ششماہی تحقیقی مجلہ جہات الاسلام اشاعت ِخاص شمائل و خصائلِ نبویؐ

مجلہ : ششماہی تحقیقی مجلہ جہات الاسلام
اشاعت ِخاص شمائل و خصائلِ نبویؐ
مدیرہ اعلیٰ : ڈاکٹر طاہرہ بشارت
مدیر : ڈاکٹر محمد عبداللہ
abdullah.rzic@pu.edu.pk
معاون مدیران : ڈاکٹر شاہدہ پروین
ڈاکٹر حفصہ نسرین
صفحات : 760 قیمت اشاعت ِخاص800 روپے
بیرونِ ملک 55 امریکی ڈالر
ناشر : کلیہ علوم اسلامیہ (قائداعظم کیمپس)
پنجاب یونیورسٹی۔ لاہور 54590
ای میل : gihat_al_islam@yahoo.com

پاکستان میں جتنے علمی رسائل شائع ہوتے ہیں ان میں جو بلند پایہ علمی رسائل ہیں ان میں صفِ اوّل کے مجلات میں کلیہ علوم اسلامیہ پنجاب سے صادر ہونے والا زیر نظر ’’جہات الاسلام‘‘ علمی اور تحقیقی لحاظ سے منفرد مقام کا حامل ہے۔ یہ شمارہ اشاعتِ خاص ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل، خصائل اور خصائص پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور جناب پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر (ستارۂ امتیاز) نے اس خاص اشاعت کے لیے پیغام میں فرمایا ہے:
’’نبی کریم، رئوف الرحیم، خلقِ مجسم، فخرِ دو جہاں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ ذاتِ بابرکات ہے جو وجۂ تخلیقِ کائنات ہے، اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ قرآن حکیم نے بجا طور پر آپؐ کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری کائنات میں، جملہ انسانیت کے لیے آپؐ ہی مثالی نمونہ ہیں۔ مسلمانانِ عالم تو عقیدت و محبت اور اطاعت کا دم بھرتے ہی ہیں، غیر مسلم بھی آپؐ کی ذات کے مختلف گوشوں پر سیکڑوں تصانیف لکھ چکے ہیں۔
آپؐ کی ہستی کا قابلِ ذکر اور قابلِ فخر پہلو آپؐ کے اخلاق و کردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو خَلقی یعنی حسنِ صورت سے بھی نوازا ہے اور خُلقی لحاظ سے بھی منفرد بنایا ہے، یعنی حسنِ سیرت میں بھی آپؐ یکتا ہیں۔ یہ آپؐ کی وہ نمایاں صفات ہیں جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہیں گی۔
’’جہات الاسلام‘‘ کلیہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی کا نہایت وقیع مجلہ ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ ہے۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ مجلہ جہات الاسلام، سیرت النبیؐ کے حوالے سے خاص نمبر شائع کررہا ہے اور اس میں بھی رسول اکرمؐ کے شمائل اور خصائل کو موضوع بنایا ہے جو ہر طرح سے کامل سراپا ہے۔ جس پر اندرون اور بیرون ملک کے علمی مقالات شائع ہوئے ہیں۔ اس طرح سے سیرت النبیؐ پر ایک خوب صورت گل دستہ تیار ہوگیا ہے۔ آپؐ کے اس تذکرے کی خوشبو ان شاء اللہ چہار سو پھیلے گی۔ نیز اس کی بدولت معاشرے میں تعلیماتِ نبویؐ کو فروغ حاصل ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ جہات الاسلام کا یہ خاص شمارہ اردو ادب سیرت میں خوب صورت اضافے کا سبب بنے گا۔
مجلہ کی مدیرۂ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ بشارت، مدیر پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، جنہوں نے سیرت النبیؐ پر اشاعت کا تخیل پیش کیا اور عملی شکل دی، نیز وہ تمام اہلِ علم اور محققین بھی جن کی خوب صورت تحریروں سے یہ مجلہ مزین ہوا، مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور لگن عطا فرمائے اور اسے شفاعت کا ذریعہ بنائے۔‘‘
ڈاکٹر محمد عبداللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اگرچہ زیر نظر شمارے میں شمائل و خصائلِ نبویؐ کی تفصیلات بلکہ جزئیات تک موجود ہیں، مگر تقدیم کے طور پر چند اصطلاحات کا تذکرہ ناگزیر ہے۔
(1) شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم: شمائل، شمال اور شمیلۃ کی جمع ہے۔ شمل کے اصل معنی لپیٹنے، گھیرنے اور شامل ہونے کے ہیں۔ اہلِ عرب جب کہتے ہیں رجل کریم الشمائل، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے رویّے اور اخلاق میں بہتر ہے۔ شمائلِ نبویؐ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاداتِ عالیہ اور طبعی محاسن ہیں، جن کا تعلق آپؐ کے باطنی اور ظاہری اوصافِ مبارک سے ہوتا ہے۔ گویا آپؐ کے خلق اور خلقی اوصاف ہیں۔
(2) خصائل النبیؐ: خصائل خصلت کی جمع ہے، جس کے معنی عادات و اطوار کے ہیں۔ بالخصوص وہ عادات و اطوار جو انسانی زندگی کا لازمہ بن جائیں۔ خصائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق، عادات اور وہ معمولاتِ مبارک ہیں جن پر آپؐ حیاتِ دنیوی میں عمل پیرا رہے۔ وسیع معنوں میں آپؐ کی سنت بھی اس ضمن میں آجاتی ہے۔ یعنی وہ طریقہ جس پر آپؐ گامزن رہے اور امت کو بھی اس طریقے کو اپنانے کی دعوت دی۔
(3) خصائص النبیؐ: خصائص، خاصیۃ کی جمع ہے۔ خاصیت ایسی صفت کو کہا جاتا ہے جو کسی خاص چیز میں ہمیشہ کے لیے موجود ہو اور اس کو دوسری چیزوں سے ممتاز کرے۔ اصطلاحِ سیرت میں خصائص النبی وہ فن ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خصائص بیان کیے جائیں جن سے آپؐ اپنی امت اور دوسرے انبیا سے ممتاز ہوتے ہیں۔ ان کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول وہ خصائص جن سے آپؐ دیگر انبیائے کرام سے ممتاز ہوتے ہیں۔ کوئی نبی ان خصائص میں آپؐ کا شریک نہیں۔ دوم وہ خصائص جن سے آپؐ اپنی امت سے ممتاز ہوتے ہیں۔ کوئی امتی ان خصائص میں آپؐ کا شریک نہیں۔
(4)اخلاق النبیؐ: اخلاق، خُلق کی جمع ہے۔ خُلق نفس کی وہ حالت ہے جو اسے بغیر کسی غور و فکر کے اعمال کے صدور پر آمادہ کرتی ہے۔ اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے محاسن، فضائل اور کمالات آپؐ کی ذات میں مجتمع کردیئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے اپنی بعثت کا مقصد اسی کو قرار دیا ہے۔ بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘۔
ڈاکٹر طاہرہ بشارت مدیرہ اعلیٰ تحریر فرماتی ہیں:
’’جہات الاسلام کا شمارہ شمائل و خصائلِ نبویؐ بابت جنوری۔ جون 2018ء قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ گزشتہ شمارے کے اداریے میں ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ شمارہ سیرت النبیؐ کے لیے خاص ہوگا۔ الحمدللہ اس شمارے کی اشاعت سے ہم اپنے وعدے کی تکمیل کررہے ہیں۔
مجلسِ ادارت نے بے انتہا کوشش کی ہے کہ مذکورہ اشاعت شمائل و خصائلِ نبویؐ کو ہر لحاظ سے ایک یادگار بنادیا جائے۔ اس مقصد میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ تو قارئین کرام ہی کریں گے۔ ایک ایک سطر روشنی اور حرف حرف خوشبو سے لبریز سیکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے تذکارِ نبیؐ سے یقینا ایک جہاں ضرور معطر ہوگا۔
ہم نے اس موضوع کا انتخاب اسی لیے کیا ہے کہ براہِ راست آپؐ کی شخصیت، اخلاق و عادات اور پاکیزہ تعلیمات دنیا کے سامنے آئیں، جن پر عمل پیرا ہوکر انسانیت دنیا و آخرت میں فلاح اور نجات کے راستے پر گامزن ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت اور اطاعت کا تعلق دوچند ہو۔‘‘
ڈاکٹر محمد عبداللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، شمائل و خصائل اور عظمت و شرف کا تذکرہ محض عقیدت و محبت اور جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ یہ عقیدے اور سچے ایمان کا تقاضا ہے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے شمائل و اخلاق کو قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے جس کی نمایاں ترین آیت یہ ہے: وَ اِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ (القلم:4) اس کی وضاحت اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بڑے مختصر مگر جامع الفاظ میں اُس وقت فرمائی جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپؐ کے اخلاق کیسے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: کان خلقہ القرآن کہ آپؐ کا اخلاق تو سراپا قرآن ہی تھا۔ گویا جو اخلاق و مکارم قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں وہ سب کے سب آپؐ کی ذاتِ اقدس میں بطریقِ اکمل و احسن موجود تھے، اور آپؐ کی ذاتِ کریمانہ ان تمام شمائل و فضائل اور اخلاق کا حسین مرقع تھی۔
حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضاداری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہاداری‘‘
اس اشاعتِ خاص کے محاسن بے شمار ہیں جن کے تعارف کے لیے ہی سیکڑوں صفحات کی ضرورت ہے۔ اس کو پڑھ کر جو اکتسابِ فیض کرے گا ان شاء اللہ دنیا و آخرت میں فوز و فلاح کا مستحق ہوگا۔ ان شاء اللہ مجلس ادارت کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا۔
سفید کاغذ پر عمدہ طبع کیا گیا ہے۔ اردو کی سیرت لائبریری میں وقیع اضافہ ہے۔

Share this: