مسلمانوں کی طاقت کا راز

ابوسعدی
’’تم نے تاریخِ اسلام کا سبق تو فراموش کرہی دیا ہے مگر دنیا کی جس قوم کی چاہو تاریخ اٹھا کر دیکھو تو تم کو ایک مثال بھی ایسی نہ ملے گی کہ کسی قوم نے محض سہولت پسندی اور آرام طلبی اور منفعت پرستی سے عزت اور طاقت حاصل کی ہو۔ تم کسی ایسی قوم کو معزز اور سر بلند نہ پائوگے جو کسی اصول اور ڈسپلن کی پابند نہ ہو، کسی بڑے مقصد کے لیے تنگی اور مشقت اور سختی برداشت نہ کرتی ہو۔ اگر اس کا حوصلہ تم میں نہیں ہے، اگر تم صرف نرمی اور کشادگی اور مٹھاس ہی کے متوالے ہو، اور کسی تنگی اور کسی کڑواہٹ کو گوارا کرنے کی طاقت تم میں نہیں تو اسلام کی قیدو بند سے نکل کر جہاں چاہو جاکر دیکھ لو، کہیں تم کو عزت کا مقام نہ ملے گا اور کسی جگہ طاقت کا خزانہ تم نہ پاسکوگے۔
(سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ)

حکایت

ایک بزاز کی دکان پر دو چور خریداروں میں جاملے اور بزاز کی آنکھ بچاکر ایک چور نے ایک تھان چرا کر دوسرے چور کو دے دیا۔ اتنے میں بزاز تھان کو دیکھنے لگا۔ جب نہ ملا تو یقین ہوا کہ ان ہی لوگوں میں سے کسی نے چرایا۔ بیچارہ ایک ایک سے پوچھنے لگا۔ جس چور نے تھان اٹھایا وہ تو قسم کھاتا تھا کہ میرے پاس نہیں۔ اور جس چور کے پاس تھا وہ قسم کھاتا تھا کہ میں نے نہیں اٹھایا۔
حاصل: دغا باز لوگ ہمیشہ پیچ دار باتوں میں جھوٹی قسمیں کھاکر لوگوں کو فریب دیا کرتے ہیں۔
(’’منتخب الحکایات‘‘۔نذیر احمد دہلوی)

پردیسی

ہم سب پردیسی ہیں۔ جب تک ہم اپنے دیس نہ جائیں، ہمیں چین نہیں آئے گا… ہمارا اصل دیس ہمارے پائوں کے نیچے مٹی میں ہے، یا سر کے اوپر آسمان میں ہے۔ وجود مٹی سے آتا ہے، مٹی کے دیس میں لوٹ جائے گا۔ روح آسمان یا لامکان سے آتی ہے، وہ وہاں پرواز کر جائے گی اور پھر قرار آئے گا، بے قرار پردیسی کو

ماٹی پر ماٹی چلے، چلے ہزاروں رنگ
انت کو ماٹی جا ملے ماٹی ہی کے سنگ
٭٭٭
میں آرزوئے دید کے کس مرحلے میں ہوں
خود آئینہ ہوں یا میں کسی آئینے میں ہوں
تیرے قریب رہ کے بھی تھا تجھ سے بے خبر
تجھ سے بچھڑ کے بھی میں تیرے رابطے میں ہوں
ہر شخص پوچھتا ہے مرا نام کس لیے
تیری گلی میں آکے عجب مخمصے میں ہوں
واصف مجھے ازل سے ملی منزل ابد
ہر دور پر محیط ہوں جس زاویے میں ہوں

(”دل دریا سمندر“۔ واصف علی واصف)

سنگ دل سرمایہ کار

سرمایہ دار ہر زمانے میں سنگ دل، کنجوس اور بے رحم رہے ہیں۔ روایت ہے کہ ایک مفلس بخارا کے ایک سرمایہ دار کے پاس گیا اور اپنے عیال کے لیے نان و نفقہ مانگا۔ اس نے کہاکہ ظہر کے بعد آنا۔ وہ دوبارہ گیا تو کہا: عصر کے بعد آئو۔ اس کے بعد مغرب اور پھر عشا تک ٹال دیا۔ سائل مایوس ہوکر چل دیا، دربان نے اسے ٹھیرا لیا، حال پوچھا اور پھر اپنے گھر لے گیا۔ اسے غلے کی آدھی بوری، کچھ کپڑے اور چند درہم دیئے۔
اسی رات سرمایہ دار نے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں عیش اڑا رہا ہے، یکایک چند ہیبت ناک فرشتے آئے، اسے پکڑ کر جنت سے باہر دھکیل دیا اور اس کا مکان و سامان اس کے دربان کے حوالے کردیا۔
(ماہنامہ چشم بیدار،مارچ 2019ء)

ابنِ رشد

ابنِ رشد (1126ء۔ 1298ء) اسپین کا مشہور فلسفی تھا جس کی تصانیف فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی یونیورسٹیوں میں صدیوں تک بطور نصاب پڑھائی جاتی رہیں۔ 1215ء میں عیسائیوں کی مذہبی مجلس نے اس کی تصانیف کو ملحدانہ قرار دیا اور 1231ء میں پوپ گریگوری نہم (1227ء۔ 1241ء) نے فلسفہ عرب کی تدریس کو حکماً روک دیا۔ چونکہ عیسائیوں کے پاس پڑھانے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا، اس لیے اس حکم کے باوجود ابن رشد کی تدریس جاری رہی۔