اینٹی بائیوٹک دواؤں کا بے دریغ استعمال

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں ڈاکٹروں کی جانب سے اینٹی بائیوٹک دواؤں کا بے دریغ استعمال دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ کا سبب بن رہا ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے پاکستان گیسٹرو انٹرالوجی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں پہلی ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جگر کی پیوندکاری نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب تربیت یافتہ سرجنز اور عملے کی کمی ہے، امید ہے جلد ہی ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین اس پیچیدہ سرجری پر عبور حاصل کرکے مقامی طور پر بغیر کسی بیرونی مدد کے یہ آپریشن کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ سندھ میں جگر اور پیٹ کے امراض کی سب سے بڑی وجہ آلودہ پانی کی فراہمی ہے۔ پانی ابال کر پینے سے پیٹ کے 80 فیصد سے زائد امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کی جانب سے اینٹی بائیوٹک دواؤں کا بے دریغ استعمال دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ کا سبب بن رہا ہے، تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سندھ میں پھیلنے والے ٹائیفائیڈ پر انتہائی قوت بخش اینٹی بائیوٹک ادویہ بھی اثر نہیں کررہی ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اینٹی بائیوٹک دواؤں کی ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت پر پابندی عائد کی جائے، شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے جو نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ پیٹ کے امراض سے بچنے کا سب سے بہترین نسخہ بھی ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت نیشنل اسپتال کی ماہر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ انھوں نے حکومت اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے آگہی کو فروغ دیں، انجکشن اور ڈرپس لگانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور استعمال شدہ طبی آلات مریضوں پر استعمال نہ کیے جائیں، تاکہ اس خطرناک مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

انٹرنیٹ پر جھوٹی خبریں تیزی سے کیوں پھیلتی ہیں؟

انٹرنیٹ پر سچی خبروں کے مقابلے میں افواہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں، اور ایسا کوئی روبوٹس نہیں کرتے بلکہ انسان سوچی سمجھی سازش کے تحت کرتے ہیں۔
ایک امریکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی (میسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے تحقیق دانوں نے 2006ء سے 2017ء تک سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین کی جانب سے کی گئی سوا لاکھ ٹوئٹس کا تجزیہ کیا، تحقیق سے پتا چلا کہ جھوٹی خبروں کو بغیر تصدیق کیے 30 لاکھ افراد نے 45 لاکھ بار ٹوئٹ کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اعداد و شمار سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق ہر 1500 افراد تک غلط خبر درست خبر کے مقابلے میں 6 گنا تک جلد پہنچ جاتی ہے، جب کہ اس بھیڑ چال کے باعث ٹوئٹر پر غلط خبر کو ری ٹوئٹ کرنے کے امکانات 70 فیصد زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح درست خبر کے مقابلے میں غلط خبر کے جوابات بھی زیادہ آتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حیران کن طور پر ٹوئٹر پر جن صارفین نے غلط خبریں پھیلائیں اُن کی فالوونگ بہت کم تھی، ایسے صارفین کے اکائونٹس غیر تصدیق شدہ اور وہ ٹوئٹر پر زیادہ فعال بھی نہیں ہوتے تھے، لیکن سنسنی پھیلانے کے لیے غلط خبریں پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ غلط خبریں چونکہ سنسنی پھیلانے کا باعث بنتی ہیں اس لیے لوگوں میں ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر زیادہ مقبولیت حاصل کرلیتی ہیں، اور لوگ غم، حیرانی، غصے اور جذبات کی رو میں بہہ کر زیادہ سے زیادہ ری ٹوئٹ کرتے ہیں، جس کے باعث جھوٹی خبر بھی ’ٹاپ ٹرینڈ‘ بن جاتی ہے۔ اس کے سدباب کے لیے سوشل میڈیا پر خبروں کے تصدیقی مرحلے کو مزید فعال بنانا ہوگا۔

انڈس ڈیلٹا کا رقبہ 1833ء سے اب تک 92 فیصد سکڑ چکا ہے

امریکی اور پاکستانی ماہرین نے لگ بھگ ڈیڑھ سال کی تحقیق کے بعد کہا ہے کہ دریائے سندھ کا مشہور ڈیلٹا تیزی سے ختم ہورہا ہے اور 1833ء سے اب تک یہ 92 فیصد تک سکڑ چکا ہے۔
دریا اور سمندر کے ملاپ کو ڈیلٹا کہا جاتا ہے، اور 1833ء میں سندھ ڈیلٹا کا رقبہ 12900 مربع کلومیٹر تھا۔ لیکن دریائے سندھ کے بہاؤ میں فطری تبدیلی اور بڑی حد تک انسانی مداخلت کے بعد اس ڈیلٹا کا رقبہ اب صرف 1000 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے، یعنی 92 فیصد ڈیلٹا غائب ہوچکا ہے۔ مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں قائم یونائیٹڈ اسٹیٹس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر (یو ایس پی سی اے ایس ڈبلیو) کے ماہرین نے 15 ماہ کی تحقیق کے بعد یہ بات کہی ہے۔ کئی عشروں سے ڈیلٹا کے رہائشی، ماہرین اور ماحولیاتی کارکن سندھ ڈیلٹا کی تباہی، سمندری دراندازی، ماہی گیروں کی مشکلات اور زمین سمندر برد ہونے کا نوحہ پڑھتے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ جتنا شدید اور سنگین ہے اسے اتنا ہی نظرانداز کیا گیا ہے۔ انڈس ڈیلٹا ٹھٹہ اور ضلع سجاول کے درمیان موجود ہے، اور یہ دونوں شہر دریائے سندھ کے بائیں جانب موجود ہیں، اور اس عمل میں سب سے زیادہ متاثر بھی ہوئے ہیں۔گزشتہ 45 برسوں میں سمندر نے ڈیلٹا کے 42,609 ہیکٹر علاقے کو ٹائیڈل فلڈ پلین (ٹی ایف پی) میں شامل کردیا ہے جو بلند سمندری موجوں یا ہائی ٹائیڈ میں زیرِ آب آجاتا ہے۔ 1972ء میں ٹی ایف پی کی شرح 7.1 فیصد تھی، جو 2017ء میں تین گنا بڑھ کر 18 فیصد ہوچکی ہے۔

Share this: