سوویت یونین کے سرکاری ترجمان نے ان کے ہوش اڑادیئے؟۔

اگلی پیشی پر ہمیں فرد جرم سنائی جائے گی

جیل میں اپنے صبح کے معمولات کے بعد بی کلاس کے چھوٹے سے سبزہ زار میں کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور سوویت یونین کے سرکاری ترجمان اخبار ’’پراودا‘‘ کا اداریہ پڑھنے لگا۔ نیپ کے لیڈر صاحبان نیند کے مزے لوٹ رہے تھے اور میں چاہ رہا تھا کہ ان کے سیاسی سکون کو درہم برہم کروں۔ جیل میں ان سے نوک جھونک چلتی رہتی تھی، وہ میری تلخ و شیریں باتوں کو بڑے تحمل سے سنتے تھے اور جانتے تھے کہ شادیزئی نیپ کی حمایت کے جرم میں داخلِ زنداں ہوا ہے، اس لیے بڑا احترام کرتے تھے۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو زمرد حسین مرحوم اور محمود عزیز کرد (مرحوم) لان میں آگئے۔ ابھی وہ بے خبر تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ جب وہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گئے تو میں نے کہا ’’زمرد صاحب مبارک ہو‘‘۔ وہ مسکرائے اور کہا ’’کیا بات ہے؟ کیا رہائی کی خبر ہے؟‘‘ ان سے کہا ’’سوویت یونین کے سرکاری ترجمان نے اداریہ لکھا ہے جس میں بھٹو کے فوجی آپریشن کی حمایت کی ہے جو بلوچستان میں ہورہا ہے۔‘‘ وہ سب یہ سن کر سناٹے میں آگئے، انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ سوویت یونین بھٹو کے فوجی آپریشن کی حمایت کرے گا۔ میں نے انہیں اخبار تھمادیا۔ انہوں نے پڑھا تو ان کے چہرے پر اداسی چھاگئی، جبکہ میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ میں نے انہیں زیادہ تنگ نہیں کیا، مجھے خود سوویت یونین کے منافقانہ کردار پر افسوس ہورہا تھا۔ دوسری طرف شہنشاہ ایران نے کھل کر بھٹو حکومت کی حمایت کی۔ امریکی پٹھو شاہ ایران نے جس طرح بھٹو کی فاشسٹ حکومت کی حمایت کی وہ ایک تاریخی جرم تھا۔ شاہ ایران نے بھٹو کو فوجی آپریشن کے لیے چینوک ہیلی کاپٹر فراہم کیے جنہیں ایرانی پائلٹ اڑا کر بلوچستان لائے۔ میں کوئٹہ کی فضائوں میں اس کا نظارہ کرچکا تھا۔ 1974ء کی بات ہے، جب جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تو اپنے بچپن کے دوست محمد اقبال کی دکان واقع لیاقت روڈ پر کھڑا تھا۔ اتنے میں ایک نوجوان ایرانی آفیسر دکان میں داخل ہوا۔ دوست کی دکان ٹوپیوں کی تھی، اور وہ ایرانی نوجوان ٹوپی خریدنا چاہتا تھا۔ وہ اردو نہیں جانتا تھا، انگریزی زبان میں بات کررہا تھا۔ میں نے اس سے بات چیت کی اور کہاکہ آپ پاکستانی تو نہیں لگ رہے ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس ملک سے تعلق ہے؟ تو اس نے کہاکہ میرا تعلق ایران سے ہے۔ میرا تجسس بڑھ گیا، اس سے پوچھا کہ آپ کوئٹہ کسی کام سے آئے ہیں یا صرف سیر کرنے آئے ہیں؟ تو اس نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بغیر کسی تکلف کے کہاکہ میں ایرانی پائلٹ ہوں اور چنیوک ہیلی کاپٹر کے ساتھ آیا ہوں، شاہ ایران نے بلوچستان میں اس کو استعمال کے لیے بھیجا ہے۔ اس سے پوچھا کہ کتنے ہیلی کاپٹر لائے ہیں؟ اس نے تعداد نہیں بتائی، بس مسکراتا رہا۔ ایرانی ایسے ہی خوش مزاج اور بڑے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں۔ اس نے ہاتھ ملایا اور رخصت ہوگیا۔
۔1973ء میں نواب بگٹی نے مقدمۂ بغاوت میں گرفتار کیا تھا اور 1974ء میں اُن سے سیاسی یارانہ ہوگیا۔ نواب سے ذکر کیا کہ کچھ ایرانی پائلٹ کوئٹہ آئے ہوئے ہیں، تو انہوں نے کہاکہ چلو آپ کو ایرانی ہیلی کاپٹر دکھاتے ہیں۔ یہ مئی یا جون کا مہینہ تھا۔ نواب نے ڈرائیور سے کار نکالنے کے لیے کہا اور انہوں نے گاڑی خود ڈرائیو کی۔ میرے سوا اور کوئی نہ تھا۔ زرغون روڈ سے ہوتے ہوئے ہم کینٹ کی طرف نکلے۔ برطانوی حکومت کے دور میں اس روڈ کا نام لٹن روڈ تھا اور یہ کسی برطانوی آفیسر کے نام سے منسوب تھا۔ اس روڈ پر سفیدے کے درخت دو رویہ لگائے گئے تھے۔ کیپٹن رابرٹ سنڈیمن کے دور میں ریاست قلات نے سر جھکا دیا اور برطانوی راج کو تسلیم کرلیا توتاجِ برطانیہ نے کوئٹہ کو بھی جو خان قلات کا قلعہ تھا، پٹہ پر حاصل کرلیا۔ بعد میں رابرٹ سنڈیمن کو میجر کے رینک پر ترقی دے دی گئی۔ اس موقع پر ایک دلچسپ تاریخی واقعے کا ذکر کرنا دلچسپی کا باعث ہوگا۔ سبی میں برطانیہ نے سرداروں اور نوابوں کو قابو میں کرنے کے لیے انہیں خطابات دیئے اور شاہی جرگہ تخلیق کیا۔ سال میں ایک بار یہ دربار لگتا جس میں برطانیہ سے تاجِ برطانیہ کے اہم نمائندے تشریف لاتے اور انہیں خلعت عطا کرتے تھے۔ بعد میں رابرٹ سنڈیمن کو لارڈ کا اعزاز دیا گیا۔ ایک ایسے ہی شاہی دربار میں سر رابرٹ سنڈیمن تشریف لائے۔ انہوں نے سبی دربار سے سبی ریلوے اسٹیشن تک کے سفر کا فیصلہ کیا تو بلوچ سرداروں اور نوابوں نے رابرٹ سنڈیمن کی بگھی کو اپنے کاندھوں سے کھینچا۔ سنڈیمن بگھی میں بیٹھا ہوا تھا اور ان سرداروں کی پگڑیاں کھل گئی تھیں۔ انہوں نے پروا کیے بغیر سنڈیمن کو ریلوے اسٹیشن پہنچایا۔ صرف نواب خیر بخش کے دادا نے بگھی نہیں کھینچی۔ یہ بلوچستان کی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے جو بلوچ سرداروں نے رقم کیا۔ انگریزوں کو داد دینی چاہیے کہ ان بلوچ سرداروںکو اپنے رویّے سے اتنا رام کرلیا تھا کہ وہ بگھی کھینچ رہے تھے، جبکہ ہماری بیوروکریسی بڑی نااہل ہے جو صوبے کو اپنے لیے ہموار نہیں کرسکی۔
ہم زرغون روڈ کا ذکر کررہے تھے۔ ابتدا میں اس کا نام ریزیڈنسی روڈ تھا، پھر جب شاہ ایران نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس روڈ سے گزرے (یہ شاید 1952ء کی بات ہے) تو اس کا نام تبدیل کرکے رضا شاہ پہلوی کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ بعد میں ایران میں انقلاب آگیا تو تاج محمد جمالی کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں اس کا نام تبدیل کرکے امام خمینی کے نام پر شاہراہ خمینی رکھ دیا گیا۔ تاج محمد جمالی کا دورِ حکومت نومبر1990ء سے مئی 1993ء تک تھا۔ میں اس تقریب میں شریک تھا۔ بعد میں حکومت نے امام خمینی کے نام کو ہٹا دیا- یہ نوازشریف کا دور/ حکومت تھا۔ امریکن نواز حکومت کو بانیِ انقلاب امام خمینی کا نام قبول نہیں تھا۔ اس روڈ سے تمام اہم شخصیات کا گزر ہوتا تھا اور یہ کینٹ میں جاکر ختم ہوتا تھا، اس لیے مسلم لیگ کی حکومت نے امریکہ کے ایما پر اس نام کو ہٹادیا۔ یہ ایک شرمناک عمل تھا۔
تہران میں ایئرپورٹ کی اہم شاہراہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب ہے اور اسے حکومتِ ایران نے نہیں ہٹایا، لیکن ہم نے امریکہ کے آگے سر جھکا دیا۔ بات ایرانی ہیلی کاپٹر سے ہوتے ہوئے زرغون روڈ پر پہنچ گئی۔ ہم دونوں اس روڈ سے ہوتے ہوئے کینٹ کی طرف جارہے تھے۔ نواب گاڑی کو اس حصے میں لے گئے جہاں سے ایرانی ہیلی کاپٹر کھڑے نظر آرہے تھے۔ یہ علاقہ کچھ مور کہلاتا ہے۔ ایک نہیںکئی چنیوک ہیلی کاپٹر پیڈ پر کھڑے نظر آرہے تھے، یہ فاشسٹ بھٹو کا دورِ حکومت تھا اور ان ہیلی کاپٹروں کا نواب خیر بخش خان مری کے پہاڑی علاقوں میں استعمال ہورہا تھا۔ شاہ ایران نے امریکہ کے کہنے پر ہیلی کاپٹر حکومتِ پاکستان کو دیئے اور یہ کھلم کھلا پاکستان میں مداخلت تھی، یہ ایک شرمناک عمل تھا۔ فاشسٹ بھٹو اپنے مخالفین کو مارنے کے لیے کھلم کھلا غیر ملکی مداخلت کرارہا تھا۔ اس شرمناک باب کو اہلِ بلوچستان کیسے فراموش کرسکتے ہیں! بعض گرفتار مریوں کو ہیلی کاپٹر سے پہاڑوں پر سے پھینکا گیا۔ اپنے کالم میں جو شائع ہوچکا ہے، اس کا ذکر کرچکا ہوں، اور جس کمانڈو نے یہ کام کیا اُس کا نام بھی لکھ چکا ہوں، اور جو اُس کا المناک اور عبرت ناک انجام ہوا اس کو بھی قلمبند کرچکا ہوں۔ اپنی کتاب میں اس کالم کو ضرور شائع کروں گا، اس میں تفصیل ہوگی۔
ہیلی کاپٹر کو قریب سے دیکھا اور پھر ہم اس کا نظارہ کرتے ہوئے بگٹی ہائوس لوٹ آئے۔ میں نواب کے ساتھ کھانے میں شریک ہوا لیکن نواب نے اس معاملے پر زیادہ گفتگو نہیں کی۔ اس لیے کہ نیپ کے خلاف جو آپریشن ہوا وہ نواب بگٹی کے گورنر راج کا دور تھا جو نیپ کی حکومت ختم کرنے کے بعد بلوچستان میں نافذ کیا گیا تھا۔
اب ہمارے وکیل جناب قادری صاحب نے بتایا کہ آپ لوگوں کا باقاعدہ مقدمہ شروع ہونے والا ہے، اور اس کا آغاز سٹی مجسٹریٹ کے روبرو ہوگا، آپ لوگ تیاری کرلیں۔ اُن سے پوچھا کہ یہ مقدمہ کیسے شروع ہوگا؟ تو انہوں نے بتایا کہ جو کچھ آپ لوگوں نے تقریر میں کہا ہے اس حوالے سے یہ مقدمہ شروع ہوگا، وکیلِ سرکار اس کی پیروی کرے گا اور گواہ پیش کیے جائیں گے۔ ان سے پوچھاکہ ہمارے خلاف گواہ کون ہوں گے؟ انہوں نے کہاکہ پولیس پیش ہوگی، پولیس نے آپ لوگوں کی تقاریر نوٹ کی ہیں۔ اُس دور میں پولیس والے کھڑے ہوکر تقریروں کے نوٹس لیتے تھے اور مقرر کو اس کا انکار کرنے کا حق حاصل ہوتا تھا۔ آج کے دور میں تو لفظ بہ لفظ مع مقرر کے ریکارڈ ہوتا ہے، اس کو رد کرنا اب مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا ذہن تیار کرلیا کہ مجھے کیا کہنا ہے اور کس طرح کہنا ہے۔ اس کے بعد اپنے احاطے میں تنہائی میں اپنی تقریر کے حوالے سے غور کرتا رہا کہ جو کچھ کہا ہے اس کو تسلیم کرلوں یا انکار کردوں؟ مقدمہ شروع ہونے سے قبل میرے چند دن اسی کشمکش میں گزرے۔ تنہائی میں اپنے ضمیر سے پوچھا کہ کیا کروں؟ ضمیر نے کہاکہ تقریر کیوں کی تھی؟ جو کچھ کہا ہے اب تم اس کو تسلیم کرلو اور اس سب کے لیے تیار ہوجائو جو تم پر گزرے گی۔ اور بالآخر اپنے ضمیر کی عدالت میں اعلان کردیا کہ جو کچھ تقریر میں کہا ہے اس کو لفظ بہ لفظ قبول کرلوں گا خواہ مجھے عمر قید ہو یا سزائے موت۔ جس دور کا ذکر کررہا ہوں، والدہ دنیا سے رخصت ہوچکی تھی، بیوی تھی نہ بچے تھے کہ اس میں مزاحم ہوتے۔ اس لیے ایسا فیصلہ کرنے میں رکاوٹ نہ تھی۔ اب غور کرتا ہوں تو وہ لوگ مجھے بڑے عظیم لگتے ہیں جو بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے تختۂ دار پر بڑے باوقار طریقے سے سربلند کیے کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے سروں کا نذرانہ پیش کردیتے ہیں۔ اخوان المسلمون اور مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے عظیم لوگ یاد آتے ہیں جنہوں نے جبرو استبداد کے سامنے سر نہیں جھکائے بلکہ سروں کا نذرانہ پیش کردیا۔ سید قطب شہید، محمد مرسی اور نہ جانے کتنے گمنام شہید ہوں گے جو ظلم و جبر میں تختۂ دار پر کھڑے کیے گئے۔ تیونس، مصر، ایران میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔
بس اب اگلی پیشی پر ہمیں فردِ جرم سنائی جائے گی۔ دوستوں کو اطلاع ہوگئی تھی، تاریخ کا علم ہوگیا تھا اور ہم اس دن کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ عدالت کی کارروائی بھی بڑی دلچسپ تھی۔
(جاری ہے)

Share this: