اس دنیا میں کوئی مُلحد نہیں؟۔

مذہب پہلے انسان کے ساتھ ہی اِس دنیا میں آگیا تھا۔ مذہبی انسان کی ساری تاریخ کسی نہ کسی شکل میں خدا کے وجود پر بھرپور اعتقاد کی تاریخ ہے

سید عطا اللہ شاہ
’’اور جب تمہارے پروردگار نے فرزندانِ آدم کی پشتوں سے ان کی ذرّیت کو لے کر انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناکر سوال کیا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں، تو سب نے کہا بے شک ہم اس کے گواہ ہیں۔ یہ عہد اس لیے لیا کہ روزِ قیامت یہ نہ کہہ سکوکہ ہم اس عہد سے غافل تھے‘‘۔ (سورۃ اعراف: 172)
یعنی ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی یہ گواہی موجود ہے کہ اس نے اپنے خدا کے سامنے اس کے خدا ہونے کا اقرار کیا ہے۔ اب اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس زمین پر آنے والے پہلے انسان سے لے کر آخری انسان تک کوئی ایک بھی خدا کا انکار کرسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر انسان خدا کی موجودگی کے لیے خود اپنی ہی دی ہوئی گواہی کو اپنی زندگی میں ہی اپنی بھولی بسری یادوں میں، اپنے تحت الشعور میں اور اپنے وجدان میں تلاش کرے۔ الحاد اور دہریت کی کیفیت دراصل اس تلاش میں غیر سنجیدگی اور ناکامی کا نتیجہ ہے۔ الحاد یا انکارِ خدا دراصل اپنی اصل کو چھپانے کے لیے جھوٹ اور ضد کے ایک خول کا نام ہے جو کہ ملحد اپنے اوپر چڑھا کر رکھتا ہے۔ یہ خول جتنا مضبوط اور شیطانیت کے زیر اثر ہوگا اُس کے اندر موجود خدا کے لیے دی گئی اس کی اپنی گواہی اتنی ہی زیادہ چھپی ہوئی اور دھندلائی ہوئی ہوگی، لیکن ہوگی ضرور، کیونکہ یہ اللہ کا فرمان ہے۔ کسی بھی درجے کا ملحد ہو، وہ ہزار کوشش کے باوجود پوری طرح اس گواہی کو چھپانے میں ناکام ہی رہتا ہے۔ اسی لیے الحاد کے دعوے دار کی زندگی میں ہر وقت یہ امکان موجود رہتا ہے کہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی موقع پر اس کے اندر کی گواہی عود کرکے باہر آجائے۔ اسی عظیم حقیقت کی وجہ سے آج تک دنیا میں کوئی بھی مکمل ملحد نہیں تلاش نہیں کیا جاسکا ہے۔ دہریت کے بڑے بڑے دعوے دار کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی موقع پر اپنی ناکامی اور خدا کے وجود کا اقرار کر بیٹھتے ہیں۔
کسی چیز کے ہونے کے انکار کا لازماً یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ منکرہ چیز موجود ہی نہیں ہے۔ اور نہ اس کے انکار کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے جب تک کہ وہ اپنے انکار کو ثابت نہ کردے۔ کوئی جج کبھی بھی اس بنیاد پر کسی ملزم کو رہا نہیںکرتا کہ اُس نے اس جرم سے انکار کردیا ہے۔ اس کے انکار کے برعکس حقیقت اپنی جگہ موجود رہتی ہے جس کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی انکار کے پیچھے اس کے جھوٹ اور حقیقت سے لاعلمی کے امکان کو رد نہیں کیا جاتا۔
اٹھارہویں صدی میں اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والا ڈیوڈہیوم (David Hume) بلاشبہ دنیا کے چند بڑے الحاد پھیلانے والے رہنمائوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک موقع پر اُس کے ایک اور مشہور ملحد دوست Holbach Barond نے کچھ ملحدوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کی غرض سے انہیں کھانے پر مدعو کیا۔ اس نے یہی دعوت ہیوم کو دیتے ہوئے کہاکہ آیئے میں آپ کو کچھ بڑے ملحدوں سے ملوائوں۔ تو اس پر ہیوم نے جواب دیا کہ مجھے آج تک کسی حقیقی ملحد سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے۔ اس کے اپنے نظریات کے بالکل برعکس یہ اس کی ایک اپنی ہی گواہی تھی۔ یہ ایک ایسے شخص کا اقرار اور سرٹیفکیٹ تھا جس کی ساری زندگی فکری ملحدوں اور عقل پرستی کے علَم برداروں کے درمیان گزر رہی تھی، اور خود اس کے اپنے اندر کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں تھا۔ ہزار مرتبہ خدا کے انکار کے بعد ایک دن کہتا ہے کہ خدا نے اچھائی کے ساتھ ساتھ برائی کو بھی ایسے ہی رکھا ہوا ہے جیسے کہ سردی کے ساتھ گرمی۔ کیا یہ اُس کے اندر کا چھپا ہوا خدا کا اقرار نہیں ہے!
خدا کی موجودگی پر یقین کرکے اس کی تلاش کا سلسلہ ان لوگوں سے بھی بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں ایک عظیم فلسفی Thales آیا، اس نے اِس کائنات کو بڑی حیرت سے دیکھا۔ پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ کائنات کیسے بنی اور کس نے بنائی؟ چنانچہ وہ خدا کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ بے شمار چیزوں کی طاقت اور قدرت کا اندازہ لگاتے ہوئے اُسے پانی اس کائنات میں سب سے طاقتور عنصر نظر آیا۔ اس کے خیال میں ہر چیز پانی سے بنی ہے تو اُس نے پانی کو اصول قرار دے کر پوری زندگی کی تعبیر اسی اصول کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد Anaximenes نے فلسفے کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ سب خود بہ خود نہیں ہوسکتا، تو پھر یہ کائنات کس نے بنائی؟ پھر وہ بھی خدا کو ڈھونڈنے نکلا تو وہ ہوا سے اور اس کی خصوصیات سے بہت متاثر ہوا کہ یہ ٹھوس، مائع اور گیس تینوں شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے، تو وہ ہوا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا اور اس نے ہوا کو زندگی اور کائنات کا مرکز مان کر اس کے ذریعے زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ لوگ اس دنیا کے باقاعدہ اوّلین فلسفی کہلائے جاتے ہیں اور یہ سب خدا کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ان ہی فلسفیوں کی فہرست میں فیثاغورث ایک بڑا نام آیا۔ اُس کے خیال میں اس کائنات کی ہر چیز عدد کی محتاج ہے، اور وہ عدد ’’ایک‘‘ ہے۔ لہٰذا اُس نے عدد کی شکل میں خدا کا اعتراف کیا۔ پھر Parmendes نے آکر نسبتاً خدا کا ایک بہتر تصور پیش کیا کہ خدا ’’الوجود‘‘ ہے، یعنی وہ ازلی ہے، نہ اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کو فنا ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والے Milessus نے پیرامینڈس کے ’’الوجود‘‘ سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں عقل کا اضافہ کردیا۔
اُس دور میں جب خدا کی تلاش میں کئی لوگ کئی مقامات پر مادے ہی کو خدا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے تھے، تو پھر ان کی درستی کے لیے افلاطون کی سنہری تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اور وہ ان مادوں کی طاقت سے بننے والی کائنات کے تصور کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔ وہ اپنی عقل کے معیار کو آگے اور بہت آگے تک بڑھاتا جاتا ہے اور اس مقام پر لے آتا ہے کہ جہاں وہ فیصلہ کرتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ یہ کائنات اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہو۔ اس کے مطابق یہ کائنات ایک کامل ترین عقل والی ہستی کی کاریگری ہے، جس کی کائنات میں کوئی ایک چیز بھی بے مقصد نہیں۔ افلاطون کے شاگرد ارسطو کے یہاں تحرک اوّل پیدا کرنے والی ہستی یعنی Primemover کا تصور موجود ہے۔
اس کے مقابلے میں اگر ہم ملحدوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ملحدوں کی خالص اور متوازن تاریخ ہمیںکہیں بھی نظر نہیں آتی۔ وکی پیڈیا کے مطابق، اٹھارہویں صدی کا ڈینس ڈیڈیروٹ (Denis Dederot) جو کہ فرانسیسی زبان کے Encyclopedie کا چیف ایڈیٹر تھا، وہ اس میں دعویٰ کرتا ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح میں ایک یونانی شاعر Diagoras خدا کا پہلا منکر تھا۔ جبکہ وکی پیڈیا کے ہی مطابق Athiest کی ٹرم پہلی مرتبہ 16 صدی عیسویں میں متعارف ہوئی۔
الحاد کی تاریخ میں عقلی ملحدوں کے ساتھ ساتھ ایک قسم رومانی ملحدوں کی بھی نظر آتی ہے۔ انیسویں صدی میں مغربی یورپ میں خدا کے خلاف Radical Protest کے نام سے رومانی ملحدوں کی ایک تحریک نے خاصی مقبولیت حاصل کی، جس میں ان رومانی ملحدوں نے اپنے ادب کے ذریعے خدا سے بے شمار شکایات کیں اور ریکارڈ کرائیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ملحد اگر خدا سے شکایت کررہے تھے تو کس خدا سے کررہے تھے؟ اور وہ کون سا خدا تھا جس کا وہ انکار کررہے تھے؟
اسی طرح ملحدوں کی تاریخ میں کچھ لوگوں نے مذاہب کے بے پناہ دبائو سے متاثر ہوکر الحاد کو بھی مذہب کا نام دینے کی کوشش کی۔ ان کے بقول الحاد بھی ایک طرح کا مذہب ہے۔ اس کو بھی دوسرے مذہبی گروہ کی طرح خدا کے نہ ماننے والوں کا ایک مذہبی گروہ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ مذہب کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس کو کوئی Super Human طاقت کنٹرول کرتی ہے، یا کوئی ایسا نظام جو کہ عقائد پر مشتمل ہو۔ جب اس میں عقائد شامل ہوگئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بات اب انسانوں کی اپنی عقل اور عقل پرستی سے آگے بڑھ گئی ہے، جس کو وہ پوری طرح سے ثابت کیے بغیر یا اس کے ثبوت حاصل کیے بغیر ہی ماننے کو تیار ہیں۔
یہاں پر ملحدوں کی ایک اور قسم کا جائزہ لیتے ہیں: چونکہ تمام انسانوں سے خدا نے اپنے خدا ہونے کی گواہی لی تھی، لہٰذا یہ نام نہاد ملحد خدا کا انکار کرکے نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے۔ اپنے منہ سے وہ اپنے خدا کا انکار کرتے ہیں اور ان کا خمیر ان سے خدا کا اقرار کرواتا ہے۔ تو پھر نتیجے کے طور پر یہ لوگ تشکیک کے عارضے میں مبتلا ہوگئے۔ اپنی اس پریشانی اور درمیانی کیفیت کا ادراک کرکے، اپنے ہی جیسے لوگوں کے لیے ان لوگوں نے خود ہی ایک نام Agnostic یعنی ’’لاادریت‘‘ ایجاد کیا۔ اس کے مطابق ایسے لوگ جن کا خدا کے انکار پر مکمل یقین نہیں ہے، اور وہ کنفیوز ہیں کہ خدا ہے کہ نہیں۔ اگر خدا یا خدا کی موجودگی کا کوئی ثبوت ان کے سامنے آگیا تو ہم خدا کو مان لیں گے۔ اس وقت ہم خدا کا انکار یا اقرار کرنے کے بجائے اس فیصلے کو معطل رکھتے ہیں اور خدا کی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہوگی کہ جب ہم نے خدا کو دیکھا ہی نہیں یا اس کے لیے مکمل شہادت موجود نہیں ہے تو ہم خدا کے وجود کو کیوں تسلیم کریں۔ یہ ان کا خدا کو تسلیم کرنے سے فرار کا ایک طریقہ ہے۔ جبکہ اسی دوران اس کے اگلے قدم کے طور پر ان کی تمام تر کوششیں، خدا سے متعلق ثبوتوں کو مٹانے اور لوگوں کو خدا کے انکار میں راغب اور راسخ کرنے میں جاری و ساری ہیں۔
خدا پر یقین کرنے یا نہ کرنے میں اِس دنیا کے انسانوں کے اذہان کو سب سے زیادہ جن چیزوں نے متاثر کیا ہے اُن کو ہم تین مختلف حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: مذہب، فلسفہ اور سائنس۔
مذاہب کی تاریخ بھی انسانی تاریخ جتنی ہی ہے۔ مذہب پہلے انسان کے ساتھ ہی اِس دنیا میں آگیا تھا۔ مذہبی انسان کی ساری تاریخ کسی نہ کسی شکل میں خدا کے وجود پر بھرپور اعتقاد کی تاریخ ہے۔ اس میں انسانوں کا اس کائنات کے بنانے والے پر ایک اَن دیکھا اعتماد اور یقین ہوتا ہے۔ اپنے مذہب کی طرف سے ملی ہوئی اچھائی اور برائی کی تعریف کو وہ من و عن تسلیم کرتے ہیں۔ اسی اعتماد اور یقین کی یعنی مذاہب کی تاریخ اس زمین پر سب سے طویل اور سب سے حاوی تاریخ رہی ہے۔
اس کے بعد جب انسانی ذہن نے سوچنا شروع کیا تو اسی وقت سے انسانی تاریخ میں فلسفے نے اپنی جگہ بنانی شروع کردی تھی۔ جن چیزوں پر انسانوں کا اَن دیکھا بھروسہ تھا، فلسفے نے اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس کی تہ تک جانے اور اس کی اصلیت کو جاننے کی جدوجہد کی۔ فلسفہ کسی چیز کے محض ظاہر پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اس کے باطن تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفہ دراصل اس کائنات اور کائنات کے بنانے والے کی اصل کو جاننا چاہتا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا، اُس کی صفات کیا ہیں؟ یہ کائنات کب بنی، کیسے بنی اور کیوں بنی؟ دنیا کے تقریباً تمام ہی بڑے فلسفی اپنی پوری زندگی میں اس اصول کی تلاش میں رہے ہیں جس کے ذریعے زندگی کو سمجھا جاسکے۔
جہاں تک سائنس کا تعلق ہے وہ اپنے پیمانوں سے مذہب کی کچھ چیزوں کی محدود پیمانوں پر تصدیق تو کرسکتی ہے لیکن ایک صحیح اور الہامی مذہب کی کسی بھی چیز کو غلط ثابت نہیں کرسکتی، کیونکہ سائنس اس کائنات یا اس کی کسی شے یا مادہ کی علت، اس کی اصل، اس کے مقصد، اس کی حقیقت اور اس کی روح تک نہیں پہنچ سکتی۔ سائنس محض اس کائنات کے ظاہر، اس کے جاری نظامات اور قوانین تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر سائنس ہمیں یہ بتادے گی کہ دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن مل کر پانی بناتے ہیں، لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن آئے کہاں سے ہیں؟ اور ان ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ایسا کرنے پر کس نے مجبور کیا ہے اور کیوں کیا ہے؟ ان کے درمیان یہ 1:2 کا تناسب کس نے رکھا ہے اور کیوں رکھا ہے؟ اس کی قدرت کس کے پاس ہے؟ اس کے علم کی حقیقت کیا ہے اور یہ علم کس کے پاس ہے۔کیوں کہ یہ سائنس کا علاقہ ہی نہیں ہے۔ وہ تو صرف وہ بتائے گی جو ظاہر میں ہوا ہے۔ اس لیے خدا تک پہنچنے کے لیے سائنس کا علم اور اس کا دائرہ انتہائی محدود اور ناکافی ہے۔
غلط پیمانوں پر خدا کی تلاش کی کوشش اور پھر اس میں ناکامی کسی خاص دور کا کوئی خاص واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح کی شیطانی کوششیں انسانی تاریخ کے ہر دور میں نظر آتی ہیں۔ تاریخِ انسانی میں انسانوں کی ایک بڑی تعداد خدا کو تلاش کرنے کی کوشش میں دو بڑی بنیادی غلطیاں کرتی رہی ہے۔
نمبر1: خدا اس کائنات کا خالق ہے، جبکہ اس کو مخلوق کے پیمانوں پر تلاش کیا جاتا رہا۔
نمبر2: الٰہ حقیقی کو چھوڑ کر مجازی اور تصوراتی خدائوں کی تلاش میں بے شمار لوگوں نے بغیر کچھ حاصل کیے اپنی عمر گنوائی۔
وہ خدا جس کی کائنات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ محض ایک کہکشاں کے ایک نظام شمسی کا ایک سورج جوکہ ہمارا سورج ہے وہ 600 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے پچھلے پانچ ارب سال سے سفر کررہا ہے۔ جبکہ اس جیسی لاکھوں، کروڑوں کہکشائیں تو صرف ایک ہی کلسٹر ہیں۔ جبکہ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں کلسٹرز ہیں اور اس کے آگے کیا ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکا۔ اب یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب کائنات کی کوئی حد نہیں ہے اور وہ جتنی بھی بڑی ہے تو اس کو بنانے والا تو یقینا اس کائنات سے کتنا بڑا اور عظیم تر ہوگا۔ اور آپ چاہتے ہیں کہ اپنے اس ایک قطرے کے برابر محدود علم اور صلاحیتوں سے اس عظیم ترین خدا کے وجود کو دیکھ لیں یا چھولیں! یہاں پر ایک تجربہ کرلیتے ہیں: ہم ایک مشاعرہ سنتے ہیں۔ پھر ہم یہی مشاعرہ کسی گائے یا بکری کو سناتے ہیں۔ آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس گائے اور بکری کو یہ مشاعرہ کتنا سمجھ میں آیا ہوگا! یہ تو بہت آگے کی بات ہوگی۔ اس گائے اور بکری کو تو یہ بھی پتا نہیں چلا ہوگا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ جبکہ وہ مشاعرہ اپنی جگہ ایک حقیقت تھا۔ لیکن گائے اور بکری نہیں سمجھ پائے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ معذوری اور محتاجی تو ان جانوروں کی عقل میں ہے، نہ کہ مشاعرہ ہونے کی حقیقت میں۔
فرض کریں کہ ہماری عقل ایک گائے جتنی ہوجائے تو ہم ایسی صورت میں خدا کی ذات کو سمجھنے کے لیے اپنی اس موجودہ پوزیشن
کے مقابلے میں مزید اور کتنا دور اور کتنا پیچھے ہوجائیں گے! جبکہ خدا تو اپنے اسی مقام پر موجود ہے اور کائنات بھی اسی طرح چل رہی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی ذات کو سمجھنے میں محتاجی صرف ہماری عقل میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر ہماری عقل کم ہوگئی ہے تو اب خدا کو بھی سمٹ کر اتنا ہوجانا چاہیے کہ اس کی ذات ہماری عقل کے دائرے میں آجائے۔ اب آپ اپنی عقل کو آگے بڑھا کر واپس انسان کی عقل تک لانا شروع کریں تو گائے کی عقل سے اس بہتر عقل کی طرف آنے والی راہ میں آپ کو اس کائنات کی بہت ساری چیزیں رفتہ رفتہ سمجھ میں آنے لگیں گی۔ قدرت کے بے شمار مظاہر ہماری عقل کے زیرِنگیں ہوتے چلے جائیں گے۔ بے شمار چیزوں کی شبیہات ہمارے دماغ میں بننے لگیں گی۔ اب یہاں پر کچھ اہم سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہمارا دماغ جن اشیا کی شبیہات کو بناتا جارہا ہے یا جن اشیا کی تصدیق کرتا جارہا ہے:
کیا وہ اپنی اصل میں اسی وقت پیدا ہورہی ہیں
یا وہ اپنے آپ کو ہماری عقل کے مطابق ڈھالتی جارہی ہیں
یا وہ کائنات کی ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر پہلے سے اسی طرح موجود تھیں، جن کو ہمارا دماغ یا عقل اب رفتہ رفتہ سمجھتی جارہی ہے۔