نریندر مودی کی “غیرمعمولی” کامیابی

کیا پاک بھارت تعلقات بحال ہوسکیں گے؟۔

بھارت کے انتخابات کی اہم بات خطے کی سیاست کے تناظر میں پاک بھارت تعلقات ہیں۔ اس لیے یہ انتخابات محض بھارت کے ہی انتخابات نہیں تھے، بلکہ پاکستان کے لیے بھی ان کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں انتخابی تبدیلیوں کے حوالے سے جو کچھ ہورہا تھا اُس پر ہم سب کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس بات کا اندازہ تو سبھی کو تھا کہ بھارتی انتخابات میں نریندر مودی اور اُن کی جماعت جیتے گی، مگر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اِس بار انتخابی نتائج عملی طور پر ماضی کے نتائج سے مختلف ہوں گے۔ کہا جارہا تھا کہ جیت تو مودی کی ہوگی مگر نتائج کے تناظر میں بھارت میں مخلوط اورکمزور حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جارہی تھی کہ بھارت میں حکومت بنانے میں کلیدی کردار وہاں کی علاقائی جماعتیں ادا کریں گی، اور وہ بی جے پی اور کانگریس میں سے جس کی حمایت میں اپنا وزن ڈالیں گی وہی حکومت بناسکے گا۔ مگر نریندر مودی کے جادو اور سحر نے سب کچھ بدل ڈالا، اور2014ء کے نتائج کے مقابلے میں زیادہ برتری حاصل کرکے ثابت کیا کہ وہ مشکل حالات میں بھی بڑا سیاسی معرکہ سر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے سیاسی مخالفین جن میں کانگریس اور علاقائی جماعتیں شامل تھیں، پانی کا بلبلہ ثابت ہوئیں، اور وہ کچھ نہ کرسکیں جو اُن کے حمایتی چاہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابی نتائج سے قبل مودی مخالفت کی لہر بھی موجود تھی، مگر یہ لہر کسی بڑے انتخابی معرکے میں فیصلہ کن ثابت نہیں ہوسکی۔
اچھی بات یہ ہے کہ بھارتی عوام نے بی جے پی اور نریندر مودی کو واضح اور شفاف مینڈیٹ دے کر ثابت کیا کہ وہ عملاً بھارت میں کمزور حکومت کے بجائے ایک مضبوط حکومت کے خواہش مند تھے۔ اب جو واضح اور بڑا مینڈیٹ مودی کو ملا ہے جسے خود حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے نہ صرف قبول کیا بلکہ مودی کو مبارک باد دی، وہ یقینی طور پر بھارت کے انتخابی و جمہوری عمل اور نظام کی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔ خطے کی سیاست کے تناظر میں بھی اچھی بات یہ ہے کہ مودی ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ اقتدار کا حصہ بنے ہیں اور اس وقت بھارت میں ایک مضبوط حکومت ہی بھارت اور خطے کی سیاست کے لیے اہم نکتہ ہے۔ کیونکہ کمزور جمہوری حکومتیں عملی طور پر داخلی بحران کا شکار ہوتی ہیں، اور بھارتی ووٹرز کو داد دینی ہوگی کہ وہ کسی ذہنی الجھائو اور مودی مخالف مہم کا حصہ بننے کے بجائے مودی کے ساتھ کھڑے نظر آئے، جس سے مودی کی مقبولیت ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح بھارت کے ووٹرز نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اب کسی سیکولر سیاست کے نعرے کا حصہ نہیں، بلکہ مودی اور ہندوتوا پر مبنی سیاست کو ہی اپنی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اور اس میں مودی کی سیاسی کرشمہ سازی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
مودی کو ایک بات کی داد دینی ہوگی کہ ان کا یہ انتخابی معرکہ 2014ء کے انتخابی معرکے سے بڑا ہے۔ کیونکہ2019ء کے سیاسی ماحول کو دیکھیں تو بظاہر اس میں مودی کو ماضی کے مقابلے میں بڑا چیلنج درپیش تھا۔ یہ مقابلہ سیکولر سیاست کے حامیوں اور ہندوتوا کے حامیوں کے درمیان تھا۔ یقینی طور پر سیکولر سیاست کے حامیوں کو شکست ہوئی اور بھارت کے ووٹرز نے مودی کے سیاسی بیانیے اور ہندوتوا پر مبنی سیاست کی حمایت کرکے ثابت کیا کہ وہ سیکولر سیاست کے اب حامی نہیں رہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ مودی کی جیت کو محض ہندوتوا پر مبنی سیاسی ایجنڈے کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مودی سرکار کے عوامی خدمات سے جڑے کچھ منصوبے اور ترقی کا عمل بھی ان کی بڑی کامیابی کی ضمانت بنا ہے۔ کیونکہ بہرحال ووٹرز میں جہاں نظریاتی سوچ کا غلبہ ہوتا ہے، وہیں وہ اپنی مقامی سیاست سے جڑے مسائل کو بھی بنیاد بناکر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ برس پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یہ لہر آگے بڑھے گی، مگر یہ اندازے مودی نے غلط ثابت کردیے۔
میں بھارت کے انتخابات کو محض بھارتی انتخابات تک محدود ہوکر نہیں دیکھتا۔ ان انتخابات کے نتائج فطری طور پر جنوبی ایشیا اور خطے سمیت پاکستان کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔کیونکہ بھارت کے انتخابی نتائج اور حکومت سازی سے ہم خطے کی سیاست اور پاک بھارت تعلقات کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے تو انتخابات سے قبل ہی مودی کی جیت کی نہ صرف پیش گوئی کی تھی بلکہ اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ مودی جیتیں گے اور ہم مل کر خطے کے امن اورترقی کے لیے آگے بڑھیں گے۔ خود وزیراعظم سے جب بھی پاک بھارت کشیدگی پر بات ہوتی تو وہ یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ انتخابات کے نتائج کے بعد مودی حکومت کے لیے پاک بھارت تعلقات میں پیش قدمی کرنا ناگزیر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی کے انتخاب جیتنے کے فوری بعد ٹویٹ پر وزیراعظم عمران خان نے مودی کو مبارک باد دی، اور جواب میں مودی نے بھی شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں امن اور ترقی کو بنیاد بناکر بات کی گئی۔ لیکن اب تک کی جو خبریں ہیں ان کے مطابق مودی نے پاکستان کے وزیراعظم کو فوری طور پر حلفِ وفاداری کی تقریب میں بلانے سے گریز کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مودی دوبارہ اقتدار کا حصہ بن گئے ہیں، ان کے سامنے جہاں بھارت کی داخلی سیاست کے مسائل ہیں وہیں خطے سے جڑے مسائل بھی ہیں جن میں کشمیر، پاک بھارت تعلقات اور خطے کے دیگر مسائل شامل ہیں۔ عمومی طور پر انتخابی مہم اور اس سے جڑے مسائل اور طرزعمل خاصا مختلف ہوتا ہے۔ لیکن انتخابات کے بعد کا ماحول انتخابی مہم کے ماحول سے بہت مختلف ہوتا ہے۔کیا واقعی ہم مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئے نریندر مودی کو دیکھ سکیں گے جو انتخابی سیاست کے ماحول سے زیادہ ایک بڑے مدبر اور فہم وفراست پر مبنی سیاست کی قیادت کرسکے گا؟ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو مودی حکومت سے بہت زیادہ خوش فہمی نہیں، بلکہ ان کا خیال ہے کہ مودی سابقہ مودی کے مقابلے میں اور زیادہ خطرناک ہوگا جو پاکستان کو بھی عدم استحکام سے دوچار کرے گا۔
نریندر مودی کے سامنے تین بڑے چیلنج ہیں:
(1) کیا وہ ایسے کسی ماحول کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں جو پاک بھارت تعطل کو توڑ کر باضابطہ مذاکراتی عمل کو شروع کرسکے؟ کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل اپنی جگہ، مگر بڑا مسئلہ تعطل اور بداعتمادی کی فضا ہے، جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے مودی کو ماضی اور ہندوتوا سے جڑی انتہا پسندی سے باہر نکل کر عملاً ایک بڑے سیاست دان کا کردار ادا کرنا ہے جو ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
(2) ایک عمومی تصور جو درست بھی ہے کہ مودی سیکولر سیاست کے بجائے ہندوتوا اور انتہا پسندی کی سیاست کے حامی ہیں۔ ان کے مخالفین بھی اسی بڑے مسئلے کو ہتھیار بنا کر اُن کے خلاف مہم چلاتے ہیں کہ وہ بھارت کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کے ذمے دار ہیں۔ کیا اب بھی مودی اسی ہندوتوا کی سیاست میں شدت پیدا کریں گے، یا اس کے آگے بند باندھ کر کچھ نیا دکھائیں گے؟
(3) وہ کشمیر کے مسئلے پر اپنی جارحانہ پالیسی اور بالخصوص آئین میں ترمیم کے نکتے کو آگے بڑھاتے ہیں، یا وہاں جاری کشیدگی میں کمی کرکے خود کو قابلِ قبول بناتے ہیں؟
سیاسی پنڈت مودی کی مستقبل کی سیاست کے بارے میں تقسیم ہیں۔ ان کی مستقبل کی سیاست کے تناظر میں حمایت اور مخالفت دونوں پہلو موجود ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ مودی زیادہ شدت کے ساتھ اپنی ہندوتوا کی سیاست کا پرچار کریں گے، اور یہ بڑا مینڈیٹ اسی بنیاد پر ملا ہے کہ وہ اپنے ہندوتوا پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔ کیونکہ ماضی میں بھی مودی سرمایہ داروں کے ترقی سے جڑے ایجنڈے سے ہٹ کر ہندوتوا پر مبنی سیاست کے ساتھ جڑے نظر آئے، اور ان کی انتہاپسند پالیسیوں نے خطے کی سیاست کو بھی متاثر کیا۔ ان کے بقول جو لوگ مودی میں بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں وہ مودی کے اس بڑے مینڈیٹ کو نہ بھولیں جو انہیں اسی پالیسی کی بنیاد پر ملا ہے جو عملاً انہوں نے بھارت و خطے میں اختیار کی ہوئی تھی۔ اس لیے جب بھی مودی کسی نئے کردار میں سامنے آئیں گے اُن کو اپنے ووٹ بینک اور ہندوتوا کی سیاست کرنے والوں سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جبکہ اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اگرچہ کم ہیں، وہ اِس دفعہ مودی کے ایجنڈے کو ماضی سے مختلف دیکھتے ہیں۔ اس میں جہاں داخلی سیاست ہے وہیں امریکہ سمیت عالمی ایجنڈا بھی ہے جو پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا عمل دیکھنا چاہتا ہے۔ مودی کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ اِس دفعہ ماضی کے مودی سے مختلف نظر آئیں۔ کیونکہ اگر مودی کو خود کو محض سیاست دان ثابت کرنا ہے تو وہ سابقہ ایجنڈے تک بھی محدود رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ سیاست دان کے مقابلے میں خطے میں ایک بڑے راہنما کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
یقینی طور پر خطے اور بالخصوص پاکستان اور بھارت کے معاملات پیچیدہ ہیں لیکن کسی کو تو یہ صورت حال بدلنی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ذہنی طور پر بھارت سے بہتر تعلقات چاہتی ہے تو اس کا ہر سطح پر فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ کا م مودی کرسکتے ہیں اوران کے پاس صلاحیت بھی ہے اورایک بڑا مینڈیٹ بھی، جو مودی سے بڑے کردار کی توقع رکھتا ہے۔لیکن کیا وہ یہ سب کچھ کرسکیں گے جو اس وقت عملی طو رپر خطے کی سیاست کو درکار ہے؟ کیونکہ ان کے بارے میں ماضی کے تناظر میں بہت زیادہ بداعتمادی ہے کہ وہ خود کو بدلنا نہیں چاہتے۔ اگر ایسا ہی ہے اورمودی سابقہ روش کو ہی برقرار رکھتے ہیں تو یہ مودی سمیت خطے اور پاکستان کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگا، اور خطے کی سیاست مزید بحران کا شکار ہوگی۔

Share this: