رمضان کو غنیمت جانیے

خباب مروان الحمد/ترجمہ: محمد سفیرالاسلام
اس ماہِ مبارک کی آمد کا احساس کتنا خوب صورت ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ماہ کا آغاز ملّتِ اسلامیہ کے لیے نیکی اور خیر و برکت کا آغاز ہے۔ سلف صالحین اس مہینے کے آنے پر خوشیاں مناتے تھے، وہ خود کو اس کے استقبال اور اس کی برکات سے بھرپور انداز میں استفادے کے لیے تیار کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ’’ہم ماہ (رمضان) کو جو تمام خیر کا منبع ہے، خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے دن میں روزہ رکھتے ہیں اور اس کی رات کو قیام کرتے ہیں۔ اس مہینے میں رات دن اللہ کی راہ میں انفاق کرتے ہیں‘‘۔ معلّٰی بن فضل سلف صالحین کے حوالے سے رمضان کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ سلف چھے مہینے تک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ رمضان کا مہینہ پالیں، اور اگلے چھے ماہ وہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ ذرا سوچیے وہ کیا لوگ تھے جو اس ماہِ مبارک کو پانے اور اس کی قبولیت کے لیے چھے چھے ماہ تک اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس سے اندازہ لگایئے یہ ماہ کتنی بڑی غنیمت ہے۔
سلف صالحین کی روش تو یہ تھی، جب کہ ہمارے زمانے میں لوگ رمضان کے قیمتی لمحات کو لغویات کی نذر کردیتے ہیں۔ بعض کھانے پینے میں، بعض نیند اور سونے میں، اور بعض ٹیلی ویژن پر مختلف پروگراموں سے دل بہلا کر اس ماہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ درحقیقت جو لوگ اس ماہ کے فضائل کی حقیقت سے آگاہ نہیں وہ ان دنوں کے فوائد اور راتوں کے منافع کو نہیں جانتے۔ دوسری طرف ایک وہ بندۂ مومن ہے جو عملِ صالح کے لیے جدوجہد کرتا ہے، آگے بڑھنے کا متمنی ہوتا ہے۔ وہ رمضان کا استقبال بھی اسی طرح نیکیوں میں آگے بڑھنے اور منکرات سے بچنے سے کرتا ہے۔ وہ غنیمت کے ان لمحات کو خیر و بھلائی سمیٹنے اور رب العالمین کا قرب حاصل کرنے کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردناک عذاب سے بھی خوف زدہ ہوتا ہے۔ جو نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والا ہے، وہ یہ بات یقینی طور پر جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود نیکی کی راہ میں سبقت پر ابھارا ہے۔ گویا وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے نیکی اور بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوششیں کریں۔ ’’پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔‘‘(البقرہ2:148)
ہم رمضان المبارک کے ان بابرکت لمحات میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کس طرح کرسکتے ہیں، اس کی عطا کردہ نعمتوں کو کس طرح سمیٹ سکتے ہیں، اس ضمن میں چند عملی پہلو درج ذیل ہیں:
عمل کے لیے تحریک: رمضان آپ کو حرکت و تحریک دیتا ہے، زندگی گزارنے کا سامان دیتا ہے، مسلسل عمل کی طاقت سے ہم کنار کرتا ہے۔ آپ اس ماہ میں اللہ کے حضور قیام و نماز اور نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں۔ اصحابِ رسولؐ اس مہینے میں اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے جہاد کرتے تھے اور مسلمانوں کو فتح کی نوید سناتے تھے۔ بھوک، پیاس اور روزہ کبھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ پس رمضان تمام مسلمانوں کے لیے عظیم نعمت ہے جس میں وہ اپنی طاقت و قوت کو مسلمانوں کی نصرت اور اسلام کی سربلندی کے لیے صَرف کرسکتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ اس بات کا پیغام ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے اس مہلت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح آپ کو روحانی سکون میسر آئے گا۔ آپ کے اعمال بہتر ہوںگے۔ سُستی اور کاہلی اور ٹال مٹول کا رویہ ختم ہوجائے گا۔ یہ رویّے انسان کو غم اور پریشانی سے دوچار کردیتے ہیں۔
تنظیمِ وقت: رمضان کا مہینہ شعائرِ اسلامی کی ادائیگی کے ذریعے ہمیں تنظیم وقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ روزہ رکھنے اور افطار کا وقت معین ہے۔ اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہی کافی ہے: ’’جب بلالؓ اذان دیں تو ہاتھ نہ روکو، اور جب ابن اُم مکتومؓ اذان دیں تو ہاتھ روک لو‘‘ (بخاری، مسلم)۔ حضرت بلالؓ اور حضرت ابن اُم مکتومؓ کی اذان میں فرق سے مراد یہ ہے کہ حضرت بلالؓ جلد اذان دیتے تھے، جب کہ حضرت ابن اُم مکتومؓ دیر سے اذان دیتے تھے۔ اس ماہ میں انسان کو اپنے وقت کی صحیح تنظیم و تقسیم کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ صحیح عمل کے لیے قدم اٹھاتا ہے، آگے بڑھتا ہے اور کامیابی سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔
دعوتِ دین: اس مہینے میں نیکی و بھلائی کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے اور دل نیکی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ اس لیے دعوت کا بہت آسان موقع ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنے عزیز واقارب اور ہمسایوں تک دعوتِ دین پہنچانے کا خصوصی اہتمام کریں۔ داعیانِ حق کو چاہیے کہ وہ اس ماہ میں دعوت کی توسیع واشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
تکافل اجتماعی: رمضان کا مہینہ ایسی سنہری اور انمول گھڑیاں لے کر آتا ہے جن میں والدین کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک، بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور صلۂ رحمی اور امت کے حقوق کی ادائیگی کے لیے فکرمند ہونے، نیز محتاجوں، معذوروں، فقرا اور مساکین کی خدمت کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ اسی طرح خیراتی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا، اور ان لوگوں کی مدد کرنا جو سفید پوش ہیں اور لوگوں سے لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے، بڑی نیکی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالی جائے اور اس کو مستحقین میں تقسیم کیا جائے۔ اُن لوگوں کا احساس کیا جائے جو ضعیف اور کمزور ہیں۔ اس کے علاوہ جتنی توفیق و استطاعت اللہ تعالیٰ نے دی ہو، راہِ خدا میں خرچ کیجیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ بہترین اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے نتیجے میں معاشرہ بھی آسودہ ہوگا اور پریشان حال لوگوں کے مصائب بھی کم ہوں گے۔
تزکیہ و تربیت: اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کثرت سے جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اس سے بچائے۔ یہ عاصیوں، گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے بہتر ین موقع ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ان برے اعمال سے معافی کے خواست گار ہوں اور نئی زندگی کا آغاز کریں۔ اللہ تعالیٰ سے توبۃ النصوح کی توفیق مانگیں اور سچی توبہ کریں۔ گناہوں، معصیت اور نافرمانیوں سے خلاصی حاصل کریں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے سب سے بڑے اور کھلے دشمن کو اللہ تعالیٰ نے جکڑ رکھا ہے۔ پس اپنے دلوں کو نیکی اور عبادت کی طرف راغب و متوجہ کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا۔ کئی ایسے سعادت مند ہیں جو اس موقع پر اپنے گناہوں اور معصیت سے توبہ کا اعلان کرتے ہیں۔ تربیت کرنے والوں کے لیے بھی یہ غنیمت ہے کہ وہ اس ماہِ مبارک میں ان نفوس کی تربیت کے لیے اپنی پوری قوت لگادیں جو خدا کی اطاعت و بندگی اور تقویٰ کی زندگی اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ ان لوگوں کی تربیت اور ان کے ایمان کی تقویت کے لیے ضروری ہے کہ مختلف النوع تربیتی پروگرام ترتیب دیے جائیں۔
اثرانگیزی:یہ ماہِ مبارک اہلِ ایمان کے دلوں میں اثر کرتا ہے۔ عمل کا وہ پودا اُگا دیتا ہے جو انھیں اللہ کی رضا حاصل کرنے والے اعمال پر آمادہ کرتا ہے۔ اس میں مجاہدۂ نفس کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ جیساکہ ایک حدیث قدسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اس نے میری خاطر اپنا کھانا پینا اور شہوت کو چھوڑے رکھا‘‘(متفق علیہ)۔ اس میں ایک رات ہے جس میں گردنیں آزاد کی جاتی ہیں۔ یہ اس کے روزے رکھنے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ اثرانگیزی بڑی اہمیت کی حامل ہے جو روزے اور قیامِ لیل میں تسلسل پیدا کرتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں وہ بشارت دی گئی ہے: ’’جس کسی نے ایمان اور احتساب سے روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے گئے‘‘ (متفق علیہ)۔ پس اس سے بڑھ کر اجر و اثرپذیری اور کیا ہوگی!
مساجد کے ساتھ تعلق: اس ماہِ عظیم میں نفس کو مساجد کے ساتھ تعلق پر آمادہ کرنا چاہیے، تاکہ آپ ان سات لوگوں میں سے ہوجائیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سایے میں اس دن جگہ دے گا جس دن اس کے سایے کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا۔ آخری عشرے میں خلوت میں رب العالمین سے تعلق جوڑنے کے لیے مساجد میں اعتکاف کیا جائے۔ اس سے ہدایت کا سوال کیا جائے۔ ان اوقات میں اس سے اس طرح سے مناجات کی جائیں کہ وہ ہمارے لیے معاملات کو ایسے کھول دے جیسے عارفین کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، یا ان کے لیے معاملات کھول دیے جاتے ہیں۔ اسے جہنم کی آگ سے بچائے اور اسے جنت نعیم میں داخل فرما دے۔ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کیجیے۔ روزہ دار عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد مغرب کی نماز کا انتظار کرنے لگتا ہے اور وہ رباط (اللہ کی راہ میں پہرہ) کا اجر حاصل کرلیتا ہے جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ یہ اجر ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں ہے۔ مسجد میں قیام کے دوران وہ قرأتِ قرآن، دعا، ذکراللہ اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے اجر کا مستحق ٹھیرتا ہے۔
استغفارِ سحری: رمضان المبارک استغفار کے لیے بیش قیمت لمحات پر مبنی ہے جس سے اکثر مسلمان غافل ہیں۔ خاص طور پر سحری کے وقت کی عبادت اور استغفار اس حوالے سے بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ وقت رب کے حضور التجائوں کے لیے بہت غنیمت ہے کیونکہ اس وقت رب العالمین ساتویں آسمان پر آیا ہوتا ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ فرصت کے ان لمحات کو غنیمت جانے اور اس وقت میں زیادہ سے زیادہ اجر کے غنائم سمیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مومنین کی صفات کا ذکر فرمایا ہے: ’’بخشش مانگنے والے پچھلی رات میں‘‘(آل عمران 3:17)۔ ایک اور مقام پر فرمایا: ’’وقتِ صبح وہ استغفار کرتے تھے‘‘۔(الذاریات 51:18)
قرآن سے خصوصی شغف: رمضان اس حوالے سے بھی غنیمت ہے کہ اس میں حفظِ قرآن کیا جائے، کیونکہ اس میں دن رات اس کی دہرائی کی جاسکتی ہے، اور راتوں میں قیام کے دوران اسے پڑھا جاسکتا ہے۔ اس ماہ میں قرآن میں تدبر و غور و فکر اور اس کے فہم کے لیے بھی کوشش کی جانی چاہیے۔ ہمارے سلف صالحین کا قرآن سے تعلق قابلِ رشک حد تک بڑھا ہوا ہوتا تھا۔
عمرہ حج کے برابر: اس مہینے کے محاسن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں جو لوگ عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ان کو حج کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیحین میں روایت ہے: ’’رمضان کے مہینے میں عمرہ حج کے برابر ہے‘‘۔ یہ کیسی خوش نصیبی اور سعادت ہے کہ ایک عمرہ کرنے والے کو حج کے برابر ثواب مل جائے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ عمرے کی ادائیگی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔
دلوں کی صفائی: اس مہینے میں ناراضی و اختلاف ختم کرکے صلۂ رحمی کرنے اور بھائی چارے کا بہترین موقع ملتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ سے شیطان کی پناہ مانگنا چاہیے۔ قلب کو سلیم و فرماں بردار بنانا چاہیے۔ ایسا دل مانگنا چاہیے جس میں خیانت، بغض اور حسد جیسی بیماریاں نہ پائی جاتی ہوں۔ اسی طرح عزیز و اقارب سے تعلقات شریعت کی منشا کے مطابق ہونے چاہئیں، اور ان حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کیا جانا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں۔ ان میں سے خاص طور پر وہ حقوق جو ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے لیے ادا کرنے لازم ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کی دل آزاری سے بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس پر بڑا اجر ہے۔
صبر: اس مہینے میں ایک شخص کو ایسی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے کہ خاص طور پر صبر کا مفہوم اس پر بخوبی اجاگر ہوجاتا ہے۔ رمضان کے روزے کے دوران اللہ کی اطاعت پر صبر، ان تمام اقوال و گفتگوئوں اور معاصی پر صبر جن سے اللہ کی رضا سے انسان دور ہوجاتا ہے، اور مکمل طور پر اللہ کی قضا و قدر پر صبر جو اس نے روزے فرض کرنے کی صورت میں اپنے بندے پر عائد کی ہے۔
حضرت احنف بن قیسؓ سے جب کہا گیا: آپ بزرگ آدمی ہیں اور روزے آپ کو کمزور کردیں گے، توانھوں نے جواب دیا: ’’میں نے زندگی کا طویل سفر طے کرلیا ہے، اللہ کی اطاعت پر صبر کرنا بہتر ہے نہ کہ اس کے عذاب پر۔ (سیراعلام النبلاء)
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں: جب تم روزہ رکھو تو چاہیے کہ تمھاری سماعت کا بھی روزہ ہو، تمھاری آنکھوں کا بھی روزہ ہو، تمھاری زبان جھوٹ سے بچے، پڑوسی کو اذیت نہ دو۔ روزے کے دن تم پر وقار اور سکینت طاری ہونا چاہیے۔ تمھارا روزہ اور بے روزہ کا دن ایک جیسا نہیں ہونا چاہیے۔
تربیتِ اولاد: ماں اور باپ دونوں مربی ہوتے ہیں۔ وہ اس ماہ میں چاہیں تو بچوں کے دلوں میں فضائل کے بیج بوسکتے ہیں اور انھیں رذائل سے دور کرسکتے ہیں۔ ان کے دلوں میں رمضان، قیامِ لیل اور قرآن کی محبت کا جادو جگا سکتے ہیں۔ اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ذوق و شوق کے لیے مختلف انداز اپنائے جاسکتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ عصر کی نماز کے بعد گھر کے تمام افراد ایک جگہ بیٹھ جائیں اور درسِ قرآن یا لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے۔ اس میں جہاں ضرورت ہو تشریح و وضاحت کی جائے۔ اسی طرح اذان کے وقت سب گھر والے ہاتھ اٹھا کر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کریں جو آسمان کے کھلے عرش تک پہنچ جائے۔
دعا: جب بندۂ مومن اللہ رب العالمین کو اپنی مناجات کے ذریعے یاد کررہا ہوتا ہے تو اُس وقت اُس کے دل کو اطمینان اور سکون کی جو کیفیت حاصل ہوتی ہے، اس سے افضل وقت اس کی زندگی میں کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً اس ماہِ مبارک میں جس کا ذکر آیاتِ ربانی میں آیا ہے کہ اس میں دعا رد نہیں ہوتی۔ وہ ضرور بارگاہِ الٰہی میں پہنچتی اور قبول ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بندوں کے رب کو پکارے اور دعا کرے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ساتھ دیگر مسلمانوں کے دکھ درد اور تکالیف بھی دور فرما دے۔
غذا کی تنظیم اور وزن میں کمی: رمضان اُن لوگوں کے لیے جو غذا کو کسی ترتیب یا تنظیم سے کھانا چاہتے ہیں، بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ کم کھانا جسم کے لیے بہت مفید ہے۔ اگر اس میں اعتدال اور توازن نہ ہو تو نفس کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ روح و بدن دونوں پر اس کی خرابی کا اثر پڑتا ہے۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: ’’بیٹا جب معدہ بھر جاتا ہے تو سوچ اور فکر سوجاتی ہے، حکمت جاتی رہتی ہے، اعضا عبادت نہیں کرپاتے‘‘۔ پس روزہ دار اگر رب کی زیادہ عبادت کرنا چاہتا ہے اور خاص طور پر اس مہینے میں، تو اسے چاہیے کہ کم کھائے۔
اے خیر کے طلب گار! فرصت کے ان لمحات کو غنیمت جانیے۔ کوئی دوسرا مہینہ مسلمانوں کے دلوں میں ایسا مقام نہیں رکھتا اور ایسا افضل نہیں جیساکہ رمضان کا مہینہ ہے۔ اس میں جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے۔ پس چاہیے کہ ان لمحات کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی اطاعت میں گزارا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے جو خسارے کا باعث ہوگا۔ اس مہینے میں عبادات کے تمام رنگ پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب اور روحانیت کی کئی صورتیں اس میں موجود ہیں۔ پس اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلب گار! رک جا۔ واللّٰہ المستعان۔

Share this: