نئے سیاسی بندوبست کی تیاری

اگر ملک میں مہنگائی کا طوفان آتا ہے، افراطِ زر ہوتا ہے، یا پھر ڈالر اونچی اڑان پکڑتا ہے تو حکومت کی طرف سے صرف ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے ایسی ناقص پالیسیاں اپنائیں جس کے نتیجے میں آج مشکل دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ جگہ جگہ لوگ مہنگائی کے خلاف آواز اٹھاتے اور کہتے ہیں کہ روپے کی قدر مسلسل گرتی جارہی ہے اور اس مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے، تو آگے سے جواب آتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے قرضے لیے، آج قرضے اتارنے کے لیے ٹیکسوں کی بھرمار کرنی پڑرہی ہے۔ جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ حکومت میں گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی، مہنگائی کنٹرول نہیں کی جارہی، بازاروں میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں… تب بھی حکومت کی جانب سے یہی جواب ملتا ہے کہ ماضی کے حکمران ملک کو لوٹتے رہے، اس لیے ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنا ابھی بڑا مشکل کام ہے۔ گویا حکمرانوں کے پاس ایک ہی جواب ہے ’’ماضی کے حکمران، اور ماضی کے حکمران‘‘۔ حالانکہ ماضی میں یہی عمران خان تھے جو کہتے تھے کہ جب روپے کی قدر گرتی ہے، جب ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے، جب مہنگائی کا طوفان آتا ہے تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہیں۔ لوٹنے والے حکمران ہیں جو پیسہ لوٹتے ہیں۔ اس لیے جب پیسہ اُن کی جیبوں میں چلا جاتا ہے تو مہنگائی ہوجاتی ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 17 روپے اضافہ ہوا، تاہم حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایک روز وزیراعظم نے گورنر اسٹیٹ بینک کو بلایا اور اُن سے پوچھ گچھ کی تو ڈالر کی قیمت تین روپے کم ہوگئی، مگر خدشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں روپے کی قدر مسلسل گرتی چلی جائے گی۔ آج وزیر مملکت حماد اظہر خود کہتے نظر آتے ہیں کہ چار فیصد ٹیکس اور بڑھانا پڑے گا، اگر ٹیکس نہ بڑھایا تو ملک بینک کرپٹ ہوسکتا ہے۔ یہ آوازیں وہ حکمران لگا رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں بڑے بڑے دعوے کیے تھے، اور کہا تھا کہ جب اُن کی حکومت ہوگی تو باہر سے پیسہ آئے گا، ڈالروں کی برسات ہوجائے گی، اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ لیکن آج کے حکمران تباہی کی ساری ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمران خان کی باتیں شاید وہ خواب تھا جو آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ ملک جس سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور بے روزگاری میں ہولناک اضافے سے جس سنگین صورت حال کا سامنا ہے اُس کا تقاضا ہے کہ ملک کی پوری سیاسی قیادت ملکی مسائل کا ٹھیک ٹھیک حل تلاش کرنے کے لیے قوم کی رہنمائی کرے۔ لیکن اس وقت حالت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں محض الزام تراشی کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں۔ ملک میں اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ افراد نیب کی گرفت میں ہیں اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ لندن میں بہت بڑی انویسٹی گیشن چل رہی ہے جس میں عمران خان کا بہت بڑا اسکینڈل آرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی یہ الزامی سیاست کسی بھی طور پر عوام کی پریشانیوں کا حل نہیں۔ ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ الزام تراشی کی سیاست سے مکمل طور پر گریز کیا جائے اور ان معاملات کا فیصلہ احتسابی اداروں پر چھوڑ دیا جائے، اور احتسابی اداروں میں بھی انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، تبھی یہ عمل معتبر قرار پائے گا۔
گزشتہ ہفتے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں معیشت کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے سیمینار ہوا، جس میں معیشت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ماہرینِ معیشت نے قومی مباحثے کی ضرورت پر زور دیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی حکومت کے ان اقدامات کی تائید کی ہے، جو وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کررہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشکل حکومتی فیصلوں کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت کا ساتھ دیا جائے۔ سیمینار میں ماضی کی جن حکومتوں کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کا بھی نام نہیں لیا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو انتہائی اہم نکات کی درست نشاندہی کی ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہم متحد ہوں اور ایک قوم بن کر سوچیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ علاقائی رابطوںکو فروغ دیا جائے۔ قومی اتحاد کے لیے انہوں نے یہ تجویز دی ہے کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت کریں۔ یہ صورتِ حال پر انتہائی مختصر اور جامع تبصرہ ہے۔ اور تجزیہ یہی ہے کہ ملک میں یہ فکرمندی اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ حکومت جو اقدامات کررہی ہے، کیا اس میں یہ اہلیت بھی ہے؟ اورکیا وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکال سکتی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی خودمختاری دائو پر لگی ہوئی ہے؟ زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسی اور وزراء کے سیاسی بیانیے سے ملک میں سیاسی تقسیم بہت تیزی سے گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔ گالی والا بیانیہ اب قابلِ قبول نہیں رہا۔ ان کے نزدیک دوسری سیاسی جماعتوں کے لوگ کرپٹ اور ڈاکو ہیں۔
اب ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے کی ابتدا ہے، سیاسی جماعتوں میں نیا جوڑتوڑ ہونے جارہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے متعدد ارکانِ اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی ہے، متعدد رہنما پیپلزپارٹی سے استعفیٰ دینے والے ہیں۔ یہی صورتِ حال تحریک انصاف کو بھی پیش آسکتی ہے۔ بعد میں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جائے گی۔ بلوچستان کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے جو سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہوا تھا، اُسے بھی تحریک انصاف نے قائم نہیں رہنے دیا۔ اپوزیشن جماعتیں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرچکی ہیں۔ اگر کُل جماعتی کانفرنس کے فیصلے پر عمل ہوجاتا ہے تو پھر پاکستان کا نیا سیاسی بحران بلوچستان سے ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ حکومت میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو علاقائی اور عالمی سیاست کے حوالے سے اپنا کوئی نظریہ یا سوچ رکھتا ہو، یا جس نے دانش ورانہ یا سیاسی کام کیا ہو۔ وزیراعظم عمران خان کی عالمی شہرت ضرور ہے، لیکن عالمی سطح کی سیاسی قیادتوں کو یہ معلوم ہے کہ مسائل کا حل اُن کے بس میں نہیں ہے۔ علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کی جو تجویز سیمینار میں دی گئی اُس کے لیے ملک کا حقیقی درد رکھنے والی سیاسی قوتوں اور جماعتوں کا اعتماد اور حمایت بھی اس حکومت کو حاصل کرنا ہوگی، پھر کہیں مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج مل سکتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف سولو فلائٹ کی عادی ہے اور لیڈرشپ بھی کچھ متاثر نہیں کرسکی، لہٰذا سوچا گیا کہ وہ درست سمت کا تعین نہیں کرسکے گی، اسی لیے اس کی معاشی ٹیم تبدیل کی گئی۔
اپوزیشن کے کیمپ میں اچھی خبریں نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے نام پر اپوزیشن جماعتوں نے کُل جماعتی کانفرنس بلائی، جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹاکر اُن کی جگہ نیا چیئرمین لایا جائے گا، 25 جولائی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ اس دن کا انتخاب اِس لیے کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس اسی روز عام انتخابات ہوئے تھے۔ تاہم اے پی سی میں پارلیمنٹ سے استعفے دینے کی تجویز سے اتفاق نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن جماعتوں نے قومی قرضہ کمیشن، قومی ترقیاتی کونسل اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو صدر عارف علوی کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس مسترد کردیے ہیں۔ فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ اپوزیشن نے اے پی سی میں جو فیصلے کیے ہیں ان میں کتنوں پر وہ اپنے پروگرام کے مطابق عمل کرا پاتی ہے، اور کس طرح آگے بڑھتی ہے، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ کانفرنس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں بھی عجلت میں کوئی فیصلہ صادر کرنا درست نہیں ہوگا۔ ماضی میں بظاہر ناکام نظر آنے والی ایسی کانفرنسیں ہی بالآخر حکومتوں کی رخصتی کا باعث بنتی رہیں۔ حکومت اے پی سی کو ناکام قرار دے رہی ہے، لیکن اے پی سی کے بعض فیصلے ایسے ہیں کہ اُن پر اگر سنجیدگی سے عمل ہوا تو کامیابی بھی مل سکتی ہے، جس سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اے پی سی نے اگرچہ اسلام آباد کے فوری لاک ڈاؤن کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ ایسا ہے کہ اس کے دوررس سیاسی مضمرات ہوں گے۔ انہیں ہٹانے کا فیصلہ تو ہوچکا، نیا چیئرمین کون ہوگا، اس پر اتفاق نہیں ہوا۔ پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین بنانا چاہتی ہے، لیکن ایوان میں اکثریت مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے۔ چیئرمین سینیٹ تبدیل کرنا ہی مقصود ہے تو پھر اس منصب کے لیے پہلا حق مسلم لیگ (ن) کا ہے، لیکن پیپلزپارٹی دایاں دکھا کر بایاں مارنا چاہتی ہے۔ مہروں کو آگے پیچھے کرنے کا عمل اور مارچ2018ء کے سینیٹ کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا کردار بھی شکوک و شبہات سے بالا نہ تھا۔ اب اُنہیں اگر اس کردار پر کوئی پشیمانی ہورہی ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی حمایت کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوگا جو اس وقت سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اور تب بھی تھی جب موجودہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ اپوزیشن کی یہ بہرحال ایک بڑی سیاسی چال ہے، اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے اثرات محسوس بھی کیے جائیں گے، تاہم اس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ اپوزیشن اپنے پتے کتنی مہارت سے کھیلتی ہے، اور اپنی چالوں کو کس حد تک چھپا کر رکھتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تیسری سماعت

صدارتی ریفرنس کی کارروائی 15 منٹ جاری رہی

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی کارروائی 15 منٹ جاری رہی، اور بغیر کسی اعلامیے کے ختم ہوگئی۔ یہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تیسری سماعت تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان چیئرمین جسٹس آصف سعید کھوسہ کے چیمبر میں اکٹھے ہوئے اور کچھ دیر بعد اجلاس ختم ہوگیا۔ گزشتہ اجلاس 14 جون کو ہوا تھا جس کے بعد صدارتی ریفرنس اور اس کے ساتھ لگائے گئے مواد کی نقول جسٹس قاضی فائز اور جسٹس کے کے آغا کو بھجوائی گئی تھیں تاکہ ان کا اپنا مؤقف کونسل کے سامنے آسکے۔ سینئر وکلا کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل متعلقہ ججوں کو طلب کرکے بھی ان کا مؤقف سن سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ عدالت کے باہر وکلا کی ایک بڑی تعداد نے دن بھر دھرنا جاری رکھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد وکلا کے نمائندوں نے اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججوں کے تقرر پر اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ پاکستان بار کونسل کے صدر امجد شاہ نے کہا کہ ملک کی بقا، عدلیہ کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے سب متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ججوں کے خلاف یہاں نہیں کھڑے، مطالبہ کیا تھا کہ تمام ریفرنسز کی سماعت کی جائے، ہمیں کچھ تحفظات ہیں۔ وائس چیئرمین نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججوں کے تقرر کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں وکلا کے دو نمائندے شریک ہوئے اور نئے ججوں کی نامزدگی پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ثبوت بھی فراہم کیے، لیکن ہمارے نمائندوں کی بات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ ہمارے نمائندوں کو ایسے لگا جیسے جوڈیشل کمیشن میں سب ارکان حکومت کے نمائندے ہیں۔ امجد شاہ نے کہا کہ اجلاس میں سارے اٹارنی جنرل بنے ہوئے تھے جنہوں نے ہمارے نمائندوں کی رائے کو بلڈوز کیا۔ عدلیہ سے گزارش ہے کہ اس ملک کو اندھیرے کی طرف نہ دھکیلے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی 45 بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندے ان کی دعوت پر سپریم کورٹ آئے، اور اب اگلا اجلاس پشاور میں ہوگا۔ ہم ڈویژن کی سطح پر کنونشن شروع کررہے ہیں۔ سید امجد شاہ نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں پانچ جج لگانے کی سفارش کی گئی جن پر ہمارے نمائندوں نے اعتراض کیا کہ انہوں نے بطور وکیل انکم ٹیکس نہیں دیا۔ اجلاس میں وزیر قانون نے ہمارے نمائندوں کے اعتراض پر کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں، انکم ٹیکس کمشنر نوٹس جاری کرے گا تو ٹیکس دے دیں گے۔ امجد شاہ نے کہا کہ آپ ایک طرف انکم ٹیکس نہ دینے کے الزام پر ججوں کو فارغ کررہے ہیں، دوسری طرف ایسے جج لا رہے ہیں جو انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ کیا ایسے جج بعد میں مینج کرنے کے لیے لائے جاتے ہیں؟

Share this: