قرارداد مقاصد کے روح رواں‘ مولانا محمد ظفر احمد انصاریؒ

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اور پاکستان میں رہنے والوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو ایک ایک کرکے بھولتے جارہے ہیں۔ بھول کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بہت شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ ہم پاکستان بنانے والوں میں شامل بڑی بڑی ہستیوں کو متنازع بنانے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔ جو قوم اپنے محسنوں اور ہیروز کو فراموش کرنے لگتی ہے یا اُن کی شخصیت کو مسخ کرنا شروع کردیتی ہے وہ لازماً زوال پذیر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جس قوم نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ان کی بہن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ تک کی شکل و صورت کو مسخ کرنا شروع کردیا ہو اُس کی زبوں حالی، پستہ قامتی، سوچوں کی پراگندگی اور تنگ نظری کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے!
مولانا محمد ظفر احمد انصاری 1908ء کو منڈارہ، الٰہ آباد، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور 20 دسمبر 1991ء کو اسلام آباد (پاکستان) میں ان کا انتقال ہوا۔ حنفی مسلمان تھے، عالم دین تھے، سیاست دان تھے اور قابل ماہرینِ قانون میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا خاص شعبۂ عمل اسلامی نظام حکومت تھا۔ کارہائے نمایاں میں انصاری کمیشن رپورٹ، اسلامی آئین کی تیاری جیسے کارناموں کے علاوہ پاکستان کے آئین میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ جیسی اہم دستاویز کو شامل کرنا ہے جس کی موجودگی کی وجہ سے آج تک کسی جابر سے جابر حکمران کو یہ ہمت نہیں ہوسکی کہ وہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون بنا سکے جو اسلام کے کسی قانون سے ٹکراتا ہو۔
مولانا ظفر احمد انصاری نے الٰہ آباد یونیورسٹی (ہندوستان) سے 1930ء میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، 1933ء میں اسی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا اور سرکاری ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند سے قبل 1942ء میں ان کی ملاقات نواب زادہ لیاقت علی خان سے ہوئی جن کی تحریک پر آپ نے سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوکر خود کو قیام پاکستان کی جدوجہد کے لیے وقف کردیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سینٹرل پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں قراردادِ مقاصد کا متن تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1951ء میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور انہیں مشہور 22 نکات پر متفق کرنے کا مشکل کام بھی ان کا زندۂ جاوید کارنامہ ہے۔ 1956ء اور 1973ء کے دساتیر کی تدوین اور تسوید میں بھی انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے آزاد رکن منتخب ہوئے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جب ہر زبان پر بھٹو بھٹو ہی ہوا کرتا تھا۔ کراچی کے حصے میں قومی اسمبلی کی صرف سات نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ تمام تر شہرت اور دہشت کے باوجود پی پی پی کراچی کی سات نشستوں میں سے صرف دو ہی نشستوں پر کامیاب ہوسکی تھی۔ دو نشستوں پر جماعت اسلامی نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے زمانے میں مولانا ظفر احمد انصاری نے آزاد امیدوار ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھیں جماعت اسلامی کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن ان کی شخصیت کا احترام دیگر سیاسی و مذہبی لوگوں کی نگاہوں میں بھی بہت تھا، اور ان کی کامیابی میں ایسے تمام سچے پاکستانیوں کا بھرپور ہاتھ تھا۔
1983ء میں انہیں پاکستان کے سیاسی نظام کے تعین کے لیے دستوری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ضعیف العمری کے باوجود انہوں نے دن رات ایک کرکے یہ رپورٹ مکمل کی۔ یہی وہ رپورٹ ہے جو ’’انصاری کمیشن رپورٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اور بلاشبہ یہ مولانا محمد ظفر احمد انصاری کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اس رپورٹ میں انہوں نے ان اقدامات کی سفارش کی جو مستقبل کی حکومت کے لیے بنیاد بن سکتے تھے، مگرصد افسوس کہ اُس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اس کمیشن کی رپورٹ سے کوئی استفادہ نہیں کیا، اور یوں مولانا ظفر احمد انصاری کی یہ محنت رائیگاں گئی۔
قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا آئین نہیں تھا۔ آئین 1935ء میں ترامیم کرکے عبوری آئین کے طور پر نافذ کیا گیا۔ پاکستان اُس وقت لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا تھا، لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان میں پناہ لے رہے تھے، ان کی رہائش اور خوراک کا بندوبست ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ مغربی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد تقریباً 3 فی صد، جبکہ مشرقی پاکستان میں 22 فی صد تھی، اس لیے بہت سے ایسے سیاست دان تھے جو مطالبہ کررہے تھے کہ پاکستان کا آئین سیکولر ہونا چاہیے، جبکہ علمائے کرام کا ایک گروہ اس نکتے پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا لہٰذا پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا۔ نواب زادہ لیاقت علی خان ان حالات سے آگاہ اور باخبر تھے، وہ بھی علماء کے خیالات سے متفق تھے، اس لیے انہوں نے علمائے کرام کے تعاون سے ایک قرارداد تیار کی جسے قراردادِ مقاصد کا نام دیا گیا۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کے روحِ رواں مولانا محمد ظفر احمد انصاری تھے۔ قراردادِ مقاصد ایک قرارداد تھی جسے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ء کو منظور کیا۔ یہ قرارداد 7 مارچ 1949ء کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی۔ اس کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا قطعی نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر رکھی جائے گی۔ اس قرارداد کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے:
اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے۔ اُس نے جمہور کے ذریعے مملکتِ پاکستان کو جو اِختیار سونپا ہے، وہ اُْس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہورِ پاکستان کی نمائندہ ہے،آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل ِعمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔ جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنادیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔ جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہوجائیں، ایک وفاق بنائیں گے، جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خودمختاری حاصل ہوگی۔ جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی، اور ان حقوق میں جہاں تک قانون واخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت کی آزادی شامل ہوگی۔ جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔ جس کی رو سے نظام ِعدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی۔ جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، تاکہ اہل ِپاکستان فلاح وبہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوش حالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔
2 مارچ 1985ء کو صدرِ پاکستان محمد ضیاء الحق کے صدارتی فرمان کے ذریعے آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کی گئی جس کے مطابق قراردادِ مقاصد کو آئین پاکستان میں شامل کرلیا گیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انصاری کمیشن رپورٹ اور قراردادِ مقاصد جیسے کارناموں کے عوض مولانا محمد ظفر احمد انصاری کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت کرے اور ان کی کوششوں کے طفیل پاکستان کو اسلام کا مرکز بنائے، اور یہاں اُن لوگوں کو حکومت پر متمکن فرمائے جو اس کے محبوبؐ کی لائی ہوئی شریعت کو نافذ کرسکیں۔ آمین

Share this: