عزیمت کے راہی (حصہ ہفتم)۔

کتاب : ‘ عزیمت کے راہی (حصہ ہفتم)
مصنف : حافظ محمد ادریس
اشاعت : اول (اپریل 2019ء)
ضخامت : 384 صفحات، قیمت:400 روپے
ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور
فون : 042-35252475-35252194
برقی پتا : imislami1979@gmail.com
ویب گاہ : www.imislami.org
تقسیم کنندہ : مکتبۂ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ،لاہور۔ پوسٹ کوڈ نمبر: 54790
فون : 042-35419520-24

اللہ تعالیٰ حافظ محمد ادریس صاحب کی عمر میں برکت عطا فرمائے جس نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے، 1969ء کے زمانے میں جب کہ سیاست کے افق پر ذوالفقار علی بھٹو کا طوطی بولتا تھا، ان کے نامزد کردہ امیدوار جہانگیر بدر مرحوم، جو بعد ازاں پیپلز پارٹی کے اقتدار کے مختلف ادوار میں وفاقی کابینہ کے رکن اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی رہے، کو شکست دے کر جامعہ پنجاب کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے، اور یوں پہلی بار ملکی سیاست کے افق پر نمایاں ہوئے۔ روایتی تعلیم اور طلبہ سیاست سے فراغت کے بعد حافظ محمد ادریس جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے اور اپنے آبائی ضلع گجرات میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اپنے مربی بانیٔ جماعت اسلامی پاکستان سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ہدایت پر افریقہ میں دعوتِ دین کی شمع روشن کرنے کا عزم لیے عازمِ کینیا ہوگئے، جہاں سالہاسال مسلمانوں اور غیر مسلموں میں اسلام کا فہم عام کرنے کے بعد پاکستان واپس آئے تو پہلے جماعت اسلامی پنجاب کے امیر کی ذمہ داری سونپی گئی، اور پھر جماعت کے مرکزی نائب امیر اور ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور کے ڈائریکٹر کے مناصب سپرد ہوئے۔ حافظ محمد ادریس کو جہاں بھیجا گیا، جو ذمہ داری سونپی گئی، فرض جان کر جانفشانی سے اس میں جت گئے۔ جہاں بھی رہے، اپنی تحریر و تقریر اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور اپنی اَن تھک محنت، تحریکی شعور اور علم و فضل کے گہرے نقوش مرتب کیے۔ حال ہی میں اپنی پیرانہ سالی اور صحت کے مسائل کے سبب تحریکی ذمہ داریوں سے معذرت کرکے سبک دوش ہوئے ہیں، تاہم یقین ہے کہ وہ دین کی دعوت اور اقامت کی جدوجہد کی خاطر اپنے علمی و عملی فکری مشاغل بہرحال جاری رکھیں گے… اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ؎

ایں سعادت بزدر بازو نیست
تانہ بخشد، خدائے بخشندہ

ادارہ معارف اسلامی تحقیق و تصنیف اور اشاعت و ترویجِ اسلام کے عظیم مقاصد کے پیش نظر 1963ء میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قائم کیا تھا اور کراچی اس کا پہلا مرکز قرار پایا۔ بعد ازاں 1979ء میں لاہور میں بھی اس کا مرکز قائم کردیا گیا۔ سید مودودیؒ نے پہلے شاہ فیصل ایوارڈ کے ساتھ ملنے والی خطیر رقم اس کے لیے وقف کردی۔ آج کل کراچی اور لاہور دونوں شہروں میں یہ ادارہ داخلی خودمختاری اور آزادانہ حیثیت سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ لاہور میں مولانا خلیل احمد حامدیؒ، مولانا نعیم صدیقیؒ، میاں طفیل محمدؒ اور چودھری محمد اسلم سلیمی کے بعد اس ادارے کی ذمہ داری حافظ محمد ادریس کو سونپی گئی تو انہوں نے اپنے سابقین کی قائم کردہ ٹھوس علمی، تحقیقی اور اشاعتی روایات کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اپنی شبانہ روز محنت سے ادارے کو ترقی کی نئی جہات سے روشناس کرایا۔ اب جب وہ ادارۂ معارف اسلامی کی یہ امانت جواں فکر اور صاحبِ فہم و فراست حافظ ساجد انور کے سپرد کرکے سبک دوش ہوگئے ہیں تو ان کا قلب و ضمیر یقینا مطمئن ہوں گے۔ ان کی رہنمائی اپنے قدرے جواں عمر جانشین کو حاصل رہے گی، اور توقع ہے کہ حافظ ساجد انور ادارے کی روشن علمی روایات کو مزید مستحکم اور روشن تر کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے… اللہ تعالیٰ انہیں ہمت اور توفیق عطا فرمائے… ع
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد…!!!
ادارہ معارف اسلامی لاہور کی شائع کردہ حافظ محمد ادریس کی تازہ کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ اس وقت پیش نظر ہے، جس کی چھ جلدیں پہلے ہی قارئین سے داد حاصل کرچکی ہیں… ساتویں جلد حال ہی میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آئی ہے۔ اس جلد میں ’تقریظ‘ محترم لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، اور ’پیش لفظ‘ برادرم محمد انور گوندل ناظم ادارۂ معارف اسلامی لاہور نے تحریر کیے ہیں، جب کہ ’عرض مصنف‘ میں حافظ صاحب نے مختصراً کتاب کا تعارف کرانے کے علاوہ قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی اور موت کا فلسفہ نمایاں کیا ہے اور ’’یادِ رفتگان‘‘ کو تذکیر آخرت کا وسیلہ بنایا ہے۔ ’’عزیمت کے راہی‘‘ میں اُن داعیانِ حق کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی زندگی اقامتِ دین کی جدوجہد میں بسر کی اور اس راستے میں ہر قسم کی ابتلا و آزمائش کو صبر و استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ساتویں جلد میں اس جہانِ فانی سے جہانِ جاودانی کی جانب سفر کر جانے والی 23 شخصیات کا تذکرہ ہے جن میں حضرات ہی نہیں خواتین بھی شامل ہیں، بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کے علاوہ ایسے گمنام نیک نفوس کا تذکرہ بھی ہے جنہیں بنیاد کی اینٹ قرار دیا جاتا ہے، جو بظاہر تو دکھائی نہیں دیتیں مگر پوری عمارت کی اٹھان اور استحکام اسی اساس پر منحصر ہوتا ہے۔ جن مرحومین کے بارے میں حافظ محمد ادریس نے قلم اٹھایا ہے ان میں سے اکثر سے حافظ صاحب کی ذاتی شناسائی اور قریبی تعلقات رہے، جن کا تحریروں میں جگہ جگہ حوالہ بھی ملتا ہے۔ حافظ صاحب نے ان شخصیات کے متعلق محض سوانحی معلومات ہی جمع نہیں کردیں، بلکہ اپنے شخصی تعلقات اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر مرحومین کی حسین قلمی تصویر قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔ احباب کی زندگی کے بعض ایسے گوشے جنہیں معمولی جان کر عموماً نظرانداز کردیا جاتا ہے، حافظ صاحب نے ان پر بھی بھرپور توجہ دی ہے، اور انہیں بھی خوب نمایاں کیا ہے۔ حافظ صاحب کی تحریر کی روانی اور خلوص کی چاشنی ایسی ہے کہ قاری جب کتاب کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو وہ اس میں کھو جاتا ہے، اور اس شخصیت یا دیگر تحریکی شخصیات کے حوالے سے خود اس کی حیاتِ مستعار کے بہت سے دریچے یادوں کے افق پر وا ہونے لگتے ہیں۔
کتاب ادارۂ معارفِ اسلامی نے اپنے روایتی معیار کے مطابق عمدہ کاغذ پر اعلیٰ طباعت، خوبصورت رنگین سرورق اور مضبوط جلد کے ساتھ شائع کی ہے، اور اس قابل ہے کہ خود مطالعہ کرنے کے علاوہ احباب کو بھی تحفے میں دی جائے۔