ایک تحریکی و سیاسی کارکن

Print Friendly, PDF & Email

سیاسی جماعتوں کے شعبہ ہائے نشر و اشاعت اور میڈیا سیلز کے لیے ادارے کی حیثیت رکھنے والے صفدر علی چودھری ہفتہ 13 جنوری 2018ء کو اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔ لاہور شہر کے دوردراز علاقے میں رات گئے ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تو ہزاروں افراد نے ان کے اخلاص، مقصد سے لگن، حسنِ اخلاق اور وضع داری کی گواہی دی۔ انہوں نے مولانا مودودی کے ہم عصروں، اپنے ہم عمروں اور 1990ء کے بعد آنے والے نوجوانوں کی تین نسلوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس انداز میں نبھایا کہ ہر شخص کو یہ گمان ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ چودھری صاحب کا سب سے زیادہ محبت اور اپنائیت کا تعلق ہے۔ خود راقم کے ساتھ یہی معاملہ تھا کہ وہ میرے والدِ مرحوم کے بھی دوست تھے، اور اِس خاکسار سے بھی دوستی کا رشتہ نبھاتے تھے۔ وہ اپنے چھوٹوں سے اس محبت بلکہ احترام سے ملتے کہ چھوٹے شرمندہ ہوجاتے۔ ہم عمروں کے ساتھ انتہائی بے تکلفی سے کوئی جملہ کستے ہوئے بغل گیر ہوتے، اور بزرگوں سے کسی قدر جھک کر پوری عقیدت سے ملتے۔ اُن کے چہرے پر ہمیشہ ایک شریر سی مسکراہٹ ہوتی جو نہ صرف زندگی کے آخری لمحات تک موجود رہی بلکہ مرنے کے بعد بھی اس زندہ مسکراہٹ کا تاثر اُن کے چہرے پر دیکھا جاسکتا تھا۔ انہیں لیڈری کا شوق نہیں تھا حالانکہ قیادت کے بیشتر اوصاف ان میں موجود تھے۔ وہ ہمیشہ کارکن رہے اور اس اسٹیٹس کو ہمیشہ انجوائے کرتے رہے۔ تحریکی اور سیاسی کارکن کے طور پر کام اور محنت کرکے وہ ایک طرح کی طمانیت محسوس کرتے جو اُن کے چہرے پر ہمیشہ عیاں رہتی۔ چودھری صاحب کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے مفکر، مدبر، مفسرِ قرآن اور وضع دار سیاست دان… میاں طفیل محمد جیسے درویش صفت انسان، اور قاضی حسین احمد جیسے متحرک اور معاملہ فہم لیڈر کے ساتھ براہِ راست کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ ان رہنمائوں کی خلوتوں اور جلوتوں کے رازدان تھے۔ متحدہ پاکستان کے دنوں میں جب سید منورحسن اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ تھے تو وہ اُن کے ساتھ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کے ناظم جمعیت کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان کا اپنا شعبہ تخصیص سیاسیات تھا، لیکن ان کی ساری ناموری پریس اور میڈیا میں تھی۔ وہ مولانا مودودیؒ کے حکم پر 1967ء میں جماعت اسلامی کے شعبہ نشر و اشاعت میں بطور نائب ناظم شامل ہوئے۔ نعیم صدیقی مرحوم ناظم نشر و اشاعت تھے۔ بہت جلد اپنی محنت اور اخلاص کے باعث انہیں اس شعبے کا سربراہ یعنی ناظم نشر و اشاعت بنادیا گیا۔ اس حیثیت میں انہوں نے امیر جماعت کے ساتھ پورے ملک کے دورے کیے اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے ہر شہر کے صحافتی حلقوں میں اپنے لیے جگہ بنالی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں صحافیوں کی اچھی خاصی تعداد کے ساتھ اُن کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات نہ ہوں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی مخالفین میں اپنی جگہ بنانا تھا۔ وہ جماعت اسلامی کے فکری اور سیاسی مخالفین اور مسلکی بنیادوں پر مولانا مودودیؒ کے خلاف زہر اُگلنے والے لوگوں میں بھی قابلِ قبول تھے۔ صحافتی حلقوں میں یہ قبولیت زیادہ تھی۔ جماعت اسلامی کے نظریاتی اور سیاسی مخالف صحافیوں میں اُن کے تعلقات اور دوستی کا حلقہ زیادہ وسیع تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر ایک کو احترام دیتے، ہر صحافی کے دکھ درد میں شریک ہوتے، ان سے بحث و تکرار کے بجائے برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے۔ جس چیز نے صحافتی حلقوں میں اُن کے لیے احترام پیدا کیا وہ ان کی عاجزی و انکسار تھا۔ انہوں نے پہلی بار یہ روایت ڈالی کہ سیکرٹری اطلاعات کا کام اپنی پبلسٹی اور مشہوری نہیں، اپنی جماعت کو میڈیا میں اس کا حق دلانا ہے۔ وہ شاید ایک بڑی سیاسی جماعت کے واحد ناظم نشر و اشاعت تھے جس نے نہ کبھی اپنی ذات کے متعلق کوئی خبر چھپوائی، نہ تصویر۔ شاید انہوں نے اپنے حوالے سے زندگی بھر کوئی خبر جاری نہ کی ہو۔ وہ کوشش کرتے کہ اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز پر ان کی تصویر بھی نہ آئے، جبکہ باقی سیاسی جماعتوں کے سیکرٹری اطلاعات ساری قوت اپنی ذاتی تشہیر پر صرف کرتے ہیں اور اپنی خبر، اپنی تصویر اور اپنے مضمون کی اشاعت کے ساتھ ساتھ ٹاک شوز میں سب سے زیادہ شرکت کرکے ذاتی تشہیر کا سامان کرتے ہیں۔ چودھری صاحب اس بیماری سے بہت دور تھے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی کے موجودہ سیکرٹری اطلاعات کا بھی اس معاملے میں یہی رویہ ہے، جبکہ باقی سیاسی جماعتوں کے سیکرٹری اطلاعات کا معاملہ سب کے سامنے ہے۔ اس حوالے سے صفدر چودھری سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیلز کے لیے باقاعدہ ایک اسکول کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی نظر میں اپنی ذات کی نفی کرکے اپنی جماعت اور لیڈر کے لیے میڈیا میں جگہ بنانا ہی سیکرٹری اطلاعات کا بنیادی کام ہے۔ صحافتی حلقوں میں ان کے تعلقات کا حلقہ ہر سطح پر تھا۔ ملک بھر کے اخباری مالکان و مدیران کے علاوہ ٹی وی چینلز کے سربراہوں کے ساتھ اُن کی ذاتی شناسائی تھی۔ ہر اخبار کا نیوز ایڈیٹر اور ٹی وی کا اسائنمنٹ ایڈیٹر اُن کی انگلیوں پر تھا۔ اخبارات اور چینلز کے رپورٹروں کے ساتھ اُن کی بے تکلفانہ دوستی تھی، اور نیوز ڈیسک، ایڈیٹوریل اور میگزین سیکشن میں اُن کا آنا جانا تھا۔ اخبارات و چینلز کے چپڑاسی، استقبالیہ کے کارکن اور دوسرا عملہ اُن سے دوستی کا دعویدار تھا۔ مہمان نوازی اور میزبانی اُن کے مزاج کا حصہ تھی، وہ جہاں کہیں جاتے، مل بیٹھنے کا بہانہ تلاش کرتے۔ لاہور آنے والے ہر صحافی کو اپنے گھر، دفتر یا ہوٹل میں مدعو کرتے۔ گھر پر ایسی تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے جن میں صحافی اور اُن کے اہلِ خانہ مدعو ہوتے۔ ایسے مواقع پر ان کی وفاشعار اہلیہ، خدمت گزار بیٹیاں اور بہوئیں مہمان خواتین تک اللہ کے دین کا پیغام پہنچاتیں اور بڑی حد تک ان خواتین کو دین اور جماعت کی جانب راغب کرلیتیں۔ ان کے گھر کے دستر خوان پر جماعت اور جمعیت کے رہنما، صحافی، مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن نظر آتے۔
جہادِ افغانستان اور جہادِ کشمیر کے ساتھ چودھری صاحب کا بڑا جذباتی تعلق تھا۔ جہاد میں شریک نوجوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کے ساتھ چودھری صاحب بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کی ہر تکلیف پر ایک پائوں پر کھڑے ہوجاتے۔ گلبدین حکمت یار، عبدالرسول سیاف، برہان الدین ربانی اوردوسرے افغان لیڈروں کے ساتھ اُن کا قریبی رابطہ تھا۔ چودھری صاحب کو ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا۔ جہادِ کشمیر میں تو ان کا ذاتی حصہ تھا کہ اس جہاد میں انہوں نے اپنے جوان اور خوبرو بیٹے مظفر نعیم شہید کی قربانی پیش کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں مظفر نعیم کی شہادت ہوئی اور یہ اطلاع گھر پہنچی تو منصورہ میں غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا گیا، اس موقع پر شہید بیٹے کے اس بوڑھے باپ کا حوصلہ دیدنی تھا۔ اسی قسم کے صبر و حوصلے کا مظاہرہ انہوں نے اپنے جواں سال پوتے کے ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے پر کیا تھا۔ ان دونوں حادثات نے انہیں اندر سے کھوکھلا کردیا۔ شوگر جیسا موذی مرض انہیں پہلے ہی تھا۔ اپنے مزاج اور مہمان نوازی کے باعث وہ پرہیز اور احتیاط بھی کم ہی کرتے تھے۔ اس صورت حال کے باعث پہلے ڈاکٹروں کی ہدایت پر ان کی پائوں کی انگلیاں کاٹ دی گئیں، پھر پنڈلی تک ٹانگ کٹی، اور پھر گھٹنے سے اوپر تک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ لیکن اُن کے حوصلے کا یہ عالم تھا کہ عیادت کے لیے آنے والے ہر شخص کا یہ کہہ کر استقبال کرتے کہ اللہ کا شکر ہے بہتر ہورہا ہوں۔ مجھے کئی بار اُن کے ساتھ سفر کا موقع ملا۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد وہ اپنے اور میرے خاندان سمیت کئی خاندانوں کو زلزلے سے متاثرہ شمالی علاقہ جات اورکشمیر لے کر گئے۔ محبت اور شفقت کے ساتھ مجھے امیرِ سفر مقرر کردیا۔ اس سفر کے دوران ہر شریکِ سفر بچے، جوان اور خاتون کا انہوں نے اس طرح خیال رکھا کہ حق ادا ہوگیا۔ اُن کی اہلیہ، بہو اور ایک پوتا بھی ساتھ تھا۔ پریس کلب میں کسی تقریب میں آتے تو ہر شخص سے بڑی محبت سے ملتے۔ انہوں نے سینکڑوں صحافیوں کے بچوں کو داخلے اور فیسوں میں رعایات دلوائیں۔ 2010ء کے بعد وہ منصورہ سے محافظ ٹائون منتقل ہوئے جس کے بعد اُن کا بیشتر وقت بستر پر گزرا، لیکن حوصلے کے ساتھ۔ اور آخرِکار 1941ء میں جالندھر میں پیدا ہونے والا، اور قیام پاکستان کے بعد اوکاڑہ میں بسنے اور لاہور میں خوشگوار یادیں چھوڑنے والا یہ مردِ درویش 13جنوری کو اپنے اللہ کے حضور پیش ہوگیا۔ ہزاروں افراد نے کندھا دے کر انہیں محافظ ٹائون کے قبرستان تک پہنچایا اور ان کے جسدِ خاکی کو سینکڑوں خوشگوار یادوں، خدمت اور اخلاص کے ہزاروں واقعات کے ساتھ اُن کی آخری آرام گاہ کے سپرد کردیا۔

Share this: