کھانسی اور علاج، وجوہات، بچاؤ اور علاج

Print Friendly, PDF & Email

ان دنوں آپ کسی مسجد میں جائیں، صف کے ایک کونے سے کھانسنے کی آواز آتی ہے، ابھی کسی صاحب کی اس تکلیف کا خاتمہ ہوتا ہے تو کسی دوسرے کونے سے کھانسنے کی آواز آنے لگتی ہے، اور یہ سلسلہ ساری نماز کے دوران جاری رہتا ہے۔ کسی تقریب میں شریک ہوں، سینما ہال ہو، کوئی دینی یا سیاسی اجتماع ہو، کھانسنے کی آواز کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسکولوں کے بچے اپنے اپنے کمروں میں کھانسی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کوئی شریف آدمی مجلس کے آداب کے تحت اس کو روکنا چاہے تو بھی وہ ایسا کرنے سے معذور ہے۔ بچوں میں جب یہ مرض بگڑتا ہے تو کالی کھانسی کا انجام قے یا بلغم کے اخراج کی صورت میں ہوتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مرض طبی ہونے کے ساتھ معاشرتی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔
کھانسی کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں خون کی گردش کو رواں دواں رکھنے کے لیے بلغم کی ایک خاص مقدار LUBRICATION کے طور پر شریانوں میں گردشِ خون کے لیے خون میں شامل کردی ہے۔ پھیپھڑے ایک نازک اور اسفنجی ساخت کا عضو ہیں۔ غذائی بے اعتدالی، سرد موسم میں بے احتیاطی، یا وبائی صورت میں زکام و نزلہ کے لاحق ہونے کی وجہ سے جب انسان غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے تو بلغم کی غیر طبعی مقدار خون کی گردش کے ساتھ، ہوا میں رطوبت اور فضائی آلودگی، اور طبِ جدید کے مطابق وائرس کے ذریعے یہ بلغمی مواد پھیپھڑوں کی آخری گچھے دار ساخت (BRONCULES) میں جمع ہوجاتا ہے۔ پھیپھڑے اس غیر طبعی بلغمی مواد کو طبعی حرکت سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھیپھڑوں کی اخراجِ بلغم کی یہ کوشش کھانسی کہلاتی ہے۔
موسم سرما میں ایسی غذائیں جو بلغمی مواد زیادہ بناتی ہیں، کا کثرت سے استعمال بھی اس کا سبب بنتا ہے۔ آلو، گوبھی، اروی کا استعمال، مونگ پھلی کھانے کے بعد ٹھنڈے پانی کا استعمال، رواجاً اس سردی میں آئس کریم اور ٹھنڈے مشروبات کا بے جا استعمال، وہ بھی فریج میں ٹھنڈی کی گئی ہو، کھانے میںچربی اور ناقص کوکنگ آئل کا وافر استعمال، نمونیے کے مریضوں کا اپنی صحت پر توجہ نہ دینا اور پھیپھڑوں کے کمزور ہونے کی صورت میں ٹھنڈی ہوا میں سفر، یا برف باری کے نظارے کرنے کے لیے ٹھنڈے علاقوں کا چند روزہ قیام، وہاں ہوٹلوں کے ناقص کھانے، وبائی نزلہ زکام سے پہلوتہی کرتے ہوئے علاج پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اس مرض کا لاحق ہونا فطری ہے۔ اس موسم میں کینو، مالٹے اورکھٹے پھلوں کا استعمال پہلے حلق کی خراش اور بعد ازاں کھانسی کا سبب بن جاتا ہے۔ غرضیکہ حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں غذا ہی اس کا سبب ہے۔
تاہم اس مرض کا آغاز ہوتا ہے تو انسان لاپروائی کرتا ہے۔ اس طرح بتدریج یہ مرض بڑھتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات مجلس میں بیٹھنا، گفتگوکرنا، حتیٰ کہ مسجد میں جانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ رات کی نیند اچاٹ ہوجاتی ہے، کھانستے کھانستے سینے میں درد، پٹھوں میں کھنچائو اور آنکھوں پر دبائو کی وجہ سے سر درد اور بعض اوقات بخار بھی ہوجاتا ہے جو خطرناک ہے۔
کالی کھانسی:
بچوں میں کالی کھانسی کی شکایت عام ہے۔ اگرچہ جدید طب اس کا سبب ایک خاص قسم کے جرثومے کو قرار دیتی ہے، تاہم طبِ قدیم اور عملی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ کھانسی کو معمولی سمجھ کر جب بچوں پر توجہ نہیں دی جاتی تو کھانسی بچوں کو دبوچ لیتی ہے۔ سوتے وقت، ہنستے وقت اور کھانے کے دوران اس کا دورہ پڑتا ہے۔ بچے کا چہرہ شدتِ کھانسی کی وجہ سے خون کا دبائو بڑھنے سے سیاہی مائل ہوجاتا ہے، آنکھیں باہر کو ابھر آتی ہیں، کھانس کھانس کر بچہ بے سدھ ہوجاتا ہے، بعض اوقات لوٹ پوٹ کر گرجاتا ہے۔ اکثر اس دورہ کا انجام ایک چیخ کی صورت (WHOOP) ہوتا ہے جس کے دوران قے یا خاصی مقدار میں بلغم کا اخراج ہوتا ہے اور دورہ رک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے کالی کھانسی یا WHOOPING COUGHکہا جاتا ہے۔ عموماً اس مرض کا دورانیہ 7 سے 25 دن ہوتا ہے جس کے دوران بچہ کمزور ہوجاتا ہے، قے کے ڈر سے کھانا نہیں کھاتا، اور اکثر سوتے میں مرض کا حملہ ہوتا ہے، اور بچے کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی جس کے اثرات اس کی صحت پر پڑتے ہیں۔ اگرکالی کھانسی کا علاج توجہ سے نہ کیا جائے تو اس کا انجام دمہ اور بعض اوقات تپ دق (T.B) کی صورت میں ہوتا ہے۔
علاج:
اگر اس مرض کا ابتدا ہی میں توجہ سے علاج کرلیا جائے تو یہ مرض تکلیف دہ نہیں۔ چند مفید نسخے درج ہیں، خود استعمال کریں۔ بچوں کو اینٹی بایوٹک سے بچائیں۔ خود بناکر غریب لوگوں میں تقسیم کریں، خود بھی دعائیں لیں اور ہمیں بھی دعا دیں (جزاک اللہ)
ہوالشافی:
اجوائن خراسانی(2کلو)، اجوائن دیسی(ایک کلو)، نمک سیاہ(ایک کلو)، نمک طعام(ایک کلو)، سہاگہ(200 گرام)، کاکڑ سنگھی (100 گرام)
سہاگہ اور نمک وغیرہ کوٹ کر اجوائنوں میں ملالیں۔ مٹی کی ڈولی میں گلِ حکمت کرکے کم از کم بیس کلو اُپلوں کی آگ دیں، ٹھنڈا ہونے پر ڈولی نکال لیں (اکثر ڈولی پھٹ جاتی ہے)، احتیاط سے نکالیں۔ سیاہ رنگ کا سفوف تیار ہوگا۔ باریک کرلیں۔ صبح و شام ایک ماشہ شہد میں ملا کر، شربت زونامیں ملا کر ، خمیرہ گائو زبان میں ملا کر استعمال کریں۔ یہ کھانسی کی مشہورِ عالم سیاہ دوا ہے جو برسوں سے اطباء کا معمولِ مطب ہے۔ یہ سفوف عام اور کالی کھانسی، حتیٰ کہ دمہ میں بھی مفید ہے۔
ہوالشافی: کیلے کے پتے تین چار، قینچی سے باریک کترلیں، دھوپ میں خشک کرلیں۔ خشک ہونے پر توے پر جلالیں، سیاہ رنگ کا سفوف تیار ہوگا۔ شہد میں ملا کر چٹنی تیار کرلیں۔ بچوں کو خوش ذائقہ دوا کھلائیں۔ کالی کھانسی کا مجرب علاج ہے۔
حب بندی: ہو الشافی : یہ نسخہ عجب تحفہ ہے۔ عقل تسلیم نہیں کرتی کہ کھانسی میں فائدہ دے گا، لیکن ایسی کھانسی جو نڈھال کردے، سانس رک جائے، آدمی لوٹ پوٹ ہوکر دورہ سے پناہ مانگے، اس کے لیے اکسیر اور تحفۂ خاص ہے۔
ہوالشافی: انار دانہ(ایک تولہ)، کالی مرچ(آدھا تولہ)، گڑ(250 گرام)۔انار دانہ کو اچھی طرح باریک کریں، یا شان اور نیشنل مسالہ والوں کا انار دانہ پائوڈر حاصل کریں۔ اسی طرح کالی مرچ کا سفوف مارکیٹ میں ملتا ہے (کوشش کریں کہ خالص کے لیے خود محنت کریں)۔ دونوں کو میدے کی طرح باریک کرکے گڑ میں اچھی طرح کوٹ کر گولیاں بنالیں۔ دن میں جب کھانسی ہو، گولی بمقدار دانہ ہڑ چوس لیں۔ اللہ کے فضل سے پرانی سے پرانی کھانسی چار پانچ دن میں ختم ہوجائے گی۔ جب گھر میں کسی ایک کو کھانسی ہوجائے تو دوسرے خود کو محفوظ کرنے کے لیے یہ جوشاندہ استعمال کریں، مریض بھی استعمال کرے۔
ہوالشافی: خطمی(3 گرام)، خبازی(3 گرام)، ملٹھی(6 گرام)، انجیر (ایک عدد)، مویز منقیٰ(8 دانہ)، زونا (3 گرام)۔ جوشاندہ تیار کرکے شہد ملا کر استعمال کریں۔ مچھلی کے کانٹے جمع کرکے ان کو جلا کر راکھ کرلیں۔ یہ راکھ ہر قسم کی کھانسی کے لیے مفید ہے۔
غذا و پرہیز: غذا میں ادرک اور تھوم (لہسن) کا کثرت سے استعمال کریں۔ آلو، چاول، گوبھی، پراٹھہ، مونگ پھلی، کولڈ ڈرنکس سے بچیں۔
مچھلی،کالے چنے کا شوربہ، گوشت کا شوربہ، کدو وغیرہ استعمال کریں۔
تیار شدہ ادویہ: مارکیٹ میں کھانسی کے شربت ہمدرد دواخانہ کی صدوری، بچوں کے لیے قرشی دواخانہ کی سرفی کول، اشرف لیبارٹریز کی لنگزول، اجمل دواخانہ کا شربت صدر اجمل، توت سیاہ کا شربت، لعوقِ سپستاں، شربتِ بنفشہ، شربتِ اعجاز مریض کے مزاج کے مطابق استعمال کریں۔ یہ ادویہ ابتدا میں مفید ہیں، مرض بگڑ جائے تو مذکورہ نسخہ جات سے فائدہ اٹھائیں۔
عام عادتیں جو جوانی میں بوڑھا بنادیں
ہوسکتا ہے آپ ایسے 80 یا 90 سالہ افراد کو جانتے ہوں جو جسمانی طور پر مستعد اور ہر کام کرتے ہیں، اور ایسے بھی 40 یا 50 سال کے لوگ آپ نے دیکھے ہوں گے جن سے ہلا بھی نہیں جاتا۔
درحقیقت آپ کی چند عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو جسم کو تیزی سے بڑھاپے کی جانب گامزن کردیتی ہیں۔ تاہم ان عادتوں سے واقف ہوکر انہیں ترک کرنا اور قبل از وقت بڑھاپے سے بچنا بہت آسان ہے۔
پیٹ کے بل سونا
طبی ماہرین کے مطابق جب کوئی پشت کے بل سونے کا عادی ہو اور چہرہ تکیے میں دب جاتا ہے تو اس کا فوری اثر سامنے آتا ہے، جیسے آنکھوں کی سوجن اور پھول جانا، جس کی وجہ چہرے کا سیال سامنے کی طرف آجانا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس عادت کے نتیجے میں چہرہ شکنوں سے بھر جاتا ہے، جبکہ جلد کی لچک برقرار رکھنے والا کولیگن نامی ہارمون ختم ہوجاتا ہے۔ اگر آپ جلد بڑھاپے کا شکار نہیں ہونا چاہتے تو کبھی بھی اس انداز سے نہ سوئیں۔
چہرے کو نہ دھونا
خواتین میں یہ بہت عام ہے کہ اکثر کاموں کی مصروفیات کی بناء پر سونے سے قبل میک اپ اتارنا بھول جاتی ہیں، مگر ایسا کبھی نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ سونے سے قبل چہرے کو دھونا دھول مٹی، پسینے اور میک اپ کی صفائی کے لیے ضروری ہے۔ اگر مرد دن بھر کے کاموں کے بعد آنے والے پسینے یا خواتین میک اپ کو صاف نہ کریں تو مسام بند ہونے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں کیل مہاسے ابھرنے لگتے ہیں۔ اگر جلد چکنی ہو تو چہرہ چکنا نظر آنے لگتا ہے۔ تو سونے سے قبل چہرے کو دھونا مت بھولیں تاکہ جِلد رات بھر میں تازہ دم اور ہموار ہوجائے۔
جِلدی نگہداشت کی مصنوعات کا بہت زیادہ استعمال
اگر آپ لاتعداد جِلدی مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ انہیں استعمال کرنے کا درست طریقہ کیا ہے تو یہ جِلد کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ان مصنوعات میں مختلف اجزا استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کا امتزاج جِلد کو خشک اور خارش بڑھا دیتا ہے۔ جب جلد خشک اور خارش کا شکار ہو تو وہ سرخ اور ورم کا شکار ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں باریک جھریاں زیادہ نمایاں ہوجاتی ہیں۔
مناسب مقدار میں پانی نہ پینا
جسم میں پانی کی مناسب مقدار بہت ضروری ہوتی ہے کیونکہ یہ جلد اور اس کی اندرونی ساخت کے لیے بہت ضروری جزو ہے۔ جب جسم پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو جلد لٹکنے لگتی ہے، اور مختصر مدت میں خشک ہوکر جھرّیوں کو نمودار کردیتی ہے، جبکہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پانی کی کمی جلد کی لچک ختم کردیتی ہے جس کے بعد اس سے نجات پانا بھی لگ بھگ ناممکن ہوجاتا ہے۔
ٹوٹکا
انسانی جسم میں دل سب سے اہم عضو ہے۔ یہ دھڑکنا بند ہوجائے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ مچھلی کا تیل دل کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ صحت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کا کولیسٹرول بڑھا ہوا ہے تو یہ دل کے لیے خطرناک ہے۔ ایسی صورت میں آپ مچھلی کا تیل پئیں، جس سے دل کو ہونے والے خطرات 20 فی صد تک کم ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کو دل کا دورہ پڑچکا ہے تو مچھلی کا تیل پئیں، یہ دوسرے دورے کو 15سے 30 فی صد تک کم کرتا ہے۔ مچھلی کے تیل میں شامل شحمی تیزاب (FATTY ACID) اس سلسلے میں بے حد مفید ہے۔ صحت مند افراد کو 500 ملی گرام مچھلی کا تیل پینا چاہیے۔ تیل کی اتنی مقدار ہفتے میں دوبار مچھلی یا پھر اس کے کیپسول کھا کر بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

Share this: