قبائلی اضلاع کے انتخابات ،کیا حقیقی مسائل حل ہو سکیں گے؟

۔20 جولائی کو قبائلی اضلاع کی تاریخ میں 16نشستوں پر پہلی دفعہ ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے تمام جملہ انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 16حلقوں کے لیے تمام ساتوں اضلاع اور ایف آر علاقوں کے لیے 1897پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں 20 جولائی کو قبائلی اضلاع کے 28 لاکھ 1 ہزار 8 سو 37مرد و خواتین ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے انتخابات میں قبائلی حلقوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم رہی ہے، البتہ اِس دفعہ خواتین کو پولنگ کے عمل میں برابر کی نمائندگی دینے اور انہیں پولنگ اسٹیشن آکر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔
۔20 جولائی کے انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لینے اور خاص کر امن و امان برقرار رکھنے کے سلسلے میں گزشتہ دنوں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوچکا ہے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات کا پُرامن انعقاد ہم سب کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخ ساز موقع ہے جب قبائلی عوام آزادانہ ماحول میں خیبر پختون خوا اسمبلی میں نمائندگی کے لیے اپنا ووٹ استعمال کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پُرامن اور آزادانہ ماحول میں تمام امیدواران کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے دفعہ 144کا نفاذ پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جبکہ فوجی اہلکار الیکشن کے دوران صرف اُن پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات رہیں گے جو زیادہ حساس ہیں، البتہ وہ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے دیگر پولنگ اسٹیشنوں کے باہر بھی تعینات رہیں گے۔
صوبائی اسمبلی کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے یہ بات بھی لائقِ توجہ ہے کہ 20 جولائی کے الیکشن کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے والے امیدواران میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن میں سے زیادہ تر قبائلی اضلاع سے باہر اسلام آباد، پشاور، یا پھر اپنے قریبی ملحقہ بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہیں، جنہیں نہ تو قبائل کے حقیقی مسائل کا ادراک ہے اور نہ ہی ان لوگوں کے پاس قبائلی عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی پروگرام اور جذبہ ہے۔ ان امیدواران میں بظاہر تو ہر کوئی قبائلی علاقوں کی تباہی و بربادی کا رونا رو رہا ہے، مگر قبائلی اضلاع میں لوگوں کو حقیقی طور پر کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس سے ہر کوئی بے خبر ہے۔
جاری الیکشن مہم میں چونکہ روپے پیسے کا عمل دخل بہت زیادہ ہے، اس لیے اکثر امیدواران ووٹرز کو راغب کرنے، یا پھر انہیں مرعوب کرنے کی غرض سے کھلے عام دعوتوں، فری گاڑیوں، فری پیٹرول اور فری پروگراموں کا سہارا لے رہے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اب تک کسی بھی امیدوار کو انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی پر کوئی معمولی نوٹس تک جاری نہیں کیا گیا؟
ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اس سارے عمل سے یہ کہتے ہوئے لاتعلق نظر آتی ہے کہ نہ تو امیدواروں نے الیکشن سے پہلے قبائل کے لیے کچھ کیا ہے اور نہ ہی الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد ان کا کوئی کردار نظر آتا ہے۔ جس طرح پاکستان بنانے کے لیے عوام نے قربانیاں دیں اور وہ قربانیاں نظرانداز کردی گئیں، اسی طرح الیکشن میں بھی یہی عوام قربانیاں دیتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں بعد ازاں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں اضافے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
حالیہ انتخابات کے بارے میں خیبر ایجنسی کے ایک رہائشی سفید گل کا کہنا ہے کہ ماضی کے بالغ رائے دہی کے بغیر ہونے والے انتخابات میں کوئی باقاعدہ الیکشن مہم نہیں ہوتی تھی، پوری ایجنسی کے چند سو ووٹ ہوا کرتے تھے، اور امیدوار رات کو حجروں میں جاکر کھلے عام ووٹ خرید لیتے تھے، اور جو زیادہ بولی لگاتا تھا وہی صبح جیت جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع میں گہماگہمی نظر آرہی ہے جس میں نوجوان طبقہ سب سے آگے ہے۔ جمرود تحصیل کے ایک اور ووٹر سرفراز خان کے خیال میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ یہ ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب فاٹا خیبر پختون خوا کا حصہ بن چکا ہے اور اصلاحاتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے بھی اسمبلیوں میں ہمارے نمائندے تھے لیکن ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں تھا، بلکہ انھیں قانون سازی کے لیے صدر کے آرڈیننس کا محتاج ہونا پڑتا تھا، لیکن صوبائی اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد ان کے نمائندوں کو پہلی مرتبہ قانون سازی کا اختیار مل جائے گا۔ امید ہے کہ اس سے وہ اپنے علاقے کے لیے مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکیں گے۔ قبائلی علاقے برسوں سے پسماندگی کا شکار رہے ہیں، اور یہاں بنیادی ضروریات کا بھی شدید فقدان ہے، لیکن حالیہ الیکشن میں پہلی مرتبہ دیکھا جارہا ہے کہ امیدوار علاقے کے مسائل پر بات کررہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔ سرفراز خان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی عوام کو بھی زندگی کی وہ سہولیات گھروں کی دہلیز پر ملیں جن کے لیے وہ دہائیوں سے بڑے بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور رہے ہیں۔ بقول اُن کے، ضلع خیبر میں پہلے قومی اسمبلی کا ایک حلقہ تھا، بعد میں دو ہوگئے، اور اب صوبائی اسمبلی کے تین اضافی حلقے ملنے سے ہماری نمائندگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، لہٰذا اسی مناسبت سے اب علاقے کے لیے ترقیاتی کام بھی زیادہ ہوں گے۔
حرفِ آخر یہ کہ 20 جولائی کو قبائلی اضلاع میں منعقد ہونے والے انتخابات ویسے تو کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں،لیکن بعض لوگ موجودہ برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ایک سالہ کارکردگی کے تناظر میں حکومتی حلقوں کے لیے ریفرنڈم سے بھی تعبیر کررہے ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی اس الیکشن میں جس جوش و خروش سے حصہ لے رہی ہیں اور اس ضمن میں جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اسے بھی سیاسی حلقے ان جماعتوں کی عوامی مقبولیت ناپنے کا پیمانہ قرار دے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں 2018ء کے عام انتخابات میں اپنے دامن پر غیر متوقع نتائج کا دھبہ 20 جولائی کے انتخابات میں بہتر کارکردگی کی صورت میں دھونے کی خواہش مند نظر آتی ہیں۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ پی کے 100 سے پی کے 115تک سولہ حلقوں پر ہونے والے ان انتخابات میں جہاں انضمام مخالف جمعیت (ف) اور بعض دیگر انضمام مخالف آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں، وہیں انضمام کی حامی سیاسی جماعتیں مثلاً اے این پی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحریک انصاف بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اسی طرح امیدواران کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو آزادانہ طور پر قسمت آزمائی کررہی ہے، جبکہ بعض جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر دراڑیں بھی پڑچکی ہیں جس سے زیادہ متاثر حکمران پی ٹی آئی ہوئی ہے، جس کے ہر حلقے میں کئی کئی امیدواران نے ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرا رکھی تھیں۔
20 جولائی کے انتخابات کی ایک اور خاص بات ان انتخابات میں بعض سابق ارکانِ قومی اسمبلی کا اب صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے لیے میدان میں اترنا ہے جو 2018ء کے انتخابات میں ناکام ہوگئے تھے، اسی طرح پی کے 106ضلع خیبر سے اے این پی کے ٹکٹ پر خاتون ناہید آفریدی کے جنرل نشست پر انتخاب لڑنے کو بھی سیاسی حلقے انتہائی دلچسپی کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
20 جولائی کے انتخابات کے بارے میں یہ بات تو حتمی ہے کہ ان میں کسی ایک جماعت کے لیے کلین سوئپ کرنا، حتیٰ کہ آدھی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا بھی تقریباً ناممکن ہے، البتہ اس حوالے سے یہ بات طے ہے کہ ان میں زیادہ تر نشستوں پر آزاد امیدواران کے اپنی دولت کے بل بوتے پر کامیابی کا زیادہ امکان ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں میں پی ٹی آئی کو ـاوپر سے کمک کے نتیجے میں، جبکہ جمعیت (ف) اور جماعت اسلامی کو اپنے مخصوص پاکٹس کے بل بوتے پر اکا دکا نشستیں ملنے کا واضح امکان ہے۔ البتہ جہاں تک پیپلز پارٹی، اے این پی اور مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، ان کے امیدواران کو کسی بڑی کامیابی کے لیے یقیناً کسی بڑے معجزے کا انتظار کرنا ہوگا۔