پاکستان ریلوے نج کاری کی طرف؟

پاکستان کی سیاست اور معیشت کی زبوں حالی کے ساتھ پاکستان ریلوے اور اُس کا نظام بھی ایک بار پھر پٹری سے اترتا نظر آرہا ہے۔ ریلوے پوری دنیا میں سفر کے ساتھ سامان کی ترسیل کے لیے بھی آسان، انتہائی سستا، مفید اور بیشتر ممالک کی آمدنی میں اضافے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جاپان دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں تقریباً 9090 ملین افراد سفر کے لیے ریل کا استعمال کرتے ہیں، دوسرے نمبر پر بھارت ہے جہاں 2004ء تک یہ مکمل خسارے میں چل رہا تھا، اور اس کی آمدن کا 91 فیصد اس کے ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوجاتا تھا۔ مگر آج منافع کما رہا ہے۔ بھارت میںلاکھوںمسافر ریلوے سے روزانہ سفر کرتے ہیں، اور اس کے ذریعے 650 ارب ٹن سامان کی ترسیل بھی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورت حال بہت مختلف ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دیگر محکموں کی طرح پاکستان ریلوے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق ریلوے کا 77.1 فیصد ٹریک اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے۔ 3 ہزار 58 کلومیٹر طویل کراچی لاہور پشاور مین لائن ون کا 53 فیصد حصہ اپنی طبعی عمر گزار چکا ہے۔ یہ ہے ہماری ترقی، اور یہ ہے ہماری دلچسپی کی اصل حقیقت۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے ریلوے میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران پاکستان ریلوے کے کرایوں میں سترہ سے اٹھارہ فیصد اضافہ کیا گیا۔ ریلوے کے کرائے دو مرتبہ بڑھائے گئے ہیں، ایک مرتبہ 7 دسمبر 2018ء کو، اور دوسری مرتبہ یکم جولائی 2019ء کو۔ پہلے دس فیصد، اور پھر سات فیصد کرائے بڑھائے گئے۔ یہ اضافہ بھی آئی ایم ایف کے مطالبے پر ہورہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی اُس کے نمائندے نے کہا تھا کہ حکومت کو پی آئی اے، ریلوے اور پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے جلد فیصلے کرنا ہوں گے۔ ابھی فی الحال کرائے میں اضافہ کیا گیا ہے، مزید کیا اقدامات ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس وقت ریلوے کی نئی چلنے والی دس ٹرینوں میں سے سات ٹرینیں نقصان میں جارہی ہیں۔ پورٹ قاسم سے بن قاسم تک سگنل لگانے کے منصوبے میں 37 کروڑ روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا ریلوے ایک بار پھر اپنی تباہی کے دور میں واپس جارہی ہے کہ جب 2013ء سے قبل پی پی پی کی حکومت میں غلام احمد بلور ریلوے کے وزیر تھے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹرینیں بند ہورہی تھیں۔ اُس وقت عوام نے ریلوے سے سفر کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ نہ تو ٹرینوں کی روانگی کے اوقات کی کوئی اہمیت رہی تھی اور نہ ہی وقت پر پہنچنے کا کوئی نظام تھا۔ریلوے انجنوں کی تباہی بھی عروج پر تھی، ہر روز جگہ جگہ انجن فیل ہونے کی خبریں آتی تھیں۔ اور اب ایک بار پھر اسی طرح کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں، اور ہرکچھ عرصے بعد ہمیں ایک اندوہناک حادثے کی خبر ملتی ہے، جبکہ ٹرینوں کی تاخیر سے روانگی تو روز کا معمول ہے۔ ٹرینیں چھ، سات اور آٹھ گھنٹے تک لیٹ ہورہی ہیں۔کسی ٹریک پر کوئی خرابی یا حادثہ ہوجائے تو یہ دورانیہ بائیس اور چوبیس گھنٹے تک بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مسافر تاریک راتوں، گرم ترین دنوں میں گھنٹوں خوار ہوتے ہیں اور سخت پریشانی، اذیت اور دکھ اٹھاکر منزل پر پہنچتے ہیں۔ کئی اپنے قریبی عزیزوں کی خوشی، غمی کی تقریبات میں شریک ہونے سے رہ جاتے ہیں، بہت سے لوگوں کا کاروباری نقصان ہوتا ہے، نوکریاں خطرے میں پڑجاتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ سعد رفیق جب ریلوے کے وزیر بنے تو ریلوے کی طرف سے مثبت اشارے ملنا شروع ہوگئے تھے اور زوال سے ترقی کا سفر شروع ہوتا نظر آتا تھا۔ ریلوے میں بہتری کے اُن کے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ مسافروں کی تعداد بڑھی اور انھیں سہولتیں بھی ملیں۔کرایوں میں اگر اضافہ ہوا تو متعدد بار کمی بھی ہوئی، لیکن سب سے خاص بات یہ ہے کہ ریلوے نے عوام میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا۔ اب شیخ رشید جب سے ریلوے کے وزیر بنے ہیں، ریلوے کا نظام ایک بار پھر درہم برہم ہوتا نظر آتا ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر دعوے تو کرتے ہیں لیکن عمل کی دنیا میں صورتِ حال بہت مختلف ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ شیخ رشید کو ریلوے معاملات کا سابق تجربہ تھا اور اُن کی پچھلے دور میں کارکردگی نسبتاً بہتر تھی، اور شیخ رشید کوریلوے غلام احمد بلور کے دور کی طرح بدترین حالت میں نہیں ملی تھی، بلکہ اچھی حالت میں ملی تھی جسے وہ مزید بہتری کی طرف لے جاسکتے تھے، لیکن اتنے سینئر اور تجربہ کار سیاست دان ہونے کے باوجود وہ صرف نمائشی چکروں میں پڑگئے جس نے ریلوے کا نظام بگاڑ اور تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اور نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ریلوے انتظامیہ نے وزیر ریلوے شیخ رشید کو آئندہ نئی ٹرینیں نہ چلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے دھڑا دھڑ نئی ٹرینیں نہ چلائی جاتیں تو ریزرو میں موجود انجنوں اور بوگیوں سے ٹرینوں کا نظام متاثر ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔ لیکن شیخ صاحب نے ایک اور نئی ٹرین چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان، نیازی ایکسپریس کا افتتاح 19 جولائی کو کریں گے۔ چند روز قبل کراچی تا راولپنڈی سرسید ایکسپریس کا افتتاح کیا گیا تھا، جس کی اکانومی کلاس کا کرایہ 2 ہزار، اے سی بزنس کا کرایہ 6 ہزار 650 روپے، اور اے سی سلیپر کا کرایہ 8 ہزار 550 روپے رکھا گیا ہے۔ مئی کے مہینے میں وفاقی وزیر ریلوے نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا تھا کہ ہم 26 نئی ٹرینیں چلائیں گے۔ ان اضافی ٹرینوں کی تعداد پر بھی کئی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس سے قبل شیخ صاحب کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ پاکستانی فوج کے بعد ریلوے وہ دوسرا ادارہ ہے جو دور مار میزائل بناسکتا ہے۔ اِس وقت پاکستان ریلوے کو شیخ صاحب کے دعووں سے زیادہ اُن عملی اقدامات کی ضرورت ہے جن سے ادارہ ترقی کرسکے۔ لیکن یہاں اس کا الٹ ہورہا ہے، اور یہ سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ کہیں حکومت جان بوجھ کر ریلوے کے نظام کو خراب کرکے نج کاری کے لیے بہانہ تو نہیں بنارہی ہے؟ کیونکہ اس حوالے سے آئی ایم ایف کا واضح حکم نامہ پہلے ہی ان کے پاس موجود ہے، اور یہ اس پر ایک اچھے بچے کی طرح عمل کررہے ہیں۔ اس صورتِ حال اور پس منظر میں پریم یونین سی بی اے کے صدر حافظ سلمان بٹ کا بھی کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں ریلوے کی نجکاری قبول کرلی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کے عوام پر اس حکومت کا ایک اور ظلم ہوگا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ ٹرینوں میں اضافہ ضروری ہے، لیکن اس کے لیے پہلے کوئی انفرا اسٹرکچر تو بنایا جائے، اور پھر پہلے سے جو ٹرینیں چل رہی ہیں ان کو تو ٹھیک طریقے سے چلایا جائے۔ اس وقت جو ٹرینیں چل رہی ہیں اُن میں تاخیر کے علاوہ بھی کئی مسائل موجود ہیں۔ اے سی سلیپر کے اے سی آئے دن خراب ہونے کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں، غریب جو کہ اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے اُس کا تو کوئی پُرسانِ حال ہی نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریل غریب کی واحد سستی سواری ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد ریل کے کرایوں میں اضافہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ پاکستان ریلوے کو سالانہ 100 ارب روپے کا بجٹ درکار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غریب کی جیب سے ہی نکالا جائے۔ بھارت میں ریلوے کی ترقی کا راز یہ تھا کہ ان پڑھ لالو پرشاد یادیو نے عام مسافروں کے لئے کرائے میں اضافہ نہیں کیا، بلکہ مسافروں کی تعداد بڑھانے اور کارگو میں اضافے سے کمانے کی حکمت عملی ترتیب دی۔ اُس نے خسارے پر قابو پانے کے لیے کرایوں میں اضافہ کرکے عام شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالا۔ صاف اور سیدھا سا اصول ہے کہ محکمہ ریلوے صرف اُسی صورت میں منافع کما سکتا ہے جب ٹرینوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ سفر کریں اور تاجر کارگو سروس کا زیادہ استعمال کریں چنانچہ مال گاڑیوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ اس وقت ٹرینوں میں بغیر پلاننگ اضافے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ کارگو بکنگ کے لیے شہر اور گائوں کی سطح پر نظام بنایا جائے، پورے نظام کو شفاف اور سہل بنایا جائے۔ ریلوے حادثات پر قابو پانے کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے، جدید سسٹم سے ہم آہنگ کیا جائے۔ غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے علاوہ محکمہ ریلوے میں موجود کرپشن پر بھی قابو پایا جائے۔ اور یہ ہوسکتا ہے، بس کرنے کا ارادہ اور اہلیت ہونی چاہیے۔
(اے اے سید)

Share this: