری بار راؤ عامر لقمان اور وکلا تحصیل بار شجاع آباد نے ان کا استقبال کیا۔ پروگرام کا آغاز اے ایم ساجد چودھری کی تلاوتِ قرآن حکیم سے ہوا۔
سینیٹر سراج الحق نے تحصیل بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اصل حیثیت اور اہمیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونا ہے، یہ بہت بڑی طاقت ہے۔ دنیا ہم کو رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے، لیکن ہماری پہچان صرف اُمتی ہونا چاہیے، یہی جنت کا راستہ ہے، یہی پیغام لے کر میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ پاکستان کسی نواب، وڈیرے یا جاگیردار نے نہیں بنایا، اور نہ ہی کسی صنعت کار نے بنایا ہے، بلکہ یہ ایک وکیل نے بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل، اصول پسندی اور قانون کی طاقت سے انگریزوں کو شکست دی اور ہندوؤں کو بھی، اور دنیا کے نقشے پر آزاد، خودمختار اسلامی پاکستان قائم کیا۔ اس وکیل کا نام ہے محمد علی جناح۔ ملک کی حفاظت اور ملک سے ظالمانہ نظام کے خاتمے اور آئین وقانون کی بالادستی کی ذمہ داری بھی وکلا پر عائد ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کے لیے جب تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں تو ان کے پاس بھی دو ہی جگہیں باقی بچتی ہیں: بار روم یا پھر پریس کلب، جہاں جاکر اپنے دل کی بات کرسکتے ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وکیل ایک باشعور طبقہ ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو شعور دیں اور بندے کو بندے کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی غلامی میں دیں۔ یہی آپ کے لیے ہمارا پیغام ہے۔ موجودہ نظام میں چارہ غریب کاشت کرتا ہے مگر اس کا پھل اور مکھن کوئی اورکھاتا ہے۔ مدینہ منورہ کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے۔ دوقومی نظریہ عقیدے کا نام ہے۔ ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، لوٹ مار کا کلچر نہ ہو ۔
قبل ازیں تحصیل بار شجاع آباد کے صدر رانا طفیل احمد نون نے سراج الحق کی بار آمد پر انہیں خوش آمدید کہا، ان کا شکریہ ادا کیا اور اُن کی سیاسی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر سراج الحق عظیم سیاسی لیڈر ہیں جو حقیقت میں عوامی اور عام آدمی کے لیڈر ہیں۔ جماعت اسلامی نے جس طرح وکلا تحریک میں ہمارا ساتھ دیا وہ ناقابلِ فراموش ہے، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ بار کے سیکرٹری جنرل راؤ عامر لقمان نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق جلسہ گاہ کے لیے روانہ ہوئے تو بستی مٹھو، پیر غائب، کھارا پل، ناصر موڑ پر غلام مصطفی، نظام الدین، شبیر الحسن بخاری، ملک غلام عباس کھاکھی، ملک مرید عباس کھاکھی، مبشر بودلہ، حسان بودلہ نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ گنویں کوٹھی پہنچنے پر پیر طاہر عزیز بودلہ، حامد عزیز بودلہ، مبشر حسن بودلہ، عثمان بودلہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھرپور استقبال کیا۔ بعد ازاں انہیں جلسہ گاہ لے جایا گیا۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنی گفتگو کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو میرا والہانہ استقبال کیا یہ دراصل اسلامی انقلاب اور نظریہ پاکستان کا استقبال ہے۔ ہم مخلوقِ خدا کو کسی امیرکی طرف نہیں اللہ اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں، یہی سنت طریقہ ہے۔ ہماری حیثیت ایک مؤذن کی ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے کہ زمانے اور طاغوت سے بغاوت کا اعلان کریں۔ پلڈاٹ کے سروے کے مطابق دو سو سیاسی جماعتوں میں سے صرف جماعت اسلامی میں ہی حقیقی جمہوریت ہے۔ اس ملک کی تباہی وبربادی میں بنیادی کردار حکمرانوں کا ہے، جو لوگ حکومت یہاں کرتے ہیں اُن کا کاروبار برطانیہ، امریکہ میں ہے، ان کے ساتھ مفادات کا واسطہ ہے، ان کی ڈکٹیشن پر پیٹرول و ڈیزل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں، مہنگائی کے بم اپنی قوم پر گراتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں نے رحیم یار خان، بہاولپور اور آپ کے علاقے میں دیکھا کہ لاکھوں ایکڑ زمینیں بنجر اور ویران پڑی ہیں لیکن ان کو آباد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ہمارے ملک کا بچہ بچہ قرضوں کی لعنت میں جکڑا ہوا ہے۔کرپٹ حکمرانوں و سیاست دانوں کی وجہ سے پاکستان قرضے لینے والا ملک بن گیا ہے۔ ہم قرض لینے کے بجائے دینے والے بن سکتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ دیانت دار اور خوفِ خدا رکھنے والی قیادت اقتدار میں آئے، جو قیادت غریبوں کے لیے سوچنے والی ہوگی وہی غریبوں کے مسائل حل کرسکتی ہے اور ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتی ہے، وہ قیادت جماعت اسلامی دے سکتی ہے۔ موجودہ نظام ظالمانہ ہے جو ظالموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کرپشن و لوٹ مار کرنے والوں کو سزا کے بجائے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کو برداشت کرنا منافقت اور بزدلی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور پارٹیاں بدل بدل کر آنے والے لوگ اقتدار میں آتے رہے مگر اس قوم کی قسمت نہ بدلی۔ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا اور اسی پر قائم رہ سکتا ہے۔
جلسۂ عام کے میزبان پیر طاہر عزیز بودلہ نے معزز مہمانوں کو جلسے میں شرکت پر خوش آمدید کہا۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان میاں منیر بودلہ، حامد عزیز بودلہ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ بابر خان درانی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے، جبکہ جلسہ عام میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم، جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیر چودھری عزیر لطیف، ضلعی سیکرٹری جنرل مرزا تنویر احمد، الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب کے صدر راؤ محمد ظفر، خورشید خان کانجو، طارق خان، رانا طفیل احمد نون، راؤ عامر لقمان، چودھری اکرام الحق، شیخ منظور الٰہی، ڈاکٹر شبیرالحسن بخاری، چودھری اسماعیل، عثمان بودلہ، میاں صغیر احمد بودلہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
nn

Share this: