پاکستان کے 70اور جماعت اسلامی کے 76سال… ایک تقابلی جائزہ

Print Friendly, PDF & Email

نواں حصہ
مولانا مفتی محمود کا سفرِ آخرت
14اکتوبر 1980ء کو مولانا مفتی محمود جامع مسجد بنوری ٹائون کراچی میں دینی مسائل پر گفتگو کررہے تھے کہ اچانک ان پر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مولانا مفتی محمود اگلے روز فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہونے والے تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 61 سال تھی۔ انہیں 15 اکتوبر 1980ء کو ان کے آبائی گائوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ دوسرے سیاسی رہنمائوں، اکابرین، علمائے دین کے علاوہ صدر ضیاء الحق نے بھی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔
کُل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس
نومبر 1980ء میں اسلام آباد میں ملکی تاریخ کی پہلی کُل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس منعقد ہوئی جس میں چار سو سے زائد ممتاز اہلِ قلم نے شرکت کی۔ صدر ضیاء الحق نے اس موقع پر ادیبوں اور شاعروں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع کریں۔ انہوں نے ادب کے فروغ اور ادیبوں کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنے کے لیے سات رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی۔
قیم جماعت کا تنظیمی دورہ
قیم جماعت نے دسمبر 1980ء سے تمام اضلاع کا تفصیلی دورہ شروع کیا۔ اس دورے میں متعلقہ صوبے کے ذمہ دارانِ تحریک شریک ہوئے تھے اور پہلے سے مرتب شدہ فارم کے مطابق تنظیمی نوعیت کی تمام معلومات حاصل کی جاتی تھیں اور موجودہ حالات میں کام کے سلسلے میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ یہ دورہ جون 1981ء میں مکمل ہوا اور اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔ اگر کسی جگہ کارکنوں اور نظم کے اندر ڈھیل پیدا ہوگئی تھی تو اس کو دور کیا گیا، اور سب لوگوں کو متحرک کرکے دعوتی کام پر لگایا گیا۔ نیز ایک طویل عرصے سے رپورٹوں کے نظام کے ختم ہوجانے کی وجہ سے مرکز کو تنظیمی معلومات نہیں مل رہی تھیں، وہ سب حاصل ہوگئیں۔
روسی مداخلت اور امریکی امداد
افغانستان میں نور محمد ترہ کئی کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل ضیاء الحق اور جنرل فضل حق نے مولانا مودودی، میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد سے افغان پالیسی پر مشاورت جاری رکھی، چونکہ جماعت اسلامی نے سوویت یونین کے خلاف جہاد منظم کرنے اور رائے عامہ کو اس کے حق میں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجاہدین کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے، جماعت اسلامی اور جمعیت کے نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے اور افغانستان میں غاصب روسی فوجوں کے خلاف عملی جہاد میں حصہ لینے کے سلسلے میں حکومت، فوج اور تحریک اسلامی کے درمیان ہر سطح پر تعاون جاری تھا۔ افغانستان پر روسی قبضے سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خلیج کے ممالک، جاپان، مغربی یورپ اور امریکہ بھی گہری تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ سب کو خدشہ تھا کہ روس گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرکے تیل کی دولت سے مالامال خلیج اور دیگر ممالک کو اپنے حلقۂ اثر میں نہ لے آئے اور مغربی دنیا کو صنعتی اور معاشی طور پر مفلوج نہ کردے۔ لہٰذا وہ روسی جارحیت کا ہر قیمت پر قلع قمع کرنا چاہتے تھے۔ امریکی رویّے میں پاکستان کے لیے نمایاں تبدیلی آگئی اور امریکی صدر جمی کارٹر نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر بریزنسکی اور نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد یکم فروری 1980ء کو پاکستان بھیجا، اور پاکستان کے لیے افغان مہاجرین کی امدادی سرگرمیوں کے لیے چالیس کروڑ ڈالر کی امداد منظور کی۔
پاکستان میں بلاسود بینکاری کی ابتدا
یکم جنوری 1981ء کو پاکستان میں سودی نظام کے متبادل نظام کے طور پر نفع نقصان میں شراکت کے اسلامی اصول پر مبنی بینکاری نظام کا آغاز ہوا۔ صدر ضیاء الحق نے اسلام آباد کے بینک میں بلاسود بینکاری کے تحت اپنا اکائونٹ کھول کر اس کا افتتاح کیا۔
جنرل ضیاء کے خلاف الذوالفقار تنظیم کا قیام
شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف الذوالفقار نامی زیرزمین تنظیم کا آغاز کردیا جس کا صدر دفتر لیبیا میں قائم کیا گیا۔
MRD (Movement for Restoration of Democracy) تحریک بحالی جمہوریت
پیر صاحب کی کوششیں تو ناکام ہوگئیں لیکن ان تمام موانعات کے باوجود بعض اہم سیاسی رہنمائوں کی ایک نشست 6 جنوری 1981ء کو بیگم نصرت بھٹو کی رہائش گاہ 70 کلفٹن میں منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں ایک نیا اتحاد بنانے پر اتفاقِ رائے ہوگیا۔ اس اتحاد کو ایم آر ڈی (Movement for Restoration of Democracy) (تحریک برائے بحالیٔ جمہوریت) کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ابتدائی اجلاس میں بیگم نصرت بھٹو، خواجہ خیر الدین، سردار محمد عبدالقیوم خان، مولانا فضل الرحمن، سردار شیرباز مزاری، اصغر خان، معراج محمد خان اور فتحیاب علی خان کے علاوہ دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد شرکاء کے دستخطوں سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں شریک جماعتوں نے درج ذیل مقاصد کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عہد کیا:
1۔ سیاسی جماعتوں پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔
2۔ سنسر شپ کو ختم کیا جائے۔
3۔ فوجی عدالتوں کو ختم کرکے سول عدالتوں کے حقوق بحال کیے جائیں۔
4۔ 1973ء کے متفقہ آئین کو بحال کرکے عام انتخابات کرائے جائیں۔
ایم آر ڈی میں نصف سے زائد وہ جماعتیں شامل ہوئیں جو پہلے پاکستان قومی اتحاد سے وابستہ تھیں اور جنہوں نے اوپر درج کیے ہوئے مقاصد ہی کے لیے چند سال قبل پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کامیاب مہم چلائی تھی۔ کوئی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ آئندہ کبھی یہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اشتراکِ عمل پر بھی مجبور ہوسکتی ہیں، لیکن مارشل لا کی غلط حکمت عملی نے اس ناممکن کو ممکن بنادیا۔ پاکستان قومی اتحاد توڑنے والے ایم آر ڈی کی تشکیل کو روکنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ اخبارات میں ایم آر ڈی کے قیام کی کوئی خبر شائع نہیں ہوسکی لیکن اس کے خلاف اخباری بیانات کا تانتا بندھ گیا۔ ان مخالف بیانات ہی سے لوگوں کو کچھ سُن گن ملی کہ ایک ایسا اتحاد وجود میں آچکا ہے۔
سیاسی احتجاجی مہم کا آغاز
پابندیاں خواہ کیسی ہی سخت کیوں نہ ہوں، اگر طویل عرصے تک جاری رہیں تو غیر مؤثر ہوجاتی ہیں۔ مارشل لا نے مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل کو جنم دیا۔ عوام اور حکومت کے مابین فاصلے وسیع تر ہوتے جارہے تھے۔ ان کے درمیان رابطے کی کوئی مؤثر لابی موجود نہیں تھی۔ کالعدم دینی جماعتیں اپنی کسی کمزوری کے باعث نہیں بلکہ ملکی مفاد کی خاطر مارشل لا سے کوئی تصادم مول لینے کے حق میں نہیں تھیں۔ نامزد صوبائی اور وفاقی وزراء اور مشیر بے اختیار اور غیر مؤثر تھے۔ حکومت کا تمام تر انحصار کرپٹ افسر شاہی پر تھا۔ سنسرشپ کی پابندیوں نے پورے ملک کو افواہوں اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ ان حالات میں لسانی عصبیت نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ معتدل جماعتوں کے غیر متحرک ہونے کی وجہ سے انتہا پسند عناصر کو بالادستی حاصل ہوگئی۔ حکمران سب ٹھیک ہے کا ورد کررہے تھے لیکن پورے ملک میں منفی نعروں کی گونج سنائی دینا شروع ہوگئی۔ دلیل کے بجائے بندوق کی گولی پر انحصار کا رجحان بڑھتا گیا۔ مارشل لا ضابطوں اور سخت ترین سزائوں کے خوف کے باوجود 1981ء میں عوامی احتجاج اور تخریب کاری کے واقعات شروع ہوگئے۔ تعلیمی ادارے اسلحہ خانوں میں تبدیل ہوکر علاقائی اور لسانی تعصبات کے مرکز بن گئے۔
ایم آر ڈی کے کارکن مارشل لا ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی جلسے منعقد کرتے، نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آجاتے اور اپنی گرفتاری پیش کرتے۔ سرکاری عمارتوں اور بینکوں پر پتھرائو کرنے اور بسوں کو آگ لگانے کی خبریں بھی آنے لگیں۔ پولیس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرتی اور آنسو گیس کا استعمال کرتی۔ تخریب کاری کے نتیجے میں اسی سال سمہ سٹہ کے نزدیک عوام ایکسپریس ایک حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے جو عید منانے کے لیے اپنے گھروں کو جارہے تھے۔ طلبہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ملک کے مختلف تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ پنجاب کے میڈیکل کالجوں کے امتحانات جو مارچ میں ہونا تھے، ملتوی کرنا پڑے۔ صدر ضیاء نے کہا کہ طلبہ کی بے چینی میں مقامی اور بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے۔
طیارے کا اغوا
2 مارچ کو قوم یہ خبر سن کر ششدر رہ گئی کہ پی آئی اے کا ایک بوئنگ طیارہ جس میں عملے کے 11 ارکان کے علاوہ 130 مسافر سوار ہیں، اغوا کرکے کابل پہنچا دیا گیا ہے۔ ایک معمول کی پرواز نمبر 326 سہ پہر کے وقت کراچی سے پشاور کے لیے روانہ ہوئی۔ جب طیارہ میانوالی کے قریب پہنچا تو ایک مسلح شخص کاک پٹ میں داخل ہوگیا اور رخ تبدیل کرکے افغانستان جانے کا مطالبہ کیا۔ جہاز کا کپتان طیارے کو پشاور کے بجائے کابل لے جانے پر مجبور ہوگیا۔ اغوا کنندہ نے اپنا نام عالمگیر بتایا۔ اس کے علاوہ طیارے میں اس کے دو دوسرے ساتھی بھی سوار تھے۔
یہ خبر ملتے ہی حکومتِ پاکستان نے فوری طور پر روس، امریکہ اور دیگر ممالک سے رابطہ قائم کیا تاکہ وہ اغوا شدہ طیارے میں سوار مسافروں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کابل میں اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔ باوجود کوشش کے افغان حکام نے پاکستانی وفد کو اغوا کنندگان سے رابطہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔
4 مارچ کو اغوا کنندگان نے 18 خواتین، 10 بچوں اور 2 علیل مرد مسافروں کو رہا کردیا جو پشاور پہنچ گئے۔
5 مارچ کو صدر ضیاء اپنے بیرونی دورے سے وطن واپس پہنچے تو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کے اغوا میں سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔ ہائی جیکرز کا تعلق الذوالفقار تنظیم سے ہے۔ یہ افراد کراچی میں پوپ پال کے اجتماع اور دیگر مقامات پر بم دھماکوں میں بھی ملوث ہیں۔ اغوا کے پیچھے ’’کچھ اور‘‘ ہے جس کے بارے میں مناسب وقت پر بتائوں گا۔ روس نے تعاون کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کابل کا رویہ افسوس ناک ہے۔
6 مارچ کو خبر آئی کہ اغوا کرنے والوں نے مسٹر طارق رحیم کو گولی مارکر ہلاک کردیا اور ان کی لاش نہایت بے دردی کے ساتھ جہاز سے نیچے پھینک دی۔ طارق رحیم ریٹائرڈ میجر جنرل کے اے رحیم مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ وہ تہران میں پاکستانی سفارت خانے میں فرسٹ سیکریٹری تھے، ان کی عمر 32 سال تھی۔
8 مارچ کو طیارہ کابل سے کسی نامعلوم جگہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ روانگی سے قبل کابل میں ہائی جیکرز کو مشین گنیں اور دستی بم مہیا کیے گئے۔
9 مارچ کو اغوا شدہ طیارہ دمشق پہنچ گیا۔ ہائی جیکرز نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں قید 92 افراد کو رہا کیا جائے۔ 10 مارچ کو انہوں نے 55 قیدیوں کی ایک نئی فہرست دے کر مطالبہ کیا کہ ان تمام افراد کو جیلوں سے رہا کرکے بحفاظت ایک مخصوص ملک روانہ کیا جائے تو وہ ان کے عوض یرغمالیوں کو رہا کردیں گے۔
آخرکار صدر ضیاء نے 12 مارچ کو صدر اسد کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت 55 گرفتار شدگان کو رہا کرنے اور انہیں بیرونِ ملک روانہ کرنے پر تیار ہے۔ لیبیا نے ہائی جیکرز اور ان کے 55 افراد کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کردیا، لیکن بعد میں صدر قذافی نے اس سے انکار کردیا ۔
بعد میں ہائی جیکرز اور قیدیوں کو قبول کرنے کے لیے شام نے اپنی آمادگی کا اظہار کردیا۔ 55 میں سے 54 قیدیوں کو پاکستان کی مختلف جیلوں سے رہا کرکے ایک جگہ جمع کیا گیا اور ان سب کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے 15 مارچ کو شام کے شہر حلب پہنچادیا گیا۔ ان کے عوض اغوا کنندگان نے 15 مارچ کو یرغمالیوں کو رہا کردیا۔ اس کے بعد تینوں ہائی جیکرز اپنے ہاتھوں میں مشین گنیں اور دستی بم اٹھائے طیارے کے عقبی دروازے سے نیچے اترے۔ باہر نکلتے وقت ایک غیرملکی صحافی نے ہائی جیکرز سے دریافت کیا کہ کیا وہ کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں، تو ان میں سے ایک نے کہا کہ بھٹو ازم کے لیے لڑرہے ہیں۔
17 مارچ کو طیارے کے اغوا اور طارق رحیم کے قتل کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔ اس کے علاوہ یہ معلوم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی کہ ہائی جیکرز اسلحہ لے کر کس طرح طیارے میں سوار ہوئے، یا انہیں کس طرح بعد میں اسلحہ فراہم کیا گیا۔
18 مارچ کو ایک خصوصی طیارہ رہا شدہ یرغمالیوں کو لے کر پشاور کے ایئرپورٹ پر اترا۔ صدر ضیاء نے ان کا استقبال کیا۔ بعد میں ایئرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا اغوا کالعدم پیپلز پارٹی نے کرایا تھا۔
پیپلز پارٹی کے خلاف اقدامات
31 مارچ کو ایک خصوصی عدالت نے مسٹر یحییٰ بختیار سابق اٹارنی جنرل پاکستان کو پانچ سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ان پر یہ الزام ثابت ہوگیا کہ گزشتہ انتخابات میں کوئٹہ میں اپنی انتخابی نشست جیتنے کے لیے انہوں نے دھاندلی کا ارتکاب کیا تھا۔
24 اکتوبر کو حکومت نے 4673112 روپے کی وصولیابی کے لیے بھٹو مرحوم کی املاک کو ضبط کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ رقم سابق وزیراعظم مسٹر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں مملکت کے فنڈز سے اپنے نجی مکانات کی بہتری پر صرف کی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، صنم بھٹو، غلام مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے نام سمن جاری کردیے اور انہیں ہدایت کی کہ وہ 23 نومبر کو عدالت کے رجسٹرار کے روبرو حاضر ہوں۔ بے نظیر بھٹو نے جیل سے درخواست دی کہ انہیں عدالت میں حاضر ہونے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے مسٹر بھٹو کے ورثاء کو اپنے تحریری بیان داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔
جنرل ضیاء الحق کی نامزد مجلس شوریٰ (وفاقی کونسل)
مارچ 1981ء میں جنرل ضیاء الحق نے عبوری دستوری حکم PCO جاری کرکے آئین کو عملاً منجمد کردیا۔ 24 دسمبر 1981ء کو سیاست دانوں کی مخالفت کے باوجود صدر ضیاء الحق نے ایک نامزد مجلس شوریٰ (وفاقی کونسل) تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ کونسل کے چیئرمین خواجہ صفدر بنائے گئے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف اور میثاق ملّی
کالعدم جماعت اسلامی کا مؤقف یہ تھا کہ کونسل نمائندہ حکومت کا متبادل یا قومی اسمبلی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ 24 فروری 1982ء کو امیر جماعت اسلامی نے ایک پریس کانفرنس میں میثاقِ ملّی پیش کیا، اس کے چیدہ چیدہ نکات میں مکمل اسلامی معاشرے کے قیام کا عہد، 1973ء کے دستور کی بحالی، فرقہ وارانہ مباحث کی حد بندی، سیاسی ضابطۂ اخلاق کا نفاذ، رواں سال میں انتخابات کرانے کا مطالبہ، اخبارات پر سنسر کا مکمل خاتمہ اور عدلیہ کے اختیارات کی بحالی کا مطالبہ شامل تھے۔
میثاقِ ملّی میں صاف صاف کہا گیا ’’مارشل لا کسی ملک کے سیاسی اور اجتماعی مسائل کا نہ کبھی کوئی مؤثر حل تھا اور نہ آج ہے۔ مارشل لا کہیں بھی اور کبھی بھی سیاسی استحکام کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ اسے ایسے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہوں، ایک وقتی علاج کے طور پر تو گوارا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا مسلسل طول پانا کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مارشل لا سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے جاری ہونے سے نت نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
مجلس شوریٰ کی اہلِ وطن سے اپیل
مجلس شوریٰ نے تمام اہل وطن سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ ان خطوط پر ایک میثاقِ ملّی پر متفق ہوں اور افہام و تفہیم اور عوامی تائید کے ذریعے حکومت کو بھی اس میثاق کے مطابق اقدام کرنے پر آمادہ کریں۔ مجلس کے نزدیک وقت کی اصل ضرورت ایک ایسا اتحاد ہے جو محض منفی نہیں مثبت ہو، صرف سیاسی نہیں نظریاتی ہو، اور جس کے ذریعے فکر کی یکسانی اور ایک واضح تصورِ سیاست و معاشرت کی بنیاد پر عوام متحد ہوسکیں اور موجودہ بے یقینی کی دلدل سے نکل کر اسلام کی شاہراہ پر گامزن ہوسکیں۔
اس میثاقِ ملّی کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اخبارات میں شائع کرایا گیا اور ایک خوبصورت بروشر کی صورت میں اردو میں پانچ لاکھ کی تعداد میں شائع کرکے پھیلایا گیا۔ اس کا انگریزی ترجمہ کرکے دو ہزارکی تعداد میں شائع کیا گیا اور اندرون ملک و بیرون ملک تمام قابلِ ذکر پرچوں اور تنظیموں کو بھیجا گیا۔
نامزد مجلس شوریٰ اور 1973ء کا آئین
جولائی 1983ء کے آخر میں نامزد مجلس شوریٰ کے ارکان کی اکثریت نے بعض انتہائی ضروری تبدیلیوں کے ساتھ 1973ء کا آئین برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ 5 اگست کو طرزِ حکومت کمیشن کے چیئرمین مولانا ظفر احمد انصاری نے صدر ضیاء الحق کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ واضح رہے کہ صدر ضیاء الحق نے 14 اگست 1983ء تک قوم کے سامنے ملک کے سیاسی نظام کے خاکے کا اعلان کرنے کا وعدہ کررکھا تھا اور طرزِ حکومت کمیشن اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے ایک نیا نظامِ حکومت وضع کرنے کا کام تیزی سے شروع کیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی ڈھانچہ بلدیاتی اداروں سے منظور نہیں کرایا جائے گا اور نہ ہی انہیں انتخابی کالج کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
صدر کا سیاسی ڈھانچہ اور 1973ء کے دستور میں ترامیم کا اعلان
12 اگست 1983ء کو صدر نے مجلس شوریٰ میں اپنے سیاسی ڈھانچے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 مارچ 1985ء تک انتخابات مکمل کراکے اقتدار منتقل کردیا جائے گا۔ انہوں نے قراردادِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے ایک قومی سلامتی کونسل بنانے کا بھی ذکر کیا۔ صدر نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ 1973ء کا دستور مناسب ترمیمات کے بعد برقرار رکھا جائے گا۔ البتہ انہوں نے ان ترمیمات کی نوعیت پردۂ اخفاء میں رکھی۔ انہوں نے وزیراعظم اور صدر کے درمیان توازنِ اختیارات کی تجویز پیش کی جو کہ نہایت اہم تھی۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
15۔ 16 اگست 1983ء کو کالعدم جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ مختلف وجوہ سے حکومت کے وعدوں پر قوم کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے۔ دستوری مسائل کو ایک دستاویز کی شکل میں مرتب کرنے کے لیے مجلس عاملہ نے انتخابات ایک سال کے اندرکرانے، 1973ء کا آئین برقرار رکھنے، صدر کے اختیارات میں اصولِ توازن کا پورا پورا لحاظ رکھنے، نیشنل سیکورٹی کونسل کی ہیئتِ ترکیبی اور اس کے فرائض و اختیارات کو واضح کرنے، سیاسی جماعتوں اور سیاسی آزادیوں کو بحال کرنے، متناسب نمائندگی کا طریقہ انتخاب اپنانے کے مطالبات پیش کیے۔
صدارتی ریفرنڈم کا اعلان
صدر ضیاء اپنی پالیسیوں کی توثیق اور عہدۂ صدارت میں توسیع چاہتے تھے۔ یکم دسمبر 1984ء کو انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے 19 دسمبر کو ریفرنڈم کرانے کا اچانک اعلان کردیا۔ اب ریفرنڈم کے جواز یا عدم جواز پر کسی قسم کی بحث فضول تھی۔ یہ ریفرنڈم اصل میں صدر ضیاء الحق کی ذات، ان کے طریق کار پر اعتماد یا عدم اعتماد کے لیے تھا۔ صدر صاحب کی وضاحت کے مطابق ان پر اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انہیں عوام نے مزید پانچ سال کے لیے عہدۂ صدارت پر کام کرنے کی رضامندی ظاہر کردی ہے۔
(جاری ہے)

Share this: