نئے بجٹ کی تباہ کاریاں

حزبِ اختلاف کا بہت شور تھا کہ 2019-20ء کا میزانیہ بہت ظالمانہ ہے جسے کسی صورت قومی اسمبلی سے منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مگر جب بجٹ کی منظوری کا وقت آیا تو حکمران اتحاد نے اسے نہایت آسانی سے واضح اکثریت کے ساتھ منظور کروا لیا، اور حزبِ اختلاف کی جانب سے کوئی مؤثر اور زوردار احتجاج بھی ریکارڈ نہ کرایا جا سکا۔ اب صدرِ مملکت کے دستخطوں کے بعد یکم جولائی سے یہ بجٹ نافذ العمل ہوچکا ہے اور اس کی تباہ کاریاں اوّل روز ہی سے اپنے اثراتِ بد دکھانے لگی ہیں… عوام پر اس بجٹ کی صورت میں گیارہ سو ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے سی این جی پر سیلزٹیکس میں ڈھائی روپے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے نتیجے میں سی این جی 22 روپے کلو گرام تک مہنگی ہوگئی ہے۔ اوگرا نے گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں بھی بیک جنبش قلم 190 فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے… روزمرہ استعمال کی اشیاء چینی، گھی اور دودھ وغیرہ پر بھی سترہ فیصد سیلزٹیکس نافذ کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چینی تھوک مارکیٹ میں 66 روپے سے بڑھ کر 69، اور عام صارفین کے لیے 72 روپے فی کلو کے بجائے 75 روپے کلو ہوگئی ہے۔ سیمنٹ 480 سے بڑھ کر 620 روپے بوری پر پہنچ گیا ہے۔ گوشت اور پولٹری کی تیار مصنوعات پر 17 فیصد سیلزٹیکس لگنے سے قیمتیں سو روپے کلو تک بڑھ گئی ہیں۔ خشک اور بند ڈبوں میں دستیاب دودھ کی قیمت میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ سترہ فیصد کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے گھی اور پکانے کا تیل بھی 22 روپے فی کلو سے زائد مہنگا ہوا ہے۔ سگریٹ کے ایک پیکٹ کی قیمت میں بھی بیس روپے اضافہ ہوگیا ہے۔ چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کی تیار مصنوعات کی قیمتیں بھی نئے بجٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی بڑھ گئی ہیں۔ سریا اور دوسرا تعمیراتی سامان بھی نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے۔ پراپرٹی انکم ٹیکس کی شرح بھی 20 سے بڑھا کر 35 فیصد کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں غریب لوگوں کے لیے سر چھپانے کے لیے مکانات کی تعمیر مزید مشکل ہوگئی ہے۔
نئے بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کے لیے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کردی گئی ہے، جب کہ ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 25 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے ان کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ جائیں گی۔ نئے بجٹ میں درآمدی اشیائے تعیش خصوصاً میک اَپ وغیرہ کے سامان پر ٹیکسوں کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے، جس کا یقیناً جواز بھی موجود ہے کہ اس کے نتیجے میں شاید غیر ضروری درآمدات پر زرِمبادلہ کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی ہوسکے۔
بجٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی اس کے خلاف شدید ردعمل بھی سامنے آنے لگا ہے۔ اسے منظور نہ ہونے دینے کی دعوے دار سیاسی جماعتیں تو ابھی تک زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر کسی ٹھوس احتجاج کی منصوبہ بندی تک نہیں کرسکیں، صرف جماعت اسلامی کو یہ توفیق نصیب ہوئی ہے کہ اس نے عوامی جذبات کو زبان دینے کے لیے عملاً پیش رفت کی ہے، اور لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کے سامنے حکومت کے گھٹنے ٹیکنے کے خلاف بڑے بڑے عوامی احتجاجی مارچ منظم کیے ہیں… اب بجٹ کے نفاذ کے اوّل روز ہی سے تاجر اور صنعت کار بھی کھل کر میدان میں آگئے ہیں… تاجروں نے سیلزٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی کو مسترد کردیا ہے اور کراچی، اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں اس کے خلاف ہڑتال کردی ہے۔ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملوں کی تالا بندی کردی گئی،کراچی میں بہت بڑا احتجاج ہوا ہے، جب کہ شوگر ڈیلرز نے ملوں سے چینی نہ خریدنے کا اعلان کردیا ہے۔ سیمنٹ ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز نے بھی فیکٹریوں سے سیمنٹ نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں ٹیکسٹائل کی صنعت پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف احتجاجاً ملوں کی بندش سے ہزاروں محنت کشوں کے سر پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے… معاملات چند روز میں طے نہ پائے تو بازار میں چینی اور سیمنٹ کا بحران پیدا ہوجائے گا، اور دوسری جانب ہزاروں غریب مزدور دو وقت کی روٹی سے محروم ہوجائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان بار بار دعوے کررہے ہیں کہ مشکل وقت گزر گیا ہے اور ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہوچکی ہے جس کے کچھ شواہد بھی سامنے آرہے ہیں… آئی ایم ایف قرض دینے پر آمادہ ہے… قطر نے تین ارب ڈالر کی جس امداد کا اعلان کیا تھا اُس میں سے پچاس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط پاکستان کو مل گئی ہے… چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دیئے جانے کی اطلاعات ہیں… سعودی عرب نے بعد میں ادائیگی کی بنیاد پر تیل کی فراہمی کا جو وعدہ کیا تھا، اس کی فراہمی بھی یکم جولائی سے شروع ہوگئی ہے۔ گویا واقعی معاشی میدان میں حکومت کے لیے مشکلات میں کمی آئی ہے۔ اس کے برعکس عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں، حکومتی اقدامات مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت اگر واقعی غریب عوام سے کوئی ہمدردی رکھتی ہے تو اُسے ان کے مصائب اور مسائل میں اضافے کے بجائے انہیں کم کرنے پر توجہ دینا ہوگی… ورنہ حالات جس تیزی سے بگاڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں، اُن سے پیدا ہونے والا انتشار پہلے سے کمزور اور سہاروں پر کھڑی معیشت کو جو نقصان پہنچائے گا اس پر قابو پانا موجودہ ناتجربہ کار اور مشکلات میں گھری حکومت کے لیے آسان نہ ہوگا۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ خرابی کے حد سے بڑھنے سے پہلے اس کی اصلاح پر توجہ دی جائے۔

۔(حامد ریاض ڈوگر)۔

Share this: