حدِّ نگاہ تک پھیلی ہوئی زمین سامنے موجود تھی

Print Friendly, PDF & Email

حدِّ نگاہ تک پھیلی ہوئی زمین سامنے موجود تھی۔ کہیں ہریالی، کسی جگہ خشک زمین، درخت اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے، پرندے محوِ پرواز، ہوا اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی، نیلا آسمان، رو پہلی دھوپ، صاف اور روشن دن۔ اللہ کا ایک بندہ یہ سب کچھ دیکھتا ہوا اپنے سفر پر جارہا تھا۔ ایک لاٹھی اور ایک پوٹلی ہمراہ تھی۔ فطرت کا حسن آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب نعمتوں کا احساس دل میں گداز پیدا کررہا تھا۔
ایسے عالم میں اس نے دیکھا کہ ایک جگہ دو انسان آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ وہ ان کی طرف بڑھا۔ انہیں سلام کہا۔ انہوں نے اسے دیکھا، وعلیکم السلام کہا، اور پھر اپنی بحث میں لگ گئے:
’’زمین کا یہ ٹکڑا میرا ہے۔ تم ادھر سے ناپ کر دیکھو، یہ زمین میرے حصے میں آئی ہے‘‘۔ ایک کہہ رہا تھا۔
’’تم غلط کہتے ہو، یہ ٹکڑا میرے حصے میں آرہا ہے‘‘۔ دوسرے کا لہجہ بھی سخت تھا۔
وہ چپ چاپ کھڑا ان کی گفتگو سنتا رہا۔ جب رات طول کھینچنے لگی تو اس نے کہا: ’’کیا میں آپ کی کچھ مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
’’آپ؟ آپ کیا مدد کریں گے؟ جھگڑا ہمارا ہے‘‘۔ ایک نے کہا۔ دوسرے کا انداز ایسا تھا کہ اگر وہ کچھ کہتا تو شاید وہ بھی یہی کہتا۔
’’میرا خیال ہے، اگر آپ مجھے اجازت دیں تو کوشش کرسکتا ہوں‘‘۔ مسافر نے دوبارہ کہا۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر جیسے دونوں کسی حد تک قائل ہوگئے۔ ایک نے کہا ’’چلیے، آپ فیصلہ کریں‘‘۔
دوسرے نے بھی سر ہلایا: ’’ٹھیک ہے، آپ کچھ فرمائیں۔‘‘
مسافر نے اپنی پوٹلی نیچے رکھتے ہوئے کہا: ’’کیوں ناں ہم زمین ہی سے اس بارے میں دریافت کرلیں۔‘‘
دونوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ مسافر نے اپنی لاٹھی سے زمین پر دستک سی دی اور کہا: ’’اے زمین! تیری وجہ سے خدا کے دو بندوں میں لڑائی کا خدشہ ہے۔ تُو بتا، تُو ان دونوں میں سے کس کی ملکیت ہے؟‘‘
اس کے ساتھ ہی وہ جھکا اور اپنے کان زمین سے لگا دیے، جیسے کچھ سن رہا ہو۔ تھوڑی دیر بعد سر اس طرح ہلایا جیسے بات سمجھ میں آگئی ہے۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بھائیو‘‘! اس نے کہا: ’’زمین کہتی ہے کہ میں دونوں میں سے کسی کی نہیں، بلکہ یہ دونوں میرے ہیں۔ ہر انسان کو میرے اندر آنا ہے، میں کسی کی جیب میں نہیں جاؤں گی‘‘۔
یہ کہہ کر مسافر نے اپنی پوٹلی اٹھائی، انہیں سلام کہا اور اپنی لاٹھی لیے سفر پر چل پڑا۔
نیلا آسمان دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ پرندے محوِ پرواز تھے۔ دھوپ خوشگوار تھی اور ہوا متوازن۔ اللہ کا ایک بندہ اپنے سفر پر جارہا تھا۔ اور ایک جگہ دو انسان بیٹھے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ان کے لہجوں میں نرمی اور محبت تھی۔ وہ یوں مصروفِ گفتگو تھے جیسے بات ان کی سمجھ میں آگئی ہے۔
[آئین، لاہور۔ شمارہ دسمبر 1987ء]
nn

Share this: