ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کا دورہ پاکستان

Print Friendly, PDF & Email

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان اور ایران کے 70سال سفارتی تعلاقات مکمل ہونے پر 30 رکنی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ،جہاں اْنھوں نے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے وفود کی سطح پر مذاکرات کے علاوہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی۔جواد ظریف کے ہمراہ آنے والے وفد میں ایران کی اعلیٰ کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں اور اس دورے میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر بات چیت کے علاوہ تجارت کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد سرکاری ٹیلی ویڑن سے گفتگو میں کہا کہ بات چیت میں افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاک ایران بزنس فورم سے بھی خطاب کیا جس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دوطرفہ تجارت کو 2021 تک پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے بعد ایران وزیر خارجہ پاکستان کے اقتصادی شہر کراچی بھی گئے جہاں اْن کی کاروباری برداری سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’ہم نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت پر رضا مندی کا اظہار کیا اور ہم پاکستان اور چین کو چاہ بہار بندرگاہ میں شمولیت کی پیش کش کرتے ہیں‘۔ اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز میں پاک ایران سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ پاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کے لیے نہیں ہے، ایران اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور اسی طرح پاکستان بھی اپنی سرزمین ایران مخالف عناصر کو فراہم نہیں کرے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران بھارت تعلقات سے پاکستان کو خطرہ نہیں، بالکل اس طرح جیسے پاک سعودیہ تعلقات سے ایران اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتا‘۔
خیال ہے کہ ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ 18 ماہ کے لیے لیز پر دیتے ہوئے اس کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول بھی سپرد کیا جس پر پاکستان کو تشویش ہے۔

بھارت میں ہر گھنٹے میں ایک طالب علم کی خودکشی

بھارت میں خودکشی کرنے والے طالب علموں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
نیشنل کرائم رپورٹس بیورو 2015ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں ایک طالب علم خودکشی کرتا ہے۔ پورے ملک کے طالب علم اس وقت نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات دینے میں مصروف ہیں اور یہ مرحلہ ہر طالب علم کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب ہوتا ہے۔ موہالی میں بارہویں جماعت کے طالب علم کی خودکشی کا افسوس ناک واقعہ سامنے آیا۔ 17 سالہ طالب علم کرن ویر طبیعات کے پرچے میں خراب کارکردگی کے باعث بہت پریشان تھا اور امتحان دینے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اس نے چھت کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ خودکشی سے پہلے لکھے گئے خط میں اس نے لکھا تھا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کہ آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا اور آپ کی خواہشات کو پورا نہیں کرسکا۔ میں اپنے دادا دادی سے بہت پیار کرتا ہوں، برائے مہربانی آپ ان کا بہت خیال رکھیے گا۔

سری لنکا: مساجد اور دکانوں پر حملوں کا تسلسل

سری لنکا میں مساجد اور دکانوں پر مزید حملے کیے گئے۔ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے کاروبار نذرِآتش کردیئے گئے۔ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے سری لنکا میں بودھ انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے جان ومال اور املاک پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سری لنکن حکومت سے مسلمان اقلیت کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا میں بودھ مذہب کے انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی املاک اور مساجد نذرِ آتش کرکے جارحیت کی۔ اس سلسلے کو فوری بند کیا جائے۔ ادھر مسلم کُش فسادات پر قابو پانے کے لیے سری لنکن شہر کینڈی میں نافذ کرفیو میں دن کے اوقات میں نرمی کی گئی ہے۔ اسکول بدستور بند ہیں اور سیکورٹی مزید سخت کردی گئی۔ صرف3 روز میں سنہالی بودھ انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے 200 گھر، دکانیں اور بیسیوں گاڑیاں جلا دیں۔

برطانیہ میں سابق روسی خفیہ اہلکار کی پراسرار موت

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق ایجنٹ کو دیا گیا فوجی گریڈ کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے، جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ ’عین ممکن ہے سیلسبری کے علاقے میں 4 مارچ کو انگلینڈ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ فوجی گریڈ کے اعصاب کو متاثر کرنے والا کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’یا تو یہ روس کا ہمارے ملک کے خلاف براہ راست اقدام ہے، یا پھر یہ خطرناک ایجنٹ روس کی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا اور دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔
63 سالہ ریٹائرڈ ملٹری انٹیلی جنس آفیسر سرجی اور ان کی 33 سالہ بیٹی کو سیلسبری کے سٹی سینٹر میں ایک بینچ پر نڈھال حالت میں پایا گیا۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔ ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہوگئے ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔

اسحٰق ڈار کو سزا۔۔۔؟۔

گزشتہ جمعہ کو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ایک اہم وزیر نے اسحق ڈار کے خلاف انتہائی اہم دستاویزات ایک ریاستی ادارے کے حوالے کردی ہیں۔ جب یہ دستاویزات عدالت کے سامنے آئیں گی تو عدالت کو سزا سنانا پڑے گی، اور پھر یہ سزا ایک داغ بن جائے گی۔ یہ سزا کسی ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں کوئی ملٹری کورٹ نہیں سنائے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں حکومت کے ایک سینیٹر کو منی لانڈرنگ اور حقائق چھپانے کے الزام میں سنائی جائے گی۔
(حامد میر،12مارچ، 2018ء)

برقی موٹرسائیکل

۔1998ء میں چین نے مقامی طور پر بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکل کی پیداوار کا آغاز کیا۔ یہ کام ابتدا میں صرف بارہ کمپنیوں نے شروع کیا، جنہوں نے سال میں 56 ہزار موٹر سائیکلیں تیار کیں، جب کہ عام موٹر سائیکلوں کی پیداوار4.2 کروڑ فی سال جاری رہی۔ اس پالیسی کا مقصد عوام کے لیے کم قیمت، ماحول دوست اور مستعد آمد ورفت کی سہولت کی فراہمی تھا، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقل و حمل کے نظام میں عوامی سرمایہ کاری عمل میں آئی، نتیجتاً برقی موٹر سائیکلوں کی قیمت میں کمی واقع ہوگئی۔ اور بارہ سال کے عرصے یعنی 2010ء تک کمپنیوں نے تین کروڑ برقی موٹر سائیکلیں بنانا شروع کردیں، جن میں سے 80 فیصد مقامی طور پر فروخت ہورہی تھیں۔ پرزہ جات کی تیاری سے لیتھیئم (lithium) کی کان کنی تک میں چین کی حکومت نے چین سرمایہ کاری کارپوریشن کے ذریعے مختلف چینی کمپنیوں کی مدد کی۔ اس طرح بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین نمایاں طور پر پوری دنیا میں ایک اہم پیداواری ملک کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ مراعات پر مبنی طرزِ فکر کے علاوہ ہمیں ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
(ڈاکٹر عطا الرحمن، جنگ، 12مارچ2018ء)

بجلی کے بلوں میں اضافہ اور عوام

حقیقت کی اگر بات کی جائے تو عوام کے پاس بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں، اگر وہ کھانے پینے پر اخراجات کرتے ہیں تو بلوں کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ یا تو عوام کھانا پینا چھوڑ دیں اور صرف بجلی پر گزارا کریں، لیکن یہ بھی ممکن نہیں، کیونکہ انسانی جان کے بھی کچھ تقاضے ہیں۔کچھ امید اگر ہوتی ہے تو وہ حکومت سے، کہ شاید اس کو ہی رحم آجائے اور بجلی کے نرخ کم ہوجائیں، لیکن حکومت نے تو پہلے سے ہی یہ طے کررکھا ہے کہ بجلی کے بلوں اور تیل کی قیمتوں میںاضافہ کرکے اپنی عیاشیاں جاری رکھنی ہیں، اور یہ سب کچھ عوام کی جیب سے ہی نکلتا ہے اور سیدھا حکومت کو منتقل ہوجاتا ہے۔
عوام تو اب اس حد تک بھی کہتے پائے جارہے ہیں کہ سردیوں میں چونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی لیکن بجلی کے بلوں نے اپنا اصل دکھا دیا، اب اگر گرمیوں میں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی تو بل کہاں سے ادا کیے جائیں گے۔ اس سے تو لوڈشیڈنگ ہزار درجے بہتر تھی، اندھیرا گوارا تھا، دیا جلا کر گزارا کیا جا سکتا تھا۔
(عبدالقادر حسن، ایکسپریس، 13مارچ2018ء)

جمہوریت اور احتساب
پاکستانی جمہوریت میں موجیں ہی موجیں ہیں۔ دوسروں کو ہر وقت دائرۂ کار میں رہنے کا وعظ دینے والے خود ہر قسم کے دائرۂ کار سے آزاد ہیں، چنانچہ میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے ایسے ایسے نہایت غیر موزوں حضرات کو سفیر بنتے اور اعلیٰ عہدوں پر نازل ہوتے دیکھا ہے جن کی مثالیں امریکی Spoilسسٹم میں بھی نہیں ملتیں۔ ایسی تقرریوں کی واحد خوبی اور واحد معیار خوشامد، ضمیر فروشی اور ذاتی وفا کی یقین دہانی ہوتی ہے، اور اگر کوئی اس پر انگلی اٹھائے، چاہے یہ اس کا آئینی اختیار ہی کیوں نہ ہو، تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ اسے سبق سکھادیں۔ اسے جاگیردارانہ ذہینت کہتے ہیں جو جمہوریت کی دشمن تصور ہوتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم جس جمہوری نظام کے تحت پروان چڑھ رہے ہیں وہ اپنی روح کے مطابق جمہوریت نہیں بلکہ انوکھی جمہوریت ہے، اور اسے اس پستی تک پہنچانے میں ہمارے سیاست دانوں نے بڑے خلوص سے محنت کی ہے۔ اس طرح کے نظام میں اگر آپ جمہوریت کی روح کے مطابق احتساب کو شامل کرنا چاہیں تو وہ سیاست دانوں کو کیوں کر گوارہ ہوگا؟
انگلستان کا ایک ماڈریٹ وزیراعظم جان میجر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار ہمارے وزیراعظم صاحب انگلستان کے دورے پر تھے تو پاکستان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھا کر میچ جیت لیا۔ وزیراعظم صاحب نے کھڑے کھڑے فی کھلاڑی بیس ہزار پونڈ کے انعام کا اعلان کردیا۔ جان میجر سرجھکا کر سوچ میں ڈوب گیا۔ بالآخر اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے ہوئے بولا ’میں تو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر بیس پونڈ بھی نہیں دے سکتا، پاکستانی وزیراعظم کتنا خوش قسمت اور طاقتور ہے جس نے کھڑے کھڑے ہر کھلاڑی پر بیس ہزار پونڈ کی بارش کردی‘۔ مارگریٹ تھیچر آئرن لیڈی مشہور تھی اور کئی بار انگلستان کی وزیراعظم بنی۔ ایک بار زچ ہوکر کہنے لگی کہ 10۔ڈائوننگ اسٹریٹ (رہائش وزیراعظم) کا فرنیچر اتنا پرانا ہے کہ پلنگوں سے لے کر صوفوں تک کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں۔ کتنے برس محنت کی تو پارلیمنٹ نے نئے فرنیچر کے لیے چند ہزار پونڈ منظور کیے۔ چند برس قبل ایک یتیم سا برطانوی وزیراعظم پریشان رہتا تھا کیونکہ اس پر الزام لگا کہ اس نے ہائوس آف لارڈز کی رکنیت اور خطابات پونڈوں کے عوض دئیے ہیں۔ ہر صبح ایک بدتمیز کانسٹیبل اس کی تلاشی لینے سرکاری رہائش گاہ پہ پہنچ جاتا تھا۔ یہ جرأت، یہ مجال؟
(ڈاکٹر صفدر محمود، جنگ، 13مارچ،2018ء)

پاپوشی ادب

برصغیر میں شاید ہی کوئی ایسا رہنما یا سرکردہ شخصیت ہو جسے ناپسند کرنے والوں نے جوتا نہ دکھایا ہو، یا پھینکنے کی کوشش نہ کی ہو۔ یوپی کے پرانے بزرگ آج بھی اپنا کمزور سینہ پھلاتے ہوئے چوتھی پیڑھی کو بتاتے ہیں کہ ’’میاں! جب تعلقہ دار صاحب کو کسی بدخواہ کو سبق سکھانا ہوتا تو اپنے سامنے چمار سے جوتے پڑواتے تھے۔‘‘
اردو ہندی لسانی محاوراتی خزانہ ہی دیکھ لیجیے۔ جوتیوں میں دال بٹنا، سر پہ جوتا مارنا، جوتم پیزار ہونا، جوتا کاری کرنا، جوتی جیسا منہ، جوتے سیدھے کرنا، جوتے اٹھانا، جوتوں میں بیٹھنا، جوتوں کا ہار، جوتا چھپائی… غرض ایک سلسلہِ دراز ہے پاپوشی ادب کا۔
مولانا ظفر علی خان سے یہ واقعہ منسوب ہے کہ جب انھوں نے سامنے سے کانگریس کا جلوس آتے دیکھا تو اور تو کچھ نہ بن پڑا ایک فی البدیہہ شعر ہی کہہ ڈالا
کانگریس آ رہی ہے ننگے پائوں
جی میں آتا ہے بڑھ کے دوں جوتا
(وسعت اللہ خان،ایکسپریس،13مارچ،2018ء)

Share this: