عید گاہِ ماغریباں کوئے تو

ابوسعدی

خواجہ حسن نظامی دہلوی
عید کے چاند نے کہا: مجھ کو دیکھو۔ مدنی محبوب کے ابروکا خم اسی شکل کا تھا۔ آسمانی کنارے کی شفق بولی: رخسار کی رنگت دیکھنی ہو تو مجھ پر نظر ڈالو۔ اس میں کچھ اسی قسم کا روپ تھا۔ سامنے تاریکی دوڑ کر آئی اور شرما کر کہنے لگی: گیسو کچھ مجھ سے ملتے جلتے تھے۔
شام کے منظر اپنی کہہ چکے تو صبح کا نور چمکا اور زبانِ شعاعی میں گویا ہوا: اپنی تجلی کی قسم، روئے محمدؐ کا میں آئینہ ہوں۔ اس کی زبان درازی بجلی کی طرح گری، وجود عشق باز بیتاب ہوگیا اور کلیجہ تھام کر عیدگاہ کی طرف چلنے لگا۔ وہاں کچھ سائل تھے، کچھ مسئول تھے۔ کچھ اجلے تھے، کچھ میلے تھے۔ آنکھ نے کہا غریبوں کی یہ عیدگاہ نہیں ہے۔ دل نے کہا نماز کا مقام تو یہی ہے، تو اگر نیاز کی عیدگاہ تلاش کرتی ہے تو حجاز میں جا۔ یثرب کو دیکھ، چند پیچیدہ گلیاں نظر آئیں گی۔ ان کی دیواروں پر راز نیاز کے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوجائے گا کہ مقصود کہاں دستیاب ہوتا ہے۔
غریبوں کی عیدگاہ مہربان ہوئی اور اس کے امام نے جھک کر گلے لگانا چاہا۔ مگر مشتاق سینہ نے کہاکہ نیازمندی کا ناز قدموں سے ملنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ مجال نہیں کہ سرکار کے سینہ تک بڑھنے کی جرأت کرے۔ یہ ادب پسند کیا گیا اور ارشاد ہوا کہ دیوانو! یہ قدم ہمیشہ تمہارے رہیں گے۔ تم کو عید مبارک۔

بے قرار نے جواب دیا
عیدگاہِ ما غریباں کوئے تو
انبساط عید دیدن روئے تو

غریب کی عید

عید اگرچہ ایسا دن ہے کہ ہر چھوٹا بڑا، امیر غریب اپنی حیثیت اور بساط کے موافق حصہ لیتا ہے۔ مگر جو سچا اثر عید کی خوشی کا غریبوں پر ہوتا ہے اس سے امیر محروم رہ جاتے ہیں۔ دولت مند لوگوں کے یہاں تو ہر روز عید اور ہر رات شب برأت ہے۔ عید کے دن اس پر اور اضافہ ہوجاتا ہے، ان کو خبر بھی نہیںکہ آج کے دن کے لیے حضرت رسول مقبولؐ نے کیاکیا ارشاد فرمایا ہے اور امیروں کو اپنے غریب بھائیوں کی اعانت و مدد کرنے کی کیسی کیسی تاکید کی ہے۔ اور تو اور یہ لوگ نمازِ عید کی بھی پروا نہیں کرتے ہیں۔ غربا اپنے اس قومی و دینی تہوار کو جی کھول کر مناتے ہیں، نئے کپڑے میسر نہ آئیں تو پرانے ہی دھلوا کر پہن لیتے اور عیدگاہ میں جاکر اپنے پروردگار کا دوگانہ شکر ادا کرتے ہیں۔
آج کا دن اس غریب گھر میں جس کا وارث نہ رہا ہو، قیامت کا دن ہے۔ غریب بیوہ اپنے یتیم بچوں کو نہلا دھلا کر اور پیوند لگے کپڑے پہنا کر عیدگاہ بھیجنا چاہتی ہے، مگر کوئی نہیں ملتا جس کی انگلی پکڑ کر یہ بے وارثے عیدگاہ جائیں۔
جب وہ بیچاری دیکھتی ہے کہ گھر والے کی زندگی میں آج کے دن یہ بچے نئی جوتیاں پہن کر اور چمکتی ہوئی کامدار ٹوپیاں اوڑھ کر عیدگاہ جاتے تھے اور آج ان کے پائوں میں پھٹی ہوئی جوتیاں بھی نہیں اور سر پر کامدار چھوڑ سفید نئی ٹوپیاں بھی نصیب نہیں تو اس کے کلیجے پر سانپ سا لوٹ جاتا ہے، وہ روتی ہے، تو یہ نادان بچے پوچھتے ہیں: اماں تم کیوں روتی ہو؟ اچھا بتائو کیا ہوا؟ تو وہ غریب آنسو پی کر رہ جاتی ہے اور ان معصوموں کا دل میلا نہیںکرنا چاہتی۔
جب یہ بچے کسی پڑوسی کے ساتھ عیدگاہ جاتے ہیں اور واپسی کے وقت پڑوسی کے بچوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بازار سے کھلونے اور مٹھائیاں خرید رہے ہیں اور باپ سے پیسے لیتے جاتے ہیں، تو یہ ہر شخص کا منہ تکتے ہیں مگر کچھ کہہ نہیں سکتے۔ گویا ان بھولی اور بے بس آنکھوں سے کہتے ہیں کہ ہم کس سے مانگیں اور کون ہم کو کھلونے دلوائے؟
ہر شہر اور محلے میں ایسے غریب ہیں، جن کی عید میں یہ دلخراش نظارے پیش آتے ہیں۔ مگر ہماری آنکھیں بے نور ہیں، ہمارے دل بے حس ہیں، جو اس کی پروا نہیں کرتے اور اپنی خوشی میں مشغول رہتے ہیں۔
اگر تم اس دنیا کی تکلیف دہ زندگی کا مطالعہ کرنا چاہتے ہو، اگر تم کو خواہش ہے کہ اپنے دل کو ہستی موہوم کا اور اس کے نشیب و فراز کا تماش دکھانا ہے تو آج کے دن غریب گھروں میں عید کا جلوہ دیکھو۔
(مرتبہ: ایم۔جی رحمن فارغؔ کلکتوی۔ ’’عید کا چاند عرف دریائے نشاط(‘‘

ملاقاتِ عید

ازنتیجہ فکر حضرت امیر مینائی مرحوم و مغفور

 

آنکھیں ہیں اور لطف ہے اب اس کی دید کا

برسوں جو آفتاب رہا چاند عید کا
پیری میں مجھ سے خنجر قاتل گلے ملا

دیکھا ہے چاند تیری تاریخ عید کا
اس غمکدے میں کٹ گئی یوں اپنی زندگی

قیدی پہ جیسے روز گزر جائے عید کا
اتراتے ہیں جو لوگ بدل کر لباسِ نو

ہنستا ہے چاک پیرہن روز عید کا
باطن میں غم ہے عشرتِ دنیائے ظاہری

پہنے ہوئے لباس محرّم ہے عید کا
ہونے نہ پائے غیر بغلگیر یار سے

اللہ! یوں ہی روز گزر جائے عید کا
اُٹھ اُٹھ کے بیٹھنے سے ہوئے کشتہ ہم امیرؔ
خنجر پھر اگلے پہ ملاقات عید کا

Share this: