مغرب۔۔۔ اور آزادی کا بحران

مارک مینسن۔۔۔۔ ترجمہ و تلخیص مع حواشی: ناصر فاروق
۔1920ء کی دہائی تک خواتین تمباکو نوشی نہیں کرتی تھیں۔ اسے بہت بُرا سمجھا جاتا تھا۔ گریجویشن کرنا اور انتخاب لڑ کر کانگریس کا رکن بننا یا تمباکو نوشی کرنا، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام مردوں کے ہیں۔ ’’دیکھو ہنی، شاید تم خود کو چوٹ پہنچا بیٹھو۔ یا تم شاید اپنے خوبصورت بالوں کوجلا بیٹھو‘‘۔
یہ صورتِ حال تمباکو کی صنعت کے لیے مسئلہ تھی۔ تقریباً آدھی آبادی صرف سگریٹ سے اس لیے دور تھی کہ فیشن نہیں تھا، یا یہ معاشرتی روایت کے خلاف تھا۔ امریکن ٹوبیکوکمپنی کے صدر جارج واشنگٹن نے کہا ’’یہ سونے کی وہ ایک کان ہے جو ہماری دہلیز پرموجود ہے… مگر!‘‘ اس صنعت نے کئی بار تابڑ توڑ کوششیں کیں کہ کسی طرح عورت کوسگریٹ نوشی پر لگایا جاسکے، مگر کچھ نہ بنا۔ عورت کی تمباکو نوشی کے خلاف روایتی تصور بہت مضبوط تھا۔
1928ء میں کمپنی نے ایڈورڈ برنیز کی خدمات حاصل کیں۔ کہا جاتا تھا کہ یہ نوجوان کچھ بھی بیچ سکتا تھا۔ اس کے پاس آئیڈیاز کا خزانہ تھا، مارکیٹنگ کی کئی مہمات کامیاب بنا چکا تھا۔ اُس وقت اشتہاری صنعت میں ایڈورڈ برنیز کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں مارکیٹنگ کا سادہ سا مطلب اشیاء کی اصل خصوصیات اور فوائد بتانا اور انہیں بیچنا تھا۔ یہ یقین کیا جاتا تھا کہ لوگ اشیاء اصل خوبیوں اور درست معلومات کی بنیاد پر خریدتے ہیں۔ اگر کوئی پنیر بیچنا چاہتا، تو اُسے یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ ہمارا پنیر کن خوبیوں کے سبب سب سے بہتر ہے۔ مثلاً یہ فرانسیسی بکریوں کے تازہ دودھ سے بنا ہے، ریفریجریٹڈ جہاز پربھجوایا گیا ہے۔ خریدار کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ معقول ہے، جو اشیاء کی خریداری میں معقولیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی مفروضہ تھا۔
مگر برنیز سب سے ہٹ کر سوچا کرتا تھا۔ اُسے اس بات پر بالکل یقین نہیں تھا کہ خریدار معقول فیصلے کرتا ہے۔ اُسے یقین تھا کہ لوگ جذباتی ہوتے ہیں اور احساسات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت اب تک یہی غلطی کررہی تھی کہ سگریٹ کو معقول بناکر پیش کررہی تھی۔ ایڈورڈ برنیز نے کہا کہ یہ معاملہ جذباتی اور روایت شکن طریقوں سے حل ہوگا۔ اُس نے عورتوں کی اقدار پرچوٹ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے خواتین میں جنسی شناخت اور اہمیت کا داؤ آزمایا۔ اس کام کے لیے اُس نے عورتوں کے ایک گروہ کی خدمات حاصل کیں۔ وہ اُنہیں نیویارک سٹی کی ایسٹر سنڈے پریڈ میں لے گیا۔ اُن دنوں یہ پریڈ بہت بڑی اور بھرپور ہوا کرتی تھیں۔ برنیز کے منصوبے کے مطابق جیسے ہی مناسب وقت آیا، خواتین کے گروہ نے ایک ساتھ سگریٹ نکالیں اور سلگادیں۔ وہ کئی فوٹوگرافر بھی ساتھ لایا تھا، جنھوں نے کئی تصاویر کھینچیں۔ یہ تصاویر تمام قومی اخباروں میں بھیجی گئیں، اور انہیں Torches of Freedom کا عنوان دیا، یعنی یہ عورتیں سگریٹ نہیں بلکہ آزادی کی شمعیں روشن کررہی تھیں۔
یقیناً یہ ایک جعلی خبر تھی، مگر برنیز نے اسے ایک سیاسی احتجاج یا جنسی اظہار آزادی کے طورپر پیش کیا۔ اُسے معلوم تھا کہ یہ اشتہار ملک بھر میں خواتین کے جذبات کو ہٹ کرے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ نو سال قبل ہی خواتین کو ووٹ کا حق ملا تھا، اور اب سگریٹ پینے کی آزادی کا احساس دوچند تھا۔ اب خواتین گھروں سے باہر نکل رہی تھیں، دفاترمیں کام کررہی تھیں، ملکی معیشت میں معاون ثابت ہورہی تھیں۔ بالوں کی تراش خراش شروع ہوچکی تھی۔ اب لمبی زلفوں کی جگہ بوب کٹ خواتین نظر آنے لگی تھیں۔ اس ماحول میں برنیز کی سگریٹ نے شعلہ دکھایا اور عورتیں سگریٹ پینے لگیں۔ تمباکو کی فروخت دگنی ہوگئی اور ایڈورڈ برنیز راتوں رات امیر آدمی بن گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن… مردوں اور عورتوں میں پھیپھڑوں کے سرطان کی شرح برابر ہے۔
برنیز نے بیس، تیس اور چالیس کی دہائیوں میں ایسی روایت شکن اشتہاری مہمات چلائیں، جنھوں نے مارکیٹنگ کی گنگا الٹی بہادی۔ برنیز نے اسی دور میں پبلک ریلیشنز کے شعبے کی بنیاد بھی رکھی۔ جنسی کشش رکھنے والی فنکاراؤں کے ہاتھوں اشیاء کی فروخت کا آئیڈیا بھی ایڈورڈ برنیز کا تھا۔ جعلی خبروں کے ذریعے کمپنی کی مشہوری برنیز کا ہی آئیڈیا تھا۔ متنازع پبلک واقعات کے ذریعے لوگوں کی توجہ حاصل کرنا برنیز کی ذہنی اختراع تھی۔ آج ہمیں جس پُرفریب اشتہاری دنیا سے واسطہ ہے، وہ ایڈورڈ برنیز نے ہی تخلیق کی تھی۔
ایڈورڈ برنیز کے بارے میں یہاں ایک دلچسپ اور اہم بات بیان کرتے چلیں۔ وہ سگمنڈ فرائیڈ کا بھانجا تھا۔ فرائیڈ بدنام تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ انسان جانور ہیں، خودغرض، جذباتی اور حیوانی حسیات کے بھوکے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کا انداز اور بیانیہ ناقابلِ توجہ تھا۔ وہ برطانوی تھا، سو ساری زندگی فلسفیانہ تنہائی میں ہی رہا۔ مگر برنیز ایک چالاک امریکی تھا، جو عملی زندگی کا قائل تھا۔ اُس نے تھیوری کو ماری لات، اور امیر بننے کے رستے ڈھونڈے۔ فرائیڈ کے خیالات کو مارکیٹنگ کی نظر سے دیکھا، برتا، اور بھرپور انداز میں اشتہاری دنیا کو منتقل کیا۔ اُس نے فرائیڈ سے سیکھا تھا کہ لوگوں کے جذبات سے کھیلو، وہ خود ہی تمہاری جانب کھنچے چلے آئیں گے۔
احساسات کی دنیا
یہ دنیا ایک ہی شے پر چلتی ہے: احساسات۔ یہ اس لیے ہے کہ لوگ اُن اشیاء پر پیسہ خرچ کرتے ہیں جو زندگی میں خوشگوار احساسات کا سامان کرسکیں۔ جہاں پیسے کی ریل پیل ہو، طاقت وہیں مجتمع ہوتی ہے۔ یوں جتنا مال اور طاقت آپ کے پاس ہوگی، لوگوں کے جذبات سے اُتنا ہی کھیل سکیں گے۔ پیسہ مبادلے کی ایک ایسی صورت ہے جو لوگوں کے درمیان حائل اونچ نیچ کا فیصلہ کرتی ہے۔ پیسے کا اپنا چھوٹا سا عالمی مذہب ہے۔ اس کی خاطر ہم دنیا بھر میں اپنی اقدار کو مالی قدر میں بدل دیتے ہیں۔ اس طرح انسانوں کی معیشتیں ابھرتی ہیں۔ اسے احساسات کی معیشت کہہ سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی ’احساسات کی معیشت‘ کا اظہار ہے۔ ٹیکنالوجی اُن مصنوعات کی ایجاد اور بنانے پر توجہ دیتی ہے، جو لوگوں کی زندگی پُرآسائش، آرام دہ، اور پُرلطف بنائیں۔ یہ دو طرح کی مصنوعات ہوتی ہیں۔
جدت آمیز اشیاء کی تیاری ٹیکنالوجی کا اہم ہدف ہے۔ یہ شائقین میں کسی بھی نئی اور انوکھی چیزکے لیے دلچسپی پیدا کرتی ہے، اور یوں پیسہ خریداروں سے منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ دراصل لوگوں کو بڑی مشکل سے نئی مشکل کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ہے۔ نئی مشکل کسی حد تک قابلِ برداشت اور پُرکشش ہے۔ اس کی واضح مثال نئی ادویہ اور سرجری کے نئے طریقے ہیں۔ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ وغیرہ ان میں شامل ہیں۔
دوسری توجہ حاصل کرنے والی، اور تکالیف بھلانے والی اشیاء ہیں۔ مگر اکثر اوقات یہ تکالیف کی شدت بڑھا دیتی ہیں، انہیں جان لیوا بنادیتی ہیں۔ ان کی مثالوں میں ویک اینڈ پر ساحل گردی ہے، دوستوں کے ساتھ رات کی آوارہ گردی ہے، عاشق یا معشوق کے ہمراہ فلم بینی، اور کوکین کا نشہ وغیرہ۔ ان سرگرمیوں کے ساتھ مسائل ناگزیر نہیں، ہم سب ہی کبھی کبھی یہ سب کرتے ہیں۔ مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ ہماری زندگی پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ ہمیں ان کی لت پڑجاتی ہے۔ ہمیں خود پر اختیار نہیں رہتا۔ جتنا تم لذت وآسائش میں پڑتے ہو، اُتنی اذیت میں گھرتے چلے جاتے ہو۔ یہاں تک کہ دماغ شل ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہیں سے خودکشی یا جرم جنم لیتا ہے۔
جب صدیوں پہلے سائنسی انقلاب آیا تھا، ایجادات نے معاشی ترقی کی رفتار بڑھادی تھی۔ اکثریت جو غربت میں زندگی بسر کررہی تھی، بیماریوں اور فاقوں میں جی رہی تھی، جب بہت ہی کم لوگ پڑھنا جانتے تھے، اور اکثر لوگوں کے دانت گندے رہتے تھے۔ چند سو سال میں شہروں کی تعمیر اور مشینوں کی ایجادات سے مزدوروں کا بوجھ کم ہوا، نئی ادویہ سے بیماریوں نے جان چھوڑی، غربت اور مشقت میں خاصی کمی آئی، اور ویکسین نے لاکھوں کروڑوں زندگیاں بچائیں۔ ٹیکنالوجی کی آمد نے انسانوں کو بلاشبہ بڑی مصیبتوں سے نجات دی۔
جب لوگ صحت مند اور دولت مند ہوئے، پھرکیا ہوا؟ معاشی ترقی نے ایجادات اور نئے اکتشافات سے اپنا رخ تساہل پسندی اور عیش پسندی کی جانب موڑ دیا۔ اس کی بنیادی وجہ ایجاد اور جدت طرازی میں محنت اور ذمے داری کا بوجھ تھا، انعام یا صلے کا امکان بھی کم ہی تھا۔ جب کہ کھیل تماشوں کی چیزیں بھرپور منافع فراہم کرتی ہیں، خریدی جاتی ہیں، اور عادت بنالی جاتی ہیں۔ تاریخ میں کم ہی موجد ایسے ہیں جنھیں اپنی ایجاد سے مالی و مادی فائدہ پہنچا ہو۔ ہماری حالت بقول Peter Thiel یہ ہوگئی ہے کہ ’’ہم اُڑنے والی کاریں بنانا چاہتے تھے مگر ٹوئٹر بنابیٹھے‘‘۔
کمرشل دور ایڈورڈ برنیز کی اشتہاری اختراعات کے ساتھ شروع ہوا۔ تم لوگوں کی سوئی ہوئی خواہشاتِ نفس کو بیدار کرنے لگے، اور انھیں وہ کچھ بیچنے لگے جن کی انھیں کوئی بنیادی ضرورت نہ تھی۔ سب کے پاس سیل فون آگئے۔ سب کو مک ڈونلڈ کی ہیپی میل بھانے لگی۔ پاپ کلچر پیدا ہوا۔ فنکار اور کھلاڑی نامعقول حد تک امیر ہوتے چلے گئے۔ پہلی بار سامانِ تعیش کی مانگ بہت بڑھ گئی۔ غیر ضروری مصنوعات کی پیداوار سب سے زیادہ ہوگئی۔
ایک دور تھا سب لوگ ایک سے ٹی وی پر ایک سا پروگرام دیکھا کرتے تھے، ایک سی موسیقی سنا کرتے تھے، ایک سی خوراک کھایا کرتے تھے، اور ایک جیسے صوفوں پر ایک جیسے رسالے اور اخبارات پڑھا کرتے تھے۔ ایک ایسا معاشرتی ربط و ضبط تھا، جسے آج بھی لوگ یادکرکے آہیں بھرتے ہیں، گزرے دنوں کو خوب یاد کرتے ہیں۔
پھر یہ ہوا کہ انٹرنیٹ آگیا۔ اس نے ہماری زندگی میں بہت بہتری پیدا کی، مگر یہاں ایک مسئلہ تھا، وہ مسئلہ تھے خود ’ہم‘۔ انٹرنیٹ کے ارادے اچھے تھے۔ سلیکون ویلی والے دنیا کو ڈیجیٹل دیکھنا چاہتے تھے۔ انیس سو نوّے اور دوہزار کی دہائیوں میں انٹرنیٹ یوٹوپیا کا تصور زور پکڑگیا۔ مگر وہ بھول چکے تھے کہ دنیا معلومات پر نہیں چلتی، صرف احساسات پر چلتی ہے۔ لوگ حقائق اور سچائیوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے بلکہ احساسات کی سنتے ہیں اور اُن ہی کی مانتے ہیں۔ ہم سب وہ گوگل کرنا پسند کرتے ہیں جو ہمیں اچھا لگے، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا، سچا ہو یا جھوٹا۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ نے بتدریج وہ ڈیزائن اختیار کرلیا جو لوگوں کی معلومات کے بجائے اُن کی خواہشاتِ نفس پوری کرے۔ (1)
جعلی آزادی
یہ وقت کامیاب ترین کاروباری بننے کے لیے آسان نہیں۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروبار آج ہمیشہ سے بہتر حالت میں ہے۔ آج منافع کی شرح بے مثال ہے۔ آج سے پہلے دنیا اتنی دولت مند نہ تھی۔ پیداوار اپنے کمال پر ہے۔ مگر ان سب کے باوجود کمائی کا فرق بدترین ہوچکا ہے۔ دولت کی تقسیم میں عدم برابری بدترین ہوچکی ہے۔ سیاسی محاذ آرائی خاندانی نظام برباد کررہی ہے۔ کرپشن وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔
لہٰذا، باوجود اس کے کہ کاروباری دنیا دولت وثروت کے بے مثال دور سے گزر رہی ہے، ایک طرح کا دفاعی اور وضاحتی رویہ سامنے آرہا ہے… یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ہم لوگوں کو وہ دے رہے جو وہ چاہتے ہیں‘‘۔ خواہ یہ تیل کی کمپنیاں ہوں، اشتہاری ایجنسیاں ہوں، یا فیس بُک جو تمہارا ڈیٹا چرا رہا ہے، ہر کارپوریشن یہ باور کروا رہی ہے کہ ’’ہم لوگوں کو وہ کچھ دے رہے ہیں جولوگ چاہتے ہیں‘‘: ڈاؤن لوڈ کی تیزتررفتار، زیادہ آرام دہ ائیرکنڈیشننگ، عمدہ معیار کی شیونگ مشین، اوربہت کچھ… اور یہ سب کچھ کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ اور یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی لوگوں کو وہ کچھ دے رہی ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ لوگوں کی خواہشاتِ نفس پوری کررہی ہے۔ اور اگرہم فیس بک یا کسی جائنٹ کارپوریشن سے جان چھڑالیں تو ایک اور سائیٹ پاپ اپ کرتی ہوئی منظر پر ابھر آئے گی، اور خواہشات کی نئی دکان کھول کر بیٹھ جائے گی۔
اس لیے ہوسکتا ہے کہ مسئلہ اُن لالچی کاروباریوں کے ساتھ نہ ہو جو سگار سلگاتے ہیں، بلیوں کو تھپتھپاتے ہیں، اور منافع کماتے ہیں۔ ہمیں ہماری چاہتیں مرواتی ہیں۔ مثال کے طور پر مجھے مارش میلوز سے بھرا بیگ اپنے لیونگ روم میں چاہیے۔ میں آٹھ ملین ڈالرکا مینشن خریدنا چاہتا ہوں، یہ آٹھ ملین میں قرض لیتا ہوں جب کہ جانتا ہوں کبھی نہیں لوٹا سکتا۔ لوگوں کی چاہتیں اور خواہشاتِ نفس پوری کرنے کے لیے انھیں وہ کچھ دینا جو وہ چاہتے ہیں، یہ تباہ کُن ہے۔ لوگوں میں غیر ضروری خواہشات پیدا کرکے انھیں مصیبتوں میں مبتلا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے انھیں سہولیات مہیا کی جائیں، تو یہ مناسب بات ہے۔ مثال کے طور پر انھیں نئی ایجادات سے استفادے کے یکساں مواقع فراہم کرنا۔
عجیب بات ہے، مگر برنیز یہ سب دیکھ رہا تھا۔ سنسنی خیز اشتہار بازی سے دنیا کو احمقانہ صارفیت میں مبتلا کیا جانا تھا۔ لوگوں کو غیر ضروری اشیاء کا ضرورت مند بننا تھا۔ یقیناً ایڈورڈ برنیز غیرمعمولی ذہین تھا، وہ ان تمام رجحانات کے حق میں تھا، اسے شیطان دماغ کہنا چاہیے۔ برنیز کے سیاسی خیالات خوفناک ہیں۔ وہ فسطائیت پریقین رکھتا تھا، میں اسے ’ڈائیٹ فاشزم‘ کہوں گا، کیونکہ اس میں لوگوں کی غیر ضروری نسل کشی نہیں کی جاتی بلکہ انہیں آمرانہ انداز میں سختی سے قابو میں رکھا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: عوام خطرناک ہوتے ہیں، انھیں قابوکرنا بہت ضروری ہے۔ اُس کے مطابق: مارکیٹنگ کی نئی سائنس کا مطلب عوام پرغیر محسوس انداز میں یقینی طور پر اثرانداز ہونا ہے۔ برنیزکو یقین تھا کہ آزادی لوگوں کے لیے ناممکن اور مہلک ہے۔ وہ ہرگز اس بات کے حق میں نہیں تھا کہ لوگ اپنے احساسات کے گھوڑے بے لگام چھوڑ دیں، اور انھیں اس بات کی اجازت دی جائے۔ معاشروں کو لازماً منظم اورحکام کے زیراثر ہونا چاہیے۔ برنیز نے مارکیٹنگ کے اس نئے طریقے کی بھرپور ترویج کی، جس میں لوگ خود کوآزاد سمجھیں، مگر حقیقت میں وہ آزاد نہ ہوں، بلکہ اس خود فریبی کے اسیر ہوں، غلام ہوں۔
’’لوگوں کو وہ دو جو وہ چاہتے ہیں‘‘ درحقیقت جعلی آزادی ہے، کیونکہ ہم سب مختلف اور متصادم خواہشات اور ارادے رکھتے ہیں۔ جب ان مختلف خواہشات کا سیلاب آتا ہے، تو ہم کمزور پڑجاتے ہیں۔ اپنے ہم اقدارگروہ تک سمٹ جاتے ہیں۔ عیش و عشرت میں پڑجاتے ہیں۔ کسی بھی خوشی کا نقصان جان لیوا لگنے لگتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تصورِ جہاں محدود کرنا حقیقی آزادی نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس ہے۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمیں بہت سے غیرضروری کاموں کی لت لگ جاتی ہے۔ ہر وقت فون چیک کرتے رہتے ہیں، ای میل دیکھتے رہتے ہیں، انسٹاگرام میں گھسے رہتے ہیں۔ ہمیں نیٹ فلکس کی فلم سیریز ختم کرنے کی فکر لگی رہتی ہے۔ بے لذت سی عادتوں میں پڑجاتے ہیں ہم۔ وقت کا زیاں ہی زیاں ہے۔ تیسری بات یہ کہ چیزوں کو پہچاننے اور برداشت کرنے کی اہلیت بھی جاتی رہتی ہے۔ درحقیقت یہ آزادی نہیں غلامی ہے۔ جب تم زندگی کی لذتوں میں کھوجاتے ہو، اور اپنے دائرے میں پھنس کر رہ جاتے ہو، تو آزادی باقی نہیں رہتی۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ’خوشی کی جستجو‘ زندگی کو بچکانہ بناتی ہے، تو جعلی آزادی ہمیں اُس حالت سے نکلنے نہیں دیتی۔ چیزوں کی کئی اقسام کا انتخاب ہرگز آزادی نہیں ہے۔
اصل آزادی
آزادی کی سچی صورت، صرف اخلاقی صورت ہے۔ یہ خود کو محدود اور متوازن کرنے کا نام ہے۔ یہ اس بات کا حق نہیں ہے کہ ہر وہ شے حاصل کرلی جائے جس کی خواہش پیدا ہوجائے۔ بلکہ احساسِ آزادی قربانی سے پیدا ہوتا ہے۔ بظاہر بہت عجیب بات ہے۔ ضبطِ نفس واحد شے ہے جو زندگی میں آزادی کا احساس دلاتی ہے (یہ بات دانش افروز ہے۔ دوسروں کی مرضی سے زندگی گزارنا غلامی، جب کہ اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنا ہی اصل آزادی ہے، یعنی داخلی قوت سے خارجی اثرات پرقابو پانا۔ مترجم) (2)۔
یہ صرف اصل آزادی نہیں بلکہ صرف یہی آزادی ہے۔ خواہشات میں تنوع آتا جاتا رہتا ہے، ان کا سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔ مگر تم ہمیشہ اس قابل رہتے ہو کہ جب چاہو، جو چاہو چھوڑ دو اور احساسِ زیاں بھی نہ ہو۔ ضبطِ نفس واحد شے ہے جو زندگی میں حقیقی آزادی کا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جسمانی ورزش کی یومیہ مشقت بالآخر پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے، دفاعی نظام طاقتور ہوجاتا ہے۔ اب تم خود پر اپنی مرضی کے قوانین اور حدود لاگو کرسکتے ہو۔ تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس بات کا تعین خود تمہارا اپنا اختیار ہوتا ہے۔ تم صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنا سکتے ہو۔ سہ پہرتک ای میل بلاک کرسکتے ہو۔ سوشل میڈیا ایپس اپنے فون سے مٹاسکتے ہو۔ ان حدود اور عادتوں سے تمہارا قیمتی وقت آزاد ہوجائے گا۔ تم اسے محسوس کرسکو گے، اسے جی سکو گے۔ یہ تمہاری شعوری خوداختیاری اور دماغی وسعت واضح کرے گا۔
سو ثابت یہ ہواکہ تمہاری حقیقی آزادی کا تعین تمہاری اپنی ذمے داریاں اور تمہارے اپنے ارادے کرتے ہیں، اور وہ رشتے یا معاملات جن کے لیے تم خود قربانی کا فیصلہ کرتے ہو۔ میرا میری بیوی کے ساتھ وہ جذباتی تعلق ہے جو دیگر ہزار عورتیں بھی مجھ سے قائم نہیں کرسکتیں، یہی جذبات کی وہ آزادی ہے جو ہزار بیڑیوں سے نجات دیتی ہے۔ بیس سال سے میں گٹار بجا رہا ہوں، اپنی مرضی سے اپنا شوق پورا کررہا ہوں، آزادی کے لمحات سے لطف اندوز ہورہا ہوں۔ زندگی کے پچاس سال ایک ہی جگہ گزار دینے میں اپنی مرضی اورمکمل آزادی کا اظہار ہے، اپنی ثقافت اور اپنی کمیونٹی سے وابستگی اور محبت کا عمدہ مظہر ہے۔ دنیا بھر میں گھومنا پھرنا، عیاشی کرنا کبھی بھی اپنوں میں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ عظیم ذمے داری کردار کی عظمت تک لے جاتی ہے، جبکہ غیر ذمے داری شخصیت کو سطح پر ہی رکھتی ہے، گہرائی عطا نہیں کرتی۔
گزشتہ دس سال سےlife hacking کا بہت زیادہ رجحان ہے۔ لوگ ایک ماہ میں ہی کوئی زبان سیکھ لینا چاہتے ہیں، پندرہ ملکوں کی سیر کرلینا چاہتے ہیں، اورمارشل آرٹس سیکھ لینا چاہتے ہیں۔ وہ سب کچھ تیزی سے کرلینا چاہتے ہیں۔ تم اس کا مشاہدہ ہر وقت سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر کرسکتے ہو۔ یوں کہیے وہ زندگی کو ہیک کرلینا چاہتے ہیں۔ یہ جعلی آزادی کی ایک اور تشویش ناک صورت ہے۔ بالکل اس طرح، جیسے روح کے لیے خالی خولی کیلوریز ہوں۔
میں نے حال ہی میں ایک نوجوان کے بارے میں پڑھا، جس نے شطرنج کی بے شمار چالیں یاد کررکھی تھیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ ایک ماہ میں وہ شطرنج ماسٹر بن سکتا ہے۔ اُس نے شطرنج کے بارے میں کچھ نہیں سیکھا تھا، اور نہ ہی اس کی اسٹریٹجی سے واقف ہوا تھا۔ نہیں، وہ بس ایک بڑے ہوم ورک یا اسائنمنٹ کی طرح اسے مکمل کرلینا چاہتا تھا: چالیں رٹ لی تھیں، کچھ بڑے کھلاڑیوں کو ہرا چکا تھا، اور شطرنج میں ماسٹری کا دعویدار ہوگیا تھا۔ یہ ہرگز کوئی جیت نہیں۔ یہ محض فاتح کے طور پر ظاہر ہونا ہے۔ یہ عزم اور مشق کے بغیر عزم اور مشق کا اظہار ہے۔ یہ کسی معنی کے بغیر معنی کا اظہار ہے۔
یہ جعلی آزادی ہمیں ایک ایسی دوڑ میں شامل کردیتی ہے، جو ہمیں کولہو کا بیل بنادیتی ہے (ہوس کو جا نہیں ہے! مترجم)۔ ہم زیادہ سے زیادہ کے پیچھے دوڑتے چلے جاتے ہیں اور زندگی ہاتھوں سے نکلتی چلی جاتی ہے۔ حقیقی آزادی کم مال و اسباب کے ساتھ اپنی مرضی سے احساسِ ذمے داری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا نام ہے، اسی میں جسم کی تسکین اور روح کا قرار ہے۔ جعلی آزادی ایک نشہ ہے۔ سب کچھ پالینے کے بعد بھی تمہیں کمی ہی محسوس ہوتی رہے گی، جبکہ حقیقی آزادی بہت کم پر ہی مطمئن کردے گی (جعلی آزادی میں خواہشات تم پر حاوی ہیں جبکہ حقیقی آزادی میں تم خواہشات پر حاوی ہو۔ مترجم) (3)۔
2000ء میں ہارورڈ کے سیاسی ماہر رابرٹ پٹنام نے کتاب Bowling Alone: The collapse and revival of American Community شائع کی۔ اُس نے محقق کیا کہ امریکی معاشرے میں شہریوں کی شراکت داری ختم ہورہی ہے۔ لوگوں نے تنہا رہنا شروع کردیا ہے۔ وہ کم ہی کسی گروہ میں شامل ہورہے ہیں یا اس کی سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ عنوان کے تناظر میں لکھتا ہے کہ آج زیادہ لوگ باؤلنگ کھیلتے ہیں، مگر تنہا کھیلتے ہیں۔ جبکہ پہلے کم لوگ باؤلنگ کھیلا کرتے تھے، مگر مل کر کھیلا کرتے تھے۔ پٹنام نے یہ بات امریکی معاشرے کے تناظر میں لکھی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں یہ آج کی پوری دنیا پر صادق آتی ہے۔
تنہائی بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ سال (2018ء) اکثر امریکیوں نے تسلیم کیا کہ وہ تنہائی کا شکار ہیں۔ تازہ تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ ہم اعلیٰ معیار کے تعلقات کو سطحی اور عارضی رشتوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
وہ شخص جس نے صدیوں پہلے اس جعلی آزادی کی بو پالی تھی، اور جوحقیقی آزادی سے واقف تھا، اُس کی جانب چلتے ہیں۔
افلاطون کی پیش گوئی
انگریز فلسفی اور ماہرِ ریاضی الفریڈ وائٹ ہیڈ نے کہا تھا ’’مغرب کا سارا فلسفہ… فلسفۂ افلاطون کی محض حاشیہ بندی ہے‘‘۔ کوئی بھی شعبۂ علم لے لیجیے، مغربی فکر و فلسفہ پر افلاطون کی چھاپ واضح ہے۔ وہی تھا جس نے (مغرب میں) سب سے پہلے واضح کیا تھا کہ نفس کُشی ہی کردار کی تعمیر کرتی ہے، جبکہ لذت پرستی سے کردارکمزور ہوتا ہے۔
دلچسپ بات ہے، باوجود اس کے کہ افلاطون مغربی فلسفے کا گاڈ فادر ہے، وہ جمہوریت کو طرزِحکومت کی بہترین صورت خیال نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے جمہوریت داخلی طور پر کمزورہے اور انسانی فطرت کے بُرے پہلو نمایاں کرنے والی ہے۔ انتہائی آزادی معاشرے کو صرف انتہائی غلامی کی جانب دھکیلتی ہے۔ افلاطون نے کہا کہ جمہوریت دھیر ے دھیرے معاشرے کو اخلاقی زوال کی جانب لے جاتی ہے۔ کیونکہ جب لوگ انتہائی آزادی سے لذت پرستی اور خواہشاتِ نفس میں پڑجاتے ہیں توکردار کمزور ہوجاتے ہیں۔ وہ مغرور اور بچکانہ حرکتوں پر آجاتے ہیں۔ یوں خودسری اور سرکشی مکمل زوال تک لے جاتی ہے۔
امریکہ میں ایک عام کہاوت ہے کہ ’’آزادی آزاد نہیں ہے‘‘۔ یہ بات اُن جنگوں کے تناظر میں کی جاتی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ملکی سلامتی کے لیے لڑی گئیں، یا لڑی جارہی ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو کہیں اور اس لیے ماردیا گیا تاکہ ہم یہاں بیٹھ کر آزادی اور سکون سے جوس کا سپ لے سکیں!
غرض جمہوریت بہترین نظام نہیں، مگر اس کے سوا کوئی دوسرا نظام بھی نہیں۔ جیسا کہ چرچل نے کہا تھا ’’جمہوریت (سب سے کم) بدترین طرزِ حکومت ہے‘‘۔
افلاطون کو یقین تھا کہ معاشرے دائرے میں حرکت کررہے ہیں۔ یہ آزادی اور غلامی، آمریت اور جمہوریت سے گزرتے رہتے ہیں۔ صدیوں سے نظریات گردش میں ہیں۔ ہر تحریک کے پیچھے انسان کی امید ہوتی ہے۔ ہر بار ہر نظریہ خود کو حتمی اور آخری خیال کرتا ہے۔ مگر اب تک سب نے خود کو عارضی اور نامکمل ثابت کیا ہے۔
حواشی
1) ’’کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے، اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے، اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے‘‘(کہف، 28)۔ ’’پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہشِ نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تُو ہلاکت میں پڑ جائے گا‘‘(طہ،16)۔’’ کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟‘‘(فرقان، 43)
2)’’اے نفسِ مطمئن، چل اپنے ربّ کی طرف اِس حال میں کہ تُو (اپنے انجامِ نیک سے) خوش (اور اپنے ربّ کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں‘‘۔ (فجر، 27)
3)’’یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور وہ نامراد ہوگا جس نے اسے آلود ہ کیا‘‘(الشمس)۔’’جیسا کہ ہم نے (تم پر یہ انعام کیا کہ) تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیات تلاوت کرتا ہے اور تمہارا تزکیہ نفس کرتا (یعنی تمہیں پاکیزہ بناتا) ہے اور کتاب و حکمت سکھلاتا ہے ،اور وہ کچھ بھی سکھلاتا ہے جو تم پہلے نہ جانتے تھے۔‘‘(البقرہ )
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘(النور)۔

Share this: