افغانستان میں مغربی طاقت اور ٹیکنالوجی کی شکست

امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا… یہاں تک کہ اس ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے کسی بھی ملک کے اخبارات و رسائل اٹھا لیں، آپ کو صرف ایک ہی بحث نظر آئے گی:’’ہماری شکست کیوں ہوئی؟‘‘ ابھی امریکہ کے چودہ ہزار ریگولر فوجی اور ہزاروں کرائے کے سپاہی افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ابھی افغان کٹھ پتلی فوج کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور امریکی ائرفورس کی مدد حاصل ہے۔ روز معرکے بھی ہورہے ہیں، لیکن تمام ’’اینٹی طالبان اتحاد‘‘ کے دانشور، تجزیہ نگار، دفاعی ماہر اور پالیسی ساز مصنف تسلیم کرچکے ہیں کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں۔ کوئی اخبار، جریدہ، رسالہ اپنی کسی خبر یا مضمون میں جیت کی ’’نویدِ مسرت‘‘ نہیں سناتا، بلکہ شکست کا تجزیہ کرتا ہے۔ اکثر مضامین کی سرخی لاس اینجلس ٹائمز کی 3 مئی 2019ء کی اشاعت کی اس سرخی کی طرح ہوتی ہے “Brutal truth about our failure in Afghanistan” (افغانستان میں ہماری شکست کے تلخ حقائق)۔ اس شکست کی حقیقت کا ادراک ان تمام اقوام کو بخوبی ہوچکا ہے جو آج سے اٹھارہ سال قبل طاقت کے نشے میں اس جنگ میں کودی تھیں، لیکن میرے ملک کے وہ طبقے اس کڑے سچ کو تسلیم نہیں کر پارہے، ان کے صرف خواب نہیں ٹوٹے بلکہ ان کا ایمان پاش پاش ہوا ہے۔ خواب تو یہ تھا کہ امریکہ جب افغانستان میں قدم جما لے گا تو چونکہ بھارت اُس کے ساتھ مسلسل پارٹنر کی حیثیت سے وہاں براجمان ہے تو یوں پاکستان کی حیثیت ایک ایسے کمزور اور گھرے ہوئے ملک کی ہوجائے گی جس کو جب چاہے بے بس کردیا جائے گا۔ امریکہ چونکہ طالبان اور القاعدہ کے نام پر افغانستان میں داخل ہوا تھا، اس لیے اس کی جیت پاکستان کے ہر سیکولر اور لبرل کے حوصلے بلند کردے گی اور دہشت گردی، شدت پسندی کے نام پر جس کا چاہے ناطقہ بند کیا جاسکے گا۔ خلافت، اسلامی انقلاب اور ایسے دیگر نعرے شدت پسندی کی سہولت کاری کے نام پر دبا دیے جائیں گے۔ بھارتی تہذیب، کلچر، فلم اور تجارت اس پورے خطے پر راج کرے گی، اور ایک گنگا جمنی تہذیب میں ہر وہ آواز دب کر رہ جائے گی جو 72 سال پہلے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ ملک کی بنیاد بنی تھی۔ ایسے لاتعداد خواب تھے جو پرویزمشرف کی روشن خیال سیکولر حکومت کی چھتری تلے دیکھے گئے، اور پھر امریکہ کی افغانستان میں آمد کو مسیحا تصور کیا گیا۔ ایسے تمام خواب اس ایک شکست نے چکنا چور کردیے۔ دوسرا معاملہ خواب کا نہیں ایمان کا ہے۔ پاکستان کا یہ طبقہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بت کو اپنا معبودِ حقیقی مانتا ہے۔ افغانستان میں پہلی مداخلت کے وقت ان کو تسلی تھی کہ دراصل دو معبودوں یعنی روسی اور امریکی ٹیکنالوجی میں لڑائی تھی اور مضبوط دیوتا جیت گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے یہ شکست کھانے والی ٹیکنالوجی کے دیوتا کا قوی ہیکل مجسمہ لینن گراڈ میں گرایا گیا، پاکستان کے تمام نظریاتی کمیونسٹ این جی اوز اور انسانی حقوق کے لبادے میں اپنا ’’دین‘‘ بدل کر امریکہ کی ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ ان لوگوں کے لیے اب افغانستان میں امریکہ کی شکست بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک تو یہ کہ اب کوئی ٹیکنالوجی شکست سے بچی نہیں جسے سجدہ کیا جائے، اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اس بت کو پاش پاش کرنے والے نہتے اور بے سروسامان لوگ تھے جن کو ٹیکنالوجی چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ اس لیے یہ اب دن رات ایک ہی خواب دیکھتے ہیں کہ کاش امریکہ اپنی طاقت کے زعم میں کچھ دن اور یہاں رک جائے، یا کم از کم اپنے جانشین کے طور پر کٹھ پتلی افغان حکومت کو بھارت اور دیگر خیر خواہ ممالک کے ذریعے چھوڑ جائے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری ہونے کو ہے اور نہ ہی امریکہ کی یہ آخری خواہش کہ افغانستان میں امن معاہدے پر طالبان کے ساتھ دستخط امریکہ کے نہیں افغان حکومت کے ہوں تاکہ وہ دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا نہ ہو، کہ اتنی بڑی طاقت نے چند ہزار ’’صاحبانِ توکل‘‘ طالبان سے شکست کھائی ہے۔ لیکن ایسا ہونا اب طالبان نے ناممکن بنادیا ہے، اب یا تو امریکہ چپ چاپ چلا جائے گا اور افغان حکومت کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ جائے گا، اور دوسری صورت میں اسے افغان طالبان سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔ یہ دونوں صورتیں میرے ملک کے اُن طبقات کے لیے عذاب ہیں جن کا ہر دن امریکہ اور مغرب کی ٹیکنالوجی کی پرستش میں گزرتا ہے۔ لیکن اس اٹھارہ سالہ جنگ میں شکست کی وجوہات کو انتہائی عرق ریزی کے ساتھ امریکہ کے سب سے معتبر اور مسلّم جرنل Foreign Policy نے اپنے مضمون What went wrong in Afghanistan (افغانستان میں کیا غلط ہوا) میں یکجا کیا ہے۔ اس مضمون کا آغاز افغانستان کے بارے میں مغرب کی کم علمی سے ہوتا ہے۔ ذرا اقتباسات ملاحظہ ہوں: ’’مغرب وہ کچھ کرنا چاہتا تھا جس کی وہ اہلیت نہیں رکھتا تھا، اور وہ کچھ کررہا تھا جس کی افغانستان میں ضرورت نہیں تھی۔ سچ یہ ہے کہ مغرب ہمیشہ سے اس علم، طاقت اور جواز سے محروم رہا جو افغانستان کو تبدیل کرسکے۔ جبکہ اس کے پالیسی ساز خوف سے سہمے ہوئے تھے، فیشن ایبل تھیوریوں کے سحر میں گرفتار تھے اور افغانستان کی حقیقت سے بالکل آشنا نہ تھے۔ انہوں نے افغانستان کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، انہوں نے خود کو قائل کرلیا کہ جب تک ایک مغرب زدہ (pro west)افغان حکومت قائم نہیں ہوتی امریکہ اور نیٹو کی ساکھ کو خطرہ رہے گا اور یہ خطرہ پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دے گا، اور اگر افغانستان ملّائوں کے قبضے میں چلا گیا تو وہ ایک دن پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر اپنا تسلط قائم کرلیں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی سچ نہ تھی‘‘۔ دوسری بات یہ کہ مغرب کے پاس افغانستان کے بارے میں محدود علم تھا اور وہ افغانستان کا موازنہ امریکہ کی فلپائن اور برطانیہ کی ملایا میں فوجی فتح سے کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ قانون کی حکمرانی اور سول سوسائٹی کے قیام سے ملک میں استحکام آجائے گا، امریکہ کی مخصوص تین غلطیوں کے بارے میں مضمون نگار ایلیشا(Alicia) نشاندہی کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ پہلی غلطی یہ تھی کہ امریکہ نے اپنے آپ کو پاکستان سے دور کرلیا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کو اپنا ساتھی بنالیا۔ دوسری غلطی یہ کہ جب افغانستان میں طالبان برسر اقتدار آئے تو امریکہ نے انہیں تنہا کرنے کی کوشش کی، حالانکہ پاکستان کے ذریعے وہ اس خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتا تھا۔ اور تیسری غلطی یہ تھی کہ کابل کی حکومت شمالی اتحاد کے ذریعے بنائی گئی جن میں پشتون شامل نہ تھے، یوں پشتون طالبان کے فطری حلیف بن گئے۔ اس مضمون میں شکست کی درجنوں وجوہات بتائی گئی ہیں لیکن اصل مسئلہ وجوہات نہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی شکست ہے جو تقریباً پوری دنیا کو ہوئی ہے۔ پچاس ہزار طالبان کو روندنے کے لیے اقوام متحدہ کے حکم نامے سے تمام دنیا ان کے ملک پر چڑھ دوڑی تھی۔ کوئی ایک کمزور سا ملک بھی ان کے ساتھ نہ تھا۔ آج ان کی فتح اللہ کی وہ نشانی ہے کہ پوری دنیا بھی جن کے مقابل جمع ہوجائے تو وہ چاہے تو حق کو فتح دیتا ہے۔
(اوریا مقبول جان۔ 92نیوز۔ 7مئی2019ء)

Share this: