کفالت یتیم سے جنت کا حصول بھی، رفاقتِ رسول ؐ بھی

سید احسان اللہ وقاص
بچے کسی بھی معاشرے کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں اور اِنہی بچوں کو آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ والدین کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچے کو اچھی خوراک ملے، ان کی تعلیم و تربیت اچھی سے اچھی ہو اور انہیں وہ تمام بنیادی سہولیات میسر ہوں، جس کی بنیاد پر وہ خوش و خرم اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں خاندان اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے مرد پر انحصارکرتا ہے جو شوہر یا باپ کی صورت کاروبار یا نوکری کی مدد سے خاندان کے باقی افراد کی کفالت کرتا ہے۔ اللہ نے موت اور زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ موت یہ نہیں دیکھتی کہ کسی کے بچے چھوٹے ہیں یا کسی خاندان کے کفیل کے اس جہان ِ فانی سے رخصت ہوجانے کے بعد کفالت کیسے ہوگی۔ یہ اللہ کا نظام اورکسی معاشرے کا امتحان ہے کہ ان بچوں سے معاشرہ کیا سلوک کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں یتامیٰ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ناگہانی آفات، روزمرہ حادثات، صحتِ عامہ کی ناقص صورت حال اور معیارِ زندگی بہتر نہ ہونے کے باعث گزشتہ عرصے میں یتامیٰ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت، صحت اور خوراک کی مناسب سہولیات میسر نہیں۔ بدقسمتی سے روز بروز بگڑتی معاشی صورت حال، کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندانوں کے لیے اُن کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہوجاتے ہیں، بلکہ کئی تو بے راہ روی تک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نذر ہوجاتے ہیں، جہاں ان کی تعلیم و تربیت اور مستقبل ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
الخدمت فائونڈیشن اِسی نازک صورت حال کے پیش ِنظر یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے ’’الخدمت کفالتِ یتامیٰ پروگرام‘‘ کے تحت کام کررہی ہے، جس کا مقصد یتیم بچوں کا سہارا بن کر انہیںتعلیم و تربیت اور دیگر بنیادی ضروریات کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بااعتماد اور صحت مند شہری کے طور پر ملک و ملت کی ترقی میں اہم حصہ لے سکیں۔ الخدمت آرفن کفالتِ یتامیٰ پروگرام کے دو حصے ہیں جن میں گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کے منصوبے کے ساتھ ساتھ آغوش الخدمت ہومز کی تعمیر شامل ہے۔
1۔ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام (گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت)
2۔ آغوش الخدمت
آرفن فیملی سپورٹ پروگرام (گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام)
چونکہ پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام صرف یتیم خانے (Orphan Age) بنانے سے نہیں ہوسکتا، اِسی ضرورت کے پیش ِنظرالخدمت فائونڈیشن نے ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے نام سے یتیم بچوں کی کفالت کا ایک مربوط پروگرام پیش کیا ہے، جس کے تحت ایسے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کا اہتمام اُن کے گھروں میں کیا جارہا ہے، جو اپنے خاندان کے کفیل کے نہ ہونے کے باعث بنیادی ضروریات ِ زندگی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ بچے جو اپنی والدہ، نانا، چچا یا کسی بھی عزیز رشتہ دار کے گھر رہ رہے ہوں، اگر ان کی عمر 5 سے 15 برس ہے اور وہ اسکول جاتے ہیں تو وہ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ الحمدللہ اِس وقت الخدمت فائونڈیشن ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے تحت تمام صوبہ جات بشمول آزاد کشمیر، گلگت و بلتستان اور فاٹا میں11,437 یتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے۔ اِن یتیم بچوں کو ملک بھر میں55 کلسٹر (Clusters) میں سے چُنا گیا ہے۔ بچوں کی مکمل دیکھ بھال کے لیے الخدمت نے کلسٹر کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے، جس میں 100سے 250 بچوں کو ایک کلسٹر میں شامل کیا ہے۔ ہر کلسٹر میں ایک انچارج مقرر کیا گیا ہے جسے ایف۔ ایس۔او (فیملی سپورٹ آرگنائزر) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فیملی سپورٹ آرگنائزر بچوں، ان کے خاندان اور تعلیمی ادارے کے سربراہ سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ فیملی سپورٹ آرگنائزر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچے اسکول جاتے ہوں۔ بچوں کو گھروں اور اسکولوں میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور الخدمت کی جانب سے جاری کیے گئے وظائف ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہی استعمال ہوں۔ الخدمت فائونڈیشن بچوں کی مائوں کے لیے مواخات پروگرام کے تحت ووکیشنل ٹریننگ سمیت چھوٹے کاروبار کے لیے قرضِ حسنہ فراہم کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے تاکہ خاندان اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکے۔
چائلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام
الخدمت فائونڈیشن نے اِن یتیم بچوں کا سہارا بننے کے لیے خود کو صرف تعلیم، خوراک، صحت اور دیگر ضروریات تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ ایک مشکل لیکن اہم کام اِن یتیم بچوں کی کردار سازی کا بیڑا بھی اٹھایا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں مثالی مطالعاتی مراکز (ماڈل اسٹڈی سینٹر) قائم کیے جارہے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں 116ماڈل اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔ ان مراکز میں بچوں کے ساتھ ساتھ ان کی ماؤں کے لیے بھی ماہانہ بنیاد پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، کیونکہ ایک صحت مند اور باشعور ماں ہی ایک مہذب معاشرے کی ضامن ہوا کرتی ہے۔ بچوں کی کردار سازی کے اِس مربوط نظام کو چار نکات کی مدد سے واضح کیا گیا ہے جس میں تعلیمی سرگرمیاں، جسمانی سرگرمیاں، اخلاقی سرگرمیاں اور معاشرتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ چھوٹے بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے لیے تصویری کتب بنائی گئی ہیں، جبکہ بڑے بچوں کے لیے عملی سرگرمیوں پر مشتمل نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں بچے کی ماں کی تربیت کے لیے ’’باہمت ماں‘‘کے نام سے سالانہ منصوبہ عمل اور نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اِن یتیم بچوں کے ٹرینرکے لیے بھی نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ الخدمت فائونڈیشن، فیملی سپورٹ آرگنائزر کے لیے بھی مختلف ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد کررہی ہے جس میں بچوں سے ہمدردی، دوستانہ ماحول اور ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ بچوں کی اخلاقی اقدار و عادات جن میں صداقت، ایمانداری،نظم و ضبط، قوانین کی پاسداری، حقوق العباد، بحیثیت ذمہ دار شہری فرائض وغیرہ شامل ہیں، جیسی صفات سے لے کر بچوں کی کیریئر کونسلنگ کے ذریعے ان کی ذہنی قابلیت، دلچسپی اور مشاغل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب شعبے کا انتخاب بھی چائلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ ہے، تاکہ وہ اس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر معاشرے کے کارآمد رکن بن سکیں۔ بچوں میں اسکول بیگ اور اسٹیشنری کی تقسیم کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اور دیگر بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ بچوں کو سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ لیکچر، دستاویزی فلموں اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جس سے بچوں میں احساسِ محرومی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور ان میں خوداعتمادی پیدا ہورہی ہے ۔
آغوش الخدمت سینٹر:
الخدمت کفالتِ یتامیٰ پروگرام میں جہاں یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں پر کی جارہی ہے، وہیں یتیم بچوں کے لیے ’’آغوش الخدمت‘‘ کے نام سے اداروں کے قیام کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ الخدمت آغوش سینٹرز کے قیام کا مقصد والدین سے محروم بچوں کی پرورش و تربیت کے لیے قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ الحمدللہ اس وقت الخدمت آغوش سینٹرز اٹک، راولپنڈی، اسلام آباد(گرلز)، مری، راولاکوٹ، باغ، پشاور، مانسہرہ، شیخوپورہ، لوئر دیر، ڈیرہ اسماعیل خان، گوجرانوالہ اور ترکی(غازی انطب میں یتیم شامی بچوں کے لیے) میں قائم آغوش میں 850 بچے قیام پذیر ہیں۔ جبکہ مری، کراچی، کوہاٹ، ہالہ اور شیخوپورہ کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اِس ماں جیسی آغوش عمارت میں ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تعلیم یافتہ انتظامی عملہ موجود ہے جو بچوں کے لیے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے صحت مند ماحول کا اہتمام کرتا ہے۔ آغوش کے قریب ہی بچوں کے لیے اسکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ آغوش الخدمت میں ماہانہ طبی معائنہ، کمپیوٹرلیب، لائبریری، اسپورٹس گرائونڈ، ان ڈور گیمز اور بچوں کی نفسیاتی نشوونما کے لیے مختلف لیکچر اور تعلیمی دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الخدمت لاہور،کوئٹہ ،گلگت اور کوٹلی سمیت دیگر شہروں میں بھی آغوش الخدمت کے قیام کا عزم رکھتی ہے۔
آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا، اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا، اور یہ محرومیاں اُس بچے کے مستقبل پر بری طرح اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ، جو ملک و قوم کا وارث بننے جارہا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نوازیں۔ ا گر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ اپنے معاشرے کے لیے مفید شہری ثابت ہونے کے بجائے خطرہ بن جائے گا۔
مسلم معاشرے میں یتیم کا مرتبہ اور مقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اِسلام نے جن اعمال کو بہت واضح طور پر صالح اعمال قرار دیا ہے اُن میں یتیموں اور مسکینوںکی مدد شامل ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
’’اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی۔‘‘(النساء۔127)
نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ایک یتیم تھے اور اسی لیے جہاں آپؐ اوروں کے ساتھ صلۂ رحمی، عدل، پاک دامنی، صداقت و درگزر کا پیکر تھے، وہیں مسکینوں، بیوائوں اور خصوصاً یتیموں کے لیے سب سے بڑھ کر پیکر ِ جود وسخا تھے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح (قریب) ساتھ ہوں گے۔‘‘ (اور آپؐ نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا) (بخاری شریف)
اِس ضمن میں اِس نقطے کو نمایاں کرنا بہت ضروری ہے کہ یتامیٰ کی کفالت کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے اور قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ الخدمت فائونڈیشن معاشرے میں ایک مثبت رویّے کو پروان چڑھا رہی ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت۔

Share this: