سبزیاں اور سبزیوں کا سوپ

سید عشرت حسین
سردیوں کا موسم سبزیوں، پھلوں اور صحت کا موسم ہے۔ جس موسم میں جو سبزی و پھل آتے ہیں انہیں ضرور کھانا چاہیے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی خصوصی کرم نوازی اور حضرتِ انسان کو سکھانا اور اس کی ضروریات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ بے شک اﷲ کو ہر چیز کا علم ہے۔ علم کے سارے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔
’’اسی نے انسان کو بولنا سکھایا اور وہ علم عطا کیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
ہماری خواتین یخنی (سوپ) کے معاملے میں عجیب و غریب مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ تو بس گوشت کی یخنی (سوپ) کو ہی جانتی ہیں۔ سبزیوں کے سوپ (یخنی) کا تصور اور اس کی افادیت و اہمیت سے شاید وہ پوری طرح سے واقف نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سردیوں کا موسم آتا ہے اور لوگوں کا سوپ (یخنی) کا کاروبار خوب چل نکلتا ہے۔ لوگ کثیر تعداد میں ٹھیلوں سے چکن سوپ کے نام پر اراروٹ کی گرم گرم لسی مزے سے پی کر اپنی سردی کے کم ہونے کا خیال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، یہ الگ بات کہ اس میں الگ سے چند چٹکی چکن کا سفوف، ابلا ہوا انڈا اور ذائقہ کو بڑھانے اور اصل کو چھپانے والے چند عناصر شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح سے ایک اور چکن کی یخنی (سوپ) کے نام پر ہلدی کا گرم پانی پی کر یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ چکن کی یخنی ہے۔ یہ سب افراد اپنے نفس کی تسکین کی خاطر اپنے لیے کئی دوسری مشکلات میں اضافہ کررہے ہوتے ہیں مگر انہیں شعور ہی نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ جب تک بے وقوف زندہ ہیں عقل مند بھوکا نہیں مرسکتا۔
کچھ عقل مند فارم کی مرغیوں کے پنجوں کا سوپ بنواکر پیتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ بھائی جو مرغی اپنی عمر ایک پنجرے میں بسر کرتی ہو، نہ چلتی ہو، نہ پھرتی ہو، جسے نزلہ یا زکام ہوجائے تو وہ برداشت کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو، جو چھے ہفتے بعد اپنے مالک پر خوراک کے معاملے میں بوجھ بن جاتی ہو، وہ تمہارا کیا حشر کرتی ہوگی؟
یخنی یا سوپ کو عقل مند لوگ ارزاں ترین محافظِ صحت سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے، مگر یہ یخنی یا سوپ کس چیز کا ہو؟ یہ ہے اہم ترین بات۔
مؤرخ بتاتے ہیں کہ چینی حضرات 4700 سال سے یخنی (سوپ) پی رہے ہیں۔ وہ مچھلی، جھینگا، گوشت اور موسم کی سبزیوں سے تیار کی ہوئی یخنی پیا کرتے تھے۔
مصرکو سوپ (یخنی) کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ سات آٹھ ہزار سال قبل انہوں نے اناج کو ابال کر سوپ (یخنی) بنانے کا رواج ڈالا۔ یونان نے آلِ فرعون سے یخنی بنانا سیکھا۔
عرب میں بھی اس کی روایت ملتی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا ہاشم کے دور میں قحط پڑا تو انہوں نے شام سے غلہ منگواکر روٹیاں پکوائیں۔ اونٹ کٹواکر شوربا بنوایا اور اس میں روٹیاں توڑ توڑ کر ڈالیں۔ پھر اسے مالیدہ کرکے اس کو شوربے میں جذب کیا اور لوگوں کو کھلایا۔ اسی رعایت سے وہ ہاشم کہلائے۔ ہاشم کے لغوی معنی ’’چورا چورا کرنے والا‘‘ کے ہیں۔
سبزی یا سبزی گوشت کا دس اونس سوپ (یخنی) 9 انڈوں، 4 ٹماٹروں اور اناج کی 12 بالیوں سے زیادہ وٹامن فراہم کرتا ہے۔
خالی گوشت پکانے کے بجائے اگر اس میں دال یا سبزی ملاکر پکایا جائے تو یہ صحت کے لیے بہترین غذا ثابت ہوگی۔ سبزی ہلکی آنچ پر پکانی چاہیے۔ بہت زیادہ پکاکر ہم اس میں موجود صحت بخش اجزا کو برباد کردیتے ہیں۔ بھنے یا خشک پکے ہوئے گوشت سے شوربے والا سالن بہتر ہے۔ شوربہ ایک قسم کی یخنی ہی ہوتی ہے۔ سوپ کی شکل میں غذائی اجزا جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔ یہ قوتِ مدافعت بڑھاتا اور معدہ کا کینسر نہیں ہونے دیتا۔ خشک اور سخت غذا معدہ کے السر کا سبب بنتی ہے۔
ٹوکیو کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر ناکیشی ہیرایاما سترہ برس کے تجربے و تحقیق (جو انہوں نے دو لاکھ پینسٹھ ہزار افراد کا معائنہ کرنے کی صورت میں کی) کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سویابین کے خمیر کا سوپ معدہ کے کینسر کا خدشہ کم کردیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہری اور پیلی سبزیاں کھانے کی بھی تاکید کیا کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایک سروے کے تحت ساٹھ ہزار افراد کا معائنہ کیا گیا، معلوم ہوا کہ غذا کے ذریعے تندرست رہنے والے لوگ سوپ (یخنی) زیادہ پیتے ہیں اور میٹھی چیزیں کم کھاتے ہیں۔
خالی یا بھنے گوشت کا استعمال زیادہ نقصان دہ ہے۔ مغرب کے سات ممالک میں جب امراضِ قلب اور غذائی عادات کے باہمی تعلق کا کھوج لگایا گیا تو پتا چلا کہ وہی لوگ زیادہ مرتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ گوشت کھاتے ہیں۔ فن لینڈ کے لوگ بے تحاشا گوشت استعمال کرتے ہیں اور امراضِ قلب کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، اور انہی میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔ گوشت سے انسان کے خون میں کولیسٹرول کے مادوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جب کہ سبزیوں سے تدارک ہوجاتا ہے۔ حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سبزیوں میں بعض ایسے ریشے پائے جاتے ہیں جو خون میں جاکر کولیسٹرول کی مقدار گھٹاتے ہیں۔ گوشت اور سرطان کے درمیان جو باہمی ربط ہے اس کے لیے کئی وضاحتیں موجود ہیں۔ جہاں تک قولون (بڑی آنت) کا تعلق ہے اس میں بھرپور چربی والی غذا پہنچ جائے تو بڑی تباہی مچاتی ہے۔ چربی انتڑی میں اکٹھی ہوکر کینسر پیدا کرنے والے کیمیائی مرکبات تیار کرتی ہے۔ لحمیاتی غذائوں میں ریشے کم ہوتے ہیں۔ اس لیے قبض ہوجاتا ہے جس سے بدن کی بافتوں (ٹشوز) اور سرطانی مرکبات میں طویل رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔
اس طرح کولیسٹرول کی زیادتی سے انتڑی اور بدن کی چربی میں ایسٹروجن ہارمون جنم لیتے ہیں۔ یہ ہارمون انجامِ کار کینسر کو چھاتی اور رحم میں پہنچا دیتے ہیں۔ خواتین میں یہ امراض بڑھنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ اس سے بچائو کیسے کیا جائے؟
سبزیاں کھائیں اور ان کا سوپ پئیں۔ صحت مند، تندرست اور توانا رہیں۔