برہان وانی کی شہادت اور بادشاہت کے تین برس

وہ بدلتی ہوئی دنیا میں سوشل میڈیا کے ہتھیار سے لیس کشمیری نوجوانوں کے جذبات کا استعارہ اور علامت کہلایا

کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کے مقبول کردار بائیس سالہ نوجوان برہان مظفر وانی کی تیسری برسی بھی کشمیر میں روایتی انداز میں منائی گئی۔ زوردار ہڑتال نے کاروبارِ حیات معطل کردیا، اور بھارت نے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون پر پابندی کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ فوج کی بھاری نفری جو وادی کو امرناتھ یاترا کی وجہ سے گھیرے ہوئے تھی، ہڑتال اور مظاہروں کے خوف سے اس کا رخ یاتریوں کی حفاظت کے بجائے عوام کی نگرانی کی جانب موڑ دیا گیا۔ فوج چونکہ کشمیری عوام پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھی اس لیے امرناتھ یاترا کو ایک دن کے لیے روک دیا گیا۔ یاتری جہاں تھے وہیں رک گئے۔ بانہال سے بارہ مولہ تک چلنے والی ریل سروس بھی ایک دن کے لیے معطل رہی۔ برہان وانی کے آبائی قصبے ترال میں صبح سویرے سے ہی کرفیو نافذ رہا اور بھارتی فوج نے قصبے کی طرف جانے والے تمام راستوں اور سڑکوں کو خاردار تاروں سے بند کردیا تھا۔ برہان وانی کے گھر اور قریب ہی موجود قبر کو خاردار تاروں سے محصور کردیا گیا تھا اور مقامی لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ حریت قیادت سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو ایک دن قبل ہی نظربند کردیا گیا تھا۔ سری نگر کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی ٹولیاں نکل کر بھارتی فوجیوں پر پتھرائو کرتی رہیں۔کشمیر وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں چناب وادی میں اس موقع پر مکمل ہڑتال کی گئی۔
برہان وانی کی شہادت کو تین برس گزر گئے۔ حقیقت میں یہ برہان کی بادشاہت کے تین برس تھے۔ برہان وانی نے جس طرح ان تین برسوں میں اپنی قبر سے کشمیریوں بالخصوص وادی کے نوجوانوں کے دل ودماغ پر بادشاہت کی ہے، اس کی مثال مزاحمت آشنا سماجوں اور تحریکوں میں بھی بہت کم ملتی ہے۔ وہ بے آب وگیاہ بنجر زمین پر بارش کا وہ پہلا قطرہ تھا جس کے بعد انسانی لہو سے چہار سو جل تھل ہوگیا، اور تین برس بعد بھی بھارت کشمیریوں کے آئیڈیل تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ وادی کے نوجوان کو برہان وانی کے مقابلے میں نئے آئیڈیلز سے آشنا کرنے کے لیے بھارتی سول سروس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے شاہ فیصل اور برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی شعلہ بیان طالبہ شہلا رشید جیسے نوجوانوں کو آگے بڑھایا گیا، مگر آزادی کے حوالے سے وہ کشمیریوں کا یہ سنگِ میل اور رول ماڈل تبدیل نہ کرسکے، اور تین برس گزرنے کے بعد بھی برہان وانی ہی کشمیری نوجوان کا ہیرو ٹھیرا۔ شاہ فیصل اور شہلا رشید دونوں اب کشمیر میں روایتی سیاسی جماعت قائم کرکے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ یوں وہ برہان وانی کا متبادل تو نہ بن سکے، شاید فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کا متبادل بن جائیں۔ برہان کی جس تصویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی تھی اُس میں گیارہ نوجوان شامل تھے۔ ان تین برسوں میں ایک ایک کرکے یہ تمام نوجوان بھارتی فوج کے ساتھ تصادم میں شہید ہوئے، اور ہر شہید کا جنازہ عوامی جوش اور حاضری کے اعتبار سے تاریخی تھا۔ سبزار احمد بٹ اور ذاکر موسیٰ اس دس رکنی کہکشاں کا آخری ستارہ تھے۔ بھارت نے کشمیر کی اس داخلی تحریک کو کچلنے کے لیے آپریشن آل آئوٹ کے نام سے خوفناک فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے، جس میں اب تک تین سو کے قریب نوجوان شہید کیے جاچکے ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچانے اور بھارتی فوج کا محاصرہ ختم کرانے کی کوشش میں سیکڑوں عام شہری بھی اس عرصے میں شہید ہوچکے ہیں۔
برہان وانی کو موت کے بعد صرف کشمیریوں نے ہی نمایاں اورممتاز حیثیت نہیں دی بلکہ بھارت نے بھی اپنے انداز سے اس نوجوان کو ممتاز بنا یا۔بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پربرہان وانی کو شہید کرنے والے تین فوجیوں کو بہادری کے اعلیٰ قومی اعزاز’’ سینا میڈل ‘‘سے نوازا گیاتھا۔ ان فوجیوں میں راشٹریہ رائفلز کے میجر کمار، کیپٹن مانک، اور نائیک ارویندر شامل تھے۔ ان فوجیوں نے 8جولائی 2016ء کو ککرناگ کشمیر میں ایک گھر کا محاصرہ کرکے برہان وانی کو اُن کے دوساتھیوں سمیت شہید کیا تھا۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے تین فوجیوں کو اعزاز دئیے جانے کی خبر کے ساتھ اس واقعے کا حال بھی ایک فوجی کی زبانی بیان کیا تھا،جس کے مطابق اس معمولی سی اطلاع پر کہ چند مسلح نوجوان ایک گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں انہوںنے کس طرح بستی کا رخ کیا اور اس کے ردعمل میں بستی والے بار بار فوجیوں پر ٹوٹ پڑتے رہے اور انہیں پتھرائو اور عوامی مزاحمت کے باعث گھیرائو کرنے میں شدید مشکل اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔جان جوکھوں کے بعد وہ مکان کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں برہان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پناہ گزین تھا۔ میڈل لینے والے بھارتی فوجی کے اس آنکھوں دیکھے حال کے انہی چند جملوں سے ہی برہان وانی کی مقبولیت اور اس نوجوان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ برہان وانی کے بعد کشمیر میں عوامی جذبات ایک آتش فشاں کی مانند پھٹ پڑے تھے اور چند گھنٹوں کے اندر ہی درجن بھر افراد نے دورانِ احتجاج اپنی جانیں قربان کی تھیں۔برہان وانی کو کشمیر کا چی گویرا، پوسٹر بوائے اور آئیکون کہا گیا۔ اس کی یاد میں گیت گائے گئے۔اس کے نام پر نعرے تخلیق ہوئے۔وہ بدلتی ہوئی دنیا میںسوشل میڈیا کے ہتھیار سے لیس کشمیری نوجوانوں کے جذبات کا استعارہ اور علامت کہلایا۔وہ ایک بائیس سالہ نوجوان تھا جس کی شخصیت کشمیری نوجوانوں کے لیے آئیکون کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔وہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے دلوں میں اُتر کر گھر کر چکا تھا۔وہ کشمیر کی داخلی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل قیادت کی علامت تھا۔کشمیر کے نوجوان اسے آئیڈیلائز کرتے تھے۔بھارتی میڈیا اسے پوسٹر بوائے کہتا تھا۔برہان وانی کی مقبولیت کا ثبوت تھا کہ اس کی شہادت کے بعد بے ساختہ شروع ہونے والے احتجاج کے بعد کم وبیش چھ ماہ تک کشمیر میں کاروبارِ حیات مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا، اور اس عرصے میں 80 افراد شہید ہوئے، ہزاروں زخمی اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔بھارت نے عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کی بینائی چلی گئی۔آج بھی کشمیر اس نوجوان کی شہادت کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔
برہان وانی وہ خوش نصیب کمانڈر تھا جس کا نام اقوام متحدہ کے ایوانوں میں گونجا، اور اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں اسے کشمیریوں کانوجوان لیڈر کہا۔نریندر مودی اس پر خاصے چیں بہ جبیں ہوئے اور اسے دہشت گردوں کو گلیمرائز کرنے سے تعبیر کیا۔ایک طرف برہان وانی کا عام کشمیری کے دل میں یہ مقام اور مقبولیت، اور دوسری طرف بھارت نے اس مقبول ہیرو کو شہید کرنے والے فوجیوں کو قومی اعزاز سے نواز ا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔وہ ہر اُس علامت سے نفرت کرتا ہے جس سے کشمیری محبت کرتے ہیں، اور وہ ہر اُس نقش کو مٹاڈالنے پر یقین رکھتا ہے جس سے کشمیری تگ وتاز اور توانائی حاصل کرتے ہیں۔یہ کشمیریوں کے مقبول جذبات کی توہین اور ناقدری ہے، اور بھارت کا یہی رویہ مسئلہ کشمیر اور جذبہ ٔ آزادی کو عوام کے دلوں میں نہ صرف زندہ رکھتا ہے بلکہ اسے نسل درنسل منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔
گزشتہ تین عشروں کے دوران بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا ہے۔ ان میں بے شمار نامی گرامی کمانڈر بھی تھے۔ ایسے لوگ جن پر بھارتی فوج نے درجنوں مقدمات قائم کیے تھے، جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی تھی، جن پر فوج اور فوجی تنصیات پر درجنوں حملوں کا الزام تھا، اور وہ خود ان کارروائیوں کو قبول کرتے رہے تھے۔ ان میں بہت سے لوگ عوام میں بہادری کی علامت بھی تھے۔ بھارت نے بہت کم ہی کسی کمانڈر کو مارنے کے انعام کے طور پر اپنے فوجی کو انعام اور اعزاز سے نوازا ہوگا۔ برہان وانی کو ان کمانڈروں سے ممتاز کرنے والی چیز اس کی عوامی مقبولیت اور نوجوانوں کا اس کی شخصیت سے رومانس تھا۔ اور اس کے قاتلوں کو اعزاز دینے کا مقصد ان جذبات کو پیروں تلے روندنا ہے۔ یوں یہ برہان وانی کے قاتلوں پر انعام نہیں بلکہ کشمیریوں کے جذبات سے نفرت اور حقارت کا مظاہرہ تھا۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوگئی تھی کہ بھارت کے ہیرو کشمیرکے ولن ہیں، اور کشمیر کے ہیرو بھارت کے ولن ہیں۔کشمیریوں کے مقبول جذبات کا احترام کرنے میں بھارت کی جمہوریت، سیکولرازم اور ہند کی ’’اکبری روایات‘‘ کا پیمانہ چھوٹا پڑ کر چھلک جاتا ہے۔ اس تضاد کے ساتھ بھارت کشمیر پر اپنے قبضے کو طول تو دے سکتا ہے مگر وہ کشمیری عوام کے دل ودماغ مسخر نہیں کرسکتا۔

کشمیر کانفرنس سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، ڈاکٹر خالد محمود خان و دیگر کا خطاب

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان مذاکرا ت کی بھیک مانگنے کے بجائے نریندر مودی کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے،مودی کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے بھارت کو ووٹ دینا کشمیریوں کے لہو سے غداری ہے ، حکومت پاکستان،افغانستان کے عوام اور قیادت کی طرح جرأت کا مظاہرہ کرے ۔کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا عالمی برادری نے ان سے وعدہ کررکھا ہے ،کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان اور بھارت نے نہیں بلکہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق کشمیریوں نے کرنا ہے ایسا کوئی فیصلہ کشمیریوں پر مسلط نہیں ہونے دیں گے جس پر کشمیریوں کے تحفظات ہوں، جماعت اسلامی پاکستان کشمیریوں کی پشت پر ہے شہدا کے مقدس خون سے کسی کو غداری نہیں کرنے دیں گے،برہان مظفر وانی شہید کشمیریوں کی تحریک کا وہ جرنیل ہے جو آزادی کی تحریک کی مثال بن گیا اور نوجوانوں نے اسے اپنا ہیرو بنا لیا ،برہان وانی شہید نے پوری دنیا میں یہ باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ پی ایچ ڈی اسکالر،ڈاکٹر ،انجینئر، پروفیسر تحریک آزادی میں شامل ہو کر اپنا خون پیش کر رہے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ، 72سال سے کشمیری بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ،حق خودارادیت کے علاوہ کوئی حل قبول نہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے زیر اہتمام شہدائے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان ،نائب امیر شیخ عقیل الرحمن،حریت رہنماغلام محمد صفی ،جماعت اسلامی یوتھ پاکستان کے صدرزبیر گوندل،امیر جماعت اسلامی ضلع مظفرآبادارشد بخاری،نثار شائق و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قومی قیادت کشمیر پر یکساں موقف اپنائے اور قومی پالیسی تشکیل دے۔ آزادکشمیر کے عوام جماعت اسلامی کے دست وبازو بنیں ،مہاجرین کے مسائل حل کیے جائیں اور انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں ،شہدائے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیری آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں ،13جولائی 1931ء میں اذان کی تکمیل میں 22کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا ،پاکستان بننے سے قبل 19جولائی 1947ء میں سری نگر میں کشمیریوں نے اپنی منزل پاکستان کو قرار دے کر قرارداد پاکستان منظور کی ،قائدین حریت سید علی گیلانی،شبیر شاہ،یاسین ملک،عبدالحمید فیاض،آسیہ اندرابی،میرواعظ عمرفاروق سمیت دیگر قائدین کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ی پاکستان کی تکمیل،بقا اور سلامتی کی جنگ لڑرہے ہیں،ہم جماعت اسلامی پاکستان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہرمشکل گھڑی میں کشمیریوں کی حقیقی پشتیبانی کا حق ادا کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی شیخ عقیل الرحمن نے کہاکہ شہدا ئے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، برہان مظفر وانی شہید نے 16سال کی عمر میں 8لاکھ بھارتی افواج کو تگنی کا نا چ نچایا اور بے بس کردیا پاکستان کے حکمران بزدلی کا مظاہر ہ چھوڑ کر اہل کشمیر کی عملی مدد کر یں ،پاکستان کے جھنڈے کو سلامتی دے کر کشمیری اپنے سینے پر گولیاں کھا کر پاکستانی پرچموں میں مدفون ہو رہے ہیں کشمیری پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ حریت رہنما غلام محمد صفی نے کہاکہ کشمیری اپنی جدوجہدآزادی کو ہرصورت جاری رکھیں گے، کشمیر کا بچہ بچہ کٹ مرنے کے لیے تیار ہے ہندوستان عملاً کشمیر میں شکست کھا چکا ،کشمیریوں کو آزادی کی منزل سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کانفرنس کے موقع پر قرارداد پیش کی گئی جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ،جس میں لکھا گیا ہے کہ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے زیر اہتمام قوم کے عظیم سپوت،ہیرو تحریک آزادی کشمیر کے ایک روشن باب اورسنگ میل برہان مظفروانی شہید کی یوم شہادت کے موقع پر اس عظیم الشان شہدائے کشمیر کانفرنس کے شرکا اپنے اس عظیم شہید اور تحریک مزاحمت کی علامت برہان مظفر وانی شہید سمیت گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ وادی میں خونی لکیر کے اس پا ر آزادی کی اس تحریک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہدائے اسلام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت ،مجاہدین آزادی اور عوام سے یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ بیس کیمپ میں بسنے والی پوری قوم آزادی کی اس تحریک میں ہر اعتبار سے اپنی ذمے داریاں پورے کرے گی۔

Share this: