قیلولہ صحت کے لیے مفید

Print Friendly, PDF & Email

اگر آپ کو دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی محسوس ہو اور آپ کچھ دیر کے لیے سونا چاہیں توایسا ضرور کیجیے، کیونکہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نیند کے کئی فوائد سائنسی طور پر ثابت ہوچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قیلولہ کے فوراً بعد آپ اگلے کئی گھنٹے تک چاق و چوبند رہیں گے اور اس کے دیگر فوائد بھی حاصل ہوں گے۔  برازیل، ایران، میکسیکو، کئی عرب ممالک اور یونان وغیرہ میں لوگ دوپہر میں کچھ دیر کے لیے سوتے ہیں۔ چستی کے علاوہ قیلولہ موڈ بھی بہتر کرتا ہے، دماغی صحت بڑھاتا ہے اور کم مدت کے حافظے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں دو گروہوں پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ جو لوگ ہفتے میں چار مرتبہ قیلولہ کرتے ہیں اُن کے دماغ میں ہاتھ پیروں کی حرکت قابو کرنے والے ’’موٹرنیورونز‘‘ بہتر ہوجاتے ہیں، جب کہ قیلولہ نہ کرنے والوں میں ایسے کوئی فوائد نہیں دیکھے گئے۔
ماہرین نے یہاں تک کہا ہے کہ انسانی جسم و دماغ پر قیلولہ کے اثرات عین کسی آرام پہنچانے والی دوا یا کیفین جیسے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیلولہ کا وقفہ 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک کا ہوسکتا ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق یہ دورانیہ جتنا زیادہ ہوتا ہے، اس کے اچھے اثرات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ ڈیڑھ گھنٹے تک سونے سے بھی حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دوسرا اہم طریقہ بھی ہے جسے ’’بھرپور قیلولہ‘‘ یا ’’پاور نیپ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس سے بھی دماغی و جسمانی چستی پیدا ہوتی ہے اور اس کے اثرات کئی گھنٹے تک برقرار رہتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ دن میں ہر وقت سونے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ سب سے زیادہ فوائد دوپہر کی مختصر نیند سے ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قیلولہ کرنا سنتِ نبویؐ ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق میں قیلولے کے جو فوائد دریافت کیے گئے ہیں، کم و بیش وہ تمام کے تمام ہی احادیثِ مبارکہ میں بیان کیے جاچکے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے پہلی بار پاکستانی دوا کو تسلیم کرلیا

عالمی ادارۂ صحت نے کراچی کی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی ’گیٹز فارما‘ کی ’موکسی فلوکساسن‘ نامی دوا کو اپنی انٹرنیشنل ٹینڈر لسٹ میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کی جس دوا ’موکسی فلوکساسن‘ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، وہ دنیا کی دیگر کمپنیاں بھی بناتی ہیں۔ یہ دوائی ’تپ دق‘ یعنی ٹی بی کے مریضوں کے لیے ہوتی ہے۔ پاکستان میں کم سے کم 450 دوا ساز کمپنیاں ہیں، جو کئی بیماریوں کی دوائیں تیار کرتی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے کسی پاکستانی دوا کو اپنی انٹرنیشنل ٹینڈر فہرست میں شامل کیا ہے۔ پاکستانی اخبار ’دی نیوز‘ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ’موکسی فلوکساسن‘ کو تسلیم کیے جانے کے بعد اب اس دوائی کو یورپ و امریکہ سمیت دیگر منڈیوں میں بھی برآمد کیا جاسکے گا۔

کمپیوٹر سے ایس ایم ایس بھیجنا جلد ہوگا ممکن

اگر اب بھی آپ واٹس ایپ یا دیگر میسجنگ ایپلی کیشن کی جگہ ایس ایم ایس کو ترجیح دیتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اب آپ یہ کام اپنے کمپیوٹر کے ذریعے بھی کرسکیں گے۔ گوگل نے ایس ایم ایس کے لیے اپنی اینڈرائیڈ میسجنگ ایپ کا ڈیسک ٹاپ ورژن متعارف کرانے کی تیاری کرلی ہے۔ اینڈرائیڈ پولیس نے اینڈرائیڈ میسجز کے تازہ ترین بیٹا ورژن کے کوڈز کی جانچ پڑتال کے دوران دو نئے فیچرز کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ پہلا فیچر تو وہی ہے جس کو اوپر درج کیا جاچکا ہے جس کی مدد سے لوگ بہت جلد آسانی سے اپنے کمپیوٹر سے بھی ایس ایم ایس بھیج سکیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے واٹس ایپ کے ڈیسک ٹاپ ورژن سے پیغامات بھیجے جاتے ہیں، یعنی اس مقصد کے لیے مخصوص ویب پیج پر جاکر کیوآر کوڈ اسکین کرنا ہوگا اور فون کی مدد سے کنکٹ ہوکر ایس ایم بھیجنا۔ اب تک ایسا فیچر اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھا اور تھرڈ پارٹی ایپس کی مدد لینا پڑتی تھی۔ اینڈرائیڈ میسجز گوگل کی رچ کمیونی کیشن سروسز (آر سی ایس) کا حصہ ہے جس کی مدد سے یہ کمپنی واٹس ایپ کو شکست دینا چاہتی ہے۔ آر سی ایس میں ایس ایم ایس کو ایسے فیچرز سے لیس کیا جائے گا جو کہ صارفین کی ہمیشہ سے خواہش ہے، یعنی ایچ ڈی تصاویر بھیجنا، پیغام پڑھے جانے کی رسید اور ٹائپنگ انڈی کیٹر سمیت دیگر۔ اس کے علاوہ دوسرا فیچر اس ایپ کی مدد سے رقوم کی ترسیل ہے جس کا طریقہ کار تو واضح نہیں مگر لگتا ہے کہ ایزی لوڈ جیسا طریقہ کار ہوسکتا ہے۔

فیس بُک ڈاؤن ووٹ

 فیس بُک ایک نئے فیچر کی آزمائش کررہا ہے جس میں صارفین تبصرے یعنی’کمنٹ‘ پر منفی ردعمل رجسٹر کراسکیں گے جسے ’ڈاؤن ووٹ فیس بُک‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم یہ ’ڈس لائک‘ جیسا نہیں ہوگا۔
جس کمنٹ کو آپ ناپسندیدہ قرار دے کر ڈاؤن ووٹ کریں گے، وہ فوری طور پر آپ کی نگاہوں سے اوجھل یعنی آپ کی وال سے غائب تو ہوجائے گا تاہم فیس بُک اس کی وجہ جاننے کے لیے آپ سے کچھ سوال پوچھے گا۔ اس پر صارف کو بتانا پڑے گا کہ یہ کمنٹ ناپسندیدہ، گمراہ کن، غیراخلاقی یا کچھ اور ہے۔فیس بُک کے ترجمان نے نئی اپ ڈیٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاؤن ووٹ بٹن ابھی آزمائشی مراحل میں ہے اور مکمل تجربے اور تجزیے کے بعد اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کمنٹ پر ملنے والے ڈاؤن ووٹ کی تعداد کو بھی صارفین سے خفیہ رکھا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد عوامی صفحات کی پوسٹ پر تبصروں کی صورت میں فیڈ بیک حاصل کرنا ہے۔فیس بُک نے ’لائک‘ آپشن پر صارفین کی خواہشات پر ’ڈس لائک‘ کا بٹن متعارف کرانے کی کوشش کی تھی تاہم منفی نتائج کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے روک دیا گیا اور اس کے بعد پوسٹ پر ردعمل کے اظہار میں نئے ایموجیز متعارف کرائے گئے۔

Share this: