اردو ناول میں مابعد الطبیعیاتی عناصر(۱۹۴۷ء کے بعد)۔

کتاب : اردو ناول میںمابعدالطبیعیاتی عناصر(۱۹۴۷ء کے بعد)۔
مصنفہ : راحیلہ لطیف
صفحات : 364 قیمت:450 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلس ترقی ادب، لاہور
فون : 99200857،042-99200856
ای میل : majlista2014@gmail.com
ویب گاہ : www.mtalahore.com

ڈاکٹر تحسین فراقی مدظلہ کی نظامت میں مجلسِ ترقی ادب صحیح سمت میں تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ ان کی مسیحائی سے جہانِ ادب میں روشنی پیدا ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں ان کی محنت، دیانت اور علم دوستی کے ساتھ حکومتِ پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے بھرپور تعاون کا بڑا حصہ ہے، جس کی توصیف و تحسین ضروری ہے۔
زیرنظر کتاب اردو ناول سے متعلق ایک مخصوص موضوع پر تحقیق ہے۔ مصنفہ راحیلہ لطیف تحریر فرماتی ہیں:
’’مابعد الطبیعیات کا اَسرار میری یاد کے نہاں خانے میں تب سے قائم ہے جب پہلی مرتبہ اقبال کے کوائف یاد کرتے ہوئے اُن کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان پڑھا تھا۔ پھر اشفاق احمد کے ’’من چلے کا سودا‘‘ نے اس اَسرار کے تار جھنجھنائے تاآنکہ میں نے پیشِ نظر مقالہ لکھنے کی جسارت کی، جس کے نتیجے میں نہایت قابلِ فخر، انبساط سے لبریز یہ احساس میرے رگ و پے میں سرایت کرگیا کہ اردو ادب کے گیسوئے تاب دار کو مزید تاب دار کرنے والوں نے ہوش و خرد اور قلب و نظر کو خوب ہی شکار کیا اور زندگی کے انتشار کو ناول کے کُل میں ڈھال کر حقیقت کی وحدت کی طرف مقدور بھر راہ نمائی کی۔ اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کس طور پر استفادہ کرتا ہے۔
اس مقالے کے باب اول میں مابعد الطبیعیات کے تعارفی مباحث اور مابعدالطبیعیاتی عناصر بیان کیے گئے ہیں، جس کا مقصد اردو ادب کے قاری کے لیے مابعدالطبیعیات کا ایک مختصر ہیولا وضع کرنا ہے۔ دوسرے باب میں 1947ء کے بعد اردو ناول کے وجودیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ انگریزی زبان میں تو ذولفظی ترکیب سازی (اس طرح کہ دو لفظوں کے درمیان علامتِ ربط موجود ہو) کا رواج ہے، لیکن اردو زبان میں یہ چلن عام نہیں۔ ہم نے ابواب سازی میں ابلاغی مقصد کے تحت ’’وجودیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر‘‘، ’’کونیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر‘‘ اور ’’ نفسیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر‘‘ کی تراکیب وضع کی ہیں۔ دوسرے باب کے حوالے سے یہ امر بھی لائقِ وضاحت ہے کہ اس باب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں قرۃ العین حیدر کے رجحان ساز ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے، اور دوسرے حصے میں وہ ناول نگار شامل ہیں جن کے فکر و فن پر قرۃ العین حیدر کے فلسفیانہ رجحان کے واضح اثرات دیکھے جاسکتے ہیں، تیسرے حصے میں ان ناولوں میں وجودیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر کی جستجو کی گئی ہے کہ جن کا آہنگ صوفیانہ لوک دانش کے نمایاں اثرات کے تحت بالکل الگ ہے، چوتھے حصے میں علامتی ناول نگاروں کے ساتھ مستنصر حسین تارڑ اور عمیرہ احمد کا نام بھی شامل ہے۔ مؤخر الذکر لکھنے والوں کا انداز بالکل منفرد ہے اور ہمارے موضوع کے حوالے سے قابلِ لحاظ اہمیت کا حامل بھی۔ چونکہ اردو ناول کے وجودیاتی مباحث پر زیادہ وقیع تنقیدی سرمایہ موجود نہیں، لہٰذا اس حوالے سے ہمیں دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی مسئلہ تیسرے باب میں کونیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر کے مطالعے میں درپیش رہا، لیکن قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں زمان کے مبحث کو اچھے نقادوں نے اپنے طور پر دیکھا ہے جس سے ہمیں راہ نمائی ملی۔ چوتھے باب میں نفسیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر کا مطالعہ نفسیاتی دبستانِ تنقید کی پٹی ہوئی روش سے ذرا ہٹ کر مابعدالطبیعیاتی نقطہ نظر سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تحقیق کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے 1947ء کے بعد اردو ناول کی فنی روایت کی روشنی میں مابعدالطبیعیاتی عناصر کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ مقالہ ادب میں مابعدالطبیعیاتی مطالعے کو فروغ دینے اور مابعدالطبیعیات کے عمومی تصور کے حوالے سے چند غلط فہمیاں دور کرنے کی ایک طالب علمانہ کاوش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادب کا مطالعہ جدید علوم کی روشنی میں وسعتِ نظر کے ساتھ کیا جائے تاکہ اہلِ ادب حقیقت کے کُل کی طرف راہ نمائی کا فریضہ انجام دینے میں کوتاہی نہ کریں۔
اس مقالے کی تکمیل کے حوالے سے جن ہستیوں کی شکر گزاری مجھ پر واجب ہے، ان میں ذاتِ عزوجل کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک ہے کہ جن کی نگاہِ فیض آثار سے عقل و عشق نے منزلِ مراد پائی۔
پھر میرے والدین، اساتذہ کرام، میرے بھائی، شریکِ حیات اور وہ تمام اقارب جو دامے، درمے، سخنے اس سفر میں میرے مددگار ہوئے۔
آخر میں میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میری یہ تحقیقی کاوش ملک کے ممتاز علمی ادارے مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائع ہورہی ہے۔ میں تمام اربابِ مجلس، خاص طور پر نہایت قابلِ احترام، علم دوست اور ادب نواز ناظم مجلس ترقی ادب ڈاکٹر تحسین فراقی کی تہِ دل سے شکر گزار ہوں‘‘۔
کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے:
باب اول: مابعد الطبیعیات… تاریخ و تعارفی مباحث
-1 تعارف۔
-2 ہندی، چینی، ایرانی، مغربی اور اسلامی تہذیبوں میں مابعدالطبیعیاتی تصورات۔
-3مابعدالطبیعیاتی عناصر:
(1) وجودیات (2) کونیات (3) نفسیات
باب دوم: اردو ناول میں وجودیاتی… مابعدالطبیعیاتی عناصر
(الف) قرۃ العین حیدر کے ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ
(ب) احسن فاروقی، عبداللہ حسین، نثار عزیز بٹ اور جمیلہ ہاشمی کے ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ
(ج)ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد اور بابا محمد یحییٰ خان کے ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ
(د)-1 علامتی ناول نگاروں: انتظار حسین، انور سجاد، انیس ناگی اور صلاح الدین پرویز کے ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ
-2 مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا وجودیاتی مطالعہ
باب سوم:اردو ناول میں کونیاتی…مابعد الطبیعیاتی عناصر
عزیز احمد، قرۃ العین حیدر، احسن فاروقی، عبداللہ حسین، خدیجہ مستور، نثار عزیز بٹ، جمیلہ ہاشمی، انتظار حسین، بانو قدسیہ، بابا محمد یحییٰ خان، انیس ناگی اور مستنصر حسین تارڑ کے ناولوں کی روشنی میں
باب چہارم: اردو ناول میں نفسیاتی… مابعد الطبیعیاتی عناصر
عزیز احمد، قرۃ العین حیدر، شوکت صدیقی، عبداللہ حسین، خدیجہ مستور، نثار عزیز بٹ، جمیلہ ہاشمی، ممتاز مفتی، انتظار حسین، بانو قدسیہ، عبدالصمد اور مستنصر حسین تارڑ کے ناولوں کے تناظر میں 1947ء کے بعد اردو ناول کی فنی روایت اور مابعد الطبیعیاتی عناصر… ایک تجزیہ
کتاب کے محتویات بحث کے متمنی ہیں، ظاہر ہے یہ تعارف اس کا فورم نہیں۔ اس برصغیر میں عالم وہ ہوتا تھا جو عربی، فارسی کا ماہر ہوتا تھا۔ انگریزی تعلیمی نظام کے نتیجے میں عربی، فارسی تو گئی، انگریزی بھی نہ آئی۔ کتاب کے صفحہ 260 پر ایک اقتباس ہے۔ یہ اقتباس ناول سنگم سے لیا گیا ہے جس کے مصنف ڈاکٹر احسن فاروقی ہیں:
’’سمندر کی آواز بولنے لگی آمنو آمنو… آسمان پر ایک نور نظر آیا فسبحان الذی اسرا عبدہ لیلی۔ اس نورو علی نور میں وہ گم ہوگیا۔ پھر آواز آئی… یہ کائنات کی آواز تھی قل یحیی الذی انشاء اول مرّہ وہو بکل خلق علیم‘‘
آمنو آمنو عربی زبان میں آمنوا آمنوا ہے۔ فسبحَان الذی اسرا عبدہ لیلی سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی مسخ صورت ہے۔ سُبْحٰنَ الَّذِی اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْْلاً (مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَِلیٰ الْمَسْجِدِ الاَقْصَا ) ترجمہ: پاک ہے وہ، جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی مسجد تک۔ نورو علی نور۔ نُور علیٰ نُور، یہ کائنات کی آواز نہیں، اللہ جل شانہٗ کا حکم ہے۔ قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنشَاہَا اَوّل مَرَّۃٍ وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ۔ اس سے کہو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے۔ یہ سورہ یٰسین کی آیت 79 ہے، جس سلسلہ کلام میں آئی ہے وہ آیت نمبر77 سے 83 تک پھیلا ہواہے۔ قرآن مجید کھول کر پڑھ لیں۔ معلوم نہیں مقالہ کس سلسلے میں لکھا گیا، اس کی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔
کتاب مجلّد ہے، سفید کاغذ پر خوب صورت طبع کی گئی ہے۔

Share this: