معروف خطاط خالد صدیقی کے فن پاروں کی صادقین گیلری میں سہ روزہ نمائش

Print Friendly, PDF & Email

معروف خطاط محمود اللہ صدیقی جنہیں شیخ غلام علی اینڈ سنز کے شائع کردہ ’’کلیات اقبال‘‘ کی کتابت سے بڑی شہرت ملی۔ آپ نے اس فن کو اپنے صاحبزادے خالدصدیقی کو منتقل کیا جسے اب وہ بڑی کامیابی سے آگے بڑھارہے ہیں۔
خالدصدیقی کی خطاطی کے فن پاروں کی نمائش فرانس اور انگلینڈ میں جبکہ پاکستان میں قومی ورثہ کے تحت اسلام آباد‘ الغزالی ٹراسٹ کے تحٹ لاہور میں ہوچکی ہے۔ کراچی میں ادارۂ تخلیقات کے زیراہتمام اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تعاون سے پہلی سولونمائش 3 فروری تا 5 فروری جاری رہی۔ ادارہ تخلیقات کے روح رواں سلیم مغل ہیں۔
نمائش کا افتتاح نامور آرٹسٹ اقبال مہدی کی صاحبزادی لیزا مہدی اور معروف شاعر محسن بھوپالی کی صاحبزادی شاہانہ جاوید نے کیا۔ اس موقع پر حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم مغل نے کہا کہ اگر چیزیں خوش خط نہ لکھی جائیں تو علم آگے نہیں بڑھ سکتا‘ خوش خط لکھنے سے ابلاغ مکمل ہوتا ہے اور خطاطی میں جب آرٹ شامل ہوجائے تو بڑا فن بن جاتا ہے۔ اگر انسان کے اندر سے خوبصورتی کا احساس ختم ہوجائے تو انسان جانور بن جاتا ہے۔ ادب‘ آرٹ اس خوبصورتی کو آگےبڑھاتے ہیں اور اس فن کو آگے بڑھانے میں خالدصدیقی کا بڑا اہم کردار ہے۔ ادارہ تخلیقات جس میں میرے ساتھ ابوالخیر کشفی کے صاحبزادے ابو عاکف کشفی بھی شامل ہیں ہم ادب اور آرٹ کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس سے قبل ہم نے معروف شاعر سلیم کوثر کا مجموعہ کلام شائع کیا اور اس کی تمام رائلٹی سلیم کوثر کو ادا کی جو ان دنوں صاحب فراش ہیں۔
خالد صدیقی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علم کو آگے بڑھانے کے لیے قلم کا استعمال کیا ہے اور اس بات کو بھی مدنظر رکھا ہے کہ جو بھی لکھوں اس کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ اس موقع پر ایک قدر دان سید محمد عادل نے خالدصدیقی کے خطاطی کے فن پاروں کی کراچی آرٹس کونسل اور لاہور میں الحمراہال میں نمائش کا اہتمام کرنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ میئر کراچی وسیم اختر اپنی کسی مصروفیت کے باعث تشریف نہ لاسکے۔ جبکہ بلدیہ عظمیٰ کے علی حسن ساجد‘ خورشید صاحب اور عاکف صاحب نے اس باوقار تقریب کا عمدہ اہتمام کیا‘ تقریب میں معروف آرٹسٹ احمد انور‘ امجد منہاس‘ انعام اللہ‘ طارق ٹونکی‘ ورثہ کے اسد صاحب کے علاوہ ادب اور آرٹ کے شائقین نے شرکت کی‘ فریئر ہال میں یہ نمائش تین روز تک جاری رہی دوسرے اور تیسرے دن شہریوں نے تعطیلات کی وجہ سے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ راقم سے گفتگو کرتے ہوئے لیزا مہدی نے کہا کہ وہ 9 فروری کو تین بجے دن آرٹس کونسل کراچی کے آڈیٹوریم میں اپنی تنظیم کی جانب سے اعلیٰ کارکردگی کے حامل کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کو شیلڈز دیں گی اور ادب آرٹ کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔

Share this: