سردار اختر مینگل اور جام کمال کے درمیان ٹویٹر پر لفظی مڈ بھیڑ

بلوچستان میں اہل سیاست کے بدلتے رنگ

سیاست اور سیاست دان وقت اور حالات کے مطابق رنگ بدلتے ہیں۔ بلوچستان کے اندر بھی اہلِ سیاست مختلف ادوار میں کئی رنگ دکھا چکے ہیں، کئی مؤقف اپنا چکے ہیں۔ بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا اُس کے قائد نے غلطی و لغزش کا اعتراف کیا ہو۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ نواز، پشتون خوا میپ اور نیشنل پارٹی کی حکومت گرانے میں سیاسی جماعتیں مقتدرہ کی دست و بازو بنیں اور حکومت زمین بوس کردی۔ اس طرح غیر مرئی لوگوں کی مرضی کی حکومت قائم کردی گئی۔ عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بنادیے گئے۔ گویا صوبہ اور اس کے اندر حکومت تفریح و کھیل بن گئی۔ ایسا ہی تماشا سینیٹ کے انتخابات میں ہوا۔ اس میں آصف علی زرداری متحرک تھے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دوسرے شعوری طور پر اس اتھل پتھل میں شریک تھے۔ اگر ان کی معاونت نہ ہوتی تو یقیناً صوبے کے ساتھ یہ سنگین زیادتی کبھی نہ ہوتی۔ چناں چہ اس بدکاری نے بلوچستان عوامی پارٹی کو جنم دیا، جس کی صوبے میں حکومت بن گئی۔ اب کوئی اس جماعت پر برسے یا نہ برسے، لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیے روا نہیں کہ اسے سلیکٹڈ حکومت یا مصنوعی پارٹی کا طعنہ دے۔ وہ اس لیے کہ اس صورت گری میں اس جماعت کی کارگزاری بھی شامل تھی۔ سو اب آئے روز ان کے درمیان الجھائو کا ماحول بنا رہتا ہے۔ سردار اختر مینگل اور ان کی جماعت وزیراعلیٰ جام کمال پر بھی جملے کستے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ وہاں سے بھی جملہ بازی ہوہی جاتی ہے، جیسے جام کمال نے سردار اختر مینگل کو مشورہ دیا کہ ’’وہ حکومتی بینچوں پر بیٹھیں یا اپوزیشن بینچوں پر… کیونکہ حکومت کا حصہ ہوکر تنقید کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ چھ نکات پیش کیے ہیں، اس میں زیادہ تر نکات جائز ہیں جس پر ہماری حکومت بھی گامزن ہے۔ جہاں تک لاپتا افراد کی بات ہے تو اس معاملے پر بلوچستان حکومت نے اپنا بھی کردار ادا کیا ہے۔ سردار اختر مینگل حکومت سے علیحدہ ہوکر کھل کر حکومت پر تنقید کریں، یا پھر حکومت میں شامل ہوکر بلوچستان کے مسائل حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بلوچستان کے ساتھ کسی اور نے نہیں ہم ہی نے زیادتیاں کی ہیں۔ یہاں کبھی وزیراعلیٰ سندھ، پنجاب یا کسی اور جگہ سے نہیں آیا ہے۔ بلوچستان کے لوگوں نے ہی یہاں حکمرانی کی ہے۔‘‘
(6مئی2019ء) ۔
7مئی کو بی این پی کا بیان سامنے آیا جس میں جام کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ’’اب تک انہیں بی این پی کی پارٹی پوزیشن کا علم تک نہیں کہ مرکز میں پارٹی حکومت میں ہے یا آزاد بینچوں پر بیٹھی ہے۔ ان کے مشیروں نے انہیں بتلایا نہیں کہ پارٹی پوزیشن کیا ہے! سردار اختر مینگل عظیم لیڈر ہیں جو ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔ انہیں مشورہ دینا زیب نہیں دیتا، کیونکہ انہیں (جام کمال کو) الیکشن میں لسبیلہ اور گوادر کے عوام نے مسترد کیا، کیونکہ ان کی ماضی کی نااہلی وہاں کے عوام کے سامنے تھی، جو اب اہلِ بلوچستان پر بھی عیاں ہوچکی ہے۔ آج بھی ان کے ساتھ وہ وزراء اور مشیر ہیں جو ہر دور میں اقتدار کا حصہ رہے ہیں جن پر آج موصوف تنقید کررہے ہیں وہ انہی سے مشورے لیں اور انہی کو اپنے مشوروں سے نوازیں جو ہر دور میں بلوچستان کا استحصال کرنے میں شامل رہے ہیں اور موجودہ دور میں بھی کررہے ہیں۔ بی این پی مرکزی حکومت کا حصہ ہوتی تو پارٹی کے ایم این ایز وزارتیں لیتے جس طرح ان کی جماعت نے لی ہے اور دوسری وزارت کے حصول کے لیے اسلام آباد کی یاترا جاری ہے۔ بی این پی نے لاپتا افراد کی بازیابی اور چھ نکات پر عمل درآمد کی خاطر وزارتیں اور مراعات نہیں لیں۔ قومی اور اجتماعی مفادات کے حصول کو زیادہ عزیز سمجھا۔‘‘
وزیراعلیٰ جام کمال نے9جون کو کہا کہ سردار اختر مینگل تھوڑے نالاں ہیں، تاہم بی این پی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی سے تعلقات اچھے ہیں۔ اسی دوران 29 اور 30 مئی کو سردار اختر مینگل اور جام کمال کے درمیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لفظی مڈبھیڑ ہوئی۔ یہ جملے بازی بعد ازاں یکم جون کے اخبارات کی زینت بھی بنی۔ ہوا یوں کہ سردار اختر مینگل نے ایک ٹی وی چینل سے انٹرویو میں بلوچستان حکومت اور وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر تنقید کی جس میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ جام کمال خان کی تیسری نسل حکومت میں ہے، ان کو کبھی حزبِ اختلاف کی ہوا تک نہیں لگی۔ جام کمال خود سونے کا چمچہ منہ میں لیے پیدا ہوئے ہیں اور گزشتہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں۔ سردار اختر مینگل نے یہ بھی کہا کہ بتایا جائے کہ گزشتہ حکومتوں میں سے کون سی حکومت تھی جس میں وہ یا اُن کے خاندان کے لوگ شامل نہ تھے؟ ابھی اگر ان کے صندوق کو کھول کر دیکھا جائے تو جتنی حکومتیں گزری ہیں ان میں ان سب سیاسی جماعتوں کے جھنڈے نظر آئیں گے‘‘۔
ٹی وی چینل پر سردار اختر مینگل کی اس گفتگو کے بعد جام کمال خان نے ٹویٹ کے توسط سے کہا کہ ’’پوری زندگی اپنے ملک، علاقے اور بلوچستان میں گزاری ہے۔ سونے کا چمچ لندن اور دبئی میں زندگی گزارنے والوں نے زیادہ استعمال کیا ہے۔ میں نے اپنا بچپن ہیلپر اسکول سریاب کوئٹہ، اور جوانی علاقے کے لوگوں میں گزاری ہے۔ معلوم نہیں تھا کہ سردار اختر مینگل کو میری بات اتنی تلخ لگے گی کہ وہ پرسنل کمنٹ پر آجائیں گے، مگر حقیقت، حقیقت ہے۔ ہم اِدھر یا اُدھر رہیں گے، یہ نہیں کہ وفاق میں حکومت، پی ایس ڈی پی، چھ نکات اور کمیٹیز سب مشترکہ چلائیں۔ جتنا ہوسکا ہے ہم نے اپنی بھرپور کوشش کرتے ہوئے اپنے علاقے اور عوام کی خدمت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ہمارا انتخاب کیا ہے تاکہ ہم ان کے مسائل حل کرسکیں۔‘‘
سردار اختر مینگل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم کہ میرے سیاسی جواب کو جام کمال نے پرسنل کیوں لیا۔ میں نے اُن کو صرف اُن کی تاریخ یاد دلائی ہے۔ میں نے آپ کے اِدھر رہنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہی تو میں نے کہا کہ یہ ہمیشہ سے ہی اِدھر رہے ہیں۔ آپ کا ادھر رہنا آپ کو مبارک، لیکن کبھی ساڈی گلی بھی آیا کرو۔ ہم نے مرکزی حکومت کی سپورٹ کے بدلے چھ نکات جس میں مسنگ پرسنز، بے روزگاری کا خاتمہ، بلوچستان کے لوگوں کو اقلیت سے بچنے کے لیے قانون سازی، کینسر اسپتال، ڈیم، روڈ، دیہات میں بجلی گیس کی فراہمی، تعلیمی ادارے، علاج کی سہولتیں، وفاقی اور بیرون ملک ملازمتوں میں بلوچستان کا حصہ مانگا۔ آپ نے کیا لیا! وزارت اعلیٰ، وفاقی وزیر (پرزہ جات)، سینیٹ کا ووٹ۔ اور بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر آپ نے آنکھیں بند کرلیں۔ مائی باپوں کو دعائیں دو جنہوں نے چند دنوں میں تمہیں باپ بنادیا۔‘‘
اس لفظی جنگ میں سینیٹر سرفراز بگٹی نے بھی حصہ لیا جو صوبے کے وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کی ایک پرانی تقریر کی ویڈیو ٹویٹر پر شیئر کی، جس میں وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بلوچستان سے باہر رہنے کی تلقین کررہے ہیں۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے لکھا: ’’تاریخ، ثبوت سمیت سردار صاحب، پنجابیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار آپ خود کریں گے یا میں کروں؟‘‘ جس پر اختر مینگل نے ٹویٹر پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ جیسا شخص مجھے تاریخ نہیں سکھا سکتا۔ کیونکہ کچھ حقائق اتنے تلخ ہیں کہ آپ اس کو سننے کی ہمت نہیں رکھتے۔‘‘ اختر مینگل نے سرفراز بگٹی سے پوچھا کہ ’’باقی باتوں کے علاوہ، پہلے یہ بتائیں کہ آپ دونوں میں سے کون وفاقی وزیر کے لیے چنا گیا ہے؟ آپ یا (انوار) کاکڑ؟‘‘
ٹویٹر پر یہ لفظی جنگ اُس وقت تلخی میں بدل گئی جب سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کے خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس سے پہلے سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کی قومی اسمبلی کی 28 مئی کی تقریر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس میں اختر مینگل نے پاکستان میں غدار قرار دیے جانے والے ارکانِ اسمبلی اور سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست بیان کی تھی۔

Share this: