رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر مزید ٹیکس لگے تو انڈسٹری تباہ ہوجائے گی

اسلام آباد رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی فنانس سیکریٹری سید عمران بخاری سے انٹرویو
فرائیڈے اسپیشل: بجٹ تو اب پاس ہوچکا، آپ کی تنظیم کی جانب سے مرکزی سطح پر سوچ بچار کے بعد تجاویز دی گئی تھیں، ان میں سے کتنی تجاویز حکومت نے تسلیم کی ہیں، اور اب رئیل اسٹیٹ بزنس میں کیا فرق آئے گا؟
سید عمران بخاری: ہمارا یہ بہت مناسب اور متوازن تجزیہ تھا بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر مزید ٹیکس لگائے گئے تو انڈسٹری تباہ ہوگی۔ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل ملک بھر میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دیا تھا، اس کے لیے عملی قدم اٹھانا بھی ضروری تھے،، لیکن یہ دیکھیں کہ ایک طرف حکومت کنسٹرکشن انڈسٹری کو فروغ دینا چاہتی ہے اور دوسری طرف پابندیاں لگا رہی ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رئیل اسٹیٹ کو ختم مت کرو، ملک میں پیسہ لانے کے لیے منڈیاں اوپن کی جاتی ہیں، اور ذرا سوچیں کہ یہاں ہم رئیل اسٹیٹ کا کیا حال کرنے جارہے ہیں؟ جس بحران سے حکومت گزر رہی ہے، رئیل اسٹیٹ میں ایسے اقدامات سے بحران بڑھے گا۔ ایف بی آر کے چیئرمین سمیت کسی بھی حکومتی شخصیت کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ گرنے والی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ہم متحد ہیں اور گزشتہ ہفتے ہمارے قائد سردار طاہر محمود کی سربراہی میں یہاں ایک ملک گیر کنونشن ہوا جس میں لاہور، کراچی، ملتان، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، سرگودھا، کوئٹہ، گوادر تک سے تنظیموں کے منتخب نمائندے تشریف لائے، اور ثابت کیا کہ ملک بھر کے رئیل اسٹیٹ نمائندے ایک پلیٹ فارم پر ہیں، اور بے مثال یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل تباہی سے بچانے کی خاطرآخری حد تک جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم نے یہاں دو پیغام دیے، پہلا یہ کہ ہم امن پسند ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ مسائل پیدا کیے جائیں، لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر یونہی چلتا رہا تو سڑکوں پر بات ہوگی، ہمیں رئیل اسٹیٹ بزنس کو بچانے کے لیے جنگ لڑنی ہے، ٹیکس کی کلیکشن میں حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن ڈنڈے اور خوف کے ساتھ کام نہیں چلے گا۔ اگلے سال ہم حکومت کو 70 ارب ٹیکس دینے کو تیار ہیں، لیکن ہماری تجویز پر چلیں۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ 25 لاکھ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے، ہم اس کو بچانا چاہتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ فیصلہ تمام تنظیموں نے مل کر کیا ہے؟
سید عمران بخاری: جی، یہ فیصلہ متفقہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حکومت ایسی پالیسی بنائے جس میں جبری وصولی کے بجائے تمام شہری خوشی سے ٹیکس جمع کرائیں اور ٹیکس دہندگان کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا دورانیہ ایک سال مزید بڑھایا جائے، رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کا کمیشن دو فیصد کیا جائے اور اسے قانونی تحفظ دیا جائے، سرکاری اور غیر سرکاری ریٹائرڈ ملازمین اور عام غریب آدمی کے لیے پانچ مر لے کے مکان تک ایڈوانس ٹیکس کی چھوٹ ہونی چاہیے، پلاٹوں پر گین ٹیکس کی مدت کو دو سال تک رکھا جائے، گھروں پر گین ٹیکس مکمل ختم کیا جائے،گین ٹیکس کی شرح پانچ فیصد رکھی جائے، فیئر مارکیٹ ویلیو پر ٹیکس ایک فیصد رکھا جائے اور فیئر مارکیٹ ویلیو متعلقہ علاقے کی ایسوسی ایشن کی مشاورت سے طے کی جائے، 60لاکھ سے کم مالیت کی جائداد پر ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے، جنرل سیلزٹیکس جو کہ پراپرٹی ڈیلرز پر 16فیصد عائد کیا گیا ہے، اسے فی الفور ختم کیا جائے۔
فرائیڈے اسپیشل: کون سے ٹیکس آپ کی نظر میں غیر ضروری ہیں اور ان میں ترمیم ہونی چاہیے؟
سید عمران بخاری: حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر لگائے جانے والے ٹیکسز کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر موجودہ بجٹ اسی حالت میں پاس ہوا تو رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سے وابستہ لوگ بے روزگار جائیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا یہ بات درست ہے کہ آپ کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے؟
سید عمران بخاری: یہ بات درست ہے۔ حکومت نے آج تک رئیل اسٹیٹ نمائندوں کے حقیقی مسائل نہیں سنے، اور نہ ہی ان کی سفارشات کو اہمیت دی ہے، جس کی وجہ سے یہ سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے، اور پابندیوں اور خوف و ہراس کی فضا کے باعث لوگ پراپرٹی کی خرید و فروخت سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں جس سے پراپرٹی کا کاروبار شدید مندی کا شکار ہے، اور اس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری بھی کم ہورہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: روپے کی قدر گرنے سے آپ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر کیا فرق پڑا؟ حکومت تو کہتی تھی کہ بیرونِ ملک پڑے ہوئے ڈالر واپس لائے گی؟
سید عمران بخاری: پاکستانیوں کے دس ارب ڈالر باہر پڑے ہیں۔ ملک میں روپے کی قدر گرنے اور معاشی خسارے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔ موجودہ حکمران کہتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے ہنڈی حوالے سے پیسہ باہر بھیجا۔ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اب ہم اس کے خلاف پوری طرح کریک ڈاؤن کریں گے اور منی لانڈرنگ کے تمام راستے بند کر دیں گے، جونہی اقتدار ملے گا پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر واپس لائیں گے جو غیر قانونی طور پر عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ یہ رقم ہمارے اقتدار کے پہلے ہی ہفتے میں واپس آجائے گی۔انہوں نے واپس آنے والی اس رقم کا مصرف بھی بیان کر دیا تھا۔ کہتے تھے100ارب ڈالر سے قرض اتاریں گے، جبکہ باقی ایک سو ارب ڈالر سے لوگوں کی تاریک زندگیوں میں روشنی بکھیریں گے۔ یہ دونوں کام نہیں ہوسکے، قرضے بھی بڑھ رہے ہیں، تاریکیاں بھی پھیل رہی ہیں۔ اُن کے اقتدار کو اب خیر سے دس مہینوں سے اوپر ہوچکے ہیں،لیکن تاحال کوئی ایسی اطلاع نہیں کہ ان200ارب ڈالرز میں سے کوئی رقم واپس آئی ہو۔ دبی دبی زبان میں کہا جارہا ہے کہ بیرونِ ملک سے پیسہ واپس لانا بہت مشکل ہے، ڈالر تو خیر کیا واپس آتے حکومت تو اسحاق ڈار کو واپس نہیں لا سکی، جن کے بارے میں ایک وزیر نے لندن میں بیٹھ کر اعلان کیا کہ میں اسحاق ڈار کے گلے میں پٹکا ڈال کر واپس لینے آیا ہوں،پھر برطانوی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اعلان کر دیا کہ اب اسحاق ڈار چند روز بعد پاکستان کی جیل میں ہوں گے۔ اب سُنا ہے برطانوی قوانین اسحاق ڈار کی واپسی اور بالآخر جیل یاترا کی راہ میں حائل ہو گئے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: وزیراعظم نے منی لانڈرنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس سے ملکی معیشت پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟
سید عمران بخاری:وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے خلاف جس کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، دیکھنا ہو گا اس کے نتیجے میں کوئی رقم واپس بھی آتی ہے یا نہیں۔بہت سی رقوم پاکستان سے بینکنگ چینل کے ذریعے باہر جاتی ہیں،کیونکہ جن لوگوں نے اندرونِ پاکستان غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹ کھول رکھے ہیں، اُنہیں حق حاصل ہے کہ وہ قانونی طور پر اپنے اِن اکاؤنٹس سے جتنی رقم چاہیں بیرون ملک بھیجیں۔اگر رقم ان اکاؤنٹس سے گئی ہے تو ان پرکوئی کریک ڈاؤن نہیں ہو سکتا،کیونکہ یہ جائز اور قانونی چینل ہے، اور اگر یہ منی لانڈرنگ کے ذریعے گئی تو پہلے معلوم کرنا ہو گا کہ ایسے کتنے لوگوں کا ڈیٹا حکومت ِ پاکستان کے پاس ہے۔اس وقت جو سیاست دان یا دوسرے لوگ گرفتار ہیں ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جن کی گرفتاری خاص طور پر منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت ہوئی۔ اگر کوئی ایسے لوگ گرفتار ہیں تو اُن کے بارے میں معلومات عام ہونی چاہئیں کہ انہوں نے کتنی رقم کس طرح باہر بھیجی، اور کہاں کہاں جمع کرائی۔ حکومت تو اب تک ان 436 پاکستانیوں کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکی۔

Share this: