مسلم دنیا میں سائنس کا زوال

تحقیق و تخلیق اور انسانی اور مادی وسائل کو استعمال کر کے ہم سائنسی زوال سے نکل سکتے ہیں

پروفیسر محمد جمیل چودھری
دورِ جدید میں مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تخلیق میں دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ سائنس کے مؤرخین بتاتے ہیں کہ 16ویں صدی عیسوی تک کرۂ ارض پر موجود تین تہذیبوں میں سائنسی تخلیقات تقریباً ایک ہی معیارکی تھیں۔ چین، مسلم دنیا اور براعظم یورپ کی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تخلیقات میں کوئی نمایاں فرق نہ تھا۔ ہم موجودہ مضمون میں پہلے16ویںصدی تک مسلم علاقوں میں سائنسی صورت حال کا جائزہ لیں گے، اور پھر یورپ میں ہونے والی اعلیٰ درجے کی سائنسی ترقی کی صورت حال دیکھیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے کے سائنسی مؤرخین مسلم دنیا کے سائنسی زوال کے دو اسباب بیان کیا کرتے تھے۔ پہلا سبب امام غزالی کی عقلی علوم کی بڑے پیمانے پر مخالفت کو سمجھا جاتا تھا۔ امام غزالی کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی تحریروں کے اثرات پوری مسلم دنیا پر ہوئے۔ ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ ان کی بڑی زوردار تحریر ہے۔ یونانی فلسفہ اور سائنسی فکر جو غزالی سے پہلے ذہنوں کو متاثر کررہے تھے، امام غزالی نے ان کی بڑے پیمانے پر مخالفت شروع کردی۔ ان کی کچھ اور تحریروں کے بھی حوالے دیئے جاتے ہیں۔ سائنس کے کچھ عرصہ پہلے تک کے مؤرخین مسلم سائنسی تحقیقات کو دو ادوار میں تقسیم کرلیتے تھے۔ غزالی سے پہلے کا دور اور بعدکا دور۔ لیکن مؤرخین اس بات کی وضاحت ماثر انداز سے نہیں کرتے کہ آخر غزالی کے بعد کے دور میں بھی اعلیٰ درجے کے مسلم سائنسدان کیسے پیدا ہوتے رہے۔ ان لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں بھی اعلیٰ معیار کی تھیں۔ فلکیات، طب، مکینکل انجینئرنگ اور بصریات میں غزالی کے بعد اونچے درجے کا کام ہوا۔ بلاشبہ فلکیات کی مختلف شاخوں میں13 ویں صدی عیسوی کے بعد کام کرنے والے ایسے ماہرین بڑی تعداد میں تھے جو سیاری نظریات میں نئی راہیں نکال رہے تھے اور متبادل فلکیات ترتیب دے رہے تھے۔ اسے ہم ہیئتِ جدیدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہم امام غزالی کے تقریباً 100سال بعد آنے والے عزالدین الجزری(1206ء)کے کام کا مقابلہ9 ویں صدی عیسوی کے بنوموسیٰ سے کرتے ہیں تو ہمیں الجزری کا کام بہت اونچے درجے کا محسوس ہوتا ہے۔ خلیفہ متوکل (847ء تا861ء) بنو موسیٰ کے بنائے ہوئے آلات کو بہت ہی پسند کرتا اور ان میں محسور رہتا تھا۔ بنو موسیٰ کے تحت کام کرنے والے انجینئر ہروقت طرح طرح کے آلات بناتے رہتے تھے۔ اس صورت حال کے برعکس الجزری کے مربی کی خواہش یہ تھی کہ الجزری ایک ایسی کتاب لکھے جس میں اس کے بے مثال نمونے(اشکال) اور جو چیزیں اس نے ایجاد کی تھیں، اور جو مثالیں اس نے سوچی تھیں وہ سب دستاویزی شکل میں محفوظ ہوجائیں۔ الجزری کی کتاب پڑھنے والوں کو اس کی تحریر میں گہری بصیرت محسوس ہوتی ہے۔ میکانکی آلات کیسے کام کرتے ہیں؟ اور کیوں اس طریقے سے کام کرتے ہیں؟ الجزری نے بعض اوقات یہ بھی کہا تھا کہ وہ فطرت کے ایک ایک اصول کی تشریح مختلف آلات سے کرنا چاہتا ہے، تاکہ ان اصولوں کا کائنات میں ہمہ گیر طور پر نافذ ہونا ثابت ہوسکے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سائنسدان الجزری جو امام غزالی کے بہت بعد آئے اُن کا کام سائنسی لحاظ سے اونچے درجے کا ہے۔ ایک اور مثال علم طب میں ابنِ نفیس کی ہے۔ وہ اپنے ممدوح ابن سینا سے بہت اختلاف کرتا ہے، بلکہ ابن سینا کی سند اول جالینوس پر بھی شدت سے اعتراض کرتا ہے۔
ابن نفیس نے جالینوس اور ابن سینا دونوں کے مشاہدات کو رد کردیا تھا۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غزالی کے بعد کے زمانے میں مسلم سائنسدانوں میں اتنا اعتماد آگیا تھا کہ وہ اپنے متقدمین پر بے دھڑک اعتراض کرنے لگے تھے۔ امام غزالی کے دور کے بعد کمال الدین الفارسی وفات(1320ء) میں بھی اسی طرح کا رجحان نظر آتا ہے۔ الفارسی کا میدان تحقیقِ بصریات کا میدان تھا۔ الفارسی کے استاد قطب الدین شیرازی (وفات1311ء) نے اسے ابن ہیشم کی کتابوں کے مطالعے کی سفارش کی تھی۔ ابن ہیشم بھی امام غزالی سے پہلے کے دور کا سائنسدان تھا۔ بصریات کا الگ اہم موضوع قوس قزح (Rainbow) بھی تھا۔ اس کی تشریح نہ یونانی سائنسدان صحیح طرح سے کرسکے تھے اور نہ ہی ابن ہیشم جیسا بڑا بصریات دان قوس قزح کے رنگوں کی وضاحت کرسکا تھا۔ الفارسی نے اس کام کو کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس کام کے لیے اُس نے ایسے آلات بنائے جن سے قوس قزح میں مختلف رنگوں کے ظہور کی توضیح ہوسکے۔ یوں قوس قزح کے رنگوں کی صحیح تشریح مابعد غزالی سائنسدان الفارسی نے کی۔ الفارسی نے ابن ہیشم کی معروف کتاب کی تشریح لکھی۔ اس میں یونانیوں اور ابن ہیشم کے خیالات کو غلط ثابت کیا۔ اس دور میں رواج اور روایت یہی تھی کہ سابقہ سائنسدانوں کی کتابوں پر شرح لکھی جائے۔ مصنف کے اپنے متبادل نظریات انہی شرحوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ سائنسدان الجزری، ابن نفیس اور الفارسی نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ غزالی کے بعد کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ فلکیات، میکانکی انجینئرنگ، طب اور بصریات میں بہت سے نئے معیاری آلات بنائے گئے اور اونچے درجے کی کتابوں میں درج ہوئے۔ اوپر بیان کی گئی مثالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام غزالی کے دورکے بعد بھی مسلمانوں میں سائنسی تحقیقات و تخلیقات کا کام اونچے درجے پر جاری رہا۔ یہ کام 16ویں صدی تک ہوتا نظر آتا ہے۔ یہاں آکر کلاسیکی نقطہ نظر کے اس بیانیہ کی تردید ہوجاتی ہے کہ امام غزالی کے دور کے بعد سائنسی تحقیقات پر کام نہیں ہوا۔ قدیم مؤرخین اس بات کو بڑی شدومد سے بیان کرتے ہیںکہ بغداد کی تباہی (1258ء)کے بعد مسلمانوں کی سائنسی قوت اور سوچ میں زوال آگیا۔ مرکزی ریاست منتشر ہوگئی اور سائنس کی ترقی کا کام بھی رک گیا۔ یہ نقطہ نظر اُن مؤرخین کا ہوتا ہے جو تاریخ کو سیاسی واقعات کی عینک سے پڑھتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کو صرف جنگ وجدل قرار دیتے ہیں اور فکری تاریخ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک مسلم سائنس کے زوال کی توجیہ صرف منگول یلغارسے ہوجاتی ہے۔ مگر یہ وجہ اتنی اطمینان بخش نہیں جتنی عام لوگ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد بالکل تباہ ہوگیا، مگر یہ اتفاق بھی قابلِ غور ہے کہ اسی زمانے میں ہلاکو خان کا مشیر معروف فلکیات دان نصیرالدین طوسی تھا۔ ہلاکوخان نے اسے علاقہ الموت کے اسماعیلی قلعہ کی تسخیر کے دوران گرفتار کیا تھا۔ وہ بہت جلد اپنے علم و تجربے کی بنا پر ہلاکو خان کا مشیر بن گیا تھا۔ طوسی نے اپنی عقل مندی اور حکمت عملی سے بغداد کی تباہی سے پہلے کتابوں کے4لاکھ مسودات ضائع ہونے سے بچا لیے تھے۔ یہ تمام باتیں جدید دورکی ریسرچ سے معلوم ہورہی ہیں۔ نصیرالدین طوسی نے ابن الفوطی نامی نوجوان کی زندگی بھی بچالی، اور اس کو اپنے ساتھ تبریز کے نزدیک اُس جگہ لے گیا جو بعد میں ایلخافی قلعہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
نصیرالدین طوسی نے ہی ہلاکو خان سے مالی مدد حاصل کی، اور مراغہ شہر کے قریب ایک پہاڑی پر ایسی رصدگاہ قائم کی جو بعد میں اسلامی دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ کے طور پر معروف ہوئی۔ پھر جلد ہی منگولوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا۔ ایلخانان کا اسلام قبول کرلینا بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ طوسی نے تمام معروف فلکیات دانوں کو مراغہ شہر میں اکٹھا کیا۔ اسی رصدگاہ کی بلڈنگ میں وہ تمام مسودات اکٹھے کرلیے گئے اور محفوظ کرلیے گئے جو بغداد، دمشق اور دوسرے شہروں سے بچاکر لائے گئے تھے۔ یہاں کا کتب خانہ ابن فوطی کی نگرانی میں کام کرتا رہا۔ فلکیات پر تحقیق و تخلیق یہاں دوبارہ شروع ہوگئی۔ یہیں پر شیرازی کی2جلدوں پر مشتمل فلکیات کی کتاب لکھی گئی۔ اگر آج کل مغرب کی لائبریریوں میں مسلم سائنسدانوں کی کتابوں کے نمونے موجود ہیں تو یہ اسی مراغہ شہر میں قائم لائبریری کی وجہ سے ہی ہیں۔ مراغہ شہر میں رصدگاہ کی بنیاد بغداد کی تباہی کے صرف ایک سال بعد (1259ء) میں رکھ دی گئی تھی۔ رصدگاہ کے آلات معروف انجینئر عرضی نے تیار کیے تھے۔ اور عرضی نے یہ تمام تفصیلات اپنی ہی کتاب میں لکھ دی تھیں۔ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم سائنس میں تحقیق و تخلیق کا کام بغداد کی تباہی کے بعد بھی جاری رہا۔ صرف اس کا مرکز بغداد کے بجائے ایرانی شہر مراغہ بن گیا تھا۔ یہاں آکر کلاسیکی مؤرخوں کے دونوں بیانیے غلط ثابت ہوجاتے ہیں۔ سائنس میں تحقیق کا کام غزالی کے بعد بھی جاری رہا، اور بغداد کی تباہی کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں ہوتا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں اسباب سے نہ سائنسی پیداوار کی رفتار کم ہوئی، اور نہ دورِ زوال شروع ہوا۔ یہ دورِ زوال ریاستی سطح پر تو نظر آتا ہے، فکری سطح پر نظر نہیں آتا۔ اس کی وجوہات کچھ اور نظر آتی ہیں۔16ویںصدی کے وسط میں مسلم تاریخ میں سیاسی طاقت بڑے پیمانے پر منقسم نظر آتی ہے۔ اس تقسیم سے 3 بڑی سلطنتیں پیدا ہوئیں۔ تینوں تقریباً ایک ہی وقت میں قائم ہوئیں۔ عثمانیہ خلافت کو چھوڑکر باقی دونوں مسلم سلطنتیں18ویں صدی میں ختم ہوگئیں۔ عثمانی سلطنت بطور سلطنت عام (1453ء) قسطنطنیہ کی فتح سے شروع ہوئی۔ عثمانیوں نے پھر بڑھنا اور پھیلنا شروع کیا۔کچھ ہی عرصے بعد مصر اور شمالی افریقہ بھی ان کے کنٹرول میں آگئے۔ شام، عراق اور جزیرۃ العرب کے ایک بڑے حصے پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا۔ عباسیوں کے بعد مسلمان ایک عثمانی خلیفہ کے ماتحت نظر آتے ہیں۔ 16ویں صدی میں ایران کے بڑے حصے پر صفویوں نے اپنا اقتدار مستحکم کرلیا۔ عثمانیوں اور صفویوں میں مذہبی بنیادوں پر اختلاف اور جھگڑے ہوتے رہے۔ اس تفرقے سے مسلمانوں میں پہلی مرتبہ داخلی کشمکش شروع ہوگئی جس کے اثرات دورِ جدید تک نظر آتے ہیں۔ مغلوں نے 1520ء سے تقریباً 19ویںصدی کے وسط تک اپنی سلطنت کو قائم رکھا۔ یوں مغلوں نے وسط ایشیا سے مشرق کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک طویل المدت حکومت قائم کی۔ ان تینوں سلطنتوں کے قیام سے مسلمانوں میں تہذیبی پیوستگی کمزور پڑگئی۔ مختلف مواقع پر صفویوں اور عثمانیوں میں جھگڑے چلتے رہے۔ ریاستی حکمرانوں کی توجہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیقات و تخلیقات کی طرف بہت کم نظر آتی ہے۔ تھوڑا بہت علمی کام عثمانی سلطنت میں نظر آتا ہے۔ لیکن 16ویں صدی میں ہی ایک اور بڑا واقعہ کرۂ ارض پر پیش آیا جس نے دنیا کے سارے نظم کو جڑوں سے ہلاکر رکھ دیا۔ یہ واقعہ نئی دنیا امریکہ کا انکشاف تھا۔ اس انکشاف کا سب سے زیادہ فائدہ یورپی سائنس کو ہوا۔ اس واقعہ سے نہ صرف زمانۂ دراز سے قائم شدہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارتی شاہراہوں میں شکنیں پڑ گئیں بلکہ اب نیا خام مال یورپ میں براہِ راست نئی دنیا سے پہنچنے لگا۔ اس واقعہ کو تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔16ویں صدی کے آغاز سے نئی دنیا کا انکشاف ہوا۔ کولمبس اور دیگر لوگوں کی مہمات سے تمام لوگ واقف ہیں۔ یہ واقعہ چند سال تک پھیلا ہوا نہ تھا، بلکہ پوری دو صدیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نئی دنیا کی دریافت سے تجارت کا رخ بدل گیا۔ یورپ کا رخ اب ایشیا کے بجائے نئی دنیا امریکہ کی طرف ہوگیا۔ نئی دنیا کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے افریقی غلاموں کو لاکھوں کی تعداد میں پکڑ کر مفت کام لینے کے لیے لایا گیا۔ نئی زمینوں کی کھوج، نئے وسائل پر قبضے اور نئی نوآبادیات کے قیام کے لیے افریقی غلاموں کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔16ویں اور 17ویں صدیوں سے یورپ کے تاجروں کے راستے بدل گئے۔ یہ تاجر اسلامی دنیا کے باہر سے ہی بے شمار وسائل اور دولت یورپ لانے لگے۔ یورپ کے بادشاہ اور شہزادے بڑے بڑے تجارتی جہازوں کے بیڑوں کے مالک بن گئے۔ یورپ نے اپنی اس دولت کی بنا پر پہلے جنوب مشرق اور پھر مزید مشرق کی طرف قبضے شروع کیے۔ 1757ء سے برصغیر پاک وہند پر بھی قبضہ شروع ہوگیا تھا۔ یہاں سے بھی دولت اور وسائل یورپ منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح یورپ میں نئی دنیاامریکہ اور قدیم دنیا مشرق سے بے شمار وسائل اور دولت یورپ منتقل ہوئی۔ اسی عرصے میں یورپ میں سائنس اکیڈمیاں قائم ہوئیں۔ یہ ایک نیا رواج تھا۔ ان اکیڈمیوں کو یہ ہدایت تھی کہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو فکرِ معاش سے آزاد کردیں۔ وہ اکیڈمیاں علمی اور ذہنی مسابقت کا ماحول دانشوروں کے لیے پیدا کرتی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحت مند مسابقت عام طور پر سائنسی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ ان اکیڈمیوں کو نئی دنیا سے حاصل ہونے والی بے شمار دولت میسر تھی۔ گلیلیو جیسے لوگ ان اکیڈمیوں سے وابستہ ہوگئے۔ ان اکیڈمیوں میں Lincie کی اکیڈمی1603ء میں قائم ہوئی۔ 1662ء میں Royal Society of England قائم ہوئی۔ اور فرانسیسی علمی اکیڈمی1666ء میں ترتیب دی گئی۔ اس سے پہلے یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور اصلاحِ مذہب جیسی روشن خیالی کی تحریکیں شروع ہوچکی تھیں۔ یورپی لوگوں نے چرچ کی ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرلی تھی۔ نئی دنیا سے حاصل کردہ دولت کی سرمایہ کاری سے سائنس زیادہ بارآور ہوئی۔ بے شمار یونیورسٹیوں کا قیام بھی اسی عرصے میں عمل میں آیا۔16ویں صدی عیسوی کے بعد مسلم سائنس، یورپین سائنس کی نسبت بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اس وقت یورپی اور امریکی سائنس اگر بہت زیادہ ترقی یافتہ نظر آرہی ہے تو اس میں نئے وسائل سے حاصل شدہ دولت کا بڑا رول ہے۔ یورپ ابMicro سطح کی سائنس پر آگیا ہے۔ چاند کی تسخیر اس کے لیے اب قصۂ پارینہ ہے۔ اب اس کا رخ زہرہ سیارے کی طرف ہے۔ مسلم دنیا اور یورپ امریکہ کے درمیان اب ایسا لگتا ہے کہ آئندہ صدیوں تک فاصلہ قائم رہے گا۔چینی تہذیب نے یہ فرق یورپین ٹیکنالوجی سے استفاہ کرکے کم کرلیا ہے۔لیکن مسلم دنیا بکھرے ہوئے قطعات کی وجہ سے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی جست نہیں لگا سکی۔مسلم دنیا کا رول صرف صارف کا رول ہے۔ یورپ اور امریکہ کے برابر آنے کے لیے مسلم دنیا کو اپنی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ تحقیق و تخلیق کے لیے مختص کرنا پڑے گا۔ ابھی تک ہم کتنا خرچ سائنسی تحقیق و تخلیق پرکررہے ہیں، صرف پاکستان کی مثال سے بات واضح ہوجائے گی۔ پاکستان سائنس وٹیکنالوجی کی تحقیق پر اپنے جی ڈی پی کا صرف اور صرف 2فیصد خرچ کرتا ہے۔ انسانی اور مادی وسائل کے بڑے حصے کو مختص کرکے ہی ہم سائنسی دورِ زوال سے نکل سکتے ہیں۔

Share this: