آن لائن دنیا اور توجہ کا بحران

ناصر فاروق
اس مضمون کی تیاری کے دوران میں ٹوئٹر پر تین بار، اور ای میل پر دوبار نظر ڈال چکا تھا، چار ای میلز کے جوابات بھیج چکا تھا۔ ایک مرتبہ سلیک (Slack) بھی چیک کرچکا تھا۔ دوافراد کو پیغامات روانہ کرچکا تھا۔ ایک مرتبہ یوٹیوب وڈیوز کی سائٹ دیکھ چکا تھا۔ اس سارے عمل میں تیس منٹ صرف ہوئے تھے۔ اس دوران ایمیزون پر اپنی کتابوں کی رینکنگ بھی کئی بار چیک کرچکا تھا۔
بیس منٹ کے دورانیے میں خود کو نو بار اِدھر اُدھر متوجہ کرچکا تھا۔ یہ اِدھر اُدھر کی توجہات میرا قیمتی وقت ضائع کرگئی تھیں۔ میرے خیال کی یکسوئی منتشر ہوچکی تھی۔ تحریر کا معیار متاثر کرگئی تھی۔ یوں اضافی ایڈیٹنگ اور نظرثانی کرنی پڑی تھی۔ مسلسل پیغام بھیجنے اور وصول کرنے سے میری توجہ جس طرح بٹ رہی تھی، میری لکھاوٹ خراب ہورہی تھی۔ سوچ کا سلسلہ ٹوٹ رہا تھا۔ میرا زیادہ وقت لوگوں سے باتوں میں برباد ہورہا تھا۔ ای میلز کے جوابات اور نت نئی خبروں میں ضائع ہورہا تھا۔
یہ خارجی مداخلتیں نہ صرف بے فائدہ تھیں بلکہ وقت اور صلاحیتوں کا زیاں تھیں۔ یہ صرف میرے کام میں اضافہ کررہی تھیں۔ میرے لیے یہ صورت حال گزرتے وقت کے ساتھ بدتر ہورہی تھی۔ تم شاید یہ قیاس کرو کہ بڑھتی عمر اور تجربے کے ساتھ میری توجہ کا دائرہ وسیع تر اوریکسوئی بہتر ہورہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔
میں نے 2007ء میں بلاگنگ شروع کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اُس وقت ایک ہزار الفاظ لکھنا میرے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ میں صبح اٹھ کرپہلے بلاگ لکھتا اور پھر ناشتا کرتا تھا۔ 2013ء کے آس پاس مجھے یہ محسوس ہوا کہ لکھتے ہوئے توجہ اِدھر اُدھر جارہی تھی، کبھی میں فیس بُک اور کبھی ای میل چیک کرنے لگتا تھا۔ 2015ء میں یہ میرے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی توجہ پر توجہ دینی ہوگی۔ مجھے اپنے ہدف کو ہدف بنانا ہوگا۔ یکسوئی کے لیے یکسو ہونا پڑے گا۔ یہ نیا تجربہ تھا۔ اس کی کوئی مشق پہلے سے نہ تھی۔
گزشتہ سال 2018ء سے یہ مداخلتیں ناقابلِ گریز ہوچکی تھیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کس طرح اپنی توجہ کوانتشار سے بچانا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں کسی ڈیجیٹل دوزخ میں زندگی بسر کررہا تھا، جہاں کچھ بھی اہم کرنا نہ صرف بے فائدہ لگ رہا تھا بلکہ غیر مؤثر دکھائی دے رہاتھا۔
ہم کیسے ذہنی طورپر سست اور کمزور پڑتے ہیں؟
بیسویں صدی کی پانچویں اور چھٹی دہائی کی بات ہے، دنیا میںنمایاں تبدیلی آئی۔ جدید معیشتوں نے لوگوں کو فیکٹریوں اور کھیتوں سے نکالا اور دفاتر کی عمارتوں میںلابٹھایا۔ اب سارا سارا دن کھڑے رہ کر تھوڑے سے پیسے کمانے کے بجائے لوگ سارا سارا دن آرام دہ کرسیوں پر کمر ٹکاکر مناسب تنخواہ حاصل کرنے لگے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ساخت اور طبیعت آرام دہ زندگی کے لیے وضع نہیں کی گئی۔ سارا دن بیٹھ کر ڈونٹ کھانا اور سوڈا پینا ہماری جسمانی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دل کے عارضے، شوگر اور موٹاپے کووبا کی طرح پھیلتے دیکھا۔ دفاتر کی آرام دہ زندگی نے ہمارے اجسام حساس بنادیے۔ بات بات پر لوگ بیمار ہونے لگے۔
ہم نے اس صورت حال کا یہ علاج ڈھونڈا کہ ’فٹنس کلچر‘ پروان چڑھایا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ اگر جدید طرزِ زندگی آرام دہ ہے تو پھر کچھ وقت ورزش کے لیے ضرور نکالا جائے۔ وزن اٹھایا جائے۔ دوڑ لگائی جائے۔ اس طرح تمہارا جسم توانا رہنے لگا۔ جاگنگ ایک مستقل شے بن گئی۔ جم کی ممبر شپ عام بات ہوگئی۔
انسانی جسم کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اگر مقابلے اور مشقت کی کیفیت پیدا نہ ہو تو ڈھیلا اور کمزور پڑنے لگتا ہے۔ تھوڑا بہت چلنا بھی ناگوار گزرنے لگتا ہے۔ تھوڑا بہت راشن اٹھانا بھی طبیعت پر بھاری پڑنے لگتا ہے۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے کام ناممکن سے لگنے لگتے ہیں۔
میری کتاب A Book About Hope اس موضوع پر بھی بات کرتی ہے کہ ہماری توجہ کا دائرہ دن بہ دن سمٹتا چلا جارہا ہے۔ پریشانی اور اعصابی تناؤ کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے۔ لوگوں میں عدم برداشت بڑھتی جارہی ہے۔ مخالف خیالات اور نظریات بالکل ہضم نہیں ہورہے۔
بالکل اسی طرح جسم سے اعصابی تناؤ اور فکرمندی مٹانے سے بھی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ ایسا ہی ذہنی دباؤ کے خاتمے سے بھی ہوتا ہے، ذہن کمزور پڑجاتا ہے۔
ہم یہ دریافت کرسکے ہیں کہ بیسویں صدی کے آرام دہ طرزِ زندگی سے کمزوریاں اور بیماریاں پھیلی ہیں، اس لیے صحت مند سرگرمیوں کی جانب جانا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی ہی سرگرمیوں کی ضرورت انسانی دماغ کو بھی ہے، ہمیں ازخود اپنی ذہنی آسائشوں کو گھٹانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے دماغوں کو مشقت میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اسے علم و آگہی میں لگانے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے اپنی توجہ کو مسلسل خارجی مداخلتوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے بیسویں صدی کی صارف معیشت نے ہمیں غذائیت سے بھرپور ڈائیٹ کی ایجاد پر مجبور کیا ہے۔ ہمیں توجہ کی بسیار خوری سے بچنے کے لیے ’توجہ کی ڈائیٹ‘ اختیار کرنی ہوگی۔ جس طرح ہم ڈائیٹ کی خاطر اپنے فریج کو جنک فوڈ سے خالی کردیتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمیں اپنی توجہ سے کاٹھ کباڑ مداخلتوں کو صاف کرنا ہوگا۔
توجہ کے اہداف کیا ہوں؟
بہت تھوڑے سے محاذ ہیں، جہاں سے ہماری توجہ پر حملے ہورہے ہیں۔ مگر یہ ایک بہت بڑا اور بے ہنگم طوفان ہے، توجہ کو جس کا سامنا رہتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ اس میں توجہ کے لائق بہت ہی کم کچھ ہوتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ کہ یکسوئی دشوار ہوجاتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے توجہ کا ہدف مداخلتوں کو ممکنہ طور پر محدود کرنا ہے۔ کم سے کم مستند معلومات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ پھر یہ سوال اپنے سامنے اٹھانا چاہیے کہ کون سا معاملہ کتنا قابلِ توجہ ہے؟ جس طرح جنک فوڈ ہمارے اجسام تباہ کردیتی ہے بالکل اسی طرح جنک معلومات کی بسیار خوری بھی جان لیوا ہے۔ توجہ کا دوسرا ہدف صحت مند مستند معلومات کے ذرائع اور تعلقات تلاش کرنا ہے، اور پھر زندگی کو ان کے اردگرد پروان چڑھانا ہے۔
یہ بنیادی طور پر معیار کو مقدار پر ترجیح دینے کا کھیل ہے۔ کیونکہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں یہاں لامحدود معلومات اور مواقع میں آپ کی نشوونما ممکن نہیں ہوپاتی۔ یہاں کم معلومات کے ساتھ درست سمت اور زیادہ یکسوئی ہی صحت بخش ہے۔
توجہ کی نشوونما مرحلہ وار
درستی سے مفید معلومات حاصل کیجیے اور تعلقات پہچانیے۔ ان معلومات اور تعلقات کا فضول حصہ کاٹ کر الگ کردیجیے۔ توجہ کے دائرے میں وسعت لائیے، اور گہری یکسوئی کی عادت اپنائیے۔
ہم کس طرح ’فضول‘ معلومات اور ’بیکار‘ تعلقات کی وضاحت کرسکتے ہیں؟ کسی فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر ہم اسے سادہ سے انداز میں سمجھ لیتے ہیں۔
کاٹھ کباڑ معلومات وہ معلومات کہلاتی ہیں جو ناقابلِ بھروسا ہوں، بیکار ہوں، اور غیر اہم ہوں۔ یہ کچرا معلومات جذباتی، شور مچاتی، اور سنسنی خیزقسم کی ہوتی ہیں۔ جب کہ صحت بخش معلومات قابلِ بھروسا، مددگار، اور اہم ہوتی ہیں۔ یہ تجزیاتی اور فکرکو مہمیز دینے والی ہوتی ہیں۔ یہ معلومات لوگوں کے مابین صحت مند روابط مستحکم کرتی ہیں۔ ایسے لوگ جن میں بالمشافہ گفتگو اور معاملات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں باہمی اعتماد قائم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔
ذہن کو مصروف رکھیے!
میں یہاں Cal Newport اور Nir Eyal کی مثال دوں گا۔ یہ دونوں حضرات اکیسویں صدی میں دماغ کی صحت بخش نشوونما پر عمدہ کام کررہے ہیں۔ کال نیوپورٹ نے کتاب Digital Minimalism شائع کی ہے۔ یہ کافی مقبول ہوئی ہے۔ نیرایال نے بھی ایک شاندارکتاب Indistractable: How to Control Your Attention and Choose Your Life لکھی ہے۔ نیر میرا اچھا دوست ہے اور میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ قاعدے قوانین کا پابند شخص ہے، اپنے کام میں انتہائی یکسو ہے۔ اس موضوع پر اُس کے خیالات اور تحریریں بہت مؤثر ہیں۔
آگے بڑھتے ہیں!
پہلا مرحلہ: سوشل میڈیا پرصفائی کے لیے ’ہاں‘ اور ’ناں‘ کا قانون اپنائیے۔ سوشل میڈیا روابط پر جب جائیے تو خود سے پہلا سوال یہ کیجیے کہ ’یہ دوست‘ یا ’وہ دوست‘ میری زندگی میں کس قدر اہم ہے؟ اور کیا یہ فرد یا گروہ میری صحت مند نشوونما اور اہمیت میں کسی اضافے کا باعث ہے؟ اگر جواب ’ناں‘ میں آئے تو فوراً ایسے دوست یا گروہ کوunfriend یا unfollow کردیجیے۔ ’ناں‘ میں جواب کے باوجود اگر کسی فرد یا گروہ سے نجات حاصل کرنے پردل دماغ آمادہ نہ ہوں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہرگزfollow کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ یہ آپ کی ’توجہ‘ کی ’صحت‘ کے لیے از حد ضروری ہے۔
کھیلوں اور تفریح کے نیوز چینلزکوunfollow کیجیے۔ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ نیوز میڈیا بوگس ہوتا جارہا ہے۔ اکثرکالموں کی نوعیت بھی اشتہاری ہے۔ سوشل میڈیا کچھ اس سے بڑھ کر ہے، یہ تمہارے کلک سے کھیلتا ہے، کہ جیسے تمہارے احساس کے لیے یہ کوئی بڑی بات ہو! مگر دراصل ایسا نہیں ہے۔ یہ بس جعلی خبروں اور معلومات کا عادی بناتا ہے۔
بطور شہری، ہمیں اس زہریلے نظام سے جان چھڑانی چاہیے۔ اس کا سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ تمام نیوز ذرائع کوunfollow اور unsubscribe کردیا جائے۔ گھبرائیے نہیں کہ مستند خبریں اور معلومات کہاں سے ملیں گی؟ میں بتاتا ہوں۔
سب سے پہلے کوئی بھی ایسی ایپ فون سے نکال دیجیے جو مذکورہ تجاویز کے بعد بے کار محسوس ہورہی ہو۔ اگر یہ دو مرحلے آپ نے آسانی سے طے کرلیے تو سمجھیے آپ کا سوشل میڈیا ’بوجھ‘ کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ یہ بہت اچھا ہوگا۔ unfollowing/unfriending کی خوبی یہ ہے کہ مضر صحت معلومات اور خبروں سے جان چھوٹ جائے گی، ایسا مواد جو تمہاری توجہ پر حملہ آور تھا، غائب ہوجائے گا۔ تاہم جب بھی تم لاگ آن ہوں گے، دس فیصد مواد توجہ پر حملے کے لیے تیار ملے گا۔ وہی بے کار خبریں جوگزشتہ روز تمہارے سامنے آئی تھیں پھر نظر آئیں گی۔ یہی وہ وقت ہوگا جب تم اپنا فون ایک طرف رکھ دو گے اور کچھ ’کام‘ کا کام کروگے۔
مگر ایسا کچھ ’اور‘ کرنے سے پہلے، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک نگاہ ڈالنا، مشکل ہی سے کوئی ایسا اضافہ نظر آئے گا جسے دیکھنے کی خواہش پیدا ہو۔ اکاؤنٹس میں سادگی کی یہی خوبی تمہاری زندگی میں سادگی اور سکون کا سبب ہوگی۔ میرے لیے، یہ واقعی خوشگوار صورتِ حال بنی۔ ٹوئٹر اور انسٹاگرام کے استعمال میں لطف آنے لگا۔ فیس بُک میرے لیے تکلیف دہ رہا ہے، اس لیے میں نے اسے اپنے فون سے مٹادیا ہے۔ پہلے یہ عجیب لگا، مگر جب میں نے محسوس کیا کہ یومیہ پانچ بار غیر ضروری طور پر فیس بک دیکھنا حماقت ہی تھا۔ اسے مٹانے سے روز روز کی یہ حماقت ختم ہوئی۔
دوسرا مرحلہ: معلومات اور رابطوں کے اچھے ذرائع منتخب کیجیے
اسے آزمائیے: اپنے لیے خبریں وکی پیڈیا نیوز پورٹل کے صفحے سے حاصل کیجیے۔ وکی پیڈیا کے ہر صفحے کی اپنی زبان ہے، اس کے صفحہ اوّل پر تازہ واقعات اور قابلِ توجہ تاریخی واقعات ہوتے ہیں۔ یہ تمہیں روزمرہ کی کم سے کم ضروری معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر تم کچھ زیادہ تفصیل یا گہرائی میں جاننا چاہتے ہو توآرٹیکل پر کلک کرو، اور مزید ضروری معلومات حاصل کرو۔ ان خبروں میں سیاسی جھکاؤ، تعصب، اور غلط بیانات کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یہ کسی قسم کی سنسنی پیدا نہیں کرتیں۔ یہ اشتعال انگیز اور ہیجان خیز نہیں ہوتیں۔
طویل مواد
کسی خبر کا طویل مواد بھی انتہائی ضروری نوعیت کا ہونا چاہیے۔ یہ طویل مواد کتاب، پوڈکاسٹ، مضامین، اور دستاویزی فلمیں ہوسکتی ہیں۔ یہ نسبتاً زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔ خود کو اس طویل مواد تک محدود کرنے کے دو فائدے ہیں۔ پہلا یہ کہ تم مزید تحقیق اور فکرکی جانب بڑھتے ہو۔ دوسرا یہ کہ تمہاری توجہ کو یکسوئی میسر آتی ہے۔ تم کسی غیر مطلوبہ مداخلت کی زد میں آنے سے بچ جاتے ہو۔
سوشل میڈیا کے لیے کچھ حدود میں نے خود پر لاگوکی ہیں:
یومیہ دو ای میل وصول کرتا ہوں یا بھیجتا ہوں۔ پہلی صبح اور دوسری سہ پہر میں چیک کرتا ہوں۔ صبح میں ارجنٹ ای میلز کے جوابات دیتا ہوں۔ سہ پہر میں اِن باکس خالی کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا یومیہ تیس منٹ استعمال کرتا ہوں۔ یہ بھی صرف وہ وقت ہوتا ہے جس کا مجھے فائدہ پہنچے۔ کمپیوٹر پر معاملہ قابو میں رہتا ہے مگر فون ایک مسئلہ ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ دن میں فون دفتر سے باہر رکھا جائے اور رات میں بیڈ روم سے باہرکردیا جائے۔
کتابA Book About Hope میں مَیں نے آزادی کی ازسرنو تعریف کی ہے۔ یہ آزادی حدود کے تعین کا نام ہے۔ حقیقی آزادی زیادہ سے زیادہ کے حصول کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے ارادے کے تحت اعمال کی درجہ بندی ہے۔ ہمیں اپنے گرد سرحدیں اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے دماغ خواہشات کے پیچھے بے لگام نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ہماری توجہ کو بھرپور تربیت درکار ہے۔ توجہ کے لیے درست راستے اور منزل کا انتخاب ضروری ہے۔ غیرضروری ویب سائٹس، غیرضروری ایپ، اور دیگرآن لائن مداخلتوں پر بلاک لگاؤ۔ زندگی کے نوّے فیصد اہم تجربات تمہارے سامنے ہیں۔ ان پر توجہ دو۔ اب تمہارے پاس انہیں دینے کے لیے کافی وقت ہے۔ ایسا ماحول استوار کرو جو تمہاری توجہ کے لیے صحت بخش ہو۔

Share this: