علم کی اہمیت

ابوسعدی
سلطنت ِ سلجوتی کے بادشاہ ملک شاہ کا وزیر نظام الملک طوسی، اعلیٰ درجے کا مدبر، منتظم اور عالم و فاضل تھا، وہ مدارس نظامیہ کا بانی تھا۔ اس نے تعلیم کو عام کرنے کے لیے اس قدر مدرسے تعمیر کیے کہ بادشاہ نے ایک دن اسے بلاکر کہا: ’’بابا! (بادشاہ چھوٹی عمر کا تھا اس لیے وہ وزیر کو عزت سے بابا کہتا تھا) آپ مدرسوں پر جو روپیہ خرچ کررہے ہیں، اگر وہ فوج پر کیا جائے تو دنیا فتح کی جاسکتی ہے‘‘۔
نظام الملک نے اس موقع پر جو جواب دیا، وہ آج بھی حکمت و دانش کا بہترین نمونہ ہے۔ اس نے کہا: ’’بیٹا تم جو فوج بھرتی کروگے اس کے تیر چند گز سے زیادہ دور نہ جاسکیں گے، لیکن میں اہلِ علم کی جو فوج تیار کررہا ہوں اس کی سوچوں اور دعائوں کے تیر آسمانوں کے بھی پار چلے جائیں گے‘‘۔

چراغ کی روشنی

جس شخص کے دل میں ایمانِ راسخ موجود ہوگا اور جو اللہ سے ایسا ڈرنے والا ہوگا جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اُس کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کو گمراہی میں مبتلا دیکھے اور راہِ حق کی طرف دعوت نہ دے، کہیں بدی کا وجود پائے اور اس کو مٹانے کی کوشش نہ کرے۔ طبیعتِ مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مشک… یا چراغ کہ نورِ ایمان سے جہاں وہ منور ہوا اس نے آس پاس کی فضا میں اپنی شعاعیں پھیلا دیں۔ مشک میں جب تک خوشبو رہے گی وہ مشامِ جاں کو معطر کرتا رہے گا۔ چراغ جب تک روشن رہے گا روشن کرتا رہے گا۔ مگر جب مشک کی خوشبو قریب سے قریب سونگھنے والے کو بھی محسوس نہ ہو اور چراغ کی روشنی اپنے قریب ترین ماحول کو بھی روشن نہ کرے تو ہر شخص یہی حکم لگائے گا کہ مشک مشک نہیں رہا، اور چراغ نے اپنی چراغیت کھودی۔ یہی حال مومن کا ہے کہ اگر وہ خیر کی طرف دعوت نہ دے، نیکی کا حکم نہ دے، بدی کو برداشت کرلے اور اس سے روکے نہیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں خوفِ خدا کی آگ سرد پڑ گئی ہے اور ایمان کی روشنی مدھم ہوگئی ہے۔
(مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ-تفہیمات:جلد اول ، صفحہ:151)

دکھ سُکھ ماننے کا ہے

دکھ اور سُکھ کو جتنا ہی مانیں اتنی ہی تکلیف اور خوشی ہوتی ہے۔ اس فقرے یا کہاوت کو اکثر فقرا کہا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک دکھ سُکھ برابر ہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔ دکھ اور ہوس کو نفسیاتی طور پر کم کرنے کے لیے بھی اس فقرے کو بولتے ہیں۔ اس کے وجود میں آنے کا سبب ایک دلچسپ حکایت ہے جو اس طرح بیان کی جاتی ہے:
ایک سوداگر تجارت کرنے کی غرض سے بدیش گیا۔ وہاں اس کو پندرہ سال تک رہنا پڑا۔ وہ اپنے پیچھے ایک سال کا بیٹا چھوڑ کر گیا، جو اب سولہ سال کا جوان ہوچکا تھا۔ وہ جوان اپنے والد سے ملنے کے لیے اسی ملک کو روانہ ہوا جہاں وہ تجارت کرنے کی غرض سے گیا تھا۔ ادھر سوداگر بھی روپیہ پیسہ کماکر گھر لوٹ رہا تھا۔ اتفاقاً راستے میں دونوں ایک ہی سرائے میں ٹھیرے۔ بیٹا سرائے میں پہلے پہنچا تھا۔ اس نے جاتے ہی اس ایک کمرے کو کرائے پر لے لیا جو خالی تھا۔ باپ بعد میں پہنچا لیکن کوئی کمرہ خالی نہیں تھا، اس لیے اس نے سرائے کے مالک کو زیادہ روپے دے کر لڑکے سے کمرہ خالی کرالیا۔ لڑکا رات بھر باہر سردی میں ٹھٹھرتا رہا اور باپ آرام سے کمرے میں خراٹے بھرتا رہا۔ صبح لڑکے سے بات چیت کرنے پر جب سوداگر کو پتا چلا کہ یہ تو اسی کا بیٹا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ رات کو اسے سرائے کے کمرے سے نکلواکر سوداگر کو جس قدر خوشی کا احساس ہوا تھا، صبح یہ جان کر کہ یہ اسی کا بیٹا ہے جو رات بھر سردی سے ٹھٹھرتا رہا، نہایت تکلیف ہوئی۔ یعنی جس فعل سے سوداگر کو سُکھ کا احساس ہوا وہی اب دکھ کا باعث تھا۔
(مرتب: علی حمزہ۔ ماہنامہ چشمِ بیدار)

ابولہب

عبدالعزی بن عبدالمطلب ہاشمی (م 624ء) حضور نبی کریمؐ کا حقیقی چچا تھا۔ یہ سرخ رو اور شکیل تھا، اس لیے لوگ اسے ابولہب کہتے تھے، مگر اصل نام عبدالعزی ہے۔ حضور اکرمؐ کی عداوت اور آپؐ کو ایذا رسانی میں سب سے پیش پیش تھا۔ یہ اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا۔ اس کی ہلاکت اور تباہی کا ذکر قرآن مجید میں ایک سورۃ اللہب میں بیان ہوا ہے۔ یہ آپؐ کی دعوت و تبلیغ میں مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ شعبِ ابی طالب کی محصوری کے زمانے میں بھی اس نے خاندانِ بنی ہاشم کا ساتھ نہیں دیا۔ ابولہب آنحضرتؐ کا پڑوسی تھا۔ گندگی اور غلاظت لاکر آپؐ کے دروازے پر پھینک جاتا تھا۔ ابولہب غزوۂ بدر میں شریک نہیں تھا، مگر اس غزوہ کے سات دن بعد چیچک کا شکار ہوا اور اسی بیماری میں مرگیا۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

زبان زد اشعار

قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
(امیر احمد امیرؔ مینائی)
……………
شاخِ گل جھوم کے گلزار میں سیدھی جو ہوئی
بھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا
شبِ وصال ہے گل کردو ان چراغوں کو
خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
(محمد مومن خاں مومنؔ)
……………
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(مولانا ظفر علی خاں)

Share this: