خواتین رمضان کیسے گزاریں؟۔

شگفتہ عمر
اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی، ایمان اور صحت کی حالت میں یہ رمضان عطا کیا، جو ہمارے لیے گناہوں کی مغفرت اور جنت کے حصول کے ساتھ (ہماری) تربیت کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی مہلت ِ عمر اس رمضان کی آمد سے پہلے ہی ختم ہوگئی اور وہ زندگی کے سفر کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگئے، جہاں ان کے لیے اب اپنے عمل کے ذریعے سے مغفرت اور بلندیٔ درجات کا موقع ختم ہوگیا۔ البتہ صدقۂ جاریہ کے کاموں اور اولاد کی دعائوں کے فیض سے اجر کا ایک راستہ باقی رہ گیا ہے۔
رمضان کی فرضیت، اہمیت اور مقاصد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے، اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو، اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو، اور اے نبیؐ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یہ بات تم انہیں سنادو) شاید کہ وہ راہ راست پائیں‘‘۔(البقرہ185۔186)
عزیز بہنو! اب جب کہ ہم نے رمضان کو پالیا تو ہم پر اس ماہ کے تمام روزے رکھنا فرض ہوگئے۔ کتنا رحیم ہے وہ پروردگار جس نے فرضیت کے حکم کے ساتھ ہماری کمزوریوں اور مجبوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس میں استثنیٰ بھی عطا فرمادیا۔ یعنی بیماری یا حالت ِ سفر میں روزہ رکھنے کی رخصت۔ البتہ عذر دور ہونے کے بعد ان روزوں کی تعداد بصورتِ قضا پوری کرنی ہوگی۔ مرض میں رخصت سے مراد کسی قسم کا دائمی مرض بھی ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، گردوں کے امراض وغیرہ، اور انتہائی شدید مرض جیسے کینسر یا ہیپاٹائٹس، یا معمولی تکلیف جیسے بخار ہوجانا یا ڈائریا و ہیضہ وغیرہ ہوجانا۔ خواتین کے لیے حمل کی صورت میں جب کہ خاتون یا بچے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو، اور رضاعت کے دوران بھی اگر بچے کا محض ماں کا دودھ پر انحصار ہو اور ماں بھوک و پیاس برداشت نہ کرپائے تو اُسے اس شرعی عذر سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ اگر کسی بھی قسم کا شرعی عذر دور ہوجائے تو ان روزوں کی قضا لازم ہوگی، اور مخصوص ایام میں چھوڑے گئے روزوں کی بھی قضا ہوگی۔ دائمی مرض کی صورت میں فدیہ دینا ہوگا، اور وقتی عذر کی صورت میں فدیہ لازم نہیں ہے لیکن دے دینا افضل ہوگا، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، کیا معلوم قضا رکھنے کی مہلت ہی نہ ملے۔ تمام آسانیاں اللہ کی رحمت کے سبب سے ہیں جو احکام کے ذریعے سے ہمیں تکلیف اور مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ مغفرت اور اجر عطا کرنا چاہتا ہے۔
رمضان کی فرضیت کی وجہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک میں قرآنِ کریم اور فرقان حمید کے نزول کو قرار دیتے ہوئے اس ہدایتِ عظمیٰ پر شکر گزار ہونے کی تاکید کی۔ دورانِ رمضان میں ہر روز اپنی نیت کو تازہ کریں اور اپنے عزم کو پختہ کریں کہ ہم رمضان کے مقام، پیغام اور مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے معمولات کو ترتیب دیں گے اور روزے کے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
قرآن مجید سے تعلق:
اس ماہِ مبارک میں ہمیں جس چیز کا سب سے زیادہ اہتمام کرنا ہے وہ قرآن مجید کی صحبت اور معیت ہے۔ تلاوت و سماعت، ترجمہ و تفسیر، دورہ قرآن اور قیام اللیل کے ذریعے سے قرآن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ضروری ہے۔
تلاوت کی مقدار کے حوالے سے بذریعہ تراویح ایک پارہ روزانہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ فراغت اور آرام کے اوقات میں بھی فون، کمپیوٹر، ٹیبلیٹ پر بہترین قراء حضرات کی تلاوت سُنی جاسکتی ہے۔ اگر کہیں دورۂ قرآن کی محفل میں شرکت ممکن نہ ہو تو واٹس ایپ پر ترجمہ و تفسیر کے گروپ میں شمولیت اختیار کرلیں۔ اس کے ساتھ ناظرہ قرآن پڑھتے وقت کم از کم ایک رکوع کا ترجمہ ہی سمجھ کر پڑھ لیں اور رفتہ رفتہ ترجمے کو بعد از رمضان مکمل کرلیں۔ اگر کسی جگہ خواتین کی تراویح کا اہتمام ہو تو ضرور شرکت کی کوشش کریں۔ بصورتِ دیگر گھر ہی میں تراویح پڑھیں۔ ایسی صورت میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ:
حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں روزے کو ہمدردی کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے، جس میں کسی روزہ دار کو افطار کرانے کے جو ذرائع بھی میسر ہوں اجر کا باعث بتائے گئے ہیں خواہ ایک کھجور، دودھ، لسی، پانی کا ایک گھونٹ ہی ہو۔ البتہ اپنے وسائل کے مطابق مستحق روزہ داروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا اہتمام ضرور کریں کہ اس کا اجر قیامت کے دن حوضِ کوثر سے سیرابی ہے۔ مستحق اور سائل کو گھر سے بھی اناج، پھل اور دیگر چیزیں دی جاسکتی ہیں۔ عید کے حوالے سے بھی خاندان میں محروم افراد یا دیگر کے لیے کپڑوں، جوتوں وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔
فرائض کے 70 گنا اجر کی بنیاد پر اکثر لوگ ترجیحاً رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ زکوٰۃ غرباء اور مساکین کا حق ہے اور اس سے مقصود اُن کی فوری ضرورت پوری کرنا ہے۔ اس لیے جب زکوٰۃ واجب ہوجائے، بغیر ماہِ رمضان کا انتظار کیے فوراً ادا کرنا زیادہ باعثِ اجر ہے۔ بہرحال اگر اتفاقاً رمضان میں زکوٰۃ ادا کرنا لازمی ہوجائے تو خواتین کو چاہیے کہ اپنے پاس موجود سونے کے زیورات، جائداد یا جمع شدہ نقد رقم پر اہتمام کے ساتھ زکوٰۃ کا تعین کرکے اپنی زکوٰۃ ادا کریں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عورت کی ذاتی ملکیت (زیورات، جائداد و نقد) پر شوہر کے لیے زکوٰۃ دینا لازم نہیں ہے۔ یہ شوہروں کا حُسنِ سلوک ہے کہ وہ خواتین کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر شوہر کے لیے ممکن نہ ہو تو آپ خود ہی زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر آپ کا کوئی ذریعۂ آمدنی نہ ہو تو اسی میں سے بیچ کر ادا کریں۔ اس معاملے میں بے پروائی قبر اور آخرت میں بڑے عذاب سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں زکوٰۃ کے احکام کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔
ذکر و دعائوں کا اہتمام:
شروع میں بیان کردہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ساتھ دعائوں کے خصوصی تعلق کا ذکر کیا ہے۔ دعا درحقیقت ذکر کی ایک صورت ہے۔ ذکر کی اگرچہ قلبی، قولی اور عملی صورتیں بھی ہوتی ہے، لیکن رمضان المبارک میں آپ کو چاہیے کہ خصوصی طور پر زبان سے ذکر کا اہتمام کریں۔ کلمہ شہادت، تیسرا اور چوتھا کلمہ، استغفار کے کلمات، صبح و شام کے اذکار و دیگر بہت توجہ اور یکسوئی سے ادا کریں۔ رمضان کی راتوں میں، روزہ افطار کے وقت، بلکہ سارا دن ہی توجہ اور یقین کے ساتھ اپنے مسائل اور پریشانیوں سے نجات، نعمتوں کے حصول اور مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ رمضان میں اللہ تعالیٰ عرش کے حامل فرشتوں کو بھی کہتے ہیں کہ وہ دعا کرنے والوں کی دعا پر آمین کہیں، اور احادیث ِ مبارکہ میں افطار کے وقت اور تہجد کے وقت دعائوں کی قبولیت کو بھی لازمی بتایا گیا ہے۔
اپنے لیے، رشتے داروں، احباب، ہمسایوں، پاکستان اور امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں کریں۔ امت کے گناہ گاروں کے لیے بھی توبہ اور عملِ صالح کی دعائیں کریں، اور غیر مسلموں کے لیے ایمان کی توفیق کی دعا کریں۔
رمضان اور اپنا احتساب:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیے گئے۔ اور جس نے رمضان میں (راتوں کو) قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیے گئے۔ اور جس نے شب قدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیے گئے۔‘‘ (متفق علیہ)
اس حدیثِ مبارکہ میں رمضان کے روزوں، قیام اللیل یعنی تراویح اور شب قدر کی عبادت کے اجر میں گزشتہ گناہوں کی معافی کا زبردست پیکیج دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ تینوں مراحل میں ایمان اور احتساب کی شرط لگائی گئی ہے کہ اس شرط سے مقصود اللہ پر ایمان، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت رہبر و راہ نما ایمان، آخرت کے مراحل اور جوابدہی پر ایمان کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان پر عمل پیرا ہونے کی نیت اور کوشش کرنا ہے۔ دوسری اہم بات ایمانیات، اخلاقیات اور معاملات کے حوالے سے اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہے کہ کیا مطلوب ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟ مجموعی طور پر ہم اپنی زندگی میں اور روزمرہ کے معمولات میں اللہ تعالیٰ کو خالق، مالک، رازق تسلیم کرتے ہوئے اپنے عمل میں ان صفات میں کتنی مطابقت قائم کرتے ہیں۔ اللہ کو رحیم، رحمان، شفیق، غفور، حلیم سمجھتے ہوئے اپنے گناہوں اور غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے کس طرح آہ و زاری سے استغفار کرتے ہیں۔ اور ان صفات کو دوسروں سے معاملات میں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزماں کو ہادی، رہبر و راہنما تسلیم کرتے ہوئے ان کی پیروی اور ان کی احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کتنی کوشش کرتے ہیں؟ آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے آخرت کے تمام مراحل موت، قبر، بعثت بعدازموت، میدانِ حشر کی حاضری و جوابدہی، میزانِ اعمال، نامہ اعمال، پلِ صراط اور شفاعتِ رسولؐ کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھنے اور ان مراحل کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کی کتنی فکر و عملی کوشش کرتے ہیں؟ احتساب کا عمل ایمانیات کے بعد ہمارے اخلاق اور معاملات سے متعلق ہے۔ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ ہم اخلاقی معیار سے فضائلِ اخلاق سے کتنے قریب اور رذائلِ اخلاق سے کتنی دور ہیں؟
سچائی، قناعت، حیا، امانت داری، ایفائے عہد کا ہماری زندگیوں میں کتنا عمل دخل ہے؟ کہیں جھوٹ، غیبت، چغلی، عیب جوئی، خیانت اور وعدہ خلافی غیر محسوس طریقے سے ہمارے عمل کا حصہ تو نہیں؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ سے اپنے اخلاق کی بہتری کی دعا کرتے ہوئے برے اخلاق کو دور کرنے اور اچھے اخلاق کو اختیار کرنے کی شعوری کوشش کریں۔ معاملات کے حوالے سے اپنے تمام رشتوں بحیثیت بیٹی، بہن، بیوی، ماں، ساس، بہو، نند، بھابھی، خالہ، پھوپھی و دیگر میں دیکھیں کہ اپنے فرائض کی ادائیگی پر میری کتنی نظر اور کتنی کوشش ہے۔ محض حقوق طلب کرنا اور فرائض کی عدم ادائیگی معاشرے میں حسن پیدا نہیں کرسکتی۔ آپ کے حقوق اگر کسی نے ادا نہ کیے تو اُس سے بازپرس ہوگی، جب کہ آپ کو اپنے فرائض کے بارے میں جوابدہی کرنا ہوگی۔ رزقِ حلال کے بارے میں محتاط رہیں، اس حوالے سے اپنے شوہروں کی بھی مدد کریں اور اُن کی استطاعت سے زیادہ مالی وسائل طلب نہ کریں۔
احتساب کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ہماری دعائوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرماتے ہوئے کہ میں تمہاری پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں، یہ بھی فرمایا کہ پھر میری بات کو بھی سنو اور مجھ پر ایمان لائو تاکہ تم فلاح پائو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دل سے قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔
رمضان ایک تربیت گاہ:
اسلام میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی عبادات بجائے خود مقصود نہیں ہیں بلکہ یہ ہمہ وقت اللہ کی رضا اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ ہر ماہِ رمضان جو پوری امت کو سال کے ایک ہی دورانیے میں گزارنا ہوتا ہے، مسلمانوں کے لیے ایک تازگی اور ایمان و عمل کی تربیت گاہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چنانچہ اس سے انہی فوائد کا حصول مطلوب ہے جو ایک تربیت گاہ سے ہونے چاہئیں۔
اس تربیت گاہ سے گزرنے کے بعد اولاد کو چاہیے کہ والدین کا ماتھا چومے اور انہیں بتائے کہ وہ ان کی تمام محبتوں اور خدمات کے شکر گزار ہیں، اور ان سے محبت کا اظہار کریں۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کا شکریہ ادا کرے کہ اس نے تمام گھر والوں کے لیے کھانا پکانے، صفائی ستھرائی اور بچوں کی تربیت میں کتنی محنت کی ہے۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کی شکر گزار ہو کہ وہ دن بھر مصروف ِ عمل رہ کر بیوی، بچوں اور والدین کے لیے وسائلِ زندگی مہیا کرتا ہے، اور گھر والوں سے محبت اور شفقت کا برتائو کرتا ہے۔ اس تربیت گاہ سے گزرنے والا فرد اپنے رشتے داروں اور دوست احباب سے تہہ دل سے کسی تکلیف پہنچانے پر معافی بھی مانگ سکتا ہے اور اپنے ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جنہوں نے اپنی خدمت سے اسے سہولیات بہم پہنچائیں، ان کی تواضع اور دلجوئی کرسکتا ہے۔ والدین اس تربیت گاہ سے گزرنے کے بعد اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنے، اس زندگی میں بڑے بڑے خوابوں کی تکمیل کے لیے عملی تعاون فراہم کرنے اور ان کی بہتر سے بہتر اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت پر توجہ دینے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ رمضان کے اختتام پر ہم رُک کر ضرور سوچیں کہ ہم نے اس تربیت گاہ سے کیا کیا فوائد حاصل کیے؟ان مختصر گزارشات کے ساتھ یہ عرض کرنا ہے کہ اپنی مصروفیات اور اپنے مشاغل میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے یہ ماہِ مبارک گزاریں۔ بچوں اور بوڑھوں کے کام کو بوجھ نہ سمجھیں۔ ان کے حوالے سے فرائض کی ادائیگی پر ستّر گنا اجر کی نوید ہے۔ بے جا شاپنگ سے احتراز کریں اور اپنے وسائل محروم افراد پر خرچ کریں۔ بہت زیادہ سونے سے بچیں۔ روزے کو ٹی وی، نیٹ، فون یا ملاقاتوں کے ذریعے سے بہلانے کے بجائے اس کے ایک ایک لمحے کو بامقصد گزارنے کی کوشش کریں۔ روزے کے متفرق مسائل جاننے کے لیے متعلقہ کتب کا مطالعہ کریں یا اہلِ علم سے معلوم کریں۔ سحری اور افطار میں سادگی اختیار کریں، البتہ گھر والوں کی بنیادی غذائی ضروریات کا خیال ضرور رکھیں۔ بچوں کو رمضان کے فضائل بتاتے ہوئے انہیں بھی اپنی عمر کے لحاظ سے مختلف نیکیوں کی ترغیب دلائیں۔ اس ماہ میں ان کی روحانی و دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
روزے کو وجہ بناتے ہوئے غصے سے پرہیز کریں۔ اگر آپ ملازمت کرتی ہیں تو اپنی ڈیوٹی و فرائض کو بخوبی انجام دیں، ملازمین کو روزے میں سہولت دیتے ہوئے اُن کے کام میں کچھ تخفیف کردیں۔ اگر حالات اجازت دیں تو کم از کم ایک دفعہ آخری عشرے میں مسنون اعتکاف کریں۔ بصورتِ دیگر دورانِ رمضان کسی بھی وقت ایک، دو یا تین دن کا نفلی اعتکاف کریں۔ رمضان کے آخر میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے کفارے کے لیے دل کی خوشی سے صدقۂ فطر ادا کریں۔ یکم شوال کی رات لیلتہ الجائزہ میں مختصر سی عبادت کے ساتھ اپنے اجر کی وصولیابی کے لیے خصوصی دعا کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس رات میں مزدور کو اُس کی مزدوری کی اجرت دی جاتی ہے۔ ممکن ہو تو عید کی نماز کے لیے مسجد جانے کی کوشش کریں کہ آپؐ نے خواتین کو بھی عید کی نماز میں شرکت کی خصوصی تاکید فرمائی ہے۔ عید کے روز گھر والوں، رشتے داروں اور احباب کی حسبِ استطاعت خاطر مدارت کریں۔ شوہر، بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کو تحائف دینے کا بھی اہتمام کریں۔ بچوں کے لیے عید کے معمولات میں دلچسپی پیدا کریں تا کہ وہ اپنے تہواروں پر خوشی و فرحت محسوس کریں۔ پہلے دن یا بعد کے دنوں میں بچوں کے دوستوں کو اکٹھا کرکے عید پارٹی کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اُن خوش قسمت افراد میں شامل کرے جن کے لیے رمضان میں مغفرت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان کے بعد ہمیں اپنی تربیت سے حاصل کردہ تقویٰ پر شکر گزار اور عبادتوں پر قائم دائم رکھے۔ (آمین)

Share this: