بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور کراچی میں اسٹریٹ کرائم…حکومت کہاں ہے؟

کراچی شہر میں ایک بار پھر بدامنی اور دہشت گردی کا راج ہے۔ اس شہر میں رہنے والے دن کی روشنی میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ موبائل فون اور پرس چھیننے والے شہر کے ٹریفک سگنلز اور شاپنگ سینٹرز کے باہر دن دہاڑے وارداتیں کرتے ہیں، سروں میں گولیاں مارتے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ تازہ ترین واقعے میں دن دہاڑے این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر علی رضا کی اہلیہ کو ڈکیتی میں مزاحمت پر گولی ماردی گئی۔ اس سے قبل فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں ایک ٹیلی ویژن چینل کے نیوز اینکر سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال گزشتہ برس سے زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری میں صرف اسٹریٹ کرائمز کی 178، فروری میں 184، مارچ اور اپریل میں 205 وارداتیں ریکارڈ کا حصہ بنیں۔ اس کے علاوہ مئی میں اسٹریٹ کرائمز عروج پر رہے جن کی 230 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو اس شہر میں ہونے والے اسٹریٹ کرائمز کا دس فیصد بھی نہیں ہیں۔ اس وقت شہرِ قائد کا کوئی علاقہ، محلہ ایسا نہیں ہے جہاں لوگ لوٹ مار کا شکار نہ ہورہے ہوں۔ ابھی عید کے بعد کراچی کے سب سے زیادہ رش والے علاقے ایم اے جناح روڈ پردلپسند بیکری کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے پاک فوج کے حاضر سروس 30 سالہ میجر ثاقب کو مزاحمت پر فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔ جس شہر میں فوج کا افسر محفوظ نہیں، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہاں عام آدمی کا کیا حال ہوگا!
کراچی 1980ء کی دہائی سے پہلے ایک پُرامن شہر تھا، روشنیوں کا شہر تھا، اور آج کی طرح جرائم زدہ شہر تو بالکل نہیں تھا۔ اس کے مسائل تھے، مگر یہ منظرنامہ نہیں تھا۔ لیکن پھر عالمی تناظر اور دبائو و ضرورت کے تحت اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور چند مہینوں میں ایسا ہوگیا۔ روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہوتے تھے، گھر سے نکلنے والے کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ گھر واپس بھی آسکے گا یا نہیں۔ پھر ان حالات کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ ہوا اور کراچی کی تصویر کو ذرا صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کے بعد آج وہ دہشت گردی تو نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ گھر سے نکلنے والا کسی لوٹ مار کا شکار ہوگا یا نہیں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ اب اس بدنصیب شہر میں ایک بار پھر ایسا لگ رہا ہے کہ آدھا شہر لٹیرا ہے اور آدھا شکار ہورہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ لوٹ مار گلی، محلوں کی سطح پر پھیل گئی ہے، اور دیکھنے میں آرہا ہے کہ بے روزگار نوجوان اس طرح کی لوٹ مار میں شریک ہیں اور وہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے رہزنی کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ پورے ملک کی طرح کراچی میں مہنگائی اور بے روزگاری سے متاثر افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، لوگ اپنے گھروں کا سامان بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جب بڑی تعداد میں بے روزگاری ہو تو جرائم بھی بڑھتے ہیں۔ اس بات کا اظہار کراچی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر امیر شیخ بھی مختلف تقریبات میں کرتے رہتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری کے باعث جرائم بڑھ رہے ہیں، پڑھے لکھے نوجوان اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ہیں۔ امیر شیخ ہی کے مطابق نوکری پیشہ نوجوان موبائل چھینتے ہیں، غربت اور بے روزگاری جرائم بڑھنے کی وجوہات ہیں، اور نوجوانوں سے جیلیں بھری ہوئی ہیں، جن میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی شہر ویسے بھی عالمی طاقتوں کے نشانے پر ہے جہاں انتشار رکھنا اُن کی ضرورت ہے۔ اور ان بے روزگاروں کو غلط راہ پر لگانے کے لیے مختلف ممالک کی ایجنسیاں بھی کام کررہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ کراچی پولیس کے تین دن پہلے تک کے سربراہ امیر شیخ کیا کرتے رہے اور اب نئے پولیس چیف کیا کرلیں گے؟ رینجرز کیا کررہے ہیں؟کیا کراچی اور کراچی کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ شہریوں کا مقدر یہی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی قیمتی اشیاء اور جانیں لٹیروں پر قربان کرتے رہیں؟ کراچی جہاں تعلیم ہے، شعور ہے، وسائل ہیں، ملک کی مجموعی آبادی کا 10 فیصد کراچی میں آباد ہے، جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں ہر خطے کے باشندے آباد ہیں، یہ قائداعظم کا شہر ہے، اس کا شمار دنیا کے دس بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ کراچی ملک کے محصولات کا 70 فیصد فراہم کرتا ہے۔ کراچی میں ملک کی 60 فیصد صنعتیں موجود ہیں۔ لیکن لگتا ہے اس کی اچھائیاں اس کی برائی اور بدنصیبی بن گئی ہیں۔ ’’کراچی ہمیشہ حکمرانوں کی عدم توجہ کا شکار رہا ہے‘‘ یہ کہنا تو شاید مسئلے کی سنگینی کو اجاگر نہیں کرتا البتہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ شہر ہمیشہ حکمرانوں کی سفاکی کا شکار رہا ہے۔ یہ حکمرانوں کی ضرورت بھی ہے، اور لگتا ہے حکمرانوں کو اس سے الرجی بھی ہے۔ کراچی سے پورے ملک کے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں۔ نئی حکومت آئی تھی تو امید بندھی تھی۔ عمران خان جن کو اس شہر نے اعتماد کرکے اپنا ووٹ دیا، دل دیا، انہوں نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اُن سے پہلے کے حکمران کرتے آئے ہیں، یعنی عمران خان کی حکومت کراچی میں بھی زرداری اور نوازشریف کا تسلسل ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان اس شہر کے لیے کوئی نیا منصوبہ لاتے، خستہ حال شہر کی صورت کو تبدیل کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے تو شہر خودبخود اندھیرے سے روشنی کی طرف چلا جاتا۔ لیکن وہ تو اُن لوگوں کے ساتھ جاکر بیٹھ گئے جنہوں نے اس شہر کو برباد کیا، اور یہ خود عمران خان کہتے رہے ہیں کہ ایم کیوایم نے کراچی کو دہشت گردی، بدامنی اور نوجوانوں کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، لیکن اب وہ اُسی ایم کیوایم کو اپنے ساتھ بٹھائے ہوئے ہیں۔
اس وقت شہر جرائم کی آماج گاہ بنا ہوا ہے اور اس میں ہر قسم کے جرائم کھلے عام ہورہے ہیں، اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ان گھنائونے جرائم کی طرف راغب ہورہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوںکو کوئی مثبت راستہ دکھایا جائے۔ انہیں روزگار،کھیل، تفریح کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ یہ شہر ایک بار پھر روشنی، علم اور امن کا شہر بن سکے۔ اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت ایسا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور وہ یہ کام کرسکے گی؟ یا اس کے لیے اہلِ شہر کو ایسے اہل اور دیانت دار لوگوں کو قیادت سونپنا ہوگی جو اس شہر اور شہر کے لوگوں کے درد، غم اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ انہیں حل اور ختم کرنے کی نیت اور صلاحیت رکھتے ہوں۔
(اے اے سید)

Share this: