رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے عبادت کی تو اُس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، اور جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھے تو اُس کے (بھی) گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں‘‘
(بخاری۔ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارے اوپر ایک مہینہ ایسا آرہا ہے جو عظیم ہے، یعنی بزرگی والا اور بڑی برکت والا ہے۔‘‘
ماہِ رمضان کے بزرگ یا بابرکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں فی نفسہٖ کوئی ایسی برکت شامل ہے جو لوگوں کو خودبخود حاصل ہوجاتی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ایسے مواقع پیدا کردیتا ہے جن کی بدولت تم اس کی بے حد و حساب برکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اس مہینے میں ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی جتنی زیادہ عبادت کرے گا اور نیکیوں کے جتنے زیادہ کام کرے گا وہ سب اس کے لیے زیادہ سے زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنیں گے۔ اس لیے اس مہینے کے بزرگ اور بابرکت ہونے کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر تمہارے لیے برکتیں سمیٹنے کے بے شمار مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں۔
’’یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ایسی ہے کہ ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔‘‘
اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ اس کے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ کبھی ہزار مہینے میں بھی نوعِ انسانی کی فلاح کا وہ کام نہ ہوا ہوگا جتنا اس کی ایک رات میں ہوا ہے۔
’’اللہ تعالیٰ نے رمضان کے دنوں کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوع (یعنی نفل) قرار دیا ہے۔‘‘
تطوع سے مراد وہ کام ہے جو آدمی اپنے دل کی خوشی سے (Voluntarily) انجام دے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر فرض کیا گیا ہو۔
رمضان میں دن کے روزے کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دے کر فرض اور نفل عبادات دونوں کے فائدوں کو جمع کردیا گیا ہے۔ ادائے فرض کے فائدے کچھ اور ہیں اور ازخود اپنی رضا و رغبت سے، بغیر اس کے کہ کوئی چیز لازم قرار دی گئی ہو، اللہ کی عبادت کرنے کے فائدے کچھ اور ہیں۔ اگر ایک آدمی اپنی ڈیوٹی بجالاتا ہے تو وہ اس پر ایک اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتا ہے، اور اگر وہ اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر اپنے دل کی رضا سے کوئی خدمت بجالاتا ہے تو اس پر وہ کسی اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتا ہے۔ ایک چیز وہ ہے جس پر وہ مزدوری کا مستحق ہے، اور دوسری چیز وہ ہے جس پر اسے بونس کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ اس ماہ میں دو قسم کے مواقع پیدا کردیئے گئے ہیں۔ ایک تو ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے اجر کے آپ الگ مستحق ہوں گے، اور ایک چیز آپ کے تطوع پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ اپنی رضا و رغبت سے راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے ہوں تو اس پر آپ کو مزید انعامات ملیں گے… یہ گویا اس چیز کی تشریح ہے کہ اس بزرگ مہینے میں کیا کیا برکتیں رکھ دی گئی ہیں۔
اس کے بعد فرمایا: ’’جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی اُس کو ایسا اجر ملے گا جیسا کہ دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے، اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستّر فرض ادا کیے۔‘‘
چوںکہ یہاں فَرِیْضَۃ کے مقابلے میں خَصْلَۃٌ مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس لیے ان سے خود بہ خود یہ معنی نکلتے ہیں کہ ان سے مراد نفل نیکی ہے۔ یعنی جو آدمی اس مہینے میں نفل کے طور پر کوئی نیکی کرتا ہے اُسے اس پر ایسا اجر ملے گا جیسا دوسرے زمانے میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے۔
(کتاب الصوم۔ نومبر2000ء، ص51،53)

رمضان اور قرآن

سید علی گیلانی
ترجمہ:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے، اورجو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘
تشریح:
یعنی اللہ نے صرف رمضان ہی کے دنوں کو روزوں کے لیے مخصوص نہیں کردیا ہے بلکہ جو لوگ رمضان میں کسی عذرِ شرعی کی بنا پر روزے نہ رکھ سکیں، اُن کے لیے دوسرے دنوں میں اُس کی قضا کا راستہ بھی کھول دیا ہے تاکہ قرآن کی جو نعمت اس نے تم کو دی ہے، اس کا شکر ادا کرنے کے قیمتی موقع سے تم محروم نہ رہ جائو۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ رمضان کے روزوں کو صرف عبادت اور صرف تقویٰ کی تربیت ہی نہیں قرار دیا گیا ہے بلکہ انہیں مزید برآں اُس عظیم الشان نعمتِ ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ بھی ٹھیرایاگیا ہے جو قرآن کی شکل میں اُس نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دانشمند انسان کے لیے کسی نعمت کی شکرگزاری اور کسی احسان کے اعتراف کی بہترین صورت اگر ہوسکتی ہے تو صرف یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس مقصد کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار کرے جس کے لیے عطا کرنے والے نے وہ نعمت عطا کی ہو۔ قرآن ہم کو اس لیے عطا فرمایا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ جان کر خود اس پر چلیں اور دنیا کو اس پر چلائیں۔ اس مقصد کے لیے ہم کو تیار کرنے کا بہترین ذریعہ روزہ ہے۔ لہٰذا نزولِ قرآن کے مہینے میں ہماری روزہ داری صرف عبادت ہی نہیں ہے، اور صرف اخلاقی تربیت بھی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ خود اس نعمتِ قرآن کی بھی صحیح اور موزوں شکر گزاری ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن جلد اول، صفحہ 143)

Share this: