بلوچستان پھر آتش فشاں کے دہانے پر

Print Friendly, PDF & Email

ارباب عبدالمالک
سندھ اور بلوچستان کے مابین صدیوں سے قائم مفاہمت اور ہم آہنگی کو پہلی بار 1970ء کی دہائی میں اُس وقت شدید دھچکا لگا جب جرنیلوں کے ایماء پر ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچوں پر فوج کشی کے لیے اپنے کاندھے فراہم کیے۔ ذہین اور دوراندیش ذوالفقار علی بھٹو اُس وقت کھیلے گئے خونیں ڈرامے کے اثرات کا درست اندازہ نہ کرسکے، اور یوں سندھ کے اوپر بلوچ دشمنی کا یہ بدنما داغ آج تک موجود ہے۔ سندھ کے چند سیاست دانوں نے انفرادی طور پر اس بدنما داغ کو دھونے کی ضرور کوششیں کیں اور میر علی بخش تالپور، حاکم علی زرداری، ممتاز بھٹو اور حیدرآباد کے میر برادران نے مختلف وقتوں میں سندھ بلوچستان ہم آہنگی کو بحال کرنے کی ناکام جدوجہد کی، لیکن یہ خلا جوں کا توں رہا۔
ماضی کے ان بدنما دھبوں کی موجودگی میں ایک بار پھر آصف علی زرداری اور اُن کی پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کی منصوبہ بندی کی تکمیل کے لیے اپنے کاندھے فراہم کردیے ہیں، جلتے ہوئے بلوچستان پر تیل چھڑکنے کا کام سنبھال لیا ہے۔
آنے والے دنوں میں بلوچستان پاکستانی سیاست کا ایسا گرداب ثابت ہوگا کہ بلوچستان کا باہر سے مشاہدہ کرنے والے اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلوچ دوست حکومت بنی تھی اور اتنی اچھی پشتون بلوچ مفاہمت بھی کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ تمام رکاوٹوں اور سیاسی کمزوریوں کے باوجود ڈاکٹر مالک اور اُن کی کابینہ اپنی عزت بچانے میں کافی حد تک کامیاب رہے تھے۔ یہی بات ثناء اللہ زہری حکومت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ بلوچستان سے باہر کا ہر پاکستانی حیران و پریشان ہے کہ اچانک کیا طوفان برپا ہوگیا کہ ثناء اللہ زہری زہرناک بن گئے! لیکن یہ نہ اچانک ہوا ہے، نہ ہی اتفاقاً۔ جس دن آرمڈ فورسز نے بی ایل ایف کے ڈاکٹر اللہ نذر کی بیوی کو ایک اور خاتون کے ساتھ گرفتار کیا اور نتیجے میں بلوچستان آتش فشاں بن چکا تھا، ثناء اللہ زہری نے نہ صرف ان خواتین کی رہائی کا حکم دیا بلکہ اُن کے سروں پر چادریں ڈال کر بلوچ روایات کی پاسداری کی۔ لیکن اسی لمحے زہری کے سر سے اقتدار کی چادر لپیٹ دی گئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اسی دن زہری حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
اصل کہانی یہ ہے کہ بلوچستان کی بلوچ سیاست چند دوسرے درجے کے سرداروں سے ہٹ کر بی ایس او کی نرسری کے اردگرد گھومتی ہے۔ صوبائی حکومت اور پہاڑوں پر مورچہ زن ماضی کے رفیق تھے۔ بڑی تگ و دو کے بعد دونوں فریق بات چیت کے لیے راضی ہوگئے تھے۔ یہ بڑا مشکل مرحلہ بلوچستان، ایران اور لندن اور سوئٹزرلینڈ تک کئی مراحل پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ کارنامہ ڈاکٹر مالک اور زہری الائنس کا گناہ اوّل ٹھیرا۔
ثناء اللہ زہری کی ناپسندیدگی کا دوسرا بڑا جواز اُن کی اور اُن کے رفقاء کی وہ سنجیدہ اور پائیدار کوششیں تھیں جن کے سبب آتش فشاں بلوچستان مفاہمت کے راستے پر چل سکتا تھا۔ ایک مرحلے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ سی پیک کے سبب حکومتِ چین بھی براہِ راست اس مفاہمتی عمل میں شریک ہے۔ گوادر اور سی پیک کی سیکورٹی کے لیے مختص پچاس ارب کا استعمال بھی زہری کے گناہوں میں سرفہرست ہے۔ سی پیک حفاظتی فورس میں مقامی لوگوں کی شرکت پر اصرار کے باوجود اقتدار میں رہنا ایک معجزہ تھا جو نہ ہوسکا۔
گوادرکی کہانی یہ ہے کہ صرف اشتہارات کا کھیل ہے، اطراف کی زمینیں زیادہ تر دفاعی مقاصد کے لیے نیوی نے لے لی ہیں، جہاں اب ہائوسنگ اورکمرشل اسکیمیں بننے والی ہیں، باقی جو زمین مقامی لوگوں کے پاس تھی وہ ریٹائرڈ جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے ایجنٹوں نے بیعانے دے کر اپنے نام کرالی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ابھی تک گوادر کا ماسٹر پلان نہیں بن سکا ہے۔ اس وقت چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گوادر کا ماسٹر پلان مرتب ہورہا ہے۔ گوادر فری زون میں ایک بھی پلاٹ کسی مقامی آدمی کے پاس نہیں ہے۔گوادر سیف سٹی تو دور کی بات ہے، پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ موبائل کمپنیاں اپنے نیٹ ورک نہیں چلا پارہی ہیں۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے حتمی جگہ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔ گوادر کی یہ حالت اور اس پر احتجاج ثناء اللہ زہری حکومت کی گستاخی تھی، جس کے سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہونے کا سبب شطرنج کے مہرے کے طور پر استعمال ہونے سے صاف انکار تھا۔
بلوچستان اسمبلی کو توڑنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ثناء اللہ زہری پر خاصا دبائو تھا کہ یہ کارِ خیر ان کے ہاتھوں انجام پائے۔ تمام دبائو کے باوجود انہوں نے یہ مکروہ فعل سرانجام دینے سے صاف انکار کیا اور جرم کی سزا پانے کے لیے تیار ہوگئے۔
دوسرے مرحلے میں اختر مینگل کو آلہ کار بننے کی پیشکش کی گئی، لیکن اختر مینگل بھی ایک حد سے نیچے نہیں گرسکتے تھے، چنانچہ آصف علی زرداری اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے لیے بے تاب بیٹھے تھے اور اشارے کے منتظر تھے۔ یہ کام اب آصف زرداری کے حوالے کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے اقتداری خوشہ چینوں کو کسی وفاقی پارٹی کی چھتری درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ بلوچستان اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی ایک سیٹ بھی نہیں ہے لیکن اراکین کو آشیرباد اور وزارتوں کے فیصلے آصف زرداری کررہے ہیں۔ زرداری صاحب کو حقِ خدمت کے عوض آئندہ سیٹ اَپ میں بلوچستان حکومت عنایت ہوگی اور مولانا فضل الرحمن صاحب جونیئر پارٹنر ہوں گے۔
عبدالقدوس بزنجو خالص زرداری کا انتخاب ہیں۔ کیونکہ عنقریب بلوچستان اسمبلی کو توڑ کر سینیٹ الیکشن کو سبوتاژ کرناہے، اس کام کے لیے موزوں ترین آدمی عبدالقدوس بزنجو صاحب ٹھیرے ہیں، جن کا اپنا حال یہ ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں اپنے علاقے آواران میں جا نہیں سکتے تھے،ان کو ملنے والے کُل پانچ سو ووٹ بھی خیراتی ہیں۔ ویران پولنگ اسٹیشنوں پر موجود اکا دکا عملے نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے دس، دس ووٹ خود ہی کاسٹ کرکے پولنگ پر موجود رہنے کا ثبوت دیا۔ عبدالقدوس بزنجو کے حلقۂ انتخاب سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے وثوق سے بتایا کہ الیکشن کمیشن اس حلقے کے تمام ڈالے گئے ووٹوں کے فنگر پرنٹ چیک کرلے، پتا چل جائے گا کہ واقعی کوئی ایک بھی ووٹ کاسٹ نہیں ہوا ہے۔
تو بے ووٹ وزیراعلیٰ سے صرف ایک دستخط مطلوب ہے، یہ حلف برداریاں اور وزارتیں صرف دکھاوے کی ہیں۔
چند دنوں میں اقتداری غلام گردشوں کے سجدہ ریز اراکین صوبائی اسمبلی شیخ المفاہمت آصف زرداری کے دستِ مبارک پر بیعت کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین فلور کراسنگ کی زد میں آکر نااہل ہوجائیں گے۔ ردعمل میں عبدالقدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کردیں گے۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ یوں سینیٹ کو اپنے من پسند انداز میں ڈیزائن کرنے کا خواب پورا کیا جائے گا۔
اس پورے کھیل میں سب سے خراب پوزیشن اُن لوگوں کی ہوئی ہے جو بلوچستان کو پاکستان کے فریم ورک میں دیکھنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔ بلوچ سماج میں یہ بات منوانے کی کوششیں کررہے تھے کہ بندوق کے بجائے بات چیت بہتر عمل ہے، آج ان کو ہر طرف سے لعنت ملامت کا سامنا ہے، اور وہ بے بس اور لاجواب بنتے جارہے ہیں۔
اس کا لازمی نتیجہ تخریب کار اور بندوق بردار سرمچاریوں کے زیادہ شدت اور قوت سے متحرک ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ آئندہ انتخابات بھی 2013ء کے انتخابات کی طرح سرمچاریوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ نتیجے میں اس بار کوئی قدوس بزنجو پانچ سو ووٹ بھی نہیں حاصل کرسکے گا۔ سب سے زیادہ نقصان چین پاکستان اقتصادی راہداری کو ہوگا۔ شدت پسند کارروائیوں اور تخریب کاروں کے بے قابو ہونے سے سی پیک کو ری پیک ہونے سے بچانا ناممکن لگتا ہے۔

Share this: