معاشی مسائل اور حکومتی ترجیحات؟

Print Friendly, PDF & Email

وطنِ عزیز پاکستان اس وقت معاشی طور پر انتہائی دگرگوں حالات کا شکار ہے۔ غربت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مہنگائی نے غریب کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے ملک سے مڈل کلاس طبقے کا بالکل خاتمہ کردیا ہے اور وہ غریب طبقے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس وقت آبادی کا چالیس فیصد سے زائد حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری اور مفلسی کا شکار ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے برسراقتدار آنے سے پاکستانی عوام یہ توقع کررہے تھے کہ ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ بجلی، گیس اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔ لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ ضروریاتِ زندگی کی تمام اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے ان پانچ ماہ میں مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہا تھا اب اس کے لیے اپنے وسائل اور اخراجات میں توازن قائم کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے عام آدمی کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا اور نوجوان طبقہ جس نے اپنے روشن مستقبل کے لیے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا تھا، اسے ابھی تک امید کی کوئی موہوم سی کرن بھی نظر نہیں آرہی۔ اب لوگ پہلے سے بھی زیادہ مشکل حالات برداشت کررہے ہیں۔ 100دن میں معیشت کی درست سمت کا پلان دینے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سو دن تو کیا پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی ٹھوس اور مستحکم معاشی پالیسی نہیں دے سکی۔ حکومت موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں کررہی، بلکہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ مسائل پر توجہ دینے اور ان کو حل کرنے میں سنجیدگی دکھانے کے بجائے کرپشن اور احتساب کی گردان کرکے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر وقت گزاری کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملکی سرمایہ کار اور تاجر طبقہ پریشانی اور بے یقینی کی صورت حال میں اپنا کاروبار چلا رہا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ مستقبل کا معاشی ایجنڈا کیا ہے۔
ڈالر کی اڑان کے باعث روپے کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہونے سے ملکی قرضوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوچکا ہے، اور ابھی ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اگر روپے کی قدر کنٹرول کرنے پر حکومت کا کوئی اختیار ہی نہیں تو پھر ملک کا معاشی نظام کیسے بہتر ہوسکتا ہے! کسی بھی وقت ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ حکومت کی معاشی مشکلات میں مزید اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔
گزشتہ حکومتوں نے کشکول توڑنے کی بات کی تھی اور عوام سے اس وعدے کی بنیاد پر ووٹ مانگا تھا کہ ملک وقوم کی خودمختاری کے لیے وہ قطعی طور پرآئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا کسی بھی مالیاتی ادارے سے کوئی قرض نہیں لیں گے۔ 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدارکے ایوانوں میں پہنچنے والی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے بھی ماضی میں اس قسم کے بے شمار دعوے سامنے آتے رہے، لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے بھی یہ کشکول توڑنے کے بجائے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر ہی انحصار کیا ہوا ہے۔ ماضی میں وزیراعظم عمران خان قومی خودمختاری اور خودانحصاری کا درس دیتے رہے ہیں لیکن آج وہ خود سابقہ حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح کشکول تھام کر نگر نگر گھوم رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان خود مسلم لیگ(ن)کی گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے نظر آتے تھے لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی ٹیم نے قرض لینے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی کیے جارہے ہیں۔ سب کو پتا ہے کہ آئی ایم ایف جب بھی قرض دیتا ہے تو اپنی شرائط منواتا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعد کسی بھی ملک کی منتخب حکومت کو آئی ایم ایف کے پالیسی میکرز کی تشکیل کردہ پالیسیوں اور پروگراموں کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اربوں ڈالر کے مالی خسارے اور قرضوں میں جکڑی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کا آئی ایم ایف سے قرض لینا ہی آخری حل ہے؟ کیا آئی ایم ایف سے نیا قرض لینے کے سوا حکومتِ پاکستان کے پاس کوئی آپشن نہیں؟ اگرچہ پاکستان کی مالی صورت حال بہتر نہیں، ٹیکس آمدن کم اور اخراجات زیادہ رہنے کی وجہ سے مالی خسارہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ ہی مشکل کا آخری حل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کرے۔ پالیسیوں کے عدم تسلسل اور پیچیدہ ٹیکس نظام کے باعث پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے مطلوبہ اہداف کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ دوبارہ توسیع کے باوجود گوشوارے ڈھائی لاکھ کم جمع ہوئے ہیں۔ موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ملکی وسائل سے بھرپور انداز میں استفادہ کرنا ہوگا، مگر اس کے لیے سب سے پہلے حکمرانوں کا اس حوالے سے سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔
سمیع الرحمان ضیاء۔لاہور

عمر ابراہیم صاحب کا مضمون ’’سائنس پرست مغرب کا نیا ایجنڈا‘‘ نہایت معلوماتی اور دلائل سے پُر ہے۔۔۔ خاص طور پر انسان کی لافانی مسرتوں کی چاہت کے بارے میں۔
اسی طرح محترم شاہنواز فاروقی صاحب کا مضمون ’’تخفیف آبادی کی مغربی سازش‘‘ کانٹے کا مضمون ہے۔
ہر دو حضرات نہ صرف ہماری دعاؤں بلکہ ہرطرح کے شکریے کے بھی مستحق ہیں۔ رب العزت ان کے علم، عمل اور اخلاص میں مزید ترقی عطا فرمائے۔
۔۔۔شاہد شریف۔۔۔

Share this: