کلام اقبال : اے پیر حرم

اے پیر حرم رسم و رہِ خانقہی چھوڑ
مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دے ان کو سبق خود شکنی، خود نگری کا
تُو ان کو سکھا خارہ شگافی کے طریقے
مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ اس کی پریشاں نظری کا
کہہ جاتا ہوں میں زورِ جنوں میں ترے اسرار
مجھ کو بھی صلہ دے مری آشفتہ سری کا

خودشکنی: لفظی معنی اپنے آپ کو توڑنا۔ مراد یہ ہے کہ انسان کبر و غرور سے پاک ہوجائے اور اپنے آپ کو شریعت کا پابند بنالے۔ خود نگری: اپنے آپ کو دیکھنا۔ یعنی اپنی حقیقت پہچاننا۔ خارا شگافی: سخت پتھر میں سوراخ کرنا۔ آشفتہ سری: لفظی معنی پریشان خیالی اور جنون۔ یہاں وہ جنون مراد ہے جو کمالِ عشق و شیفتگی کا نتیجہ ہو۔
(1)اے حرم کے پیر یعنی اے مسلمانوں کے رہنمائو! خواہ وہ عالم ہوں یا صوفی، آپ حضرات کو خانقاہوں کے طور طریقے چھوڑ دینے چاہئیں اور میری زبان سے صبح کے وقت جو نوائیں نکل رہی ہیں، ان کا مقصد سمجھنا چاہیے۔ یعنی میں شعروں میں جو حقیقتیں بیان کررہا ہوں، وہ خاص غور و فکر کی محتاج ہیں۔
(2)جن نوجوانوں کی رہنمائی خدا نے آپ کو عطا کر رکھی ہے، میری دعا ہے کہ وہ سلامت رہیں۔ آپ حضرات کو چاہیے کہ انہیں خود شکنی اور خود نگری کا سبق دیں، یعنی وہ آوارگی اور خودرائی چھوڑیں، کبر و غرور سے کنارہ کشی اختیار کرلیں، اپنے آپ کو پابندِ شریعت بنائیں، اپنا بلند مقام پہچانیں اور اپنی گراں بہا ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔
(3) یورپی تہذیب نے انہیں شیشہ گری کا فن سکھا دیا، یعنی ان میں عیاری و مکاری آگئی اور روحِ اخلاص باقی نہ رہی۔ آپ انہیں سخت پتھروں میں سوراخ کرنے کے طریقے سکھائیں۔
(4)دو صدیوں کی غلامی نے ان کا دل توڑ دیا اور ان کی نگاہوں میں پریشانی پیدا ہوچکی ہے۔ یعنی ان کے سامنے نہ پختہ مقاصد ہیں اور نہ ان کے لیے استقلال سے کوشش کرسکتے ہیں۔ اس پریشانی کا علاج ہونا چاہیے۔
آخری شعر میں نظر بظاہر خدا سے خطاب ہے۔ کہتے ہیں کہ میں تیرے عشق کے جوش میں بھید ظاہر کرجاتا ہوں۔ مجھے بھی اس عشق و شیفتگی کا صلہ اور انعام عطا ہو۔

Share this: