کلاسکی ادب کی فرہنگ

کتاب : کلاسکی ادب کی فرہنگ
مرتبہ و مصنفہ : رشید حسن خاں
صفحات : 714 قیمت:750 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی ۔ ناظم مجلسِ ترقیِ ادب۔ لاہور
فون : 99200856,99200857
ای میل : majlista2014@gmail.com
ویب گاہ : www.mtalahore.com

۔’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘اردو ادب و زبان کے حوالے سے نہایت عمدہ، مفید اور ضروری لغت ہے، جس کو نامور محقق، تہ رس نقاد اور ماہرِ متونیات نے بڑی محنت اور جستجو سے مرتب کیا ہے۔ پروگرام تو تین جلدوں کا تھا لیکن رشید حسن خاں کی علالت اور وفات کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا، لیکن پہلی جلد چھپ گئی جس کو مجلس ترقی ادب نے اپنے اشاعتی منصوبے میں شامل کرلیا، جس کا یہ دوسرا ایڈیشن ہے۔
جنرل سیکریٹری انجمن ترقی اردو (ہند) جناب خلیق انجم کی درخواست پر ’’طے پایاکہ وہ کلاسیکی ادب کی فرہنگ تین جلدوں میں مرتب کریں گے، اس فرہنگ میں پرانے شاعروں کے دواوین، مثنویات، داستانوں اور دوسری منظوم و منثور تحریروں میں استعمال ہونے والے ایسے الفاظ شامل کیے جائیں گے جن کا ہمارے زمانے میں چلن نہیں رہا، یعنی اب متروک ہوچکے ہیں یا جن کا تلفظ اور جن کے معنی بدل گئے ہیں۔
اردو میں متون کی فرہنگیں کافی تعداد میں تیار کی گئی ہیں، یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فرہنگ نویسی کے سلسلے میں اس پائے کا عالمانہ، محققانہ کام اردو میں پہلی بار ہوا ہے۔‘‘
’’میں نے گلزارِ نسیم کے پیش لفظ میں لکھا تھا ’’رشید حسن خاں صاحب کا شمار اُن محققوں میں ہوتا ہے جن کے لیے ادبی مصروفیات عبادت کا درجہ رکھتی ہیں، انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنی ساری زندگی علم و ادب کی خدمت میں گزار دی۔ لگاتار محنت اور دیدہ ریزی کا نتیجہ ہے کہ ان کا شمار اعلیٰ ترین محققوں اور متنی نقادوں میں ہوتا ہے‘‘۔ اس فرہنگ کی یہ پہلی جلد میرے اس قول کی مزید تصدیق اور توثیق کرے گی۔‘‘
ڈاکٹر تحسین فراقی تحریر فرماتے ہیں:
’’رشید حسن خاں (1925ء۔ 2006ء) اردو ادب کے نامور محقق، تہ رس نقاد اور ماہر متونیات تھے۔ 2003ء میں انہوں نے ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ کی پہلی جلد شائع کی۔ دو جلدیں تدوین و ترتیب کے مرحلے میں تھیں کہ خاں صاحب کو علالت نے آلیا۔ بیماری نے طول کھینچا اور بالآخر انہوں نے موت کے سنگین اور اٹل حریف کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
پیشِ نظر کتاب میں خاں صاحب نے جس دقتِ نظر اور کمالِ تندہی سے ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ مرتب کی ہے، اس کی جس قدر بھی داد دی جائے کم ہے۔ سینکڑوں بھولے بسرے الفاظ کو اس فرہنگ کے توسط سے نئی زندگی ملی ہے۔ یہ فرہنگ، فرہنگ نویسی کا عمدہ معیار قائم کرتی ہے۔ کلاسیکی شعر و ادب کے فہم میں اردو ادب کے وابستگان کی معاون ہونے کے علاوہ یہ کتاب اردو کے عام قارئین میں ذوق آفرینی کا باعث بھی بنے گی۔
مجلس ترقی ادب کی خوش قسمتی ہے کہ رشید حسن خاں نے اپنے حینِ حیات پاکستان میں اپنی جملہ کتابوں کی اشاعت کے حقوق ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کو تفویض کردیئے تھے۔ ہاشمی صاحب کے توسط سے خاں صاحب کی ایک بہت اہم کتاب ’’اردو املا‘‘ قبل ازیں مجلس کے زیر اہتمام شائع ہوچکی ہے۔ انہی کی اجازت سے پیش نظر کتاب بھی شائع کی جارہی ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ اہلِ قلم اس کتاب سے کماحقہٗ استفادہ کریں گے۔ یہ فرہنگ مستقبل میں تیار ہونے والے اردو لغات کے رقبے کو بھی وسیع کرے گی اور اس سے یہ اندازہ لگانا بھی کسی قدر آسان ہوجائے گا کہ اردو کا کلاسیکی ادب اپنے دامن میں الفاظ و تراکیب کا کیسا زندہ اور تحیر خیز خزانہ سمیٹے بیٹھا ہے، جس کے جاننے سے دانش و بینش کے کتنے ہی در وا ہوسکتے ہیں، اور فکر و خیال کو تازہ توانائی میسر آسکتی ہے۔ بسم اللہ اگر تابِ نظر ہست کسے را‘‘۔
اس زمانے میں ٹھوس عملی تحقیقات پر مشتمل جو چند کتابیں منصۂ شہود پر آئی ہیں اُن میں یہ ایک اہم کتاب ہے۔ اردو زبان سے محبت اور تعلق رکھنے والوں کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ کتاب مجلّد ہے اور سفید کاغذ پر عمدہ طبع کی گئی ہے۔

ششماہی التفسیر کراچی علمی، فکری و تحقیقی مجلہ شمارہ 32۔

مدیر : ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق
صفحات : 232 قیمت: 400 روپے
ناشر : مجلس التفسیر۔ پی او بکس 8413
جامعہ کراچی۔ کراچی 75270
ای میل : drhassanauj@yahoo.com
ویب
سائٹ : msshafiq@uok.edu.pk
www.al-tafseer.org

التفسیر کے موسس پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج شہید تھے۔ ان کی مظلومانہ شہادت کے بعد ششماہی التفسیر کو ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد حسان خان اوج نے زندہ رکھا ہوا ہے جو ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کی ادارت میں منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ الحمد للہ۔ مسلسل شمارہ نمبر32 میں جو اردو اور انگریزی مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
’’تفسیر اشاری کی روایت و منہج کا خصوصی مطالعہ‘‘ غلام شمس الرحمن( شعبہ علوم اسلامیہ و عربی۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد)، ’’مولوی غلام حسن نیازی کے ترجمہ قرآن کا تنقیدی جائزہ‘‘ ڈاکٹر محمد عمران( شعبہ علوم اسلامیہ بہاول پور یونیورسٹی)،’’شاہ ولی اللہؒ کی قرآنی خدمات کا تحقیقی جائزہ‘‘ حکمت اللہ خان آکاخیل (ریسرچ اسکالر شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی)، ’’لفظ ’خاتم‘ کا معنی و مفہوم ائمہ لغت و مفسرین کے اقوال کی روشنی میں۔ ایک تحقیقی جائزہ‘‘ سید عطا اللہ بخاری( لیکچرر کیڈٹ کالج گھوٹکی سندھ)، ’’اسلام میں اہلیتِ اجتہاد کا معیار‘‘ معراج علی (ریسرچ اسکالر۔ شعبہ قرآن و سنہ جامعہ کراچی)، ’’اسلام میں عورت کے حقِ طلاق کی حیثیت: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ ڈاکٹر شہزاد چنا (دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)، ’’مغرب کا نظریۂ ملکیت اور اسلام، تقابلی جائزہ‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق( شعبہ اصولِ الدین جامعہ کراچی)، ’’متقدمین و متاخرین فقہا کی آرا کی روشنی میں مالِ حرام کا منافع‘‘ محمد مشتاق احمد/ جاوید خان (شعبہ علوم اسلامیہ و العربیہ جامعہ سوات)، ’’قدیم سودی مالیاتی نظام کا تحقیقی جائزہ‘‘ صائمہ بنت ِ محمد ہارون (ریسرچ اسکالر شعبہ قرآن و سنہ جامعہ کراچی)
”A Comparative Study of the Qur`anic Translations….”.
Aroosha Mushtaq/Muhammad Sultan Shah
(جی سی یونیورسٹی لاہور)
”How Islam and Democracy are reconcilable?”
Muhammad Malhan Khan
(ریسرچ اسکالر شعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی)
”Adoption of Child in Islam: An Overview of Adoption Laws in Pakistan”
Dr.Choudhry Wasim Iqbal
(ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی)
”Islamic Charity and Social Development in Pakistan”
Dr.Ghulam Shabbir
(کمسیٹ یونیورسٹی اسلام آباد)
”Islamic Microfinance-An overview and Prospects in Pakistan”
Dr.Hasan Raza
(شعبہ اقتصادیات جامعہ کراچی)
مجلہ سفید کاغزذپر خوب صورت طبع ہوا ہے۔

Share this: