ارقم پبلک اسکول ایک تعارف

Print Friendly, PDF & Email

محمد یوسف
علم ایک ایسی روشنی ہے جو نہ صرف انسان کو صحیح معنوں میں انسان بناتی ہے ۔ بلکہ ملک و ملت کی تقدیر بدلنے میں بھی اہم ترین کردار ادا کر تی ہے ۔ اسی لئے ہمارے دین اسلام میں حصول علم کو فرض عین قرار دیا گیا ہے ۔ علم و آگہی کے انوار سے معاشرے کو منور کرنے کے عمل میںشہر کراچی میں بے شمار ادارے اپنے حصے کی شمع کو روشن کیے ہوئے ہیں ۔ علم کے ان چراغوں میں ایک روشن چراغ ’’ ارقم پبلک اسکول ‘‘ بھی ہے جو ارقم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر انتظام علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف عمل ہے ۔الحمداللہ چند دن قبل ہی ملیر میں ایک اور بوائز کیمپس کا افتتاح تقریب منعقد ہوئی ۔محترم یونس بارائی صاحب (امیر جماعت اسلامی شرقی)نے ارقم پبلک اسکول کے آٹھویں کیمپس کا افتتاح کیاہماری کوشش ہے کہ یہاںسے فارغ التحصیل طلبا ء نہ صرف ملک و ملت کے مفید شہری بن سکیں بلکہ امت مسلمہ کے بہترین افراد بھی کہلا سکیں ۔ارقم پبلک اسکول کے قیام کا اصل مقصد طلباء و طالبات کو جدید تعلیمی تکنیک اور عمدہ طریقہ ہائے تدریس کے ساتھ ساتھ اسلامی شعار اور افکار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔تاکہ ان میں قائد انہ صلاحتیں فروغ پائیںاوروہ صحیح اورغلط میںفیصلہ کر سکیں۔ یہ طلبا اور طالبات نہ صرف مستقبل کے اچھے ڈاکٹر، انجینئر ، استاد اور سائنسدان ہوںبلکہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور مثبت سوچ اور اسلامی نقطہ نظر کی وجہ سے معاشرے کے سدھار اور بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرسکیں ۔ یقینا معاشرے کے لئے مثالی مسلمانوں اور امت مسلمہ کے لئے بہترین انسانوں کی تیاری ایک مشکل اور ناگذیر عمل ہے اس کے لئے محنت ، توانائی عزم اور وسائل کی اشد ضرورت ہے ۔ارقم پبلک اسکول کی انتظامیہ پر عزم انداز میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کوشاں ہے اور اس بات کی خوا ہاں ہے کہ سعی ء و ہمت کے اس عمل کو مزید موثر، مربوط اور منظم کر سکے ۔ اس وقت الحمد اللہ ارقم پبلک اسکول کے آٹھ کیمپسزمیں2300 طلباء اور طالبات زیر تعلیم ہیں ماہر اور تجربہ کار اساتذہ اپنا علم اور اپنی صلاحتیں بروئے کار لا کر مستقبل کے معماروں کے ذہن نور علم سے روشن کرنے میں مصروف ہیں ۔ ارقم پبلک اسکولمیںاساتذہ تدریس سے قبل تدریس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں اورتدریسی مضامین کی مہارتوں (Skills)کے حصول کے لئے اہداف طے کیے جاتے ہیں جنہیں مختلف دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ تدریسی منصوبہ بندی میں اسلامی ارتباط(Integration) کو خصوصی طور پر شامل کیا جاتا ہے تاکہ طلباء و طالبات ہر بات اسلامی تناظر میں سمجھ سکیں ۔ اسکول کی تمام ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی اسلامی شعار و اقدار کو خصوصی طور پر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تاکہ یہ معصوم پھول معاشرے کی بے ہنگم رنگارنگی سے محفوظ رہیں ۔ اسکول کی اسمبلی پروگرام میں طلباء وطالبات کواپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور خود اعتمادی اور خودشناسی پیدا کرنے کیلئے مختلف سرگرمیوں میں شرکت کا موقع دیا جاتا ہے ۔
بچوں کی نظریاتی تربیت کیلئے اسکول کے نصاب میں منتخب قرآنی سورتوں ، احادیث اور مسنون دعاؤں کو شامل کیا گیا ہے ۔قرآن او حدیث کے فہم کو بچوں کو دینے کے ساتھ ساتھ انکو حفظ کرانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ مختلف مذہبی اور ملی ایام مثلاً 12 ربیع الاول ،یوم بدر، یوم باب الاسلام ، یوم تکبیر ، یوم دفاع اور یوم پاکستان کے مواقع پر مہمان مقرر ین کے خصوصی لیکچر ز کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے ۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کو بچوں اور اساتذہ کی نظری اور فکری تربیت کے لئے خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تعلیمی دوروں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ متعلمین کا مشاہدہ اور غور و فکر فروغ پا سکے اور یہ تعلیمی دورے تفریح طبع اور اسلامی شعائر کی روشنی میں تربیت کے عمل سے مزین ہوتے ہیں ۔جماعت دہم کے طلبہ کیلئے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران سینئر اساتذہ کی زیر نگرانی آل پاکستان اسٹڈی ٹور کا اہتمام کیا جاتا ہے آل پاکستان اسٹڈی ٹور کے دوران طلبہ نہ صرف پاکستان کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ یہ ٹور انکی تربیت ، فیصلہ سازی اور وسعت نظری میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ ارقم پبلک اسکول میں جدید خطوط اور تحقیق پر مشتمل تعلیمی عمل اور طلبہ کی اخلاقی تربیت کا نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق کے نتیجہ میں جو نئی تبدیلیاں اور رجحانات فروغ پا رہے ہیں انہیں اسلامی رنگ میں اسکول کے نظام ِتعلیم میں شامل کیا گیاہے تاکہ طلباء دین و دنیا کی ؎ کامیابی حاصل کر سکیں ۔ طلباء با جماعت نمازِ ظہر اپنے اساتذہ کے ساتھ ادا کرتے ہیں دیگر نمازوں کی ادائیگی کی جانچ مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے ۔ گذشہ سالوں میں ارقم پبلک اسکول کے نظام میں کچھ واضح تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس ادارے کے وقار اور معیارمیں مزید اضافہ ہو سکے اس ضمن میں درج زیل اقدامات خاص طور پر کیے گئے ہیں۔
٭ تمام کیمپسز میں پری پرائمری سیکشن پر بھرپور توجہ دی گئی ہے اورطریقہ تدریس و نصاب کوتبدیل کیاگیا ہے ۔
اس سیکشن میں Environmentکو تبدیل کرتے ہوئے نصاب کو Themes میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
٭ پر ی نرسری سے کلاس II تک امتحانات کے بجائے Assessment کا نظام متعارف کیا گیاہے۔
٭ پرائمری اور سکینڈری کلاسز میں بھی نصاب کو تبدیل کیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جو طلباء میں جستجو اور تفکر کی عادت کو پروان چڑھا سکے۔
٭ پرائمری اور سکینڈری کلاسز میں امتحانات کے روایتی نظام کو تبدیل کرتے ہوئے Skills based نظام رائج کیاگیاہے۔

٭تربیت یافتہ ،معیاری اور پرخلوص اساتذہ کا تقرر اوران کی نظری و پیشہ ورانہ تربیت کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے اس مقصد کے لئے ورکشاپس اور ٹریننگ سیشن کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا ہے۔
٭ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ کیمپسز ہیں جہاں پری نرسری سے کلاس III تک خواتین اساتذہ بچوں اور بچیوں کو تعلیم دیتی ہیں ان ہی کیمپسز میں لڑکیوں کے لئے دہم جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے ۔
٭کلاسIV سے لڑکوں کے لئے علیحدہ کیمپس ہیں جہاں مرد اساتذہ درس وتدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔
٭موجودہ کیمپسزکی عمارتوں کی تعمیر و توسیع اور تز ئین و آرائش اور تمام تر جدیدسہولتوں جن میں لیبارٹری ،کمپیوٹر روم لائبریری سر فہرست ہیںسے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
تاہم ہماراسب سے اہم اور اولین ہدف ہے کہ تمام وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معیار تعلیم کی ان
و سعتوں اور بلندیوںتک پنہچیں جہاںسے تبدیلی کا عمل ممکن ہوتا ہے کیوںکہ تبدیلی کا یہ عمل تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہوجائے ملائم تو جد ھر چاہے اسے پھیر
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان اہداف کی تکمیل میں سرخرو فرمائے ۔ اور اپنے حضور ہماری کوششوں کو قبول فرمائے ۔

Share this: