بجٹ حکومت کا امتحان!فیصلے ٹیکنوکریٹس کے ہاتھ میں جاچکے ہیں

حکومت حاصل کرنے کے دس ماہ بعد بھی تحریک انصاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ملک کو مستحکم نظام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ تحریک انصاف ملک میں بلاامتیاز احتساب کی علم بردار سیاسی جماعت سمجھی جاتی تھی، لیکن اقتدار میں آکر سیاسی اشرافیہ کے لیے وہ پہلی ڈیفنس لائن بن کر رہ گئی، اسی لیے بدعنوان سیاست دانوں، بیورو کریٹس اور ٹیکس چوری میں ملوث کسی بھی شخص کا احتساب ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سیاسی اشرافیہ، بیوروکریٹس اور ٹیکس چوری میں ملوث کاروباری طبقہ احتساب کے عمل سے کیسے باہر رہ جاتا ہے اس پر قومی سطح پر نتیجہ خیز سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی ان دنوں بہت پریشان ہے، وہ سمجھتی ہے کہ اگر قرضوں کی ری شیڈولنگ بروقت کرلی ہوتی تو معاشی مسائل کی شدت میں اب بہت کمی آچکی ہوتی۔ کابینہ میں تبدیلی سے تحریک انصاف کی پہچان اور نعرے کو نقصان پہنچا ہے، ٹیکنوکریٹس کی ٹیم بھی اگر کارکردگی نہیں دکھاتی تو عمران خان کو نقصان ہوگا۔ ہماری حکومت کو معاشی طور پر اب تک جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔ عمران خان نے اسدعمر کو معاشی شعبے میں بہتری نہ لانے کی صورت میں بتادیا تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا، اور پھر وہی ہوا۔ فی الحال انہیں اس بات کا بھی اطمینان ہے کہ اپوزیشن منظم نہیں، اور اس کے پاس کوئی بیانیہ بھی نہیں۔ مریم نواز کے پاس پارلیمنٹ ہے اور نہ حکومت۔ بلاول بھٹو کی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی باتیں زیادہ اور عملی کام کم ہیں۔ حکومت کی سیاسی ٹیم کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے۔ اس کی ناکامی ہی حکومت میں ٹیکنوکریٹس شامل کرنے کا سبب بنی ہے۔ حکومت کو سب سے بڑا امتحان بجٹ کے موقع پر پیش آئے گا۔ اس کی اتحادی جماعت کے سربراہ اخترمینگل بجٹ پر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں، اگر وہ اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہیں تو پھر یہ حکومت بجٹ منظور نہیں کرا سکے گی، اور پارلیمانی نظام میں بجٹ منظور نہ کراسکنے والی حکومت اسمبلی کا اعتماد کھوکر ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ اخترمینگل کو راضی رکھے، دوسری صورت میں عمران خان کی حکومت بجٹ پاس نہ کراسکی تو برطرف ہوجائے گی، کیونکہ یہ حکومت اسمبلی میں محض چھ ووٹوں کی برتری کے ساتھ موجود ہے اور اخترمینگل کے پاس چار ووٹ ہیں۔ اخترمینگل کی طرح جی ڈی اے بھی حکومت سے نالاں ہے۔ وزیراعظم کے قریبی چار سینئر پارٹی ارکان نے انہیں ایک ورکنگ پیپر دیا ہے، لیکن اب فیصلے ٹیکنوکریٹس کے ہاتھوں میں جاچکے ہیں جو اس ملک کی اکانومی کو دستاویزی شکل میں ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ انہیں کچھ مشکلات ہیں، وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک میں وسائل کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بنیادی مسئلہ نظام پر عدم اعتماد ہے، قانون پر عمل درآمد نہ ہونا اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ کوئی بھی حکومت کُل جی ڈی پی کے ساٹھ فی صد سے زائد اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ملک پر مسلط نہیں کرے گی۔ لیکن اس وقت ملک پر قرضوں کا بوجھ کُل قومی پیداوار کے75 فی صد سے بڑھ چکا ہے۔ سرکاری سطح پر اخراجات میں کمی کا اعلان اور دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملاً ایسا نہیں ہے، سرکاری اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ ملک گزشتہ چالیس سال سے ادائیگیوں کے عدم توازن کا شکار چلا آرہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ روپے کی قیمت میں مسلسل کمی ہورہی ہے، ہم زرمبادلہ کمانے کے لیے برآمدات بڑھانے کے بجائے روپے کی قیمت میں کمی کرتے چلے جارہے ہیں۔ اگر ملک پر کُل قرض کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے ذمے قرض میں70 فی صد اضافہ روپے کی قدر میں کمی کرنے سے ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ بھی روپے کی قدر میں کمی لانے کا سبب بنا ہے، اسی لیے آئی ایم ایف سے معاہدے کی منظوری تک شرائط منظرعام پر نہیں لائی جائیں گی۔ مشیر خزانہ آئی ایم ایف کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کو 3 سال میں 6 ارب ڈالر ملیں گے، اس کی تفصیلات عام نہیں کی جائیں گی۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ ٹیکس بڑھاؤ، سبسڈی واپس لو۔ آئی ایم ایف کا ریکارڈ دنیا بھر میں بہت زیادہ مشکوک ہے۔ مشکوک اس لیے ہے کہ آئی ایم ایف نے جہاں بھی قدم رکھا، وہاں معیشت میں عدم استحکام آیا۔ مشیر خزانہ کی تقرری کے بعد تحریک انصاف کسی قیمت پر دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ ملک کو معاشی پالیسی دے رہی ہے۔ مشیر خزانہ اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے حکومت نے پہلے سعودی عرب، چین اور یو اے ای سے مالی امداد حاصل کی، اور اب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوجانے کے بعد سعودی عرب سے ادھار تیل لینے کی خبر دی جارہی ہے۔ بنیادی طور پر آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو معاشی پیکیج دیتے ہوئے اسے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مدد فراہم کرتا ہے، یہ کسی ملک کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے نہیں دیتا۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد بھی سعودی عرب سے ادھار تیل لینے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ دفاعی بجٹ مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے، تیل درآمد کرنے کے اخراجات بچاکر حکومت دوسری ضروریات پوری کرنا چاہتی ہے، لیکن تین سال کے بعد مع سود تیل کی قیمت کی واپسی بھی ایک مسئلہ بن جائے گی۔ آج ملک کے معاشی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں تین متوازی معیشتیں چل رہی ہیں، ملک کے بجٹ سے چار گنا زیادہ رقم بے نامی بینک کھاتوں میں پڑی ہوئی ہے، ایک سال میں دو بار ایمنسٹی اسکیم دینے کے باوجود حکومت کو کچھ نہیں ملا۔ ایک سال قبل کُل قرض 31 ہزار ارب تھا، تجارتی خسارہ 20 ارب تھا، آمدن اور خرچ میں فرق تھا، اسی لیے 9 ارب ڈالر دوست ممالک سے لیے گئے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد عالمی بینک، ایشائی بینک اور اسلامی بینک سے بھی قرض کے لیے مذاکرات کیے جارہے ہیں۔ یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹامپ پیپر پرمعاہدہ کیا جارہا ہے۔ یہ تین سال کا پروگرام ہے، اس پر شرح سود 3.2 فیصد ہوگی۔ مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ بجٹ میں حکومتی اخراجات اور سول کے ساتھ فوج میں بھی اخراجات کم کیے جائیں گے۔ بجلی کے خسارے کوکم کیا جائے گا، ہر ماہ ہونے والے 36 ارب روپے خسارے کو 26 ارب تک لایا جائے گا، اور ایف بھی آر کو 5550 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف دیا جارہا ہے۔ حکومت نے اگرچہ اعلان کیا ہے کہ غریب صارفین کے لیے بجلی، گیس استعمال کرنے پر سبسڈی دے گی، لیکن جس روز بجٹ پیش ہوا اسی روز دس لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے، اگلے چھ ماہ میں تعداد پچاس لاکھ تک جاپہنچے گی۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 100ارب، احساس پروگرام کے لیے180ارب، فوڈ سیکورٹی کے لیے 30ارب بجٹ میں رکھے جائیں گے۔ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا کام نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے گا۔ لیکن ملک میں کاروباری سرگرمیاں نہ ہوئیں تو یہ ہدف کیسے پورا ہوگا؟ یہ تمام فیصلے مشیر خزانہ کے اپنے ہیں، اُن کا تحریک انصاف کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مرضی کے فیصلوں کے لیے اپنی ٹیم لاچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہ کی تبدیلی کے بعد اب سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کو فارغ کردیا گیا ہے اور اُن کی جگہ نوید کامران بلوچ کو تعینات کیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ حکومت اور ایوانِ وزیراعظم میں نوازشریف کی لابی کے افراد تعینات ہیں جو ہر فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ہی نوازشریف کو اطلاع کردیتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے چیئرمین کے بعد اب یونس ڈھاگا بھی اسی لیے ہٹائے گئے۔ یونس ڈھاگا ایک فرض شناس افسر ہیں، نوازشریف جب طیارہ سازش کیس میں کراچی لانڈھی جیل میں تھے تو یونس ڈھاگا ان دنوں کراچی میں کمشنر تھے، حکومت سمجھتی ہے کہ اُس وقت انہوں نے نوازشریف کو بہت ریلیف دیا تھا، اسی لیے انہیں نوازشریف کی لابی کا آدمی سمجھا گیا، جب کہ حقائق کچھ اور ہیں، اور سچ یہ ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پرانی ٹیم کی جگہ اپنی ٹیم لانا چاہتے ہیں۔ حکومت نے یونس ڈھاگہ کو سیکریٹری خزانہ کے عہدے سے فارغ کیا ہے، نہایت کامیاب اور اہل سینئر بیوروکریٹ کے ساتھ اس طرح کا برتائو حکومت میں ہلچل پیدا کرنے کا باعث بنا ہے۔ مشیر خزانہ ایک ایسی ٹیم کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جو آئی ایم ایف کے سامنے مکمل سرینڈر کرے، وہ مخالفت کرنے یا قومی مفاد میں مشورہ دینے اور نصیحت کرنے والوں سے کام نہیں لینا چاہتے۔ سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ میں اختلافِ رائے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہوا جب آئی ایم ایف کی شرائط آنکھیں بند کرکے تسلیم کیے جانے کا فیصلہ ہوا۔ یونس ڈھاگا کا خیال ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے نامناسب معاہدے پر مذاکرات کیے ہیں۔ حفیظ شیخ کا مؤقف ہے کہ ملک کا آئندہ کا معاشی روڈمیپ بہت سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔ معیشت کی بہتری، کفایت شعاری اور سخت فیصلے کرنے میں حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ بجٹ میں جس کے لیے جو بھی رکھا جائے گا، سب اس پر مطمئن رہیں گے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سربراہ کا استعفیٰ

پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ مورن نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے۔ 20 مئی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں رچرڈ مورن کو ملازمت کے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ملازم ہوتے ہوئے اپنی ذاتی کمپنی بھی چلا رہے ہیں۔ کینیڈا کے شہر مانٹریال میں واقع کمپنی ’آرچر ویلتھ مینجمنٹ جو خود کو ’آزاد مالیاتی ایڈوائزر‘ ظاہر کرتی ہے، جبکہ رچرڈ مورن اس کمپنی کے سی ای او اور بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ پی ایس ایکس بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دیے گئے جواب میں رچرڈ مورن نے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں عہدہ سنبھالتے ہوئے آرچر ویلتھ مینجمنٹ میں اپنی دلچسپی پہلے ہی ظاہر کردی تھی۔ پی ایس ایکس بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، اس دوران رچرڈ مورن نے اپنا استعفیٰ پیش کیا جسے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظور کرلیا۔ رچرڈ مورن اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج بورڈ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور بورڈ آف ڈائریکٹر نے منیجنگ ڈائریکٹر سے متعلق خط سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو ارسال کیا تھا۔خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان میں‘ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ رچرڈ مورن بیرون ملک ایک کمپنی بھی چلارہے تھے ذرائع کا کہناہے کہ رچرڈ مورن نے اسٹاک ایکسچینج کے پہلے غیر ملکی سی ای او کے طور پر جنوری 2018 میں عہدے کا چارج سنبھالا تھا جبکہ وہ بطور مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) پی ایس ایکس بھی کام کر رہے تھے۔رچرڈ مورن کون ہیں؟ معاشی شعبے میں یہ اہم پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ حکومت بجٹ تیار کر رہی ہے اور اسے آئی ایم ایف سے معاہدے کی حتمی منظوری کا بھی انتظار ہے ایسے میںپاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور رچرڈ مورن کا استعفیٰ کیا تبدیلی لائے گا فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم یہ صورت حال معیشت پر ضرور اثر انداز ہوسکتی ہے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چودہ ممبرز ہیں ان میں سلیمان مہدی‘ اشرف بانوے‘ شہزاد کمیڈا‘ عابد علی حمید‘ احمد چنائے اور دیگر شامل ہیں ان سب سے متفقہ طور پر ان کا استعفیٰ منظور کیا ہے رچرڈ مورن نے 1982 میں یونیورسٹی آف مونٹریال سے اکنامکس میں بیچلزر اور 1988 میں میک گیل یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریش میں ماسٹرز کیا تھا۔انہوں نے 1984 میں ‘ کینیڈین سیکیوریٹیز کورس’ اور 2000 میں کینیڈیں سیکوریٹز انسٹیٹیوٹ سے ‘ پارٹنرز، ڈائریکٹرز اور آفیسرز ‘ کا امتحان بھی پاس کیا تھا انہوں نے ‘ چیف کمپلائنس آفیسر’ کا امتحان پاس کیا ہے۔رچرڈ مورن شیر بروک یونیورسٹی میں لیکچرار بھی رہے جہاں انہوں نے ‘ گریجویٹ فنانس پروگرام ‘ کے تحت کیپٹل مارکیٹ اسٹرکچر کا مضمون پڑھایا تھا۔مونٹریال ایکسچینج میں 1984 سے 1995 کے دوران وہ وائس پریذیڈنٹ، ڈیریویٹوز پروڈکٹس، ڈائریکٹر مارکیٹ کوالٹی، ڈائریکٹر مارکیٹ ڈیولپمنٹ اور لسٹنگ آفیسر کے عہدوں پر رہے۔انہوں نے دو سال تک موریشس کے اسٹاک ایکسچینج کی سربراہی کی، وہ اسٹریٹجک پلان ترتیب دینے کے لیے 1998 سے 1999 تک مغربی افریقا کی ریجنل اسٹاک کے چیف آف مشن کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔وہ 1999 سے 2001 تک نیشنل بینک سیکوریٹیز کے وائس پریذیڈنٹ بھی رہے جہاں وہ 5 ارب ڈالر کے اثاثوں کے انتظامات سنبھالتے تھے۔2002 میں وہ لینڈری مورن کمپنی کے شریک بانی بنے جو نجی اور اداروں کے صارفین کو سرمایہ کاری سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے۔رچرڈ مورن 2013 سے 2015 تک انویسٹمنٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن آف کینیڈا (آئی آئی اے سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔2015 میں انہوں نے آرچر ویلتھ منیجمنٹ قائم کی تھی اور اس کے سی ای او اور سی سی او کے فرائض سرانجام دیے۔

Share this: