غصّہ صحت کے لیے خطرناک ہے

پروفیسر آف فزیکل میڈیسن اور ری ہیبلی ٹیشن ڈاکٹر نبیلہ سومرو سے تبادلۂ خیال

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن ری ہیبلی ٹیشن ڈائو میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ سومرو کا نام ری ہیبلی ٹیشن کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ذہنی و جسمانی معذور آپ کی خدمات کی بدولت آج معاشرے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ دنوں ڈاکٹر نبیلہ سومرو سے ان کے پیشے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جو افادۂ عام کے لیے شایع کیا جارہا ہے۔

سوال: پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ بلڈ پریشر، شوگر اور اس جیسے کئی امراض میں مبتلا ہیں، آپ کیا سمجھتی ہیں یہ بیماریاں زیادہ ہوکر فالج اور دل کی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ سومرو: پاکستان میں فالج ہو یا دل کا دورہ… یہ عروج پر ہیں۔ ہم اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے آٹھ عوامل ہیں جو ان دو بڑی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں: سونے کے اوقات اور اس کا دورانیہ، کمر کا بڑھا ہوا سائز، نامناسب غذا، آپ کا مزاج، تمباکو نوشی۔ یہ تمام چیزیں دل کے دورے اور فالج کی طرف لے جاتی ہیں، اور ان عوامل سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کو آئندہ دل کے امراض اور فالج کے کتنے چانس ہیں۔ ایک لفظ ہے میٹابولک سنڈروم(Metabolic Syndrome)، اس میں اگر آپ کو تین چار چیزیں ایک ساتھ ہیں تو آپ زیادہ خطرے میں ہیں۔ اگر آپ کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے،آپ کو شوگر بھی ہے اور آپ موٹاپے کا بھی شکار ہیں تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ موٹاپے کو اس لیے بھی اس حوالے سے زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ موٹاپا خود بہت بڑی بیماری ہے جس سے کئی امراض جنم لیتے ہیں، جن میں دل کے امراض، فالج اور بادی امراض سمیت کئی چیزیں ہیں۔ سنڈروم سے مراد ہے ایک ہی شخص میں کئی امراض یکجا ہوجائیں۔ ہمارے ملک میں ان امراض میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ تو ان کا باعث بننے والے عوامل میں سے سب سے پہلے بلڈ پریشر کی بات کرتے ہیں۔ اس بیماری میں اضافے کا باعث ہماری نامناسب غذا ہے جس میں چٹنیاں، اچار، ہوٹل کا کھانا اور نمک مرچ کا کثرت سے استعمال ہے۔ بعض لوگ ہر چیز پر نمک اور مسالہ ڈال کر کھاتے ہیں چاہے فروٹ ہو، کھانا ہو، چاٹ ہو۔ اس سے جسم میں سوڈیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سوڈیم ان ٹیک جتنا بڑھے گا، بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ کے کھانے میں جتنی زیادہ چکنائی ہوگی، آپ کی آرٹریز ہارڈ ہوں گی اور آپ کا بلڈپریشر بڑھے گا، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ چکنائی کے استعمال میں کس قدر بے پروا ہیں۔ شادی کے کھانوں سے لے کر گھر میں تیار ہونے والے کھانوں تک ہر جگہ اس میں خاصی بے احتیاطی برتی جاتی ہے، کیونکہ ہمارے دن کا آغاز ہی گھر میں پراٹھوں سے ہوتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں شوگر سے متعلق۔ اگر آپ کی شوگر بڑھی ہوئی ہے تو دیکھیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ جسم کے ہارمونز میں جو انسولین بڑھتی ہے اس کی کمی کی وجہ سے شوگر بڑھتی ہے جو بچپن سے بن رہی ہوتی ہے، اور اس کی پیداوار کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ فزیکل سرگرمی درکار ہوتی ہے۔ موبائل فون اور کمپیوٹر کے استعمال کے باعث بچے، جوان، بوڑھے سب منجمد ہوکر رہ گئے ہیں۔ شوگر جو بھی آپ اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تو انسولین کم بن رہی ہے، کیونکہ بچپن سے فزیکل سرگرمی کم ہے، وزن بڑھا ہوا ہے، اور دوسری بات اس شوگر کو استعمال بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ کھانے پینے کے بعد لوگ دفاتر میں اور بچے اسکولوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ پہلے بچے بسوں کا استعمال کرتے تھے یا پیدل اسکول جاتے تھے ۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ گھر سے گاڑی یا وین میں بیٹھے، اسکول گئے، اور وہاںاسکول سے گاڑی یا وین میں بیٹھ کر گھر آگئے۔ بچوں کا گلیوں میں آپس میں کھیلنا ختم ہوگیا ہے۔ اب آجائیں کولیسٹرول پر۔ کولیسٹرول اس لیے بڑھ رہا ہے کہ چکنائی کھا تو رہے ہیں لیکن اس کوکنزیوم نہیں کررہے، جس طرح شوگر استعمال کررہے ہیں مگر کنزیوم نہیں کررہے ہیں۔ اور خدا کا نظام ایسا ہے کہ جو بھی اضافی شوگر استعمال کی جاتی ہے وہ موٹاپے کی صورت میں جسم میں جمع ہوجاتی ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق نیند پانچ گھنٹے سے کم نہ ہو اور سات گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔ اور نیند ہمیشہ رات کے وقت میں ہو۔ یعنی سورج غروب ہوتے ہی اگر نہیں سو سکتے تو دس سے گیارہ بجے کے دوران سو جائیں۔ جبکہ اُس وقت تو ہمارے ہاں بیشتر تقاریب شروع ہوتی ہیں۔ ہم گھر آتے ہیں اسی وقت، اور ٹی وی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کمر کے سائز کا پیمانہ مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ ہے۔ مردوں میں 32 تا 34 انچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اور عورتوں میں 28 تا 30 انچ ۔ اور جتنے بھی انچ اضافہ کمر میں ہورہا ہے یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اسی تناسب سے آپ کی رگوں میں چربی بڑھ رہی ہے چاہے وہ دماغ کی ہوں یا دل کی۔ دماغ میں اگر جمع ہورہی ہے تو خون کی روانی متاثر ہوگی اور فالج کا باعث بنے گی، جبکہ دل میں جمع ہورہی ہے تو دل کی بیماریوں کا باعث بنے گی، حتیٰ کہ ہارٹ اٹیک کا سبب بھی ہوسکتی ہے۔ جتنا آپ کی طبیعت میں غصہ ہوگا، جتنا آپ منفی سوچیں گے، جتنا آپ پریشانی مول لیں گے، جتنا آپ چیخیں گے چلاّئیں گے، اِس سے ناراض اُس سے خوش نہیں، ہر شخص میں برائی تلاش کریں گے، اتنے ہی آپ کے جسم میں پیدا ہونے والے ہارمونز جو آپ کو متحرک رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور آپ کو ڈپریشن سے بچاتے ہیں، وہ کم ہوتے جائیں گے۔ تو مزاج میں تیزی بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آپ کو دل کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ پہلے ہم کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور شوگر سے متعلق ہی جائزہ لیا کرتے تھے، لیکن اب دس سال کی تحقیقات کے بعد یہ علامت دیگر علامات سے زیادہ اہمیت حاصل کرگئی ہے۔ جیسے آپ کی شخصیت ہے، کمر کا سائز ہے، نیند کا دورانیہ ہے، یہ چیزیں ہارٹ اٹیک اور فالج کے اسباب میں سرفہرست آگئی ہیں ۔ ساتویں چیز ہے آپ کی غذا۔ غذا انتہائی مناسب استعمال کرنی چاہیے جس میں سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ مٹھی بھر خشک میوے کا استعمال مناسب ہے بہ نسبت گھی، گوشت، مرغی، مچھلی کے۔ ہاں گوشت ہفتے میں ایک بار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ گوشت میں چربی زیادہ نہ ہو۔ مچھلی کا بھی خیال رکھیں کہ صحت مند ہو۔ چونکہ سمندری آلودگی کے باعث یا فارم کی مچھلیوں میں ناقص خوراک اور افزائش کے باعث ان کی صحت بھی مشکوک ہے۔ جیسے پہلے وقت میں گھر پر مرغیاں پالی جاتی تھیں جن کی خوراک مناسب ہوتی تھی۔ فارم کی مرغیوں کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ ان کی غذا کیا ہے، ان کے ہارمونز کیسے ہیں۔ لیکن مناسب یہی ہے کہ آپ کا جو کھانا ہو وہ قدرتی ہو، اس میں کیمیکل کی آمیزش نہ ہو۔کینولا یا زیتون اور مونگ پھلی کا تیل صحت کے لیے بہتر ہیں۔ اس کے علاوہ سرسوں اوردیگر سبزیوں کا تیل بھی مناسب ہے۔ بناسپتی گھی اور دیگر سے اجتناب ضروری ہے۔ نسوار، پان پراگ، گٹکا، شیشہ اور گانجا کے بے جا استعمال کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی فالج کی شرح میں اضافے کا سبب ہیں۔ دماغی، اعصابی امراض کو بھی نظرانداز کرنا فالج کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، مالی مسائل کے سبب بھی لوگوں میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوکر فالج کا مریض بننے کا امکان موجود رہتا ہے۔ آٹھویں چیز سگریٹ نوشی اور تمباکو خوری ہے۔ سگریٹ اور تمباکو کا استعمال بھی بہت بڑی وجہ ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا 50 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے، اور 30 فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے۔
یہ بنیادی آٹھ چیزیں ہیں، لیکن اس کے علاوہ فیملی سے بھی آتا ہے، اور اب تو یہ تحقیق ہے کہ جو بچے پیدائشی موٹے یا ان کے ماں باپ کی خوراک اچھی نہیں ہوتی، ان بچوں کی خون کی رگوں میں پیدائشی چربی ہوتی ہے۔ اب تو یہ فکر میں ہیں کہ ان کے اسکولوں اور کالجوں میں ورزش کرائی جائے۔
سوال:کیا ہمارے لائف اسٹائل کا ٹھیک نہ ہونا فالج جیسی بیماری کی طرف لے جاسکتا ہے؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: فالج تب ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کی رگیں بلاک ہوجاتی ہیں۔ دل کی بیماریاں یا ہارٹ اٹیک تب ہوتا ہے جب آپ کے دل کی رگیں بلاک ہوجاتی ہیں۔ جب دل کی رگیں بلاک ہوتی ہیں اور دل کی دھڑکن چند لمحوں کے لیے بھی حرکت کرنا بند کردے تو وہاں لوتھڑے بن جاتے ہیں، وہ بھی دماغ تک پہنچ کر فالج کا باعث بن سکتے ہیں جس کو Atrial Fibrillationکہتے ہیں۔یہ دونوں آپس میں منسلک ہیں اور دونوں میں مماثلت ایک ہی ہے کہ خون کی روانی متاثر ہوجائے۔ دل اور دماغ سے متعلق جتنی بھی بیماریاں ہیں اس سے بچائو کے لیے درج بالا علامات کا ہی خیال رکھنا ضروری ہے۔
سوال:آپ نے ذکر کیا کہ ہمارے رویّے، ہمارا تیز بولنا یا ردِعمل… یہ بھی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کا تناسب کیا ہے ان بیماریوں کے پھیلائو میں؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: اس کا ذکر اسی لیے کیا ہے کہ یہ بہت بڑی وجہ ہے۔ کوئی الکوحل کا استعمال کرے تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟ کتنا برا لگتا ہے ہمیں! اسی طرح سے غصہ بھی حرام ہے، اس کی طرف ہم دیکھتے ہی نہیں ہیں۔ آپ اپنے اردگرد کے ماحول میں دیکھ لیں کہ لوگوں میں غصے کا عنصر کتنا عام ہوتا جارہا ہے۔ لیکن اس جانب کوئی نہیں دیکھتا، نہ ہی اسے کوئی محسوس کرتا ہے اور نہ ہی غصہ کرنے والے کو کوئی روکتا ہے۔
سوال: غذا سے متعلق تو آپ نے بتادیا کہ تیل استعمال کریں اور دیگر غذائیں۔ مگر غصے سے بچنے کے لیے انسان کیا کرے؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو:۔ غصے سے بچنے کے بہت سارے طریقے تو اللہ تعالیٰ نے ہی بتائے ہوئے ہیں کہ جو چیز آپ کے پاس ہے اسی پر صبر شکرکریں۔ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھیں۔ جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں ان کو نہ دیکھیں، بلکہ اُن کو دیکھیں جن کے پاس وہ نعمتیں بھی نہیں جو آپ کو میسر ہیں۔ جب غصہ آئے تو گہری سانس لیں، بیٹھ جائیں، وضو کرلیں،کلمہ پڑھ لیں۔ جو بھی آپ کرسکتے ہیں غصہ کم کرنے کے لیے وہ عمل اختیار کریں اور اس جگہ سے ہٹ جائیں۔ غصے سے بچنے کے لیے بہت سے عمل مذہب نے ہی بتادیے ہیں لیکن ہم سب بھول چکے ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ زندگی میں مطمئن تب ہی ہوں گے جب آپ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا مزاج یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے لیے کوئی کیا کررہا ہے؟ ہم کو کیا مل رہا ہے؟ ہمارے پاس یہ بھی ہو، یہ بھی ہو۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تو سب خدا نے ہمیں دیا ہے، ہمیں بھی آگے کچھ دینا ہے۔ ہم جب رات کو سوتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ آج مجھے کیا ملا اور کیا نہیں ملا۔ جبکہ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ آج ہم نے کسی کو کیا دیا۔ ہمارے ہاں معافی مانگنے کا بھی رواج نہیں ہے کہ اگر آپ کو احساس ہوجائے کہ آپ سے کہیں زیادتی ہوئی ہے اُس وقت آپ کو سمجھ نہیں آیا تو بعد میں آپ اس سے کہہ دیں کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ ہمارے ماں باپ، بھائی بہن، ساتھ کام کرنے والے، ہمارے ماتحت آپ کو کچھ کہہ دیتے ہیں تو آپ کو غصہ آجاتا ہے۔ پہلے بڑے بزرگ بچوں کو سمجھایا کرتے تھے اور بچوں کی ذہن سازی ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب تو شاگرد استاد کی نہیں سنتے۔ ایک عمومی معاشرہ ایسا ہی ہوگیا ہے۔ انفرادی طور پر اگر اپنا اپنا جائزہ لیں تو جس چیز یعنی غصے کو باقاعدہ طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اس کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ ٹھیک ہے ہم انسان ہیں، کبھی کبھار غصہ آبھی جاتا ہے کسی بات پر۔ لیکن اس چیز کا بھی اندازہ کریں کہ غصے سے آپ کی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس طرح بڑھی ہوئی شوگر، بڑھا ہوا بلڈ پریشر یا بڑھے ہوئے کولیسٹرول سے پڑتے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹروں کا بھی دھیان ان ہی تین چیزوں کی طرف ہے کیونکہ چیک کرایا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر ہائی ہے، کولیسٹرول لیول بڑھا ہوا ہے، مگر رویّے کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
سوال: غصے اور منفی شخصیت کے مردوں اور عورتوں میں تناسب کی کیا شرح ہے، اور تناسب اگر کسی میں زیادہ ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ سومرو: مردوں کے مقابلے میں خواتین قدرے نرم مزاج کی حامل ہوتی ہیں، ان میں برداشت اور صبر کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ مردوں نے فزیکل ایکسرسائز (جسمانی ورزش) کم کردی ہے۔
سوال :کیا فالج کی علامات کو آسانی سے شناخت کیا جا سکتا ہے ؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: فالج کی چند علامات ہیں جو سب کو معلوم ہونی چاہئیں۔ جسم کے کسی بھی آدھے حصے کا دائیں ہو یا بائیں، آپ کو لگے کہ وہ کمزور ہے، اسے آپ استعمال نہیں کرپارہے۔ آدھے حصے کی نہ بھی ہو، صرف ٹانگ یا ہاتھ کی حرکت متاثر ہو۔ منہ کا ایک طرف مڑ جانا۔ بولنے میں لڑکھڑاہٹ یا نگلنے میں دقت پیش آرہی ہو، یا اس قسم کی علامات چار گھنٹے، دو گھنٹے، ایک گھنٹہ یا صرف چند منٹ کے لیے بھی ہوں اور پھر غائب ہوجائیں، یا اسی طرح کچھ دیر کے لیے یادداشت متاثر ہوجائے، یا جسم کے ایک سمت میں محسوس کرنے کی صلاحیت متاثر ہوجائے۔ ابھی ایک کیس ہوا ہمارے کولیگ کے ساتھ، ان کو فالج کا اٹیک ہوا جبکہ نہ ان کو شوگر ہے، نہ کولیسٹرول اور نہ ہی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے، نہ وہ غصے والے ہیں، لیکن ایک دن دفتر میں دیکھا اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ ایسے میں معمولاتِ زندگی کو دیکھنا پڑے گا… لائف اسٹائل کیا ہے، پیدل کتنا چلتے ہیں، عمر کتنی ہے، تمباکو نوشی تو نہیں کرتے؟ اس کے علاوہ موروثی طور پر بھی فالج ہوسکتا ہے۔ بلکہ ایک تحقیق کے مطابق جو بچے پیدائشی طور پر موٹے ہیں یا ان کے والدین کی خوراک اچھی نہیں ہے تو ان پیدا ہونے والے بچوں کے خون میں بھی چربی موجود ہونے سے ان میں فالج کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمارے اسکولوں کی کینٹین میں آپ دیکھیں، کتنی فرائی چیزیں مل رہی ہیں۔ کہیں پھل ملتا ہے؟ تلے ہوئے سموسے، تلے ہوئے رول، چپس۔ یہ تمام اشیاء کولیسٹرول بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ تمام Fat Trans ہیں جو آسانی سے ڈپوزٹ ہوجاتے ہیں۔ ہر چیز جو ڈبے میں بند ہے، پیکٹ میں بند ہے چاہے وہ دودھ ہو، چپس ہو‘ فروزن کھانا ہو… اور فروزن کھانے کی تو مارکیٹ میں بہتات ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں میں بچوں کی ورزش کا اہتمام کیا جائے اور کینٹین میں صحت بخش کھانا فراہم کیا جائے۔ جتنی چیز میٹھی ہوگی، اس میں فائبر کم ہوگا اور ٹرانس فیٹس زیادہ ہوں گے، اتنی ہی رگوں میں خون کی روانی متاثر ہوگی۔ ہمارا پورا معاشرہ اس وقت پیکٹ کے کھانوں پر چل رہا ہے۔
سوال:آپ کا اہم کام ذہنی و جسمانی مریضوں کی بحالی ہے۔ اگر ایک شخص کو فالج ہوگیا ہے، اس کی بحالی کے کتنے امکانات ہوتے ہیں؟ اور مریض و گھر والوں کو کیا کرنا چاہیے؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: جب فالج ہوجاتا ہے تو علاج میں دو تین چیزیں ہیں۔ ایک تو دوائیں جو معالج تجویز کرتے ہیں۔ دوسرے بحالی جو فزیشنز کرتے ہیں، اور تیسرے نمبر پر جراحی اگر ضرورت ہو۔ میڈیکل مینجمنٹ نیورولوجسٹ بہت اچھی طرح بتا سکتے ہیں، میں ری ہیب مینجمنٹ پر بات کروں کہ اس میں تین ری ہیب میڈیسن کے ڈاکٹر کرتے ہیں۔ مریض کا علاج شروع ہونے کے بعد تقریباً ایک ہفتے کے اندر اندر نیورولوجسٹ فزیاٹرس کو معالجے کی ٹیم میں شامل کرلیتا ہے کہ اگر مریض کے جبڑے میں کسی قسم کی کمزوری ہے یا چہرے پر مرض کے باعث اثر ہوا ہے تو فزیاٹرس جائزہ لے کر ٹیم بناتا ہے جو اس مریض کا علاج کرتی ہے۔ اس ٹیم کے ممبرز میں آکوپیشنل تھراپسٹ جو فالج کے مریض کے ہاتھ پر کام کرتے ہیں کہ مرض کے باعث ہاتھوں کی کھوئی ہوئی طاقت کیسے بحال ہو، اور فالج کے اس مریض کو آگاہی فراہم کرتے ہیں روزانہ کہ کام کاج کیسے کرنے ہیں۔ فزیو تھراپسٹ طاقت کی بحالی پر کام کرتا ہے۔ کندھوں کی طاقت، کندھوں میں درد، پیروں میں کمزوری… اس طاقت کی بحالی کا کام اس کی ذمہ داری ہے۔ تیسرے نمبر پر لینگویج اینڈ سولونگ پیتھالوجسٹ جسے ہم اسپیچ تھراپسٹ بھی کہتے ہیں کہ اگر خوراک کے نگلنے یا بولنے میں مسئلہ ہے تو وہ اس حوالے سے مریض کے علاج میں مدد کرتا ہے۔ فزیاٹرس اپنا جائزہ لینے کے بعد نیوروسائیکالوجسٹ کو آگاہ کرتا ہے۔ مریض کا اگر بائیں جانب متاثر ہے تو مریض کی یادداشت، چیزوں کے بارے میں اندازہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کتنی متاثر ہوئی ہے، اور اس میں آکوپیشن تھراپسٹ مل کر اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ فالج کے مریض کے علاج میں مرض کے فوراً بعد ایک ہفتے کے اندر اندر فزیاٹرس سے رابطہ ضروری ہے تاکہ مریض جلد صحت یاب ہوسکے۔
سوال: بچوں میں نفسیاتی امراض تیزی سے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اس عمر میں بھی بچے کیوں ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ سومرو:بچے کے ڈپریشن میں آنے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جیسے ہی بچے میں آپ کو ایسی کوئی علامت نظر آئے، آپ اپنے قریبی معالج سے فوری طور پر رجوع کریں۔ ایک تو بچوں میں جسمانی ورزش نہیں، بچوں کا کھانا پینا غلط ہے، جو بھی خاندان میں مسائل ماں باپ کے درمیان ہیں اُن کا پریشر بچے پر پڑتا ہے۔ ماحول کا اثر ہے، احساسِ محرومی ہے، ابتدائی عمر میں بچوں کو برداشت، صبر، شکر کرنا سکھایا نہیں جاتا۔ آج ایک اجتماعی خاندان کی نوعیت بدل گئی ہے۔ خواتین چاہتی ہیں کہ ہم بچوں کو الگ رکھیں۔ دادی، نانی، پھوپھی نہ ہوں۔ خواتین (ماں) کے بھی ایسا سوچنے کی کوئی وجہ ہے۔ اگر آپ اسے تسلیم کریں گے اور بچوں کو پیار محبت دیں گے تو وہ بھی الگ نہیں ہونا چاہیں گی۔ دونوں جانب سے اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ بچے کو جتنا پیار اور تحفظ ملے گا اتنا ہی وہ پُراعتماد ہوگا اور اس میں تنائو کم ہوگا۔
سوال:آپ کا ادارہ اس سلسلے میں کیا اور کس طرح کام کررہا ہے؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن ری ہیبلی ٹیشن واحد ادارہ ہے جو ڈائو میڈیکل کے تحت تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کررہا ہے، اور میری اپیل ہے کہ ایسی سہولیات پاکستان کے ہر اسپتال میں ہوں، کیونکہ فالج کے مریض کے لیے خاصی مشکلات ہیں اور ہمارے لیے بھی مشکل ہے کہ ایک ادارہ تمام مریضوں کی دیکھ بھال کرے۔ اور فالج کا مریض اگر ہم سے پچاس یا پچیس میل دور رہتا ہے تو آپ سوچیے کہ مریض کے تیمارداروں اور گھر والوں پر کتنا اضافی بوجھ ہے مریض کو اسپتال تک لانے لے جانے کا۔ کیونکہ ہمارے پاس ٹرانسپورٹ فری نہیں ہے۔ ہم 2007ء سے 2018ء تک 246552مریضوں کی بحالی یا ان کا علاج کرچکے ہیں۔
سوال: اس حوالے سے حکومت آپ کے خیال میں کیا کرسکتی ہے؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: حکومت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن جن کالجوں اور اداروں کی نگرانی کررہے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ وہاں اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ایسی سہولیات وہاں فراہم کی جائیں تاکہ جس بھی علاقے میں مریض ہوں انہیں اپنے علاقوں میں سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
سوال:کس قسم کی معذوری کے لوگ آپ کے پاس آتے ہیں؟
پروفیسرڈاکٹر نبیلہ سومرو: ہمارے پاس وہ لوگ آتے ہیں جن کے ہاتھ اور پائوں کٹ جاتے ہیں۔ فالج، پولیو کے مریض، جن کو اعصابی کمزوری یا معذوری ہو۔ اسپیشل بچے جن کو سی پی بھی کہتے ہیں۔ ڈرائون سنڈروم کے بچے، آٹزم کے بچے، وہ لوگ جو دل اور پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کی ری ہیب ہوتی ہے۔ جن کو کمر درد، جوڑوں میں درد ہے، یا جوڑوں کی تبدیلی کرائی ہوئی ہے، ہمارے ادارے میں ہر قسم کی معذوری اورہر قسم کے درد کی صورت میں مریض کو طبی امداد فراہم کی جاتی ہے اور علاج معالجہ کی سہولیات دی جاتی ہیں۔
سوال:۔آٹزم کے شکار جو بچے ہیں ان کے والدین کو آپ کیا مشورہ دیں گی؟
ڈاکٹر نبیلہ سومرو:کچھ علامات ہوتی ہیں اور ہر کمیونٹی میں بہت ضروری ہے کہ ہر ماں باپ کو، ڈاکٹر کو، اسکول ٹیچر کو معلومات ہونی چاہئیں، اور آٹزم کا نگرانی کا ایک پورا پروگرام ہے جو بچوں اور ماں باپ کو اس ادارے میں دیا جاتا ہے، اور پھر اس پروگرام میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ وہ کس درجے میں ہیں۔ ابتدائی ہیں، درمیانے درجے میں ہیں یا انتہائی ہیں، اور اسی حوالے سے ان کا پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے۔ ہمارے ادارے میں بھی اس کی سہولت موجود ہے، لیکن جگہ کی کمی اورکچھ دشواریاں لاحق ہونے کے باعث سندھ حکومت نے ایک بہت بڑا ادارہ بنایا ہےCenter of Autism Rehabilitation & Training (C-ART) کے نام سے، جو گلستان جوہر میں واقع ہے۔ ہمارے ادارے میں جن بچوں کو طبی سہولیات حاصل نہیں ہوسکتیں وہاں اُن کے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ ان کو تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں کوئی ہنر بھی سکھایا جاتا ہے، اور اس قابل بنایا جاتا ہے کہ نارمل یا اسپیشل اسکول میں جاسکیں، یا جس بھی ہنر کی اہلیت رکھتے ہیں اس کے ذریعے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ بہت سارے بچے بحال ہوجاتے ہیں، اپنا کام خود کرسکتے ہیں، ماں باپ پر بوجھ نہیں بنتے۔
سوال:کس عمر کے بچے آپ کے پاس آسکتے ہیں؟
ڈاکٹر نبیلہ سومرو: عمروں کی درجہ بندی اس لحاظ سے ہے کہ پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے بچے، پانچ سے دس، اور پھر بڑے بچوں کا پروگرام وہاں موجود ہے۔

Share this: