وائی فائی کو متاثر کرنے والی گھر کی اشیاء

دھاتی سطح اور فرنیچر؛دھاتی یا میٹل سطح کنڈکٹر ہوتی ہے یعنی بجلی جذب کرسکتی ہیں، اب وائی فائی الیکٹرو میگنیٹک (برقی مقناطیسی) لہریں خارج کرتا ہے تو گھر میں کوئی بھی دھاتی سطح یا چیز ان لہروں کو پھیلنے سے روکتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گھر کا انٹرنیٹ کنکشن مسائل سے پاک رہے تو یہ ضروری ہے کہ رائوٹر کو میٹل کے قریب نہ رکھیں۔
اینٹیں، اور پتھروں کی دیوار؛کچھ اقسام کی دیواریں وائی فائی سگنل روکتی ہیں، جیسے ماربل، سیمنٹ، کنکریٹ، پلاسٹر اور اینٹیں وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ 2 منزلہ گھروں میں رہنے والے افراد کو عموماً سست رفتار انٹرنیٹ کنکشن کا سامنا کسی ایک منزل میں ہوتا ہے، اس مسئلے کا حل رائوٹر کو دیوار سے دور کسی کھلی جگہ پر رکھنا ہے۔
شیشے؛آئینے میں ہمارا عکس دکھانے کے لیے جو میٹریل استعمال ہوتا ہے وہ رائوٹر سے خارج ہونے والی لہروں کو بھی پلٹا دیتا ہے، یعنی آئینہ ایک ڈھال کی طرح کام کرکے انٹرنیٹ کنکشن کو کمزور کردیتا ہے، اگر آئینہ رائوٹر کے قریب ہو تو وائی فائی سنگل کمزور اور غیرمستحکم ہوسکتے ہیں۔
فریج اور واشنگ مشین؛ایک عام اصول ہے کہ ایسی برقی مصنوعات جو پانی کی گردش کرتی ہوں وہ وائی فائی سنگلز کے لیے زیادہ دوستانہ مزاج نہیں رکھتیں۔ پانی وائرلیس لہروں کی کچھ توانائی کو جذب کرلیتا ہے جس سے انٹرنیٹ کنکشن کا معیار متاثر ہوتا ہے۔
آرائشی روشنیاں؛رنگارنگ ایل ای ڈی آرائشی لائٹس بھی گھر میں کمزور وائی فائی سگنل کا باعث بن سکتی ہیں، ان لائٹس میں ایسی چپس ہوتی ہیں جو ایک مقناطیسی میدان بناتی ہیں جو رائوٹر سے خارج ہونے والی برقی لہروں کو متاثر کرتی ہیں۔
مائیکرو ویو؛مائیکرو ویو ایسی ڈیوائس ہے جس کا فریکوئنسی اسپیکٹرم وائی فائی سے ملتا جلتا ہے، اگر رائوٹر مائیکرو ویو کے قریب ہو تو بہتر ہوگا کہ اسے مائیکرو ویو سے اوپر کسی جگہ رکھ دیں تاکہ مائیکرو ویو انٹرنیٹ کنکشن کو متاثر نہ کرسکے۔
وائرلیس سگنلز والی ڈیوائسز؛بلیوٹوتھ اسپیکر بھی وائرلیس سگنلز کو متاثر کرتے ہیں، تو رائوٹر کو ایسے اسپیکر سے دور ہی رکھیں، یا اگر بے بی مانیٹرز کا استعمال کرتے ہیں تو بھی وائی فائی رائوٹر کو اس سے دور رکھیں۔

بچوں میں دماغی رسولیوں کی تشخیص کا نیا اور کم خرچ شناختی نظام

کینسر کی ایک ہی بیماری کے کئی رخ ہوتے ہیں اور اسی طرح بچوں کے دماغ میں بننے والی سرطانی رسولیوں کو کئی اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے۔ اب برازیل کے ماہرین نے سستا اور قابلِ اعتبار طریقہ وضع کیا ہے جس کے تحت معالجین کو مختلف سرطانی رسولیوں کی شناخت و علاج میں بہت آسانی ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے وابستہ ماہرِ جینیات گسٹافو ایلن کاسٹرو کروزیرو کہتے ہیں کہ ان کا بنایا ہوا طریقہ کم خرچ اور تیزرفتار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں رسولی کی شناخت کے ٹیسٹ پر 60 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور ان کا ٹیسٹ صرف 26 ڈالر میں یہی کام کرتا ہے۔ میڈیولوبلاسٹوما کی سرطانی رسولی پورے مرکزی نروس سسٹم کو متاثر کرتی ہے اور دو لاکھ میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ بچوں میں رسولیوں کی 20 فیصد تعداد کا تعلق اسی قسم کے کینسر سے ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کیمیائی اور سالماتی (مالیکیولر) بنیاد پر اس کی چار ذیلی اقسام ہیں جو مریضوں میں عین انہی کیفیات کے تحت علاج میں مدد دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر رسولی پر ایک ہی طریقہ علاج کارگر نہیں ہوتا۔
تاہم غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں نہ ہی جدید سہولیات ہیں اور نہ ہی مریضوں میں اتنی سکت کہ وہ سالماتی اور جینیاتی ٹیسٹ کرا سکیں۔ پہلے ماہرین نے بچوں سے لے کر 24 سال تک کے نوجوانوں سے حاصل شدہ رسولیوں کے 92 منجمد نمونے لیے، اور ہر نمونے کے رائبو نیوکلیک ایسڈ (آر این اے) کو الگ کیا، اور اسے ایک مستحکم (اسٹیبل) کمپلی مینٹری ڈی این اے (سی ڈی این اے) میں تبدیل کیا۔ یہ عمل پی سی آر کی مدد سے کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ 20 جین ایسے ہیں جو میڈیولوبلاسٹوما کی چاروں اقسام میں پائے جاتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ماہرین نے بایو انفارمیٹکس اور کمپیوٹر الگورتھم استعمال کیا جس نے اندازہ لگایا کہ سرطان کی ایک قسم سے دوسری قسم کو الگ کرنے کے لیے کم سے کم جین کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ اس طرح بہت درستی کے ساتھ بہت آسانی سے چاروں قسم کے سرطان کی شناخت کی جاسکتی ہے جس میں غلطی کا تناسب بھی بہت کم ہوتا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے ’’اسمارٹ اریگیشن سسٹم‘‘ کی کھیتوں میں کامیاب آزمائش

جامعہ این ای ڈی کے ریسرچ سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس (آر سی اے آئی) کے ماہرین اور طالب علموں نے زرعی آب پاشی کے لیے ایک کم خرچ اور جدید نظام بنایا ہے جس سے پانی کی ضرورت 50 فیصد تک کم ہوجاتی ہے اور فصلوں میں پیداوار بھی بہترین ہوتی ہے۔ اب کئی کھیتوں اور باغات میں اس نظام کی کامیاب آزمائش کی گئی ہے، جس کے بعد اس کے بہترین اور متوقع نتائج سامنے آئے ہیں۔
پانی کی قلت کے شکار سندھ کے کاشت کاروں نے مقامی سطح پر تیارکردہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ اس سسٹم کی بدولت پانی کے استعمال میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور بقیہ پانی سے دیگر اراضی کاشت ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں 30 سے 35 فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ ڈاکٹر خرم کی نگرانی میں تیار کیا گیا یہ نظام زمین اور مٹی کی کیفیت، نمکیات کی مقدار، کھیت کے درجۂ حرارت اور آب و ہوا اور ماحول کی درست پیمائش کرتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر پانی کی ضرورت سے آگاہ کرتا ہے۔ اس سے کسان زمین کی صورتِ حال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہتا ہے، اور واقف ہوجاتا ہے کہ پانی کی کب اور کتنی ضرورت ہے۔ کیونکہ زائد پانی بھی فصلوں کو خراب کرسکتا ہے۔ اسمارٹ اریگیشن سسٹم اپنی قیمت سے لے تنصیب تک بہت سادہ ہے۔ اوّل تو یہ شمسی توانائی سے کام کرتا ہے، اور کم خرچ نظام کو ایک کسان بھی پانچ منٹ میں نصب کرسکتا ہے۔ اس کا روزانہ خرچ صرف چار سے پانچ روپے ہے جس سے ایک ایکڑ زرعی زمین کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔ احسن رحمان کے مطابق سندھ میں اب تک 15 فارمز نے اسے استعمال کیا ہے اور پانی کی 50 فیصد بچت یقینی بناتے ہوئے بہترین پیداوار حاصل کی ہے۔ یہ غیرملکی نظاموں کے مقابلے میں بہت ارزاں ہے۔ مہنگے غیرملکی سسٹم صرف ریڈنگ فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس میں موجود جدید سینسرز، جی پی آر ایس اور جی ایس ایم کمیونی کیشن نظام کھیت کی کیفیت کا ڈیٹا، موبائل ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے کسان تک بھیجتے ہیں۔ اسمارٹ اریگیشن سسٹم روایتی آب پاشی سے کئی گنا بہتر اور انقلابی فوائد کا حامل ہے۔ ضرورت ہے کہ مزید کسانوں کو بھی اس سے آگہی ہو اور وہ اسے آزمائیں۔

Share this: