قربانی کا حکم حدیث میں

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا

حضرت موسیٰ ؈جب کوہِ سینا سے واپس آئے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی ہارون ؈ کے منع کرنے کے باوجود ان کی قوم نے ایک بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا ہے تو وہ سخت برہم ہوئے اور اس پریشانی کے عالم میں اپنے رب سے یہ دعا کی اور پھر اس میں یوں اضافہ کیا: ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں، بس ہمیں معاف کردیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے، آپ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔
’’اے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تُو سب سے بڑھ کر رحیم ہے‘‘۔
(الاعراف:151)

کیا آپؐ نے صرف حج ہی میں قربانی کی ہے، یا مدینہ طیبہ میں بھی آپؐ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرتے رہے؟ اور کیا آپؐ نے بقرعید پر قربانی کبھی کبھار کی ہے یا بالالتزام کرتے رہے؟ اور کیا آپؐ نے محض بذاتِ خود اس پر عمل کیا ہے یا مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ہے؟ اس باب میں جو مستند روایات ہم تک پہنچی ہیں، میں انہیں بے کم و کاست یہاں نقل کیے دیتا ہوں۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز ابتدا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، پھر واپس جاکر قربانی کرتے ہیں۔ جس نے اس پر عمل کیا اُس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا۔
دوسری روایت میں ہے کہ جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا۔
ظاہر ہے کہ یہ روایت بقر عید ہی سے متعلق ہے اور اس کا کوئی تعلق حج سے نہیں ہے، کیونکہ حج میں کوئی خاص نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے قربانی کرنا اس سنت ِمسلمین کے خلاف اور بعد قربانی کرنا اس سنت کے مطابق ہے۔
(بخاری، کتاب الاضاحی)
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ ابن سہل انصاری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینے میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔
(بخاری، کتاب الاضاحی)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حضورؐ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔
(بخاری، کتاب الاضاحی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم مدینے میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیا کرتے تھے اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔
(بخاری، کتاب الاضاحی)
ابو عبید مولیٰ ابن ازہر کہتے ہیں کہ انہوں نے بقرعید کے روز حضرت عمرؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک عید تو تمہارے لیے افطار کا دن ہے، رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔
(بخاری، کتاب الاضاحی)
یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حج میں بقرعید کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے، لہٰذا حضرت عمرؓ کا یہ خطبہ یقینی طور پر مدینہ طیبہ میں ہوا ہے اور جو حکم انہوں نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بیان کیا ہے اس کا تعلق بھی لازماً مکے سے باہر دوسرے مقامات سے ہے۔
ابوالزبیر کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر کو مدینے میں نماز پڑھائی، پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضورؐ قربانی کرچکے ہیں، آگے بڑھ کر اپنے جانور قربان کرلیے۔ اس پر حضورؐ نے حکم دیا کہ جس نے مجھ سے پہلے قربانی کرلی ہے اسے پھر دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آئندہ کوئی شخص اُس وقت تک قربانی نہ کرے جب تک کہ میں نہ کرلوں۔
(مسلم، باب وقت الاضحیہ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقرعید کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپؐ پلٹے تو آپؐ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا، اور آپؐ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام پر، اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدایا! یہ میری طرف سے اور میری امت کے اُن سب لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔
(مسند احمد، ابودائود، ترمذی)
علی بن حسین رضی اللہ عنہ ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید کے موقع پر دو مینڈھے خریدتے تھے، خوب موٹے تازے بڑے سینگوں والے اور چت کبرے۔ پھر جب آپؐ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہولیتے تو ان میں سے ایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور آپؐ اپنے مصلے ہی پر کھڑے کھڑے اس کو ذبح فرما دیتے۔
(مسند احمد)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
(مسند احمد، ابن ماجہ)
ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مدینے میں رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔
(ترمذی)
یہ (گیارہ) روایتیں مختلف صحابیوں سے حدیث کی چھ معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں، اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مذکورہ بالا احکام کا منشا یہ سمجھا تھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو، بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقرعید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقے پر حضورؐ خود عامل رہے، دوسرے مسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنتِ اسلام کے طور پر مسلمانوں میں جاری کیا۔

Share this: