ساتھیوں پر الزامات ، صدر ٹرمپ ڈسٹرب، صدمے سے دوچار ہیں، وائٹ ہائوس

Print Friendly, PDF & Email

ترجمان وائٹ ہاؤس نے اصرار کیا ہے کہ ساتھیوں پر الزامات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت زیادہ ڈسٹرب اور صدمے سے دوچار ہیں۔ بعض پر جنسی زیادتی کے الزامات لگے تھے۔ ان کے اسٹاف میں شامل دوافراد نے استعفے دے دئیے تھے۔ صدر کا مؤقف تھا کہ غلط دعووں کے بعد اُن کی یعنی مستعفی ہونے والوں کی زندگیاں تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ ٹرمپ کی سینئر میئر کلینسی کانوے نے کہا کہ جن دو لوگوں نے استعفے جمع کرائے اُن کے خلاف اس وقت قابلِ یقین ثبوت موجود تھے۔ وائٹ ہاؤس کے دیگر دو عہدیداروں نے بھی تنازع سے نمٹنے کے لیے صدر کے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔

جامعہ واشنگٹن سیاٹل میں ریپبلکن پارٹی طلبہ ونگ اور بائیں بازو کا تصادم

صدر ٹرمپ کے حکومت میں آنے کے بعد سے جامعات میں طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم عام ہوتا جارہاہے۔ گزشتہ ہفتہ کو ریاست واشنگٹن کی سرکاری جامعہ میں کالج ریپبلکن گروپ (ریپبلکن پارٹی کی طلبہ تنظیم) نے آزادی ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ ریلی کے اعلان کے ساتھ ہی جامعہ کی انتظامیہ نے کشیدگی کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کے لیے کالج ریپبلکن گروپ کو 17 ہزار ڈالر کا نوٹس بھیج دیا، لیکن طلبہ نے انتظامیہ کے اس حکم کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کردی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر جج نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کو مسترد کردیا۔
دوسری طرف لبرل اسٹوڈنٹس، ہسپانوی طلبہ، ہم جنس پرست LGBT اور سوشلسٹ طلبہ تنظیموں نے جوابی مظاہرے کا اعلان کردیا، جن کے شرکا کی تعداد فریڈم ریلی سے تین گنا تھی۔ پولیس نے طلبہ کے ان گروہوں کو ایک دوسرے سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن جوشِ شباب میں دونوں طرف سے جملے بازی، پھر گالیوں اور دھکم پیل کے بعد گھونسوں اور لاتوں کا تبادلہ ہوا۔ کچھ منچلوں نے ایک دوسرے پرسوڈا واٹر کی بوتلیں بھی پھینکیں۔ ریپبلکن اسٹوڈنٹس اُس وقت سخت مشتعل ہوگئے جب سوشلسٹوں نے امریکی پرچم نذرِ آتش کردیا۔ مشتعل مجمع کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہلکے لاٹھی چارچ کے ساتھ سرخ مرچوں کی بوچھاڑ کی۔ اس دوران بہت سے طلبہ گرفتار بھی کرلیے گئے۔ کسی طالب علم یا پولیس والے کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔

امریکہ میں بلااشتعال فائرنگ کے واقعات

امریکہ میں بلا اشتعال فائرنگ کی تین وارداتوں نے دو پولیس افسران سمیت آٹھ افراد کی جان لے لی۔ ہفتے کے دن دوپہر سے ذرا پہلے امریکی ریاست اوہایو (Ohio)کے شہر ویسٹرول (Westerville) میں فائرنگ سے دو پولیس افسر ہلاک ہوگئے۔ پولیس کو ہنگامی نمبر 9/11سے کال موصول ہوئی لیکن فوراً ہی رابطہ منقطع ہوگیا، چنانچہ اس پتے پر پولیس کا دستہ روانہ کیا گیا۔ جیسے ہی پولیس وہاں پہنچی اُن پر فائرنگ شروع ہوگئی جس سے ایک افسر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ شدید زخمی دوسرا پولیس والا ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے مبینہ ملزم بھی زخمی ہوگیا جسے پولیس نے گرفتارکرکے ہسپتال میں داخل کردیا۔ ملزم کی شناخت اور ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس سال کے دوران سارے امریکہ میں 12 پولیس افسران فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔گزشتہ دنوں ریاست کنٹکی (Kentucky)کی جانسن کائونٹی کے ایک گھر سے فائرنگ کی اطلاع ملنے پر پولیس وہاں پہنچی تو گھر سے دو افراد کی خون میں لت پت لاشیں ملیں، جنھیں بہت قریب سے گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ ابھی تحقیقات جاری ہی تھیں کہ اس گھر سے 10 میل دور ایک اپارٹمنٹ سے دو مزید افراد کی لاشیں دریافت ہوئیں، جن کے قریب ہی قاتل کی لاش بھی پڑی تھی جس نے چار افراد کو ہلاک کرکے اپنی زندگی ختم کرلی تھی۔

انڈیا: انکائونٹر

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ایک برس قبل بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد وہاں پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک مہم شروع کی۔ پچھلے نو مہینے کے اندر ریاست میں ایک ہزار سے زیادہ انکاؤنٹر ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان پولیس تصادموں میں اب تک 38 جرائم پیشہ افراد مارے جا چکے ہیں، تقریباً تین سو زخمی ہوئے اور دو ہزار سے زیادہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس انکاؤنٹر کا سلسلہ بند کرے کیونکہ بقول اُن کے ان میں بہت سے بے قصور افراد بلا وجہ مارے جا رہے ہیں۔ حقوقِ انسانی کے قومی کمیشن نے ریاستی حکومت کو کم ازکم 20 انکاؤنٹر معاملوں میں نوٹس بھیجا ہے اور وضاحت طلب کی ہے۔

نواز شریف کا بیانیہ

میرا یہ بھی خیال ہے کہ سابق وزیراعظم فیڈریشن کے مفادات کے برعکس اپنی اربوں روپے کی مبینہ کرپشن چھپانے کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر نواز شریف اور دوسری سیاسی لیڈرشپ سیاست سے باہر ہو گئی اور اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کرنے والی سیاسی جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کرسکیں تو پھر یہ ترمیم خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس گمراہ کن مفروضے کو بنیاد بنا کر نواز شریف عوام کو باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں نہ صرف جمہوریت بلکہ پارلیمانی جمہوری نظام کو لپیٹنے کے حالات پیدا ہوجائیں گے۔ عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کے لیے وہ کسی کے لکھے ہوئے اسکرپٹ کو پڑھ کر عوام کے سامنے صورتِ حال بیان کر رہے ہیں۔ سیاسی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق میں کوئی دوسرا جمہوری نظام چلانا بہت مشکل ہو گا۔ عوام کو ایسے مفروضوں سے کوئی سروکار نہیں جن کی پشت پر ہم خیالوں کا ٹولہ کھڑا ہو، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے فی الحال جمہوریت کو خطرہ نہیں ہے، البتہ اگر نوازشریف کی جماعت اکثریت سے کامیاب ہو جاتی ہے تو اسی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔ وہ اس میں مزید ترامیم کی کوشش کرے گی۔ یہ ایک تجزیہ ہے اور بہت ہی سنجیدہ تجزیہ،‘ جسے فی الحال نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے اور میرا بھی یہی خیال ہے کہ سابق وزیراعظم کی وجہ سے جمہوریت کو خطرہ ہے اور ان کی اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کی پارٹی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
(کنور دلشاد۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان۔ دنیا۔12فروری2018ء)

بھارت: پی ایث ڈی کی مشکوک ڈگریاں

بھارت میں شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار نے گزشتہ روز ملک میں جاری پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگریوں کی تقسیم میں ہیرا پھیری پر ایک تحقیقی خبر شائع کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں لگ بھگ سبھی یونیورسٹیاں ایسے لوگوں کو بھی ڈگریاں دے دیتی ہیں جن کے میٹرک پاس ہونے کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ بیس برس میں 160 یونیورسٹیوں نے دو ہزار سے زیادہ لوگوں کو ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بانٹی ہیں۔ ایسی ڈگری پانے والوں میں ملک کے صدور، نائب صدور، وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ اور کئی وزیر تو ہیں ہی، سرکاری افسر، کئی جاہل دولت مند اور کئی سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں میرا کہنا یہ ہے کہ یہ سب لوگ کسی نہ کسی سبب احترام کے لائق تو ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری کیوں دی جائے؟ یہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا غلط استعمال ہے۔ ایسا استعمال بند ہونا چاہیے۔ یہ اس ڈگری کیتوہین ہے۔ کسی بھی مضمون میں ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے پانچ چھے برس تحقیق کرنی پڑتی ہے، سر کھپانا اور سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ میں نے خود جب بین الاقوامی سیاست میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ریسرچ کی تھی تو لگاتار پانچ برس صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک لائبریریوں میں بیٹھ کر کام کیا تھا۔ انگریزی کے علاوہ تین غیر ملکی زبانیں سیکھیں۔ سینکڑوں خارجہ لیڈروں اور عالموں سے مذاکرات کیے۔ کئی افراد کے انٹرویوز کیے۔ چار ملکوں میں رہ کر گہری تحقیق کی۔ بین الاقوامی سیاست کے مشہور ماہرین نے اسے قبول کیا، تب جاکر جے این یو نے مجھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ آپ جس مضمون پر ڈاکٹریٹ کرتے ہیں، اس مضمون کے قابل فرد ہی نہیں علامہ مانے جاتے ہیں، جبکہ نام کی ڈگری پانے والے کچھ لوگ تو عالموںکے بیچ بیٹھنے کے بھی لائق نہیں ہوتے۔ کچھ ایسے لوگوں کو بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے دی جاتی ہے جن سے ان یونیورسٹیوں کو مالی فائدہ ہوا ہو، یا ہونے کا امکان ہو۔ ان پر ہونے والی طرح طرح کی مہربانیوں کو لوٹانے کا یہ خاص وسیلہ بن گیا ہے۔ اس کی آڑ میں وہ یونیورسٹیاں اپنی کمیوں، دھاندلیوں اور بدعنوانیوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔
(ڈاکٹر وید پرتاب ویدک۔ 12 فروری 2018ء)

افتا اور قضا کا دائرہ کار

مفتی کا کام دریافت کیے گئے سوال کا شرعی حکم بیان کرنا ہوتا ہے، قضا نہیں ہوتا۔ قضا عدالت کا کام ہے اور عدالت کا قیام ریاست کی ذمے داری ہے۔ عدالت کا فیصلہ ریاست و حکومت کی طاقت سے نافذ ہوتا ہے، جبکہ معاشرے میں مفتی کے فیصلے یا فتوے کی پذیرائی اُس کے کردار، علمی حیثیت اور فقہی ثقاہت کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس کے پیچھے ریاست و حکومت کی کوئی قوت کارفرما نہیں ہوتی۔ ہم فتوے میں لکھتے ہیں:’’اگر سائل کا بیان درست ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے۔ نہ ہم شخصی حکم لگاتے ہیں اور نہ قضا کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارا دائرۂ اختیار نہیں ہے ‘‘۔ جن لوگو ں کی خواہش ہے کہ مذہب کو معاشرے سے دیس نکالا دیا جائے، وہ اپنے دل میں یہ خواہش پال سکتے ہیں، لیکن لمحۂ موجود میں اس کی تعبیر پانا مشکل ہے۔ حکومت مشکل میں ہو تو علماء کو مدد کے لیے پکارتی ہے اور حالات سازگار ہوں تو علماء قابلِ توجہ نہیں رہتے۔
(مفتی منیب الرحمن،دنیا12فروری2018ء)

بیت المال رقم کی بندربانٹ

پاکستان بیت المال کے ملازمین کا مسئلہ پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیت المال کے اربوں روپے ہڑپ کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ دو تین مثالیں یہاں درج کررہا ہوں جس کے تمام ثبوت راقم کے پاس موجود ہیں کہ کس طرح قوم اور غریبوں کی دولت پر حکمراں نقب زنی کررہے ہیں۔ پاکستان بیت المال پنجاب سے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر این اے 120 سے تعلق رکھنے والے 161افراد جو حکمراں جماعت کے کارندے اور غیر مستحق تھے، کو فی کس 10ہزار روپے دیئے گئے۔ حلقہ این اے 122کے ضمنی الیکشن سے پہلے حکمراں جماعت نے 121افراد کو بیت المال سے 20 سے 50 ہزار روپے تک دلوائے، جبکہ حلقہ این اے 119سے تعلق رکھنے والے 277 من پسند اور غیر مستحق لوگوں کو پانچ پانچ ہزار روپے فی کس دیئے گئے۔ یہ 277 چیک جس شخص نے وصول کیے اُس کا شناختی کارڈ نمبر 352029557511-9 ہے۔ اسی طرح کسی کی معرفت 50 لوگوں کو فی کس 20ہزار روپے دیئے گئے۔ یہ چند حقائق عوام کے سامنے رکھے جارہے ہیں، چونکہ ان سب کے ایڈریس، نام، شناختی کارڈ نمبر اور وصول کرنے کے ثبوت راقم کے پاس موجود ہیں، ورنہ یہ سلسلہ تو پاکستان بھر میں جاری ہے، اور پاکستان بیت المال کی رقم کی بندر بانٹ سے اس ادارے کا نام ’’بیت الملال‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مستحقین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
(عابد تہامی،جنگ12فروری2018ء)

Share this: